
قربان پر بکرے مینڈھے اونٹ کی قربانی افضل نہ کہ گائے بیل بھینس ن
۔ نقاش نائطی
۔ +966562677707
https://www.facebook.com/reel/1623845998884982/?mibextid=rS40aB7S9Ucbxw6v
ہم کریں تو پاپ سنگھی بی جے پی کرے تو کوئی مسئلہ نہیں، ایسا دوہرا ماپ ڈنڈ آخر کیوں؟ نتن گڈگیری سمیت یہ نام نہاد سنگھی صرف اپنی گندی سیاست کے لئے اور مسلم مخالف نفرتی ماحول پیدا کئے,عام سیکیولرھندوؤں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہی فقط, گؤماتا ذبیحہ امتناع قانون کا بیجا استعمال کیا کرتے ہیں جب کہ خود ساختہ ایشور کے اوتار, رام راجیہ سرکار سنگھی حکومتی حفاظتی حصار میں بڑے لائسنس یافتہ بوچڑ خانوں میں, روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں گؤماتاؤں کا قتل عام کئے, اسکا ماس بھینس کے گوشت کے جھوٹی سرٹیفیکٹ کے ساتھ کھاڑی عرب دیشوں کو ایکسپورٹ کئے, کروڑوں ڈالر کماتے ہیں۔ ھندستان کے بی جے پی راجیہ صوبوں میں جہاں گؤ ماتا ذبیحہ قانونا” جرم قرار دیا گیا ہے وہاں یہ بی جے پی آرایس ایس بھگوا گؤ پریمیوں کے ہاتھوں باقاعدہ غیرقانونی گؤماتاؤں کو کاٹ کاٹ کر اپنا کمیشن رکھے مارکیٹ میں گؤماتا گوشت دھڑلے سے بیچا بھی جاتا ہے۔گویا روزانہ کی بنیاد پر کٹنے والی گؤماتائیں کٹتی اور اسکا ماس بکتا ہی رہتا ہے فرق صرف یہی ہے کہ ہر کٹنے والی گؤماتا کے لئے ایک مقرر رقم پولیس کے مادھیم سے چیف منسٹر اور پرائم منسٹر آفس تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے, اس کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڑگڑی کی گوشت ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی ریمبل ایگرو اینڈ فوڈ کی کھلی سرپرستی میں, بھینس کے گوشت سرٹیفیکیٹ کے ساتھ گؤماتا کا گوشت دھڑلے سے مہاراشٹر بی جے پی رام راجیہ سرکار میں مارکیٹ بیچنے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔اور انتظامیہ کے ہاتھوں پکڑے جانے پر بھی معاملہ رفع دفع کیا جاتا ہے
چونکہ ہم 20 فیصد بھارتیہ مسلمان شہریوں کا مذہبی تہوار بقر عید ابھی ہفتہ دس دن کی دوری پر ہے ۔ اس لئے ان نفرتی چنٹوؤں کو کمیشن یا رشوت دئیے اپنے مذہبی فریضہ ادائیگی سے آمان کے لئے, ہمیں بی جے پی حکومتی نافذ العمل گؤماتا ذبیحہ امتناع قانون سے عید قربان کو مشتشنی قرار دیا جائے تاکہ اس دیش بھارت کے ہم بیس فیصد مسلمان,انتہائی سکون سے, اپنے مذہبی فریضہ عید قربان کو وقت پر اطمینان سے ادا کرسکیں۔جس طرح بن مانگے ممتا بھری ماں بھی اپنے لاڈلے بچے کو چھاتی سے لگا دودھ نہیں دیتی ہے بالکہ ویسے ہی ہمیں اس رام راجیہ میں انصاف نہیں ملیگا یہ تصور کئے انصاف مانگنے ہی سے رہ جائیں تو ہمیں انصاف کیوں کر مل سکتا ہے؟ کسی اچھے وکیل کی خدمات حاصل کئے، مناسب ڈھنگ سے دلائل دئیے انصاف مانگا جائے تو عجب نہیں ہم بھی انصاف سے محروم چھوڑ دئیے جائیں؟ برادران وطن کے مذہبی آستھا کے چلتے صرف ہم مسلمانوں کو اس گؤ ماس ذبیحہ قانون سے مشتشنی قرار دینے کی گوہاڑ تو مناسب عمل نہیں ہے لیکن اگر اسی ھندوبرادران کے مذہبی آستھا کے خلاف گؤماتا یا اس کے قبیل کے بڑے جانوروں کو اس پوتر بھارتیہ دھرتی سے کاٹ کاٹ بیف نریاد نہیں روکا جاتا ہے تو, اس نریاد مشتشنی قانونی دفعات کے سہارے دستور العمل میں ہم مسلمانوں کو اپنے رسم و رواج پاسداری کا حوالہ دئیے اس گؤماس ذبیحہ قانون سے ہم مسلمانون کو مستشنی رکھنے کی عدالت عالیہ سے گہاڑ لگائی اور انصاف ملنے کی امید رکھی جاسکتی ہے
https://www.facebook.com/share/r/1DaQNbL5VP/
خود ساختہ ایشور کے اوتار مہان مودی جی کے رام راجیہ میں, گؤماتا ذبیحہ امتناع قانون باوجود کیسے کمیشن کے لئے باقاعدہ سنگھی حکومتی سرپرستی میں گؤماتاؤں کو کاٹا اور بھارتیہ مارکیٹ میں کھانے کے لئے سپلائی کیا جاتا ہے اور کیسے ہزاروں سالہ آسمانی سناتن دھرمی ویدک گنگا جمنی دھرتی پر گو ماتا کا گوشت بیچنے سپلائی کئے جاتے کٹنے والی ہر گؤماتا کا کمیشن کمیشن دہلی کے ایوانوں تک کیسے پہنچاتے ہیں یہ خود سنگھی وچار دھارکوں کی زبانی سنا جاسکتا ہے
https://www.facebook.com/reel/1492026345957403/?mibextid=rS40aB7S9Ucbxw6v
