مضامین و مقالات

عوامی تحریک عدم اعتماد: آزمودہ نسخہ کار

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

گیانیش کمار کے استعفےکو لے کر عوامی تحریک بڑھتی ہی جا رہی ہے تمام اپوزیشن پارٹیاں، طلبہ تنظیمیں ،صحافی ،نوجوان، خواتین، سماجی تنظیمیں متحدہ طور پر نہ صرف دلی کے جنتر منتر کے آس پاس کہ علاقے میں روزانہ ہی سڑکوں پر ہیں بلکہ ملک کے مختلف مقامات اور ریاستی راجدھانیوں تک تحریک پھیل چکی ہے ۔ملک کا یہ منظر نامہ عدیم النظیر ہے۔ ٓازادی کے بعد سے اب تک اس قسم کی صرف ایک ہی مثا،ل 1975 میں جی پی تحریک کے وقت دیکھنے کو ملی تھی ۔لیکن اس وقت یہ عوامی تحریک سیاسی اور سماجی تنظیموں پر مشتمل تھی طلبہ اور نوجوان فعال طور پر اس کا حصہ نہیں تھے ،حکومت نے بھی خطرہ محسوس کرتے ہی راتوں رات ایمرجینسی نافذ کر کے چار لاکھ سے زیادہ سیاسی اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنان کو جیل رسید کر کے دستور کو معطل کر دیا تھا اور میڈیا پر سینسرشپ لاگو کر دی تھی ،عدالتوں کو بے اثر کر دیا گیا تھا ،لیکن بڑے پیمانے پر عوام اس سے متاثر نہیں ہوئے تھے ۔اس مرتبہ ملک کا بیشتر طبقہ اس تحریک میں شریک ہے ۔آزاد بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ حکمرا ںجماعت ایک نوکر شاہ کے تحفظ کے خاطر عوامی خواہش کو کچلنے کے لیے ہر قسم کا ریاستی استبداد استعمال کر رہی ہے، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ حکمرا ںجماعت میں اندر ہی اندر ایسا کچھ ضرور ہے جسے چھپانے کی خاطر ایک نوکر شاہ کی اوٹ میں خود کو چھپانا چاہتی ہے۔ ہر چند کے گیانیش کمار تحریک کا کریہہ چہرہ بن گئے ہیں لیکن اسی چہرے کے پیچھے دراصل حکومت کے اعلی عہدہ دار موجود ہیں یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے۔ وگرنہ اپوزیشن جماعتوں نے تو الیکشن کمیشن کی بدعنوانیوں کو ہی نشانہ بنایا تھا جسے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ نے مہمیز دیابعد ازآں خود الیکشن کمیشن کے پریس نوٹ میں بھی بلاواسطہ طور پر ان اعتراضات کا اعتراف کر لیا ،کچھ دیگر احکامات کے ذریعے ان اعتراضات کو جزوی طور پر رفع کرنے کی کوشش بھی کی گئی ،لیکن جو ایک آسان سا حل تھا کہ تینوں الیکشن کمشنر ایک ساتھ مل کے ایک پریس کانفرنس کرتے جیسا کہ ہر موقع پر متعدد بار کیا جاتا رہا ہے تو ایسے سنگین مسئلے کا مطلع صاف کرنے کے لیے بھی پریس کے سامنے آتے اور معاملات کو واضح کرتے لیکن حیرت کی بات ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سمیت دونوں الیکشن کمشنرز جن کے حوالے سے اخبارات میں رپورٹ شائع ہوئی تھی نے ابھی تک عوام کے سامنے ا ٓکر صورتحال واضح کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ پراسرار خاموشی اختیار کی، بلکہ اخباری نمائندے کے سامنے کچھ انکشافات کرنے کے بعد نہ صرف اپنے گھروں کے دروازے بھی بند کر لیے بلکہ زبان و قلم کی جنبش کو بھی پابند سلاسل کر لیا۔ ایک ذمہ دار افسر تو کیا کسی عام ادمی کے لیے بھی اس سے بڑی بدخلاقی اور بے ایمانی کیا ہو سکتی ہے کہ عوامی سروکار کا ایک بیانیہ قائم کرے اور پھر اس کی تائید و تردید پر خاموش ہو کر گھر بیٹھ جائے۔ یہ وہ اصل مسئلہ ہے جس نے اس قسم کے عوامی اداروں سے عوام کے اعتبار کو متزلزل کر دیا ہے۔ جب پارلیمانی ایوان تک عوام کی آواز نہ پہنچ سکے ، حکمران وقت اپنے ہی عوام کی خواہشات کو منمانے طریقے سے نظر انداز کر دے، اس کے زیر نگین جمہوری ادارے اس کی جنبش ابرو کے تابع ہو جائیں، ٓازاد عدلیہ مصلحت پسند ہو جائے، ذرائع ابلاغ جرات قلم سے محروم ہوں کروڑہا کروڑ لوگ پانچ کلو اناج کے خاطر شہری حقوق سے محروم کر دیا جائیں تو جمہوریت بس ایک جملہ بن کر رہ جاتی ہے ۔