مضامین و مقالات

ایران امریکہ معاہدہ ایک نئی سرد جنگ کا آغاز؟

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

ہر چند کے ایران اور امریکہ کے مابین تین ماہ سے جاری جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا ہے اور اگلے دو ماہ میں اس معاہدے کی تکنیکی تفصیلات طے کرنے کے لیے سویڈن میں امریکی اور ایرانی وفود روبرو گفتگو کر رہے ہیں۔ قطر اور پاکستان اس معاملے میں ثالثی کا رول ادا کر رہے ہیں۔ لیکن اس معاہدے پر ابھی تک بھی کچھ حیران کن تنازعات کے تصفیہ پر ابہام باقی ہے ۔مثلا ایران پر جنگ مسلط کرتے وقت امریکہ اور اسرائیل باہمی شریک کے طور پر ایک فریق تھے اور دونوں نے مل کر ایران پر حملہ کیا تھا۔ لیکن معاہدے میں اسرائیل شریک نہیں ہے ۔صرف ایران اور امریکہ ہی فریق ہیں۔ جن شرائط پر معاہدہ طے ہوا ہے ان کے مطابق ایران کی اس شرط کو قبول کیا گیا ہے کہ جنگ بندی تمام محاذوں پر لاگو ہوگی ان محاذوں میں سے ایک لبنان ہے تو دوسرا اہم محاذ فلسطین کا غزہ بھی ہے، تیسرا یمن ہے ،کیونکہ ابتدا سے ہی مزاحمت کا اصل محور ایران کے علاوہ یہی تینوں محاذ مانے جاتے رہے ہیں ۔لیکن اس حقیقت سے کسی طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف حماس کی مزاحمت کے نتیجے میں ہی لبنان کا محاذ بھی سرگرم ہوا تھا اور یمن کے حوثیوں کے حملے بھی اسی عنوان سے بڑھے تھے ۔تینوں مقامات پر اسرائیل براہ راست ہدف تھا، جبکہ امریکہ بلاواسطہ طور پر اسرائیلی حلیف کے طور پر اس کی بھرپورمدد کر رہا تھا ۔ حماس کے بڑے بڑے قائدین کی شہادت اور لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ شہید کی شہادت یا یمن کے وزیراعظم سمیت دیگر وزراء کی شہادت اسی جنگ کا نتیجہ تھی۔ ان تینوں محاذوں کی قیادت ایران کی ہی رہین منت تھی۔ اسی لیے جون 2025 میں ایران پر حملہ کیا گیا تھا اوراسی کا تسلسل اب فروری 2026 میں ایران کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ کی حالیہ خوفناک جنگ کی صورت میں برآمد ہوا ۔اسرائیل غزاکی جنگ بندی کا اعلان کو کہ مارچ 2025 میں کر دیا گیا تھا اور تین مراحل میں اسے نافذ کرنے کا منصوبہ عالمی اداروں کی دیکھ ریکھ میں بنا دیا گیا تھا ۔لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کے اس اعلان کے باوجود گزشتہ ایک سال میں 2ہز سے زائد مرتبہ اسرائیل نے غزہ پر حملے کیے ہیں جن میں تقریبا ایک ہزار فلسطینی شہید ہوئے اور سینکڑوں عمارتیں زمیں بوس کی گئیں، رسد و خوراک کی ترسیل بھی بہت محدود ہے اور فلسطینیوں کی گرفتاری کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔گویا صورتحال میں کوئی نمایاں فرق نہیں آیا ہے اس مفروضہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر بھی حملوں میں شدت آئی اور آئے دن لبنانیوں کا قتل عام جاری ہے۔ بیروت سمیت پورے لبنان کو بھی غزہ کی طرح ریت کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا ۔اس دوران حوثی نسبتا خاموش ہیں۔ اس تناظر میں ایران اور امریکہ کے مابین معاہدے میں اسرائیل کو شریک اور پابند بنائے بغیر اس پر عمل درآمد کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی ۔ خصوصا ان حالات میں جبکہ اس معاہدے پر دستخط ہونے کے اگلے ہی دن سے لبنان پر اسرائیلی حملے بھی مزید شدت اختیار کر گئے اور فلسطین میں مغربی کنارے اور غزہ دونوں مقامات پر اسرائیلی حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ،نیز اسرائیل نے واضح طور پر اعلان بھی کیا ہے کہ وہ اس معاہدے کا پابند نہیں ہے نیز یہ کہ اس معاہدے کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا اور اس کی افواج جنوبی لبنان میں ایک غیر معینہ عرصے تک موجود رہیں گی۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ 14 نکات میں سے میں لبنان میں قیام امن کی شرط بھی شامل ہے اور امریکہ نے اسرائیل کی جانب سے گارنٹی بھی لی ہے کہ وہ اسے معاہدے کا پابند بنائے گا ،مگر اس کا کوئی اثر زمین پر دکھائی نہیں دیتا ۔دستخط کے بعد پہلے روز تو امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کو کچھ سخت سست کہا بھی لیکن باقاعدہ مذاکرات کی میز پر جب دونوں فریق بیٹھے تو ٹرمپ نے ایران کو ہی لبنان جنگ کا ذمہ دار قرار دے کر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا ،نتیجے میں ایرانی وفد کو پہلے ہی دن مذاکرات سے واک اؤٹ کرنا پڑا معاہدے کی شق کے مطابق لیبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کے اطلاق کی بات کی گئی ہے لیکن یہ تمام محاذ کون کون سے ہیں اس پر یہ معاہدہ خاموش ہے ۔گویا یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ ان محاذوں میں براہ راست فلسطین شامل ہے یا نہیں ہے ۔مغربی ایشیا کے تنازعہ کی اصل جڑ تو فلسطین ہی ہے، فلسطین میں قیام امن اور مسئلے کے پائیدار حل کے بغیر اس خطے میں امن کا کوئی امکان نہیں ہے ،ا سرائیل کسی قیمت پر بھی فلسطینیوں کو ان کا حق دینے اور ان کے جائز مطالبات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے اس سلسلے میں اقوام متحدہ سمیت کسی بھی عالمی ادارے کی رائے یا تجویز کو کبھی قبول نہیں کیا ،حتی کہ وہ ساری دنیا میں یکا و تنہا رہ گیا ،لیکن پھر بھی اس کے مظالم کا سلسلہ کبھی نہیں رکا۔ یہ بات اب ساری دنیا پر عیاں ہے کہ اسرائیلی حکومت پورے فلسطین پر قبضہ کرنے کے ساتھ ہی کچھ دیگر عرب ممالک کے کچھ حصوں پر قبضہ کر کے اسرائیل عظمی کے قیام کے لیے ہم وقت کوشاں ہے اور کسی قیمت پر بھی اپنے اس ہدف کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہے، اس کے لیے وہ کسی بھی قسم کے عالمی دباؤ کو بھی قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے، حتی کہ وہ امریکہ کو بھی خاطر میں لانا نہیں چاہتا ۔چنانچہ مغربی ایشیا میں کسی معاہدے میں بھی اسرائیل کو پارٹی بنائے بغیر وہاں پائیدار امن کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا ۔معاہدے کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کو کسی بھی دوسرے ملک کے حوالے کرنا نہیں چاہتا، اور امریکہ اس یورینیم کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ جہاں تک ایٹم بم بنانے کا تعلق ہے تو ایران کا یہ دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ ایٹم بم کبھی نہیں بنائے گا متعدد بار ایرانی قیادت اپنے اس موقف کا اظہار کرتی رہی ہے ۔ چنانچہ اس معاہدے میں بھی انہوں نے اس کا وعدہ پھر سے کیا ہے کہ وہ بم نہیں بنائیں گے اور عالمی ایٹمی توانائی مرکز کو نگرانی کی اجازت دیں گے لیکن ایٹمی میزائل بنانے کے اپنے حق دفاع کا بھی وہ اعادہ کر رہے ہیں جس پر امریکہ سر دست خاموش ہے۔ چنانچہ اگلے دو ماہ جب تک اس معاہدے پر مذاکرات ہو رہے ہیں یہ مسئلہ معلق ہی رہے گا اور اس پر گفتگو کافی تلخ ہونے کے آثار ہیں۔ اس کے علاوہ معاہدے کی تمام شرائط ایران کے حق میں ہیں اس معاہدے پر ایماندارانہ عملدرآمد ایران کو خطے کی اہم اقتصادی طاقت بنانے میں بے حد معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔انقلاب کے بعد سے اب تک گزشتہ ۴۷سال میں یہ ایرانی کی سب سے بڑی اقتصادی اور عسکری فتح ثابت ہوگی ،جو اسے خلیجی ممالک کے ہم پلہ اقتصادی قوت کے طور پر مستحکم کر سکتی ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے حالات نے یہ تو ثابت کر دیا کہ دنیا کا معاشی استحکام ایرانی کہ آبی گزرگاہوں سے ہو کر ہی گزرتا ہے چنانچہ اب دنیا کا کوئی بھی ملک ایران کو ہلکے میں لینے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہوگا، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ عالمی سطح پر ایران سے جنگ بندی کے خواہشمند سب ہیں اور خود امریکہ پر بھی اس کا اچھا خاصا دباؤ ہے، اسی لیے ایرانی شرائط پر امریکہ معاہدہ کرنے پر مجبور ہے۔ وگرنہ یہی شرائط ایران نے روز اول ہی پیش کر دی تھیں جس کا انکار امریکہ اب تک کرتا رہا تھا لیکن اسی عالمی دباؤ کے نتیجے میں ان شرائط کو قبول کرنےپر آمادہ ہونے کو تیار ہواہے۔ اس کی ایک دیگر وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے براہ راست جنگ سے باہر آنا چاہتا ہے اس کی اپنی معیشت اور اندرونی سیاست کا دباؤ بھی اضافی طور پر موجود ہے، پورا یورپ اور برطانیہ امریکہ کی براہ راست جنگ سے نالاںہے اور اس کے تمام حلیف اس جنگ میں شروع سے ہی پلہ جھاڑ چکے ہیں ۔مگر ایران میں اس جنگ بندی کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جا سکتا کہ مغربی ایشیا کے حالات نارمل ہو جائیں گے ،پورا خلیجی عرب جنگ بندی تو چاہتا ہے لیکن خطے میں ایران کی بالادستی قبول کرنا نہیں چاہتا ۔نتیجے میں ایک مزید علاقائی سرد جنگ کا آغاز ہونے کا خدشہ ہے، اور ایک بار پھر فوکس فلسطین ہی بنے گا ۔اس صورتحال میں ایران کا رول کیا ہوگا یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا ۔بہرحال ایک بات تو اس جنگ نے ثابت کر دی کہ ظلم اور حق تلفی کے خلاف خاموشی ،مصلحت یا سرنڈر ظالم کو مزید ظلم کرنے پر اکساتی ہے، جبکہ ناانصافی کے خلاف حکمت آمیز مزاحمت حالات کا رخ پلٹ سکتی ہے۔ موجودہ صدی میں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کو ساری دنیا ایک ناقابل تسخیر قوت کے طور پر دیکھتی ہے اور پورا عالم اسلام یا تو ان قوتوں کا حلیف یا غلام بن چکا ہے یا پھر ان کے ظلم اور ریشہ دوانیوں کا مسلسل شکار ہے ،ایسے میں ایرانی مزاحمت فتح کا استعارہ بن کر ابھری ہے ۔جس نے عالم اسلام کے بہت سے ممالک کو جرات ،حوصلہ اور سربلندی کا احساس عطا کیا ہے۔ بہرحال اس سارے تناظر میں فلسطین خصوصا اہل غزہ پر ہونے والے مظالم اور ان کی بے لوث،صابرانہ مزاحمت اور قربانیوں کو نظر انداز کر دینا اور ان کے تحفظ اور استحکام سے صرف نظر کرنا بھی ایک مجرمانہ عمل ہوگا۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل آف انڈیا کے صدر ہیں)
[email protected]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button