اترپر دیش کے اناؤ ضلع گؤ شالہ کی دردناک تصویر، یوپی چناؤکے وقت گائے کو گؤماتا کا درجہ دیئے, کیمرہ کے سامنے دو روٹی یا تازہ چارہ کھلاکر ووٹ لیاجاتا ہے اور چناؤ بعد یہی گؤماتائیں چارہ پانی کے لئے ترس ترس کر مر جاتی ہے حکومتی خزانے سے جہاں ہزاروں کروڑ گؤ ماتا حفاظت کے نام سے گؤشالاوں کے قیام اور اس کے رکھ رکھاؤ پر ہضم کئے جاتے ہیں اور یوپی چیف منسٹر یوگی آدھتیہ ناتھ کی ناک کے نیچے ، اناؤ شہر کے سرکاری گؤ شالہ کی چارہ پانی کے لئے ترستی تڑپتی دم توڑتی بیشمار گؤ ماتاوں کی اندھوناک تصاویر کو دیکھئے ہوئے, ہڈیوں کے ڈھانچوں کی شکل میں دم توڑٹی گؤماتاؤں کا دردناک حشر دیکھ کر پتہ چلتا ہے ، مہینوں سے انہیں چارہ پانی دیا نہیں گیا ہوگا۔ایک طرف یہ سنگھی مودی یوگی حکومت اچھی بھلی تندرست ہزاروں گایوں کو روزانہ کی بنیاد پر بڑے بڑے بوچڑ خانوں میں ہلاک کر, اسکا ماس عرب کھاڑی کے مسلمان ملکوں کو بیج کر ہزاروں کروڑ کمائے جاتے ہیں تو دوسری طرف گؤماتا سرکھشہ گؤشالہ کیندر کھول کر ہزاروں کروڑ حکومتی فنڈ لوٹا جاتا پے۔ گؤ ماتا پریم جتاتے ہوئے کروڑوں ھندو ووٹروں کا استحصال کر، اقتدار حاصل کیا جاتا ہے اور سرکاری سنگھرکشن ہی میں ہزاروں گایوں کا اجتماعی قتل بھی ہوجاتا ہے۔ھندو مسلم کے نام سےدیش واسیوں کا دھیان بھڑکایا جاتا ہے اور اپنی گندی سیاست سے چمنستان بھارت کو معشیتی طور تباہ و برباد کیا جاتا ہے
گؤ رکھشاکا ڈرظاہر کر گؤ ماس تجارت زوروں پر ہے”ڈر کا ماحول پیدا کرتے ہوئے اپنا لوٹ کا کاروبار جاری رکھنا پڑتا ہے۔ گجرات بجرنگ دل چیف کا اعتراف
مسلم مویشی کاروباری کے بھیس میں ایک پترکار کا گجرات بی جے پی آر ایس ایس اور بجرنگ دل کا گؤ رکھشہ کے نام سے گؤ ماتا کو بیجنے کے کاروبار کا راز افشاء کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے
کس طرح سے یہ نام نہاد گؤ رکھشک، کچھ پیسوں کے لئے اپنی گؤ ماتا کا سودا کیا کرتے ہیں۔ اس سنگھی مودی حکومت نے ویسے تو لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے گؤماس پابندی لگائی دی ہے۔ لیکن مودی جی کے نعرے "اپندھا میں بھی اوسر تلاش کرنا” گؤماس پابندی میں آرایس ایس بجرنگ دل کے سنگھ رکھشن میں,دیش کی ماسا ہاری جنتا کو کھلانے کے لئے, گؤماتا سے لدے فی ٹرک 15 ہزار روپئیے غنڈہ ٹیکس لیکر کس طرح چھوڑا جاتا ہے اور یہ گؤ رکھشہ کے بہانے وقتا فوقتا مسلمانوں کی ماپ لنچنگ قتل کرتے ہوئے، لوگوں میں ڈر بٹھاتے ہوئے، کیسے یہ سنگھی بی جے پی آرایس ایس بجرنگ دل والے دیش بھر گؤماتا کو یا گؤماتا گوشت کو سپلائی کئے ہزاروں کروڑ سالانہ کا کمایا اور کھایا کرتے ہیں دیکھا جائے
ان سنگھی درندوں کو گؤماتا سپلائی سے ملنے والے ہزاروں کروڑ سالانہ انکم کے مزے جو ملے ہوئے ہیں وہ کیسے اتنی آسانی سے چھوڑ سکتے ہیں۔ اسی لئے تو 2024 عام انتخاب بھی ای وی ایم ماتا اور الیکشن کمیشن پتا کے سہارے انتخاب کو جیتا گیا تھا۔ دیش واسیو ہوشیار رہو یہ سنگھی اتنی آسانی سے حرام کمائی والی یہ سپتھا چھوڑنے والے نہیں ہیں۔
گؤ رکھشک ہی گؤماتا ہتیھارے نکلے یوپی سنگھی ادھتیاتھ یوگی مہاراج کے مسلم منافرتی رام راجیہ میں، جہاں یوگی مہاراج کو گؤماتا بچھڑے سے پیار کرتے بھونپو میڈیا ٹی وی پر صدا دکھایا جاتا ہے، وہیں انہی کی چھتر چھایہ آشیرواد سے، گؤ ماتا سرکھشا مذہب پریم ہی کے نام پر ماہانہ 40 ہزار کروڑ روپئے کا گؤ ماس غیر قانونی طور بیچنے کا دھندا،کیا جاتا ہے۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں، ھندو دل کے راشٹریہ سربراہ ویدھ ناگر مہاراج کہہ رہے ہیں، کہ گیروے وستردھاری یوگی مہاراج کے آشیرواد سے، انکے خاص تلک دھاری برہمن پنڈت پورن جوشی، نہ صرف دھڑلے سے گؤماتا ماس کا غیر قانونی کاروبار کررہے ہیں بلکہ ان کا گؤماتا گوشت کاروبار اتنا اچھا چل رہا ہے اور اگر کبھی سچھے دیش بھگت یا گؤماتا بھگت کے اخلاص کے چلتے گؤماتا گوشت کا غیر قانونی کاروبار پکڑے جانے پر، نہ صرف انہئں بلکہ مخلصانہ گؤسرکھشہ ابھیان چلانے والے انیک گؤبھگتوں کو, کسی مسلمان کے ہاتھوں نہیں بلکہ تلک دھاری پنڈت پورن جوشی کے ہاتھوں، اپنے مارے جانے کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ سنگھی حکومتی ہریانہ چرخی داری کے بادرہ قصبہ میں 27 اگست کو صابر ملک مسلمان کی گؤماس کھانےکےشک میں، انہیں موپ لنچنگ مارمار کر شہید کیا گیا تھا۔ اس نے گؤ ماس نہیں کھایا تھا یہ اس کے شہید ہونے کے بعد، لیبارٹری رپورٹ سے معلوم ہوا، لیکن ھندو سنگھی وہ بھی شدھ سہاکاری تلک دھاری برہمن پنڈت پورن جوشی بھگوا دھاری یوگی ادھتیہ ناتھ کی اگیہ و آشیرواد سے، نہ صرف گؤماتاؤں کا قتل عام کئے اور مشرقی بنگال سے درآمد کئے، دہلی نوئیدا و اطراف کے ہوٹلوں میں سپلائی کرتے ہوئے، کم و بیش 40 ہزار کروڑ کا ماہانہ گؤ ماس، کاروبار کیا کرتا ہے۔ ظاہر ہے جس بھگوا دھاری رام راجیہ یوپی میں مسلمان مرغا ماس کی تجارت ان سنگھیوں کو برداشت نہیں ہوتی ہے وہیں اتنے بڑے پیمانے پر تلک دھاری برہمن گؤماس کاروبار کرے تو یقینی طور پر اوپر تک اس غیرقانونی تجارت کے حصے بٹتے اور پہنچتے ہونگے۔ اگر کسی ایک آفیسر کو بھی اسکا مناسب حصہ نہ ملا تو ظاہر ہے وہ تو مخبری کریگا ہی نا؟ کسی کی مخبری پر 9 نومبر کو مشرقی بنگال سے آرہے ایک ٹرک کو، گریٹر نوئیڈا کےداردی کوتوالی کے لوہارلی چیک پوسٹ پر، پولیس نے روکا اور ٹرک میں پکڑے گئے ماس کو متھرا لیبارٹری رپورٹ کے بعد، گؤماس ثابت ہونے پر، ضبط کیا گیا۔ کڑی سے کڑی ملاکار جب تحقیقات کی گئی تو پتہ چلا کہ، گریٹر نوئیڈا دادری کے پچھاڑی روڈ پر ایس پی جی کولڈ اسٹوریج سے، ہزاروں ٹن گؤماس پورے نوئیڈا کے ہوٹلوں میں دھڑلے سے سپلائی ہورہا ہے۔ کولڈ ہاؤس پر ریڈ دوران چیمبر نمبر5 میں 156 ہزار کلو گؤماس پانچ لوگوں کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔ جس میں کولڈ ہاؤس مالک تلک دھاری پنڈت پورن جوشی، اس کولڈ ہاؤس کے مینجر اکشے سکسینہ، ڈرائیور شیو شنکر ، سنچالک سچن اور ایک نوکر مسلم خرشدین نبی تھے۔
جس بھگوا دھاری یوگی مہاراج کے رام راجیہ یوپی میں کسی مسلمان کے گؤماس کھانے کےشک پر،اسےموپ لنچنگ مار دیا جاتا ہو اور ھندو مذہبی جلوس پر تھوکنے کے الزام میں مسلمانوں کے گھروں کو یوگی جی کے بلذؤزر، منٹوں میں گرا دیتے ہوں، کیا اس یوپی کے بلڈؤزر، 156ٹن گؤ ماس کے ساتھ پکڑے جانے پر، اس گولڈ ہاؤس کو بھی یوگی کے بلذؤزر زمین بوس کردینگے یہ دیکھنا باقی ہے؟ اور یقیناً ایسا کچھ نہیں ہوگا یہ اس لئے کہ "منو اسمرتی والے سنگھی رام راجیہ کے منو فرمان مطابق سو گؤ ہتھیہ سے زیادہ پاپ، ایک تلک دھاری برہمن کو تکلیف دینا ہے” ایسے سنگھی رام راجیہ میں، پولیس ریڈ میں پکڑے گئے 156 ٹن گؤماس مطلب کم وبیش ڈیڑھ ہزار گؤماتا ھتیہ اور 40 ہزار کروڑ کی گؤماس تجارت ماہانہ مطلب کم و بیش 40 ہزار گؤماتا ھتیائیں بھاری پڑتی ہیں یا گیروے دھاری یوگی ادھتیہ ناتھ کا خاص الخاص تلک دھاری پنڈت پورن جوشی بھاری پڑتا ہے یہ سنگھ بھگتوں کو کہ گؤ بھگتوں کو آنے والے وقت میں معلوم پڑ جائے گا۔جس یوپی رام راجیہ کسی مسلمان کے ذرا بڑی آواز چھیکنے پر شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہو، وہاں ڈیڑھ ہزار کلو گؤماتا ماس غیر قانونی پکڑے جانے پر کچھ فرق پڑے یہ کیسے ممکن ہے۔ اسی لئے تو 56 ہزار کلو غیر قانونی گؤ ماس پکڑے جانے کی خبر بکاؤ بھونپو میڈیا پر چلائی ہی نہیں گئی ہے۔
نام نہاد سیکولر بھارت میں، حق آزادی مذہبی پاسداری،کیا ہم بھارت کے 30 کروڑ مسلمانوں کو حاصل ہے؟
سنگھی مودی بریگیڈ،گؤ پریم کے اپنے ڈھکوسلے کردار سے، بھارت واسیوں کے منھ سے نوالے چھین چھین کر، لاکھوں کی تعداد گؤ ہتھیائیں کرتے ہوئے، سناتن دھرمی بھارت کو عالم کے بڑے بیف ایکسپورٹر ملک بنا چکے ہیں
https://theprint.in/economy/indias-beef-exports-rise-under-modi-govt-despite-hindu-vigilante-campaign-at-home/210164/
عام انسانیت کے لئے دونوں جہاں کے آسمانی مالک کی طرف سے بھیجے گئے آخری نبی خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کی بعثت کے بعد، بڑی ہی تیزی سے عالم میں پھیلنے والے مذہب اسلام میں، اپنے چار ہزار سال قبل والے جدی پشتی،اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی، اللہ سے اپنی محبت ایثار قربانی درشاتے کی گئی، قربانی کو قیامت تک زندہ و تابندہ رکھنے ہی کے لئے، عید الاضحٰی کو عید قربان کی طرح مناتے ہوئے، اپنے اللہ کے لئے، جانوروں کی قربانی دیتے آئے ہیں۔ اسلام میں گائے بیل بکرا مینڈھا یا اونٹ یا کوئی بھی مخصوص جانور کی قربانی کرنا متعین اور ضروری نہیں ہے,بلکہ خاتم الانبیاء سرور کائینات محمد مصطفیﷺ نے،اپنے ذاتی عمل سے، تنگدستی والے دنوں میں، اپنے پورے اہل وعیال کی طرف سے، ایک بکرے کی قربانی ادا کرتے ہوئے اور دوسرے ہی سال وسعت دست کے رہتے، ایک سو اونٹوں کی قربانی ایک ساتھ کرتے ہوئے، تا قیامت آنے والے ہم مسلمانوں کو،خصوصا ہم مسلمانوں میں امراء و صاحب حیثیت تجار قوم کو، اپنے عملی زندگی سے، اپنی اپنی اسعت دست کشادگی مطابق، اپنے معاشرے میں عام طور پر کھائے جانے والے، حلال اور پسندیدہ جانور کی، زیادہ سے زیادہ قربانئ کرنے کی عملی دعوت دی ہے