اور عوام غلامی کی تپش محسوس کرنے لگتے ہیں ۔یہی اس وقت ہو رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ جب لاکھوں لاکھ عوام عدم اطمینان کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نعرہ زن ہوں اور حکمرانوں کی پولیس کی لاٹھیاں روزانہ کھا کر زخمی ہو رہے ہوں، جیل جا رہے ہوں، بڑے بڑے سیاسی لیڈران سڑکوں پر سرکاری ڈنڈوں کا شکار ہو کر بے عزت ہو رہے ہوں، تب ملک کا حکمران ایسے گھوم گھوم کر تقریریں کرتا رہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور جس کا دعوی ہوکہ وہ ایک کتے کی تکلیف بھی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے وہ اپنے ہی ان لاکھوں عوام کی تکلیف کو آخرکیوں محسوس نہیں کر پاتا ۔اس کے وہ ساتھی جس نے صورتحال کو اس حد تک متغیر کر دیا وہ بھی بس کسی اگلے الیکشن کو جیتنے کے جگاڑ میں مصروف ہو۔ جیسے کہ اس سب ظلم و جبر کا ان پر کوئی اثر ہی نہ ہو۔ان حالات میں سمجھا جا سکتا ہے کہ اقتدار کا نشہ اس قدر بدمست کر چکا ہے کہ اب ان کی نظروں میں اختلاف کی آواز بے وقعت ہو چکی ہے اور اقتدار کے زور بازو کے ہتھیار سے وہ سب کو دبا لینے پر خود کو قادر محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے اندر ہی اندر یہ سب دیکھ کر گویامسکرا رہے ہیں ۔لیکن انہیں یادرکھنا چاہئیے کہ سری لنکا ،نیپال اور بنگلہ دیش کے نظائر ابھی دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے ہیں ۔اس سے قبل بھی تاریخ شاہد ہے کہ عوامی سیلاب بڑے بڑے شاہی محلوں کو دریا برد کر چکا ہے، ان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس مرتبہ یہ تحریک ان کی منشا اور منصوبے کے تحت چلنے والی کوئی ہندو مسلم تحریک نہیں ہے کہ جب مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے، ماب لنچنگ کرنے بطور دہشت گرد سالہا سال جیلوں میں بند رکھ کے ان کا مستقبل برباد کرنے، مساجد ،مدارس ،تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں بند کرنے جیسے ظالمانہ اقدامات کی خبریں دیکھ کر ان کا ووٹر جے شری رام کا نعرہ لگاتا تھا اور مسرت و شادمانی کا اظہارکرتا تھا۔ نہ ہی یہ کوئی مسئلہ کشمیر ہے کہ جہاں پتھر بازی کو جواز بنا کر نوجوانوں کو گولیوں اور پیلٹ گنوں کا شکار بنایا جاتا تھا، ان کا انٹرنیٹ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا جاتا تھا ،جہاں ہر سو میٹر کے راستے پہ رکاوٹیں کھڑی کر کے ان کے روزمرہ کے نقل و نقل و حرکت کو پریشان کن بنا دیا جاتا تھا ان کے پھلوں کو منڈی تک پہوچنے سے پہلے سڑک پہ سڑک پہ سڑا کے ان کی اقتصادی حیثیت کو کمزور کر دیا جاتا تھا ۔اور پھر ایک دن پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر ان کے الحاق کی شرائط کو کل عدم قرار دے دیا جاتا تھا اور بی جے پی کے بڑے بڑے سینیئر لیڈران کشمیریوں کی غیرت کو للکارتے ہوئے نعرے بلند کرتے تھے کہ اب تو ہم کشمیر سے دلہنیں لائیں گے اور یہی طبقہ تالیاں بجاتا تھا جیسے کوئی بڑا ملک فتح کر لیا ہو یہ شمال مشرقی ریاستوں کے عیسائیوں کا مسئلہ بھی نہیں ہے کہ جہاں منی پور کی عیسائی عورتوں کو برہنہ گھمایا جاتا تھا اور پولیس اور فوج کے بوٹوں سے ان کی بستیوں کی بستیاں مسمار کر دی جاتی تھیں اور سال بھر کوئی حکومت ان کی پرسان حال نہ ہوتی تھی یہ ان قبائلیوں کا مسئلہ بھی نہیں ہے جن کو آج تک حکومت روزمرہ کی سہولت تونہیں دے سکی بلکہ نکسلی کے نام پر روزانہ ان کے گاؤں کے گاؤں خاکستر کر دیے جاتے ہیں اور ملک کے سواد اعظم کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ،یہ ان کسانوں کا مسئلہ بھی نہیں ہے کہ جن کو سندھو بارڈر پر سال بھر بٹھا کر 700 سے زیادہ ساتھیوں کی شہادت سہنی پڑتی تھی اور اس دوران حکومت ان کو کبھی دہشت گرد کبھی خالصتانی کہتی تھی۔