مضامین و مقالات

آئین پادشاہی یا جمہوری تماشہ ؟

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

جمہوریت کو دنیا کا بہترین طرز حکومت کہا جاتا ہے موجودہ زمانے میں دنیا کی بیشتر حکومتیں انتخابی طریقے سے چنی گئی جمہوری حکومتیں ہی ہیں۔ جمہوریت میں عوام اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی پسند کے حکمران منتخب کرتے ہیں جو متعین مدت تک حکومت کرتےہیں۔ اس عرصے کے بعد ،( اس کے دوران عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے) حکومت بدلی بھی جاتی ہیں۔ جمہوری حکمرانی کا یہ طریقہ گو کہ کسی نہ کسی طور پر ہزاروں سال سے رائج ہے لیکن موجودہ زمانے کی انتخابی جمہوریت میں بالغ عمر کے تمام عوام کو ووٹ دینے اور الیکشن لڑنے کا حق حاصل ہوتا ہے یہ طریقہ ابھی محض 200 سال سے ہی جاری ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس قسم کی جمہوریت اختیار کرنے والا پہلا ملک 1788 میں امریکہ بنا تھا کہ جب جارج واشنگٹن امریکہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے تھے ۔لیکن اس انتخاب میں عوام کے ایک مخصوص طبقے کو ہی ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ وہ پہلا ملک بنا جس نے خواتین سمیت تمام بالغ عوام کو ووٹ دینے کا حق دیا ۔ دنیا میں آج بھی مختلف ممالک میں مختلف نوعیت کی جمہوریتیں ہیں، جہاں انتخاب کے طریقے بھی مختلف ہیں اور ووٹ دینے کا اختیار بھی مشروط ہے۔ گویا جمہوریت اور اس کے طریقے کار کو لے کر دنیا میں آج 3 ہزار سال بعد بھی ایک بحث جاری ہے اور عالمی سطح پر کوئی متفق علیہ طریقہ رائج نہیں ہو سکا۔ خود اقوام متحدہ کو ہی لے لیجئے جہاں دنیا کے تقریبا 190 رکن ممالک ہیں لیکن ہر ملک کو یکساں حقوق و اختیارات حاصل نہیں ہیں بلکہ محض پانچ ایٹمی ممالک کو ویٹو پاور حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جو 14 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اس میں یہ پانچ ممالک (امریکہ ،برطانیہ،چین ، روس اور فرانس) کو مستقل ممبران کہا جاتا ہے۔ بقیہ نو ممالک ہر ماہ بدلتے رہتے ہیں۔ سلامتی کونسل کی ووٹنگ میں اگر سب ممالک بھی ایک طرف ووٹ ڈالیں اور ان پانچ میں سے کوئی ایک بھی اس تجویز کے خلاف ہو تو وہ تجویز پاس نہیں ہو سکتی جیسا کہ حالیہ دنوں میں کئی بار دیکھا گیا کہ فلسطین کی حمایت میں سلامتی کونسل کی ہر تجویز کو تنہا امریکہ ویٹو پاور استعمال کر کے ناکام بنا دیتا ہے ۔کبھی یہ حق روس استعمال کرتا ہے اور کبھی چین۔ اس طرح دنیا میں قیام امن اور ظلم روکنے کی خاطر ساری دنیا کی رائے ایک طرف اور ان پانچ میں سے کسی ایک کی تنہا رائے الگ ہو توحصول انصاف کی تمام سفارتی کوششوں کو ناکام ہو جاتی ہیں ۔اس کے باوجود اس طریقے کار کو جمہوریت ہی کہا جاتا ہے۔
جمہوریت کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ 1923 میں ترکی خلافت کے سقوط کے بعد جمہوریت کے چلن میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔خصوصا ترکی حکومت سے نکلنے والے یورپی اور مسلم ممالک نے جمہوریت اختیار کرنے پر زیادہ زور دیا ۔ 1946 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اس کا چلن تمام براعظموں میں عام ہو گیا ۔دنیا بھر میں عوامی خواہش بھی یہی رہی کہ ان ممالک میں بھی ان کے ووٹ کے ذریعے چنی گئی حکومتیں قائم ہوں جیسا کہ خود بھارت میں بھی 1947 میں آزادی کے بعد پہلی بار اس جمہوریت کو اختیار کیا گیا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ساری دنیا میں عوامی حکومتوں کا دور دورہ ہونے کے بعد بھی دنیا کے 45 ممالک میں آج بھی کسی نہ کسی صورت میں شہنشاہیت کا چلن جاری ہے ،مثلا برطانیہ ،کینیڈا، نیوزی لینڈ، ویٹیکن، کمبوڈیا ،ڈنمارک، جاپان، تھائی لینڈ وغیرہ ۔