مضامین و مقالات

کوئی فائدہ نہیں

کبھی عزت انسان کے کردار سے پہچانی جاتی تھی آج کل "اسٹیٹس” سے پہچانی جاتی ہے۔ پہلے خاندان اپنے بچوں پر فخر کرتے تھے، اب بچے خاندان کو "اوور ری ایکٹنگ” کا لقب دے کر جدید ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تہذیب کی کتاب بند ہو چکی ہے اور نمائش کا بازار کھل چکا ہے

ایک عجیب زمانہ آ گیا ہے۔ جب کوئی بزرگ نصیحت کرے تو کہا جاتا ہے: "ہمیں اپنی زندگی جینے دیں۔” لیکن جب یہی آزادی بے راہ روی میں بدلتی ہے، تو پھر الزام قسمت، معاشرہ، یا حالات کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔

عجیب منطق ہے! عزت کو قید سمجھا گیا، اور بے حیائی کو آزادی کا نام دے دیا گیا۔ فرمانبرداری کو غلامی کہا گیا، اور ضد کو خودداری کا لقب مل گیا۔ یوں لگتا ہے کہ الفاظ نے بھی اپنے معنی بدل لیے ہیں۔

کبھی ماں باپ کی دعائیں سرمایہ تھیں، آج "لائکس” اور "فالورز” کامیابی کا معیار بن گئے ہیں۔ پہلے بچوں کو یہ سکھایا جاتا تھا کہ "سر جھکا کر چلو”، اب کہا جاتا ہے کہ "سر اٹھا کر جیو، چاہے نظریں ہی کیوں نہ جھک جائیں۔”

کھانے بھی بدل گئے، سوچیں بھی بدل گئیں۔ سادہ روٹی میں کبھی برکت تلاش کی جاتی تھی، آج پیزا، برگر، کافی، پارٹی، ہوٹل، سیلفیاں اور دکھاوا زندگی کی کامیابی کی علامت بن چکے ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ لوگ اچھا کھا رہے ہیں؛ المیہ یہ ہے کہ کردار بھوکا رہ گیا اور خواہشات موٹی ہوتی گئیں۔

آج آزادی کا مطلب یہ رہ گیا ہے کہ کوئی روکنے والا نہ ہو، کوئی ٹوکنے والا نہ ہو، کوئی نصیحت کرنے والا نہ ہو۔ حالانکہ اصل آزادی تو نفس کی غلامی سے نکلنے کا نام ہے، نہ کہ خواہشات کی زنجیروں میں قید ہونے کا۔

یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ جو لوگ عزت، حیا، ادب اور خاندان کی بات کرتے ہیں، انہیں "پرانے خیالات” کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی خاندان بکھرتے ہیں، رشتے ٹوٹتے ہیں اور اولاد ہاتھ سے نکل جاتی ہے، تو سب سے پہلے انہی پرانی نصیحتوں کو یاد کیا جاتا ہے جنہیں کبھی مذاق سمجھا گیا تھا۔

آج کے معاشرے میں کامیابی کا پیمانہ بھی عجیب ہے۔ اگر کسی کے پاس مہنگا موبائل، برانڈڈ لباس اور چمکتی ہوئی تصویریں ہوں تو وہ کامیاب ہے، چاہے اس کے اخلاق دیوالیہ ہو چکے ہوں۔ لیکن اگر کوئی باحیا، باکردار اور بااصول ہو تو اسے دقیانوسی کہہ دیا جاتا ہے۔

یاد رکھیے! تہذیب کی موت شور سے نہیں آتی، بلکہ خاموشی سے آتی ہے۔ جب والدین بولنا چھوڑ دیں، اساتذہ سمجھانا چھوڑ دیں، علماء اصلاح کرنا چھوڑ دیں، اور معاشرہ برائی کو معمول سمجھنے لگے، تب قومیں زندہ رہ کر بھی مر جاتی ہیں۔

ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟ صرف آزادی، یا آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی؟ صرف آسائش، یا اس کے ساتھ کردار بھی؟ صرف تعلیم، یا تعلیم کے ساتھ تربیت بھی؟

اگر آزادی کا مطلب بزرگوں کی نافرمانی، خاندان کی بے توقیری، حیا سے دوری اور اخلاق کی پامالی ہے، تو ایسی آزادی جشن نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے ایک خاموش المیہ ہے۔

قومیں عمارتوں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔ اور جس دن کردار بازار میں بکنے لگے، اس دن عزت، تہذیب اور خاندانی وقار صرف لغت کے الفاظ رہ جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آزادی اور بے راہ روی کے فرق کو سمجھنے، اپنی تہذیب، حیا اور خاندانی وقار کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button