ماقبل اسلام محمدﷺ یعنی آج سے 4 ہزار سال قبل سے، آل ابراہیم عید الاضحٰی کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرتے آئے تھے اور ہزار بارہ چودہ سو سال قبل سے ہی، بھارت میں آباد ہم مسلمان،اپنے اسلامی عقیدے مطابق قربانی کرتے آئے ہیں۔چونکہ بھارت واسی سناتن دھرمی ھندوؤں کی کثیر تعداد ہزاروں سال سے گائے کو انکے مذہب مطابق،لائق تبریک سمجھے جانے کے باوجود، گائے بیل بیھنسےکاٹ کر کھاتے آئے تھے، اس لئے، اللہ کے رسول ﷺ کے عمل کر دکھائے سنت اونٹ قربانی کے بجائے، بھارت واسی مسلمانوں میں، ہزار بارہ سو سال سے، اپنی عام زندگی میں کھائے جانےوالے،گائے بھینسوں کی قربانی صدا سے کی جاتی رہی ہے۔
2014 آرایس ایس بی جے کے ھندو احیا پرستی والے رتھ پر سوار، گجرات چیف منسٹر ھندو ویر سمراٹ، مہاں مودی جی نے، اپنے زمام اقتدار سنبھالتے ہی، گؤ ماس امتناع کا متنازع معاملہ بھارت واسیوں کےدرمیان اچھالتے ہوئے، ھندو بھائیوں کےمذہبی جذبات، غیر ضروری طور اچھالتے ہوئے، بظاہر گوشت خور ہم مسلمانوں کے خلاف نفرتی مہم چھیڑتے ہوئے، جہاں گؤماس امتناع قانون کو، بڑی ہی نڈرتا سے بھارت میں لاگو کروایا تھا بلکہ دیش کی حفاظت کے لئے لڑنے والے بہادر سپائی کے والد محترم اخلاق کی ہی گؤ ماس خوری کا بہانہ بنا، اپنے حکومتی سرپرستی میں، موپ لنچنگ موت ریاستی دہشت گردی سے، دیش میں گؤ ماس امتناع کی ایک نئی لہر بھارت میں دوڑائی تھی
کرناٹک یوپی سمیت، دیش کے اکثریتی بی جے پی زمام اقتدار صوبوں میں، جہاں گؤماتا پریم درشاتے،گؤماس امتناع قانون لاگو کیا گیا ہے اس قانون کے زمرے میں، نہ صرف گؤماتا سمجھی جانے والی دودھ دوہتی گائے کو، بلکہ گائے کے قبیل کے بڑے جانور بیل بھینس بھینسے، یہاں تک کے اونٹ کے ذبح کرنے پر,نہ صرف پابندی عائد کی گئی ہے, بلکہ سخت جرمانے سزائیں دینے کی شقیں قانون میں ڈالتے ہوئے، گؤ ماس تجارت کرنے والے چھوٹے موٹے تاجروں کو مقامی پولیس و گؤ رکھشکوں کے رحم و کرم پر جہاں چھوڑ دیا گیا ہے وہیں پر اس چمنستان بھارت کے پانچویں حصہ کے ہم 30 کروڑ مسلمانوں کو، بھارت کے سیکیولر دستور ھند میں،حق آزادی مذہبی پاسداری کی اجازت دیئےحقوق، اپنے مذہبی عقیدے مطابق 4 ہزار سال قبل ہی سے عید الاضحٰی کے موقع پر بیل بھینس بھینسے یہاں تک کے سنت رسول مکی ﷺ کے عین مطابق،اونٹ کی قربانی سے بھی ہم 30 کروڑ مسلمانوں کو ماورا رکھا گیا ہے، وہیں پر گؤ ماس پریم کا ڈھکوسلا نعرہ لگاتے ہوئے،اس دیش پرحکومت کررہے مودی یوگی بریگیڈ نے، اپنے سنگھی گرگوں کے جدت پسند بڑے بوچڑ خانون میں، دھڑلے سے ہزاروں نہیں، لاکھوں کی تعداد میں، گائے بیل بھینس بھینسے کو، کاٹ کاٹ کر اسکا ماس کھاڑی کے عرب دیشون کے ساتھ ہی ساتھ یورپ و امریکہ ایکسپورٹ کرتے ہوئے، اپنے سناتن دھرمی ھندو مذہب والے ملک، چمنستان بھارت کو، بھینس گوشت کے نام سے، بڑے کے گوشت کا عالم کا بڑا بیف ایکسپورٹر ملک بنایا ہے۔ یہی نہیں گؤ پریم کے نام سے، بعض مسلم اکثریتی صوبوں میں، گؤ ماس امتناع سختی سے نافذ کرنے والی سنگھی حکومت، گوا منی پور میگھالیہ جیسے کم مسلمان آبادی والے صوبوں میں، گؤماس امتناع کا قانون نہ وضع کرتے ہوئے،ان سنگھی صوبوں میں، نہ صرف دھڑلے سے گؤ ماثاؤں کی ہتھیائیں کی جاتی ہیں بلکہ گؤ ماس امتناع والے سنگھی صوبوں میں بھی، پوری طرح سے بی جے پی سرکار کی سرپرستی میں، غیر قانونی طور گؤماس بیچنے کے لئے، تسکری کر، گؤ ماتاؤں کوسپلائی کرنے کا دھندا زوروں پر چل رہا ہے۔ اس لئے اس عید قربان کے موقع پر ہم دیش کے مختلف شہروں صوبوں کے مسلم دانشور رضا کاروں سے درخواست و التجا کرتے ہیں،کہ سنگھی مودی یوگی کی اس دوہرے ماپ ڈنٹ والی حکومت، بھارت واسیوں کو اپنے امتناع قانون سے، گائے کے قبیل کے جانور گوشت سے محروم رکھتے ہوئے، ودیشی لوگوں کو کھلانے کے لئے، اپنے سنگھی بڑے بوچڑ خانون میں، لاکھوں کی تعداد میں گائےماتاسمیت، گائے قبیل کے بڑے جانوروں کو، قتل عام سے روکنے کے لئے، ہزاروں کی تعداد میں دیش کی عدلیہ میں کیسز دائر کئے جائیں۔ جس میں ایک ہی مدعا ہو مذہبی آستھا کے نام پر ہم دیش واسیوں کے مخصوص طبقہ کو بیف ذبیحہ امتناع قانون کے بہانے بیف کھانے سے محروم رکھنا ہی ہے تو، ایکسپورٹ کے لئے بھی گائے قبیل کے بڑے جانوروں کے قتل عام پر امتناع ذبیحہ قانون لاگو کیا جائے، ایک دیش ایک ٹیکس کی بات کرنے والے اس عالم کی سب سے بڑی جمہوریت میں، بیف امتناع یکساں قانون نافذ کیا جائے۔جو ملک اپنی مذہبی آستھا کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں گائے قبیل کے جانوروں کا گوشت ایکسپورٹ کر، عالم کا سب سے بڑا بیف ایکسپورٹر کا اعزاز حاصل کرسکتا ہو، اس ملک کے شہریوں کو نہ صرف انکے مذہبی عقیدے مطابق بڑے جانور کی قربانی کی اجازت ہونی چاہئیے، بلکہ پورے بھارت واسیوں کو بھی بڑے کا گوشت کھانے کی آزادی ہونی چاہئیے۔ بڑے جانور یا تو پورے دیش میں کاٹے نہ جانے کا قانون وضع کیا جائے یا دیش واسیوں کو بھی کھانے سے روکا نہ جائے۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اپنے مذہبی آستھا کا بہانہ گرھتے ہوئے، دیش واسیوں کےمنھ کے نوالے کو چھین چھین کر، ودیشیوں کو کھلایا جائے۔ خصوصا نام نہاد مسلمانوں کی ہمدردی کا دم بھرنے والے وکلا جو مسلم پرسنل لاء بورڈ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے، ہم 30 کروڑ مسلمانوں کو، اپنی مسلم قیادت سے برگذشتہ کرتے پائے جاتے ہیں،اس سپریم کوٹ وکیلوں سے ہماری درخواست و التجا ہے کہ وہ چمنستان بھارت کے 30 کروڑ ہم مسلمانوں کی طرف سے سپریم کورٹ میں گوہاڑ لگا،یا تو دستور ھند میں حق آزادی عمل آوری مذہبی آزادی کے تحت، عید قربان کے موقع پر، پورے بھارت کے مسلمانوں کو بڑے جانور کی قربانی کرنے کی اجازت دلوائی جائے یا بیف ایکسپورٹ سمیت کسی بھی بہانے سے بڑے جانوروں کا قتل ممنوع قرار دیا جائے۔
اگر ان سنگھی حکمرانوں کو گؤ پریم واقعی مذہبی آستھا کے مطابق سچا پے تو آسمانی ویدوں والی اس نگری چمنستان بھارت میں مکمل، نہ صرف گؤ ماتا بلکہ گائے قبیل کے بیل بھینس اونٹ سبھی جانوروں کی ہتھیاؤں پر مکمل پابندی لگائی جانی چاہئیے, چاہے کہ وہ بیف ایکسپورٹ ہی کے لئے کیوں نہ ہوں۔ اور نہ ہی ان گؤ ماتا قبیل کے جانوروں کے کٹنے اور کھانے کے لئے، پڑوسی بنگلہ دیش پاکستان زندہ جانوروں کی تسکری پر بھی مکمل روک لگائی جانی چاہئیے۔
بھارت سے گائے کے گوشت کی برآمدات – دنیا کا سب سے بڑا بیف ایکسپورٹر
بھارت میں گؤماتا ہھتیہ ممانعت مہم کے باوجود مودی حکومت کے تحت ہندوستان کی گائے کے گوشت کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے
2015-16 میں گائے کے گوشت کی برآمدات میں کمی آئی تھی، جو کہ گائے کا گوشت کھانے پر پہلے موب لنچنگ کے ساتھ ہوا تھا لیکن اس کے بعد سے وہ ٹھیک ہو گئے ہیں
نئی دہلی: نریندر مودی حکومت کے آخری سالوں میں ہندوستان کی گائے کے گوشت کی برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا ہے ایک ممتاز عالمی حقوق گروپ کے دعووں کے برعکس جس میں کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار نے گائے کے محافظوں کے حملوں اور گائے پر سخت قوانین کی وجہ سے کمی کو ظاہر کیا ہے۔
بھارت سے گائے کے گوشت کی برآمدات – دنیا کا سب سے بڑا بیف ایکسپورٹر,حکومتی اعداد و شمار میں,بھارت کی حد تک صرف بھینس کے گوشت کا تذکرہ یا کاغذ پتر بنائے جاتے ہیں کیونکہ گائے کے گوشت کا ذبیحہ اور برآمد ممنوع ہے۔ جبکہ خلیج کی گوشت منڈیوں میں نہ صرف گائے بھینس کا گوشت الگ الگ پیکنگ سے، بلکہ چھوٹے بچھڑوں کا گوشت بھی ویل لیگ کے نام سے دھڑلے سے ایکسپورٹ کیا جاتا ہے
زرعی اور پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ کے ساتھ ڈیٹا اتھارٹیAPEDA، جو وزارت تجارت کے ماتحت ہے، ظاہر کرتا ہے کہ جب مودی حکومت نے 2014 میں اقتدار سنبھالا تو گائے کے گوشت کی برآمدات میں کافی اضافہ ہوا۔
مالی 2014-15 میں، گائے کے گوشت کی برآمدات 14,75,540 میٹرک ٹن رہی جو کہ 10 سالوں میں سب سے زیادہ ہے – جو کہ 2013-14 میں 13,65,643 میٹرک ٹن تھی۔
تاہم، اعداد و شمار، اگلے مالی سال میں گر گئے، جب برآمدات گر کر 13,14,161 میٹرک ٹن رہ گئیں – تقریباً 11 فیصد کمی
تیزی سے گراوٹ گائے کے گوشت کے استعمال پر ہجومی تشدد کے پہلے واقعات کے ساتھ ہی ہوئی۔ یہ ستمبر 2015 میں تھا جب محمد اخلاق کو اتر پردیش کے دادری ضلع کے بسارا گاؤں میں گائے کے ذبیحہ کے شبہ میں ایک ہجوم نے قتل کر دیا تھا۔
