
گلوبل صمود فلوٹِیلا! سمندر کی موجوں پر امید کا سفر، اسرائیلی بندش کے سائے تلے …
احساس نایاب شیموگہ ۔۔۔
بحرِ روم کی طوفانی موجیں، سیاہ آسمان اور سمندر کے بیچوں بیچ لہروں کو چیرتا ہوا کشتیوں کا قافلہ… گلوبل صمود فلوٹِیلا
یہ قافلہ ہے مٹھی بھر جانبازوں کا، ایک انسانی ہمدردی کی جدوجہد جس نے دنیا کی آنکھوں کو اپنی طرف موڑ لیا ہے۔ ان کشتیوں پر کوئی توپ، بندوق یا بارود نہیں ہے،
صرف دوائیں، خوراک، حوصلہ اور وہ امید ہے جو غزہ کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔
انسانیت کی وہ تحریک جو ظلم کے سائے میں روشنی کی لکیر بن کر ابھری ہے۔ یہ قافلہ دنیا کے مختلف ملکوں سے روانہ ہوا تاکہ غزہ کے مظلوم عوام تک براہ راست امداد پہنچا سکے۔
نام "صمود” کا مطلب ہے استقامت ۔۔۔ یعنی دباؤ کے باوجود ڈٹے رہنا۔ یہ محض امدادی سفر نہیں بلکہ ایک علامت ہے کہ دنیا کے باشعور انسان خاموش نہیں رہ سکتے ۔۔۔۔۔
تقریباً 39 (انچالیس) کشتیوں پر 500 سے زائد افراد دنیا کے مختلف گوشوں سے نکلے۔ ان میں وکلاء، ڈاکٹرز، صحافی، کارکنان اور حتیٰ کہ عالمی سطح کی شخصیات بھی شامل تھیں۔
پڑوسی ملک پاکستان سے بھی ایک وفد روانہ ہوا، جس کی قیادت سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کر رہے تھے۔ وہ تیونس سے قافلے میں شریک ہوئے اور دنیا بھر کے کارکنان کے ساتھ مل کر غزہ کی جانب روانہ ہوئے۔۔۔
لیکن کل رات سمندر میں وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔
پہلے سے گھات لگائی اسرائیلی بحریہ نے اپنے جنگی جہاز اور کمانڈوز تعینات کر دیے تاکہ فلوٹِیلا کو روکا جا سکے۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ اس کی ناکہ بندی قانونی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے ماہرین، تنظیمیں اور دنیا بھر کے سول سوسائٹی گروپس اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فلوٹِیلا کو محفوظ گزرگاہ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔۔۔
لاکھوں مظاہرین یورپ، ترکی اور مشرق وسطیٰ میں سڑکوں پر نکل آئے۔ کئی مشہور شخصیات بشمول سماجی کارکنان اور ماہرینِ قانون بھی اس قافلے کے ساتھ موجود ہیں۔۔۔
ان تمام مخالفتوں کے باوجود کل دیر رات اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں ان کشتیوں پر دھاوا بولا۔
متعدد کشتیوں کے انجن بند کر دیے گئے، کمیونیکیشن سسٹم جام کر دیا گیا۔ درجنوں شرکاء کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں ترکی، ملیشیا، کولمبیا، سویڈن اور پاکستان کے نمائندے بھی شامل ہیں۔۔۔
یہاں پر سب سے زیادہ توجہ کا مرکز وہ لمحہ بنا جب ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور پاکستانی رہنما مشتاق احمد خان کو بھی اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا۔۔۔
یہ گرفتاری صرف چند انسانوں کی نہیں، بلکہ پوری دنیا کے ضمیر کی گرفتاری ہے۔ انسانیت کی گرفتاری ہے۔ پاکستان سمیت ترکی، ملیشیا، کولمبیا اور یورپ کے کئی ممالک نے اپنے اپنے شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دنیا بھر کے شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل کر چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں
“غزہ کو زندہ رہنے دو ”
ان گرفتاریوں کو لے کر سب سے پہلے
کولمبیا کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے اسرائیل کی جانب سے اپنے شہریوں کی گرفتاری پر کولمبیا نے اسرائیلی سفارتکاروں کو ملک سے نکال دیا گیا ۔۔۔
آزاد تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی وارننگ دی اور بین الاقوامی عدالتوں میں کیس کرنے کا اعلان کیا۔ صدر گوستاوو پیٹرو نے اس کارروائی کو “بین الاقوامی جرم” قرار دیا ہے۔۔۔
جب اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹِیلا پر حملہ کیا اور درجنوں شرکاء کو گرفتار کیا۔ تو
فلوٹِیلا کی قیادت کی جانب سے بھی یہ اعلان ہوا کہ وہ ہر حال میں اپنا مشن جاری رکھے گی — وہ جہاز چلانا بند نہیں کریں گے جب تک کہ غزہ آزاد نہیں ہو جاتا۔
اسی دوران ان کی طرف سے ایک ہنگامی کال بھی دی گئی ہے
جس مین ان کے حامیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ مضبوط قدم اٹھاؤ۔
سب کچھ بند کر دو، ملک میں مکمل ہڑتال کرکے عالمی معیشت کو مفلوج کردو، صمود کا مشن ہر قیمت پر مکمل ہوگا
غزہ کی ناکہ بندی ختم کرو
غزہ میں نسل کشی بند کرو
فرانس سے یورپی پارلیمنٹ کی رکن ایما فروں (Emma Fourreau) نے اسرائیل کی گرفتاریوں پر رنج و مذمت کا اظہار کیا اور فلوٹِیلا کے شرکاء کی حمایت کا اعلان کیا۔۔۔
فلوٹِیلا محض چند کشتیوں کا نام نہیں، بلکہ غزہ کے ان معصوم بچوں کی امید ہے جو بھوک اور بمباری کے بیچ زندگی تلاش کر رہے ہیں۔ یہ ان ماؤں کی فریاد ہے جو اپنے بچوں کو دوائی کے بغیر مرتے دیکھ رہی ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کی صدا ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے خوابوں کو ملبے تلے دفن ہوتے دیکھا۔
یہ قافلہ دنیا کے ضمیر کا امتحان ہے، یہ ظلم کی تاریخ کا امتحان ہے۔
یہ قافلہ صرف امداد لے کر نہیں جا رہا تھا، یہ دنیا کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑنے نکلا تھا۔ اور اب سوال پوری دنیا کے سامنے ہے:
کیا طاقتوروں کی بندوقیں انسانیت کی آواز کو دبا سکیں گی؟
کیا یہ گرفتاریاں ان لہروں کو روک سکیں گی جو ہر ساحل پر غزہ کا نام لکھ رہی ہیں؟
سخت ترین رکاوٹوں کے باوجود اگر یہ قافلہ اپنے مشن میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ تاریخ کا روشن باب ہوگا۔۔۔
اور اگر یہ قافلہ ظلم کے پنجوں میں کچلا گیا… تو یہ صرف غزہ کی شکست نہیں ہوگی بلکہ پوری انسانیت کی شرمندگی ہوگی۔
غزہ کی آنکھوں میں ابھی بھی ایک سوال ہے
کیا ہم اکیلے ہیں؟
یا واقعی دنیا ہمارے ساتھ ہے؟
اے مسلمانوں ! کیا تم اب بھی سوئے رہو گے ؟
کیا غزہ کے لہو کی پکار تمہیں نہیں جگاتی ؟
یاد رکھو ! آج کی خاموشی کل تمہیں تاریخ کے کٹہرے میں مجرم بنا دے گی۔۔۔