یہ ملک کے عوام کی شہریت کا مسئلہ ہے، ملک ہندو ،مسلمان،سکھ، عیسائی ،پارسی، جین، قبائلی، دلیت، مزدور ،کسان، طلبا، کمسن نوجوانوں، ہر ریاست، ہر زبان ہر تہذیب کے ماننے والوں کے بنیادی حق کا مسئلہ ہےسب کی قومی شناخت کا مسئلہ ہے۔ ایسے بنیادی مسائل بندوق کی گولی سے نہیں حکمرانوں کی ایماندارانہ اور غیر جانبدارانہ بولی سے حل ہوتے ہیں ورنہ مزید دگرگوں ہو جاتے ہیں۔ ملک کے عوام اب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ مذکورہ بالا واقعات عوام کو تقسیم کر کے اپنے اقتدار کے تسلسل کو قائم رکھنے کی ایک گھٹیا حکمت عملی تھی۔ اب سمجھا جا سکتا ہے کہ حکومت ہندوؤں کی بھی خیر خواہ نہیں ہے جو پچھلے 12 سال سے جو مذکورہ بالا تمام طبقات کے ساتھ ہوتا رہاہے وہ سب کچھ ملک کے تمام لوگوں کے ساتھ کبھی کسی وقت بھی ہو سکتا ہے ۔ ٓاج راہل گاندھی نے اپنی تحریک کے خطوط کو واضح کر دیا ہےکہ یہ جدوجہد آزادی کی طرز پر چلے گی۔ ہر چندکے انہوں نے بہ وجو یہ لفظانہوں نے استعمال نہیں کیا لیکن انداز یہی تھا کہ یہ عوامی تحریک عدم اعتماد ہے۔ چونکہ جمہوری حکومتوں میں ایوان کے اندر تحریک عدم اعتماد تعداد کے اعتبار سے تو ناکام ہو سکتی ہے لیکن سڑک پر جاری عوامی تحریک عدم اعتماد کبھی ناکام نہیں ہوئی تاریخ اس کے گواہ ہے ۔اسی طرح پارلیمنٹ میں گیانیش کمار کے خلاف تحریک ملامت پیش کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ بھی ایوان میں ناکام ہو جائے گی جس سے گیانیش کمار کو سانس لینے کا جواز حاصل ہو جائے گا ۔اس لیے ایک مشترکہ عوامی تحریک ہی اس کا موثر حل ہو سکتی ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو آزادی کے تقریبا 80 سال کے بعد اب مسلمانوں کو اپنے تجربے سے اتنا تو سیکھ ہی لینا چاہیے کہ آزادی سے قبل ان کے رہنماؤں ،دانشوروں، علماء اور نوجوانوں کی قربانیوں کاکیا صلہ دیا گیا۔اور آزادی کے بعد بھی ایک ہی نظریے ،ایک ہی پارٹی ،ایک ہی تحریک ،ایک ہی ادارے کے شریک ساتھیوں میں اگر ایک کنہیا کمار اور دوسرا عمر خالد ہو تو قانون کے پیمانے کس طرح تبدیل ہو جاتے ہیں ۔چنانچہ مسلمانوں کے لیے آگے کا راستہ وہی ہے جو راہل گاندھی نے بھی کہا ہے کہاگر اپ کسی وجہ سے سامنے نہ ا ٓسکتے ہوں تو اپنے دل سے تحریک کی حمایت کریں یعنی مخالفت نہ کریں اور پیش پیش بھی نہ رہیں۔ یاد رکھیے اپ کے بچوں کا مستقبل اور جان و مال کے تحفظ کی کوئی گارنٹی راہل گاندھی سمیت کوئی سیاسی لیڈر نہیں لے سکتا ۔اسی طرح آنے والے کسی بھی انتخاب سے قبل کسی قسم کے جلسے جلوس ریلی ور پرجوش اعلان ،ا پیلوں ،فتووں اور مشوروں سے سخت اجتناب برتیں اور خاموشی سے جس کو دینا ہو جا کر اپنا ووٹ دے آئیں کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ آپ جس کے حق میں یہ سب کرتے ہیں وہ حلف برداری کے دن ہی آپ کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اپنی جان و مال، عزت و آبرو ، دین و مذہب کی حفظت تو باللٓخر آپ کو خود ہی کرنی ہے۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں )
[email protected]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button