مضامین و مقالات

نئی نسل کا باشعور، تعمیری و تخلیقی فکر کا صحافی:عارف اقبال

پروفیسر علیم اللہ حالی

سابق صدر شعبہ اردو، مگدھ یونیورسٹی

جواں سال صحافی محمد عارف اقبال مجھے بیحد عزیز ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صحافت میں مجاہدانہ زندگی جیتے ہیں، ان کا ذہن غیر معمولی اور اختراعی ہے۔ دیگر صحافیوں کے مقابلے ان کی خبریں اورواقعات کے منظر کشی اچھوتے اور منفرد نظر آتے ہے۔ ان کی زبان شُستہ اور شائستہ ہے۔ اظہارو بیان پر انہیں قدرت حاصل ہے۔نیک، صالح،خوش مزاج، بڑوں کے قدرداں اور علماء کے نور نظر ہیں۔بزرگوں کا دست شفقت ان کے سر پر ہے اور وہ اس کے فیض یافتہ ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف اور مولف ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں کچھ نیا کر دکھانے کا شوق اور جذبہ ہے۔ اس کم عمری میں ہی ملکی سطح پر وہ ایک مستند اور فعال صحافی کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔ صحافت آج کے مادی اور سماجی زندگی میں ایک تیاگ کی طرح دشوارکن اور صبر طلب میدان کار ہے۔ صحافت بالخصوص اردو صحافت زندگی کو سنوارنے، مالی اعتبار سے خوش حال بنانے اور بہت حد تک معاشرتی اعزاز حاصل کرنے میں دوسری زبانوں کی صحافت کے مقابلے میں کمزور و ناتواں ہے۔
عزیزی عارف اقبال ان تمام دشواریوں سے واقف ہیں جو صحافت کے راستے میں حائل ہوتی ہیں۔ صحافت ان کے لیے ایک سوچا سمجھا ہوا میدان کار ہے، اس لیے وہ اس ناعمری میں بھی کسی اور طرف نہیں دیکھتے؛بلکہ سماجی سچائیوں کو عوام و خواص کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں، صحافت کے میدا ن میں داخل ہونے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ آدمی سماجی اور انسانی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائے اور اپنے قلم کے زو ر سے غلط کاروں کو ان کے نتائج سے آگاہ کرے۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی واقعے کی رپورٹنگ کر دینا صحافت کی ذمہ داری پورا کر دیتا ہے، بلکہ غور کیا جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صحافت مہذب معاشرے کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ فطری طور پر ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات اکثر وبیشتر سامنے آتے رہتے ہیں جو انسانی اقدار کے منافی ہوتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر صحافی اس کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے تیار رہتاہے، سچا صحافی مالی خوش حالی کی فکر نہیں کرتا؛ بلکہ حق کی آواز کو بلند کرتا ہے اور معاشرے کی کمزوریوں کو توانائی بخشنے کی کوشش کرتا ہے۔
علمی اعتبار سے بھی صحافی کئی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اجتماعی زندگی کی متعددشاخیں اس کے پیش نظر ہوتی ہیں، وہ ان کی اچھائیوں اور برائیوں سے واقف ہوتا ہے اور ہمہ وقت اس بات کے لیے کوشاں رہتا ہے کہ انسانی سماج صحت مند عوامل سے آراستہ رہے۔ سماج میں پیدا شدہ خوب زیست کی پکار میں علم صداقت ہمیشہ بلند رہے،اس صورت حال میں ایک صحافی کو حق و صداقت کا ہم نواں بننا پڑتا ہے، وہ ظلم اور زیادتی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور ایک طرح سے آنے والے خطرات میں ایک مجاہد کی طرح مقابلہ کرتاہے۔اس کے علاوہ اس نکتے کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ صحافی کے لیے سماج کے مختلف پہلوؤں کا واقف کار ہونا ضروری ہے۔ایک ڈاکٹر جسم کے امراض کو سمجھتا ہے؛ لیکن عمارت سازی کے اصول و قواعد سے اس کی واقفیت نہیں ہوتی، غرض یہ ہے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں الگ الگ صلاحیتیں درکار ہیں۔ صحافت ہی ایک ایسا علم اور ایسی تربیت و تعلیم ہے جہاں متعدد علوم اور ان کی نزاکتوں سے واقفیت ہونا ضروری ہے۔ صحافت آدمی کو انسان بنانے کا فن سکھاتی ہے اور ہمیشہ زندگی کے بہتر اور پسندیدہ پہلوؤں کی تائید کی کوشش کرنی چاہیے۔