اگلے دو مالی سالوں میں، تاہم، گائے کے گوشت کی برآمدات میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ 2016-17 میں، گائے کے گوشت کی برآمدات 13,30,013 میٹرک ٹن رہی جو کہ 2015-16 کے مقابلے میں 1.2 فیصد زیادہ ہے۔
اور 2017-18 میں، یہ تعداد پھر معمولی طور پر بڑھ کر 13,48,225 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی جو کہ 2016-17 سے 1.3 فیصد زیادہ ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا گائے کا گوشت برآمد کرنے والا ملک ہے جو سالانہ 4 بلین امریکی ڈالر مالیت کا گائے بیل بھینس کا گوشت، بھینس کے گوشت نام سے برآمد کرتا ہے۔ "2014 میں، بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد، ملک میں سب سے زیادہ گوشت ایکسپورٹ کرنے والی ریاست اتر پردیش صورتحال کو جنم دیا ہے۔”
"دیر آیت درست آیت” حقیقت کا ادراک سنگھیوں کو، بہت دیر بعد ہوا
آر ایس ایس،بی جے پی کے مہا شکتی سالی، رام و کرشن کے خود ساختہ اوتار مہان مودی جی نے، دیش کی انتی ترقی خوشحالی کے لئے کچھ اچھے کام کرنے کے بجائے، اپنے سابق آقاء انگریزوں کی لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر چلتے ہوئے، اپنےسنگھی شدت پسند ہندو یوا بریگیڈ کے ذریعے، گو رکھشہ کے بہانے، موب لنچنگ بے قصور100 دلت مسلمانوں کا بے رحمانہ قتل کرتے ہوئے، اپنے ہندو اکثریتی ووٹ بنک مضبوط کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہتے، گو ماس پرتیبندھ قانون نہ صرف پاس کیا تھا، بلکہ اپنی نفرت کی تجارت عام کرنے کےزعم میں، کسانوں کے گائے و بیل قبیل کے بوڑھے جانوروں کی خرید و فروخت پر بھی پابندی عاید کی تھی۔ اس وقت ان کے اس قانون سے دیش کے لاکھوں غریب کسان، اپنے بوڑھے جانوروں کو بیچ کر، کچھ اپنی جمع رقوم اس میں ڈال نئے ہٹے کٹے جوان جانور خریدنے سے، نہ صرف محروم رہ گئے تھے بلکہ ان بوڑھے گائے بیل کے بیکار پالن پوشن اضافی خرچ سے جان چھڑانے کے لئے، بھگوان بھروسے سر راہ، انہیں چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اب اس قانون کے نافذ ہوئے ان دو ایک سالوں میں دیش بھر کے لاکھوں کسانوں کے بھگوان بھروسے چھوڑے، ان بڑے جانوروں کی وجہ سے سر راہ چلنے والے ہند واسیوں کو کتنی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اس سے پرے،بھگوان بھروسے چھوڑے ان بڑے جانوروں کےکھیت کھلیان کھانے سے، دیش کی اگتی فصل کو لاتلافی نقصان پہنچا کر،ان غریب کسانوں کو مجبورا” خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا تھا مودی مہان کی گو رکھشہ پالیسی نےاب جا کر ،2026 پانچ ریاستی عام انتخاب سے پہلے،اپنی غلط پالیسیز سے، اپنے کھسکتے ووٹ بینک کو واپس اپنے پالے میں کرنے کے لئے، دیش کے کسانوں کو مائل کر انکا ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہی صحیح، گائے بیل قبیل کے بڑے بوڑھے جانوروں کی خرید و فروخت پر جو پابندی عائد کی گئی تھی اسے واپس لینے کا سنگھی حکومت نے گویا فیصلہ کیا ہے، چاہے وہ بڑے بزرگ جانور ذبح ہو انسانوں کے لقمہ کا حصہ ہی کیوں نہ بنیں
لائسنس یافتہ بڑے تاجر گھرانے کے سلاٹر ھاوسز میں، ہزاروں لاکھوں گائے بیل قبیل کے جانوروں کو کٹوا کر، ان کا ماس ودیشیوں کو کھلوانے کا بندوبست کرتے ہوئے،سنگھئوں کے بڑے تاجروں نے ان چار سالوں میں خوب پیسے لوٹے ہیں۔تصور کریں اگر ہندستان میں گائے بیل قبیل کے تمام جانوروں کے گوشت ایکسپورٹ پر بھی مکمل پابندی لگتی ہے تو اس دیش میں بنا کٹے لاکھوں کروڑوں جانوروں کی موجودگی میں،دیش کی کیا درگت بنتی؟ بھگوان ایشور اللہ نے ہر پرجاتی کو ایک دوسرے کے استعمال کے لئے ہی بنایا ہے۔ گائے بیل جیسے جیوت پرانی کو کھانے کے لئے ذبح کرنے والوں کو ظالم اور کرویلتا پوروک ٹہرانے والے اور ان کے خلاف شور مچانے والوں کو، بکرےبکریوں، مرغ،مرغوں اور مرغیوں کی نسل پروان چڑھانے والے انڈوں کے کھانے پر اعتراض کیوں نہیں ہے؟ اس لئے کہ ہندستانی ہندوؤں کی اکثریت ان چیزوں کے کھانے کی عادی ہے۔ سہاکاری یا وجیٹیرئین کھانے والے برادران وطن بھائیوں کے، جو سہاکاری کھانے کھائے جاتے ہیں وہ نہ صرف جیوت بلکہ احساس و گیان رکھنے والے، پیڑ پودوں کو کاٹ کر ہی تو ان کے پلیٹوں تک پہنچتے ہیں، ان جیوت پیڑ پودوں کو کاٹ کر کھانے سے، کیسے انہیں سکون و شانتی مل سکتی ہے؟
