
دہلی، لال قلعہ کے سائے میں! سیاست کا کھیل، انسانیت کا خون ۔۔۔۔
احساس نایاب شِیموگَہ۔۔۔
گزشتہ روز دہلی کے لال قلعہ کے قریب جو دھماکہ ہوا، اُس نے نہ صرف شہر کی فضا ہلا دی بلکہ ملک کی روح کو بھی جھنجوڑ دیا ۔۔۔۔ ہندوستان کی پاک زمین نے ایک بار پھر انسانیت کے قدموں تلے درد، آنسو اور خون محسوس کیا۔ یہ صرف بارود کا دھماکہ نہیں تھا، یہ اُس نظام کی چیخ بھی تھی جو برسوں سے سچ کو دبا کر اقتدار کے فرش پر جھوٹ بچھا رہا ہے۔۔۔
ملک میں الیکشن قریب ہیں اور سیاست اپنے عروج پر ہے۔ لیڈران جلسوں میں نعرے لگا رہے ہیں، جملوں کا بازار سجا ہوا ہے۔ سیکورٹی ایجنسیاں جملہ بازوں کی حفاظت میں لگی ہیں، اور میڈیا مذہب اور نفرت کی آگ میں TRP کے دانے بھون رہا ہے۔ ایسے میں عام انسان کی حفاظت کون کرے گا؟
دھماکہ ہو گیا اور ہر دھماکے کے بعد جیسے ہمیشہ ایک تیار کردہ کہانی بھی بن گئی،
فوراً چند نام سامنے آگئے، کچھ چہرے ٹی وی پر چھاگئے۔ جس سازش کی بو ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو حملے سے پہلے نہ آئی، وہ درجن معصوموں کی موت اور سینکڑوں کے لاحق زخموں کے بعد چند چہروں کے ساتھ فوراً منظر عام پر آ گئی، اور پھر میڈیا اُنہیں “دہشت گرد” دہشت گرد چلانے لگ گیا۔
کیا کبھی کسی نے یہ سوچا ہے؟
ٹی وی پر دکھایا جانے والا ہر چہرہ کیا واقعی دہشت گرد ہے؟
اکثر الیکشن کے قریب ہی کیوں ایسے دھماکے یا کوئی انہونی ہوتی ہے؟
کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا ہر چہرہ سیاست کے اس کھیل کا ایک مہرہ ہے جسے قربانی کے طور پر پیش کر دیا جاتا ہے، تاکہ تاناشاہ کی کرسی محفوظ رہے ؟؟
آخر اس پانچ سالہ کرسی کے خاطر اور کتنی زندگیاں برباد کی جائیں گی ؟؟ کتنے گھروں کے چراغ بجھائے جائیں گے؟ بوڑھے کاندھوں پر اور کتنی جوان لاشیں اٹھیں گی؟
پلوامہ میں ملک کے چالیس سے زائد جوان ناحق شہید کر دیے گئے۔
پہلگام میں جنت کی سیر پر نکلے درجنوں معصوم مستقبل کے خواب سجائے ہوئے تھے، انہیں بےرحمی سے مار دیا گیا۔ اور اب دہلی کی روزمرہ مصروفیات میں کھوئی، عام معصوم زندگیاں چند لمحوں میں خاموش ہو گئیں۔ ایک دھماکے میں کئی خاندان ہمیشہ کے لئے اُجڑ گئے۔ سب سے زیادہ متاثر ملکی امن، سلامتی اور بھائی چارہ ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ لال قلعہ کے قریب، سبھا مارگ یا میٹرو اسٹیشن کے آس پاس ہوا، جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکے میں طاقتور مواد استعمال ہوا تھا اور پولیس و اینٹی ٹیررازم ادارے اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ اس کا تعلق کسی بڑے نیٹ ورک یا دہشت گرد تنظیموں سے ہے یا نہیں۔۔۔
ایسے میں یہاں پر ایک سیدھا اور صاف سوال بنتا ہے!