کچھ مسلم ممالک میں بھی آج تک شہنشاہیت قائم ہے مثلا ًسعودی عرب ،جارڈن ،متحدہ عرب امارات، ملیشیا ،مراکش ، قطر وغیرہ ان شہنشاہیتوں میں کچھ تو محض علامتی ہیں اور ان ممالک میں حکومت چنے ہوئے نمائندے ہی چلاتے ہیں جبکہ بادشاہ کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔ مثلاًبرطانیہ ۔اور کچھ ممالک میں بادشاہ کا حکم حرف آخر ہوتا ہے اور چنی ہوئی حکومتیں محض علامتی ہوتی ہیں۔ مثلا ًسعودی عرب یا خلیجی ممالک جارڈن وغیرہ ۔حیرت ناک امر یہ ہے کہ جمہوریت کی پرزور وکالت کرنے والے طاقتور ممالک یا اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے بھی ان مطلق العنان آمریتوں کو تسلیم کرتے ہیں، ساتھ ہی جمہوریت کے فروغ کی تبلیغ بھی کرتے رہتے ہیں۔
جمہوریت کی اس دورخی پالیسی کے پس پردہ محض یہی عملی تضاد نہیں ہے بلکہ گزشتہ نصف صدی میں متعدد بار اور متعدد مقامات پر یہ بھی دیکھا گیا کہ جہاں مروجہ جمہوری طریقوں پر عمل کرتے ہوئے وہ جماعتیں یا قیادتیں ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئیں جن کو دنیا کےطاقتور ممالک پسند نہیں کرتے ان کو زبردستی کالعدم قرار دے دیا گیا ۔کبھی ان پر فوج کشی کے ذریعے، کبھی ان ممالک کے اندر عوامی بغاوتوں کو ہوا دے کر اور کبھی خود اقوام متحدہ کے ذریعے ۔ان واقعات سے خود جمہوریت کے وجود پر یہ سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ کیا دنیا کے طاقتور عناصر کی جنبش ابرو کو ہی جمہوریت کہتے ہیں اور اگر یہ جمہوریت ہے تو پھر آمریت اور ڈکٹیٹر شپ کیا ہوتی ہے؟
اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے روز افزوں اس جمہوریت کے دور میں مشرقی وسطی اور افریقہ میں اکثر مسلم ممالک میں جمہوری طریقوں سے چنی گئی مسلم حکومتوں کو مغربی استعمار خصوصا امریکہ اور برطانیہ کی ریشہ دوانیوں کے ذریعے گرایا جاتا رہا ہے۔ ان میں سے چند نمایاں حکومتوں میں سب سے پہلی حکومت خود ایران کی تھی ۔ 1953 میں ایران کے وزیراعظم محمد مصدق کی جمہوری حکومت کو سی آئی اے کی مدد سے صرف اس لیے گرا دیا گیا کہ وہ برطانیہ کو مفت ایرانی تیل دینے پر رضامند نہیں تھے اور تیل کی آمدنی کو ایرانی معیشت کے استحکام کے لیے آزادانہ طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ مگر مبینہ عوامی بغاوت کے ذریعے جمہوری حکومت کو گرا کر رضا شاہ پہلوی کو ایران کا بادشاہ بنا دیا گیا ۔1966 میں انڈونیشیا میں بھی سی آئی اے نے عوامی خانہ جنگی بپا کی اور فوجی بغاوت کے ذریعے احمد سکارنو کی جمہوری حکومت کو برطرف کر کے فوجی آمریت کی راہ ہموار کی ۔اس کے بعد افغانستان کا نمبر آیا۔ اور 1970 میں یہاں بھی سی آئی اے نے عوامی افرا تفری بپا کی اور 1973 میں محمد ظاہر شاہ کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ پھر 1978 میں روس نے اس حکومت کو برطرف کیا اور نتیجے میں 1992 تک ایک خوفناک خانہ جنگی جاری رہی۔ 2001 سے 2021 تک امریکہ کا تسلط رہا ۔اس عرصے میں افغانستان کے لاکھوں مسلمان شہید کیے گئے اور پورا ملک محض ریت کا ڈھیر بن کے رہ گیا۔ 1992 میں الجیریا میں سلوییشن آرمی کی منتخبہ حکومت کو بھی انہی وجوہات پر برخاست کیا گیا۔ پھر گیمبیا اور اس کے بعد 2003 میں عراق میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ اسی امریکہ اور اس کے حلیفوں کی فوج کشی کے ذریعے پلٹا گیا، لاکھوں عراقیوں کا قتل کیا تیل لوٹا اور ایک خوبصورت ملک کو کھنڈر بنا دیا گیا، بہانہ محض یہ تھا کہ عراق کے پاس مہلک ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے جو بعد میں غلط ثابت ہوا جس کے لیے برطانیہ نے معافی بھی مانگی لیکن اپنی غلطی کا کوئی معاوضہ کبھی نہیں دیا۔ آج بھی عراق معاشی طور پر غیر مستحکم ہے۔