عارف اقبال ان سبھی نکتوں سے باخبر ہیں اور صحافت کے اعلیٰ معیار اور اس کے تحفظ کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ عارف اقبال کو بزرگوں کی نشانیوں سے بڑی دل چسپی ہے، وہ پرانے مقابر اور یادگاروں کی تحقیق میں کافی دل چسپی رکھتے ہیں، درگاہوں خانقاہوں کی پرانی تاریخ کی تلاش اور ان کے قدر و قیمت کا اندازہ لگانے کے سلسلے میں مہارت حاصل ہے۔ انہیں یقین ہے کہ ہمارے بزرگوں نے جس وضع کی زندگی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے یقینا اس میں انسانی فلاح کے پہلو موجود ہیں۔ اس لیے ہماری وراثت صالح معاشرت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ روایتی اقدار زندگی کو سنوارنے نکھارنے اور بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔ عارف اقبال ابھی نوجوان ہیں لیکن ان کی فکر و نظر بالیدہ ہے، وہ اخلاقی اور انسانی قدروں کو پسند کرتے ہیں اور بہتر زندگی کے لیے روایتی تہذیبی خاکے سے وابستگی ضروری سمجھتے ہیں۔
آج کل بیباک صحافت کا نشاں بس کہیں کہیں ملتا ہے۔ جہاں صحافت کو معاش اور آمدنی کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے، وہاں بہت سی غلط باتوں سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، ایسی صورت میں صحافت آزاد نہیں رہتی۔ عارف اقبال ان امور کو خوب سمجھتے ہیں اور اپنی صحافتی تحریروں سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ صحافت آزادی فکر و اظہار میں سانس لیتی ہے تو کتنی دل کش اور بااثر ہو جاتی ہے۔ اخبار نویس حضرات حالات سے بہت جلد سمجھوتہ کر لیتے ہیں اس لیے کہ اس سمجھوتہ سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ عارف اقبال کو داد دینی پڑتی ہے کہ وہ کبھی اس لالچ میں نہیں پڑے اور صحافت کو مصلحت کے ہاتھوں ذلیل نہیں کیا۔
آج ہمارے معاشرے میں ارباب سیاست اور دولت مند طبقہ سماج کو غلط روش پر لے جانے کی کوشش کر رہا ہے، اپنی دولت و مرتبت اور اثرات کے ذریعہ لوگوں کو غلط اعمال کی تلقین کرتے ہیں۔ اس طرح معاشرہ نیکی اور اچھائی سے دور ہوتا جاتا ہے۔ غلط اورمضرنقطہ نظر حاوی ہونے لگتا ہے۔ ایسی صورت حال میں اس بات کی ضرورت ہے کہ صحافت کو مکمل طور پر صداقت کا ترجمان بنایا جائے، یہ انسانیت کی بڑی خدمت ہے اور اس میں صحافیوں کو بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔ عارف اقبال کی اس خصوصیت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے ہمیشہ کمزور اور مظلوم طبقے کی حمایت کی ہے۔
عارف اقبال کو ابھی بہت موارضات سے الجھنا ہے، ان کے سامنے دولت ثروت کے متعددہتھکنڈے آسکتے ہیں۔ آدمی کے بگڑنے میں دیر نہیں لگتی، اس لیے انہیں آئندہ بہت سے چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے اور صالح روایت اور انسانی اقدار کی حمایت کا بوجھ برداشت کرنا ہے۔ خدا کرے کہ وہ نیکی انصاف اور انسانیت نوازی کی قدروں کے ساتھ صحافت کی عمدہ مثال قائم کر سکیں۔
٭٭٭

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button