یہاں صرف گائے بیل پر ہوتے ظلم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے لیکن گو رکھشہ کے نام پر، انسانیت پر ہوتا ظلم و ستم کسی کو نظر کیوں نہیں آتا؟ گورکھشہ کے بہانے سے، پشو پالن وزارت قائم کر، دیش واسیوں کےکئی سو ہزار کروڑ ٹیکس میں دئیے روپیوں کو ہڑپ کرتے ہوئے، ان سنگھئوں کی سنگھرشک میں رہنے والی ہزاروں گایوں کے، ان کی بے توجہی سے، گھاس پانی کے لئے ترستے دم توڑتے، ساموہک ہلاکت پر ان سنگھئوں کو، سر راہ لاکر ان کی موب لنچنگ کیوں نہیں کی جاتی؟ دیش واسیوں کو اپنے سنگھی امتناع سے ،گو ماس سے محروم کرنے والے سنگھی بڑے تاجروں کے، ساموہک گو قتل کر، گو ماس ودیشیوں کو کھلانے پر مکمل پرتیبندھ کیوں نہیں لگایا جاتا؟یہ کہاں کا گو پریم ہے یا یہ کہاں کا رام راجیہ قانوں کہ گایوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والے غریب دلت مسلم مزدوروں کو تو،گائے لیجا ذبح کرنے کے شک کی بنیاد پر بھیڑ کو اکساکر، بھیڑ کو انسانیت کا قاتل بنادیا جاتا ہے، لیکن سرکاری سنگھرکشن میں، لائسنس یافتہ مذبح خانوں میں، ہزاروں گایوں کے ساموہک قتل کر، اس کا ماس ودیش بیچنے والوں کو بہترین نریاد کے تمغے دئیے جاتے ہیں۔ کیا یہی اندھیر نگری چوپٹ راج، رام راجیہ کا سوروپ ہے؟ اس پر، دیش واسیوں کو کھلے دل کے ساتھ سوچنا پڑیگا
کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ ہم مسلمانون کے لئے اپنے استعمال والے سب سے وجیہ خوبصورت اور تندرست جانور کی قربانی مطلوب ہے نہ کہ گائے بھینسے کی ہی قربانی مطلوب ہے۔ یہاں ہم یہ کہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زندگی میں گائے بھینس کی قربانی کی ہے اور نہ ہمیشہ گائے بھینس کےگوشت کو کھایا ہے۔ زندگی میں صرف ایک مرتبہ آپ ﷺ نے جب گائے کا گوشت کھایا تھا تب آپ کے فرمان کو بھی ہم یاد رکھے ہوتےتو اچھا ہوتا۔ آپ نے کہا تھا "گائے کا گوشت مزاجا” گرم ہے اس لئے گائے کے گوشت کو لوکی کے ساتھ کھایا جائے” شاید اسی لئے تبلیغی جماعت سے منسلک لاکھوں کروڑوں مسلمان گائے کے گوشت کو لوکی کے ساتھ پکا کر کھاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں گائے کا گوشت نہیں کھانا چاہئیے یا گائے کی قربانی نہیں کرنی چاہئیے۔ لیکن برادران وطن, گؤ ماتا پریم کے لئے نہیں, بالکہ ہم گوشت خود مسلمانوں کو ذہنی تکلیف دینے ہی کے لئے, جب سے گائےگوشت کوہم مسلمانوں کی ایذارسانی کے لئے ہتھیار کے طور استعمال کرنے لگے ہیں۔ اگر سناتن دھرمی ھندؤں کے لئے گؤپرہم اہم مذہبی عقیدت والا معاملہ ہوتا تو لاکھوں کروڑوں گؤماتاؤں کو برھمنی بڑے بوچڑ خانوں میں یوں بے رحمانہ قتل کئے, کھاڑی عرب دیشوں کے ساتھ یورپ و امریکی ملکوں میں نریاد کئے کروڑوں ڈالر نہ کمائے جاتے۔ یہاں معاملہ گؤپریم یا ھندو مذہبی آستھا کا نہیں, ہم مسلمانوں کو ذہنی و جسمانی تکلیف دئیے ہم میں موجود جہادی جذبات کو ختم کئے, بے زبان جانوروں کے مانند ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنائے ذلیل کئے رکھنا ہی ہے تو پھر ہم کیوں اپنے مذہبی حکم آوری کے بغیر بڑے جانوروں کی قربانی کے لئے, اپنی جان و مال و مذہبی رواداری کو درکنار کریں۔ بھارت میں نوے فیصد غیر مسلم ہی گائے جیسے بڑے جانوروں کا پالن پوشن کیا کرتے ہیں۔عموما نوزائیدہ اولاد میں مادہ گائے بھینسوں کو تو وہ دودھ کے لئے پالتے ہیں لیکن نر گائے بھینسوں کو پالن پوشن اخراجات سےبچنے, نر بچوں کو یاتو للہ فاللہ راستوں پرچھوڑ دیتے ہیں یا انہیں عید قربان کے موقع پر, اچھی قیمت ہم مسلمانوں کے ہاتھوں بیچنے ہی کے لئے ان نر گائے بھینسوں کو بڑے ہی پیار دلار سے پرورش کی جاتی ہے اور ان نر گائے بھینسوں کو بیج کر ہی دودھ کے لئے دودھ دیتی یا کھیت جوتنے اچھے معیاری گائے بیل خریدے جاتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زندگی میں صرف بکرے مینڈھے اور اونٹ کی ہی قربانی کی ہے اس اعتبار سے سب سے افضل قربانی بکرے مینڈھے اور اونٹ کی ہے کچھ سال تک ہم پورے بھارت کے 300 ملین مسلمان ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت, نہ صرف گائے بیل بھینس کی قربانی سے اجتناب اختیار کریں گے بلکہ اپنے برادران وطن کی مذہبی آستھاکے ساتھ کھڑے ہوتے دکھانے ہی کے لئے, ان کو ساتھ لئے گائے بیل بھینس ذبیحہ قانون کو پورے بھارت کی دھرتی پر سختی سے نافذ کئے جانے کی وکالت کرتے ہوئے,گائے بیل بھینس جیسے بڑے کے گوشت بیف نریاد پر بھی مکمل بینڈ لگانے مشترکہ احتجاج میں برادران وطن کے ساتھ ہم مسلمانون کو بھی کھڑا ہونا ثابت کرنا چاہئیے۔ یہ عجیب تک ہوگی کہ برادران وطن کے مذہبی آستھا کا خیال رکھے دیش واسیوں کو بیف کھانے سے روکا جائے اور گؤماتاؤں کو ہزاروں کی تعداد میں کاٹ کاٹ کر اسکا بیف کھاڑی کے عرب مسلمانون کو کھلایا جائے۔ سنگھی رام راجیہ والے اس بیف بینڈ ذبیحہ قانون کا جتنا نقصان اس دیش کے مزدور پیشہ کسان طبقہ کو ہوگا ایک دو سالوں کے درمیان ہم مسلمانوں کے بڑے جانور عدم خرید مشترکہ فیصلے سے پریشان, یہ عام مزدور پیشہ کسان طبقہ خود اس سنگھی رام راجیہ سے, دو دو ہاتھ کئے گائے بیل ذبیحہ امتناع قانون کے خلاف پہیہ جام احتجاج شروع کئے, سنگھی حکمرانوں کو یہ گائے بیل ذبیحہ قانون کو واپس لینے سنگھی حکمرانوں کو مجبور کرتے پائے جائیں گے۔ ہمیں امید ہے ہم مسلمانون کو بیف کھانے کے لئے نہیں بلکہ بیرون ملک نریاد سمیت مکمل بیف بینڈ کے حق میں ہم مسلمانون کو دیش واسی برادران وطن ھندوؤں کے ساتھ کھڑا رہنا چاہئیے۔ وماالتوفیق الا باللہ
ڈھونگی گؤپریمی مودی یوگی رام راجیہ سرکار
ھندوؤں کے سب سے بڑے شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند نے کہا کہ سنگھی مودی یوگی رام راجیہ کو واقعی گؤماتا سے پریم ہے تو پورے دیش کے لئے گؤماتا کو نیشنل پشو اعلان کردیا جانا چاہئیے اس سے پورے بھارت کی سرحدوں کے اندر گؤماتا کو نہ کاٹا جاسکےگا اور نہ ہی اس کا ماس ویشی ملکوں میں بیچا جاسکے گا اسی لئے تو سابقہ 11 سالوں سے سناتن دھرمی گنگا جمنی بھارت پر پورے اختیار سے لاشرکت غیرے حکومت کرنے والی رام راجیہ سرکار نے گؤماتا کے نام پر گنگا جمنی بھارت میں نفرت کا بازار گرم کرتے ہوئے, دلت مسلم سو کے قریب انسانی جانوں کا قتل عام کئے جانے کے باوجود, لاکھوں کی تعداد میں گؤماتاؤں کو بڑے سرکاری لائسنس یافتہ برہمنی بوچڑ خانون میں قتل عام کئے لاکھوں کروڑوں ودیشی ڈالر کمانے ہی میں مست ہیں۔ ابن بھٹکلی
https://www.facebook.com/reel/1623845998884982/?mibextid=rS40aB7S9Ucbxw6v
https://www.facebook.com/share/p/1AuqkWwx7T/
گؤماتا کو راشٹریہ پشو گوشت کیا جائے اور گؤماتا کو کسی بھی بہانے کاٹنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے ۔دیکھتے ہیں۔کٹنے دلت مسلمان یا برہمنی بھگوا دھاری پھانسی پر چڑھائے جاتے ہیں۔ابن بھٹکلی
https://www.facebook.com/reel/4964035387077786/?mibextid=rS40aB7S9Ucbxw6v
گؤپشو پالن گھروں کا برا حال حال
گؤماتا کے نام پر اقتدار میں آئے مودی یوگی سنگھی رام راجیہ سرکار والے ہزاروں کروڑ حکومتی ٹیکس روپئے خرچ کئے گؤماتا پشو پالن گھروں میں گؤماتاؤں کے ساتھ کیسا برا سلوک کیا جاتا ہے دیکھا جائے۔ زندہ گایوں کے سامنے گلی کے کتے بیمار گائے کے بھنبھوڑ کھاتے دیکھا جاسکتا ہے ابن بھٹکلی
https://www.facebook.com/reel/1710269303469404/?mibextid=rS40aB7S9Ucbxw6v
https://www.facebook.com/share/p/18SDtTUa4n/
گؤپشو پالن گھروں کا برا حال حال
گؤماتا کے نام پر اقتدار میں آئے مودی یوگی سنگھی راقربان پر بکرے مینڈھے اونٹ کی قربانی افضل نہ کہ گائے بیل بھینس*م راجیہ سرکار والے ہزاروں کروڑ حکومتی ٹیکس روپئے خرچ کئے گؤماتا پشو پالن گھروں میں گؤماتاؤں کے ساتھ کیسا برا سلوک کیا جاتا ہے دیکھا جائے۔ زندہ گایوں کے سامنے گلی کے کتے بیمار گائے کے بھنبھوڑ کھاتے دیکھا جاسکتا ہے ابن بھٹکلی
https://www.facebook.com/reel/1710269303469404/?mibextid=rS40aB7S9Ucbxw6v
https://www.facebook.com/share/p/18SDtTUa4n/
مسلمانون کو گائے کی قربانی۔ یا گؤماس کھانے سے زیادہ برادران وطن کے ساتھ بھائی چارگی سے رہنا زیادہ ہسند ہے
کلکتہ بی جے پی سنگھی حکومتی رام راجیہ میں ناخدا مسجد کے امام مولانا شفیق صاحب مدظلہ بھارت واسی اکثریتی سناتن دھرمیوں کے گائے کے تئین مذہبی آستھا رکھتے دیکھ, گائے کو نیشنل پشو اعلان کرنے کی ہم مسلمانوں کی طرف سے مانگ رکھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ابن بھٹکلی
https://www.facebook.com/share/v/1DvhsC5jMv/
https://www.facebook.com/reel/1309037260557989/?mibextid=rS40aB7S9Ucbxw6v
https://www.facebook.com/share/p/18pkVVCsEi/