2006 میں فلسطین کے عام انتخابات میں حماس نے غزہ سمیت پورے فلسطین میں واضح اکثریت حاصل کر کے عوامی حکومت قائم کی لیکن اسرائیل نے حماس کے منتخب اراکین پارلیمنٹ اور وزراء تک کو گرفتار کیا اور اقتصادی ناکہ بندی کی۔ بالآخر 2007 میں حماس کے منتخب رہنما اسماعیل ہانیہ کی حکومت کو برطرف کر دیا اور پورے غزہ کا محاصرہ کر کے 30 لاکھ عوام کو ایک کھلی جیل میں رہنےاور غیر انسانی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا۔ یہ سلسلہ آج تک مزید وحشیانہ طریقے سے جاری ہے۔ اسی طرز پر 2011 میں بہار عرب کا دور شروع ہوا جس نے پورے مسلم خطے کو عدم استحکام میں دھکیل دیا۔ تیونس سے شروع ہوئی عوامی تحریک مصر، شام ،لبنان، لیبیا ،سوڈان، بحرین، کویت ،سعودی عرب تک تقریبا 17 ممالک کو غیر مستحکم کر گئی ۔ کچھ حکومتوں کو بدل بھی دیا گیا ۔ 2013 میں مصر میں اخوان المسلمین کے رہنما محمد مرسی جنہیں 52 فیصد ووٹ ملے تھے ان کو بھی امریکی سی آئی اے نے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سے برطرف کر کے جیل رسید کر دیا اور وہیں ان کی شہادت ہوئی۔
2016 میں ترکی میں جمہوری حکومت گرانے کے لیے فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کی گئی۔ 2018 میں یہی حرکت ملیشیا اور مالدیپ میں بھی کی گئی ۔اب ایک بار پھر ایران میں یہی کیا جا رہا ہے 28 دسمبر 2025 کو اسرائیل اور امریکہ کی جاسوسی ایجنسیوں نے ایران میں عوامی بغاوت کو ہوا دے کر حکومت گرانے کی ناکام کوشش کی۔ ہزاروں ایرانیوں کو قتل کر ڈالا ،مساجد شہید کیں اور بازاروں کو آگ لگا دی۔ اور پوری ڈھٹائی سے اعتراف بھی کیا گیا کہ امریکہ وہاں کی منتخب قیادت کو بدل کر اپنے کٹھ پتلی رضا شاہ پہلوی کے پوتے کو ایک بار پھر بادشاہ بنا کر جمہوریت کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔عوامی بغاوت ناکام ہو گئی تو اب ایران کو چاروں طرف سے امریکی افواج نےگھیر رکھا ہے اور عراق و افغانستان اور لیبیا کی طرح ہزاروں سال سے تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہے ملک کو کھنڈر بنا کر وہاں کے تیل اور معدنیات کو لوٹنا چاہتا ہے ۔مغربی افریقہ میں بھی یہ سلسلہ ایسے ہی جاری ہے۔
مذکورہ بالا ممالک میں یہ قدر مشترک ہے کہ ان سب ممالک کے عوام اور قیادتیں اپنے ممالک میں اسلامی جمہوری نظام نافذ کرنا چاہتے تھے ۔ اسی طرح وہ امریکی بالادستی کو بھی قبول نہیں کرنا چاہتے تھے اور اپنے ملک میں موجود وسائل کو آزادانہ طور پر اپنے ملک کی بقا و ترقی خوشحالی کے لیے استعمال کرناچاہتے تھے ۔چنانچہ جہاں ایک طرف امریکہ اور یورپی ممالک مسلم ممالک میں موجود اس خطے کے قدرتی وسائل اورتیل کے علاوہ وہاں کی تہذیب و تمدن کو اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کررہے ہیں ،وہیں دوسری طرف حالیہ صدی میں احیائے اسلام کی ہر تحریک کو کچلنا بھی ان کا مقصودنظر رہا ہے۔ اسی غرض سے جمہوریت کے نام پر چنگیزی بپا کر کے اسلامی طاقتوں اور ان کے وسائل کو اپنے قبضے میں رکھ کے دنیا بھر کے مسلمانوں کو غلام رکھنا چاہتے ہیں۔ مسلم دنیا میں جاری اس بد امنی ، جنگ اور عدم استحکام کے لئے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانے والی دنیا کو حالیہ دنوں میں غزہ، ویننزویلا اور ایران کے واقعات سے یہ سمجھنا چاہئیے کہ جمہوریت کےپردے میں امریکہ و یوروپ کا اصل ایجنڈا کیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button