
“دنیا کے ضمیر کا اندھا پن! مرے بھی مسلمان، بدنام بھی مسلمان ۔۔۔
احساس نایاب شیموگہ ۔۔۔۔
دنیا کی آنکھوں کے سامنے صدیوں سے معصوم مسلمانوں کا خون بہا، ان کی بستیاں اُجاڑ دی گئیں، نسلیں مٹادی گئیں، قبرستان زمین کے سینے پر پھیلتے گئے ۔۔۔ اور دنیا نے صرف تماشا دیکھا۔ اگر کوئی قوم سب سے زیادہ لٹی، ماری گئی، برباد ہوئی، تو وہ مسلمان تھے۔۔۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ جنہیں مارا گیا، انہی کو قاتل بنا کر پیش کیا گیا۔ جن پر قیامت ٹوٹی، انہی پر الزام دھرا گیا۔ یہ صرف ظلم نہیں، یہ تاریخ کے منہ پر طمانچہ ہے۔
غزہ میں زمین بچوں کے خون سے سرخ ہوئی اور دنیا نے اسے “حق دفاع” کہہ کر آگے بڑھ جانا ہی کافی سمجھا۔
عراق میں لاکھوں لاشوں نے چیخ چیخ کر کہا کہ یہ ”جنگ“ نہیں تھی، یہ انسانی نسل کشی تھی، مگر سُننے والا کوئی نہ تھا۔۔
افغانستان کی بربادی نے پوری انسانی تہذیب پر سوال اٹھایا، لیکن جواب دینے کے لئے طاقتور آج تک تیار نہیں۔۔۔
کشمیر میں ہر روز ایک ماں اپنے بیٹے کی لاش اٹھاتی ہے، مگر دنیا کے کانوں تک آج بھی آواز نہیں پہنچتی۔۔۔
برما میں نسلیں مٹ گئیں مگر عالمی ضمیر اپنی نیند سے نہ جاگ سکا۔۔۔
اور سب سے بڑھ کر… یہ ظلم اُس وقت حد سے آگے نکل جاتا ہے، جب قاتل کو امن کا سفیر بنا دیا جائے اور مقتول کو دہشت گرد۔۔
جب طاقتور اپنی گولی کو ”تحفظ“ کہے اور مظلوم کی چیخ کو ”تشدد“۔۔۔
یہ وہ دوہرا معیار ہے جس نے انسانیت کو شرمندہ کیا، انصاف کے چہرے کو مسخ کیا، اور دنیا کی سیاست کو منافقت کے دلدل میں پھینک دیا۔۔۔
امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں صرف دوہرے معیار نہیں، کھلی فرعونیت ہیں۔ ایک ہاتھ سے بم گراتے ہیں، دوسرے ہاتھ سے اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔۔۔
ایک طرف معصوموں کو مارتے ہیں، دوسری طرف دنیا کو بتاتے ہیں کہ وہ امن کے محافظ ہیں۔۔۔
یہ وہ ڈھٹائی ہے جو طاقت کے خمار میں ڈوبے فرعونوں سے ہی ممکن ہے۔ طاقتور جب اپنا جرم جواز بنا لے، تو دنیا کی زبانیں گونگی اور ضمیر مردہ ہو جاتا ہے۔۔۔
یہ ہماری دنیا کا سب سے بڑا المیہ ہے
مظلوم مرے بھی، روئے بھی، برباد بھی ہوا، اور آخر میں اسے ”دہشت گرد“ بھی کہہ دیا گیا۔۔
یہ صرف ظلم نہیں، یہ مظلوم کی روح پر کاری ضرب ہے، ایسے زخم جو نسلوں تک خون رستے رہیں گے۔۔۔
دنیا کو وہ سب کچھ نظر آیا جو طاقتور دکھانا چاہتے تھے، مگر وہ سب کچھ چھپایا گیا جو معصوموں نے سہا۔ میڈیا نے تصویر بدل دی، سیاست نے سچ دفن کر دیا، اور عالمی اداروں نے انصاف کو طاقتوروں کے قدموں میں رکھ دیا۔۔۔
لیکن یاد رکھیں!
خون کا رنگ بدل کر نہیں دکھایا جا سکتا۔
چاہے غزہ کی گلیاں ہون، عراق کے کھنڈر ہوں یا کشمیر کا سکوت، زمین ہر قطرے کے ساتھ چیخ کر کہتی ہے کہ سب سے زیادہ مارا گیا تو مسلمان ہی تھا۔.
اور سب سے زیادہ جھوٹ اسی کے خلاف بولا گیا۔
دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی یہی ہے
ظالم کو معصوم دکھانا اور مظلوم کو دہشت گرد بنا دینا۔
یہ وہ زہر ہے جس نے انسانیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
اور جب تک یہ زہر بہتا رہے گا، جب تک فرعونیت کا یہ کھیل جاری رہے گا، تب تک دنیا میں ہر نیا دن انصاف نہیں، ایک نئی بربادی، ایک نئی چیخ، اور ایک نیا جنازہ لے کر آئے گا۔۔۔۔