ملک کی خفیہ ایجنسیز کہاں تھیں ؟ انہیں یہ خطرناک خبر کیوں پہلے نہ ملی؟ اتنا بھاری اور مہلک مواد ملک کے اندر کیسے پہنچ گیا ؟ کس کس کی ناک کے نیچے سے یہ گزر کر آیا ؟
دہلی، جو ملک کا دل اور راجدھانی ہے، وہاں اتنی بڑی چوک کیسے ممکن ہوئی؟؟؟
جبکہ دہلی پولیس، ہوم منسٹری، وزیر داخلہ امت شاہ کے ماتحت کام کرتی ہے۔ پھر یہ سوال بنتا ہے۔
وزیر داخلہ کے زیر انتظام پولیس اتنی حساس جگہ پر اس طرح کی ناکامی کیسے برداشت کر سکتی ہے؟ عوام جاننا چاہتی ہے، ذمہ دار کون ہے؟ حفاظت اور شفافیت کہاں ہے؟
کب تک ہم یہ دیکھتے رہیں گے کہ اقتدار کے کھیل میں بےگناہ انسانوں کی جانیں داؤ پر لگتی رہیں؟ کب تک طاقتور اپنے مفادات کے لئے معصوموں کی قربانی لیتے رہیں گے؟
یہ دھماکہ صرف دہلی کا نہیں، بلکہ ہمارے نظام کی کمزوری، ہمارے سچ کی خاموشی اور ہماری انسانیت کی آزمائش ہے۔ ہر سوال دبایا جا رہا ہے، ہر جواب موخر ہو رہا ہے، اور ہر دن عام انسان کے لئے ایک نئی خطرناک حقیقت لے کر آ رہا ہے۔۔۔۔
یہاں غور طلب
یہ واقعہ اسی وقت کیوں سامنے آیا جب ملک میں الیکشن جاری ہیں، سیاست گرم ہے، مختلف مقامات پر جلسے ہو رہے ہیں، اور عوام کا جھکاؤ بعض مقامات پر اپوزیشن کی جانب نظر آ رہا ہے جبکہ حکومت پر ناکامی و خوف کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ایسے میں کچھ عناصر کے لیے یہ ہنگامی حالات بیشک سیاسی فائدے کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور یہی وہ ناپسندیدہ سچائی ہے جسے ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔۔۔۔
افسوس کہ اس سب کے درمیان ایک اور ظالمانہ حقیقت یہ بھی ہے۔ سیاسی زندگی کے اس کھیل میں اکثر معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب بھی کوئی بڑا واقعہ ہوتا ہے تو کئی نام فوراً سامنے آ جاتے ہیں، میڈیا "آہنی” زبان میں نشر کرتا ہے، اور اکثر انہیں فوری طور پر ہی "دہشت گرد” والا ٹیگ لگا دیا جاتا ہے۔۔۔
ہمارا اب بھی یہی سوال ہے !
کیا ٹی وی پر دکھائے جانے والے ہر چہرے کو بلا تحقیق دہشت گرد قرار دیا جانا چاہئے؟
یا یہ سب سیاسی کھیل کے مہرے ہیں؟
کئی معصوم سالوں سال جیلوں میں سڑ رہے ہیں، اور سچ سامنے آنے تک ان کے گھر والے تباہ و برباد ہو چکے ہوتے ہیں۔ بےگناہی کے باوجود اُن پر جبراً نا کردہ گناہوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف جھوٹ بولنے، سازش رچنے اور عوام کا خون چوسنے والوں کی کرسیاں برقرار رہتی ہیں۔ یہ اقتدار کا گندا چہرہ ہے جو ہر بار ایک عام انسان کا خون مانگتا ہے، اپنی طاقت کو بےگناہوں کی لاشوں پر قائم رکھتا ہے۔۔۔۔
آخر کب تک یہ کھیل چلے گا؟
کب تک ضمیر کی چیخیں سیاست کے شور میں دبتی رہیں گی
سیاست کا یہ کھیل اب صرف اقتدار تک محدود نہیں رہا، یہ ایک ایسا زہر بن چکا ہے جو آنے والی نسلوں میں سرایت کر رہا ہے۔
ایک نسل کو نشے کا عادی بنا کر برباد کیا جا رہا ہے، اور دوسری نسل جو پڑھ لکھ کر خودمختار ہونا چاہتی ہے، ملک و ملت اور انسانیت کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے، انہیں سازشوں میں الجھا کر جیلوں کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ کل تک علما و فاضل نشانے پر تھے،آج ڈاکٹر، انجینئر اور تعلیم یافتہ نوجوان نشانے پر ہیں،
یہ قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، قوم کا مستقبل ہیں۔ انہیں “دہشت گرد” کے نام پر برباد کرنا کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک منظم کھیل ہے۔
یاد رہے
کرسی بچانے والوں کا عوام کے خوابوں سے کیا غرض ؟
اُن کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ سچ دب جائے، سوال خاموش ہو جائیں، اور ہر نئے چہرے پر ایک نیا الزام چسپاں ہو جائے۔ شاید آج دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں ہو رہی، یہ نظام سے بھی ہو رہی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ سیاست کے لئے اکثر بےگناہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے شور میں انصاف پیچھے رہ جاتا ہے۔ سچ بعد میں سامنے آتا ہے، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ خاموش تباہی بم سے کم خطرناک نہیں، کیونکہ یہ نسلوں کو مار دیتی ہے۔۔
ہمیں چاہیے کہ ہم حکومت، تحقیقاتی اداروں اور میڈیا سے یہ مطالبہ کریں!
شفاف تفتیش، فی الفور غلط شناخت نہ لگائیں، اور احتساب کو یقینی بنائیں۔ عوامی مباحثے میں انسانیت کو اولیت دیں، اور سیاسی مفادات کو انسانوں کی قربانی پر فوقیت نہ ہونے دیں۔ صرف وعدے کا زمانہ ختم کریں، عمل اور انصاف چاہیے۔
جب تک انصاف کا نظام مضبوط نہیں ہوگا، اور جب تک سوالات دبائے جائیں گے، ہماری آنے والی نسلیں ادھوری امیدوں کے ساتھ جئیں گی۔۔۔ اور ایسے ہی دشمنان اسلام کی سازشوں کا شکار بنتی رہیں گی ۔۔۔۔۔

