مضامین و مقالات

جب میں ”نقلی قبر“ کے تجربے سے گزرا

سہیل انجم

گزشتہ دنوں مجھے ”نقلی قبر“ کے تجربے سے گزرنا پڑا۔ یہ تجربہ بہت عجیب و غریب تھا۔ یوں تو یہ صرف پندرہ منٹ کا تھا لیکن یہ پندرہ منٹ بیتنے کو نہیں آرہے تھے۔ گویا یہ پندرہ منٹ نہیں بلکہ پندرہ گھنٹے تھے۔ یہ تجربہ کیا تھا اور میں اسے کیوں نقلی قبر کا تجربہ کہہ رہا ہوں، کیا کوئی نقلی قبر بھی ہوتی ہے جس میں بعض اوقات انسان کو کچھ وقت گزارنا پڑتا ہے، قبر تو اصلی ہوتی ہے نقلی نہیں، تو پھر یہ نقلی قبر کیا تھی یا کون سا تجربہ تھا۔ اس پر میں تھوڑا آگے چل کر روشنی ڈالوں گا۔ پہلے اس کا پس منظر سن لیجیے۔
واقعہ یوں ہے کہ گزرے رمضان المبارک کی ابتدا ہی میں میری طبیعت کچھ ناساز ہو گئی۔ گلا بہت زیادہ خراب ہو گیا۔ نزلہ زکام بخار اور کھانسی نے جینا دوبھر کر دیا۔ نزلہ بہت سے لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ پاتا۔ وہ جوشاندہ یا شربت نزلہ کی دو خوراک پی لیتے ہیں اور چنگے ہو جاتے ہیں۔ لیکن مجھے جکڑتا ہے تو چھوڑنے کا نام نہیں لیتا۔ اسی میں پورا رمضان گزر گیا۔ بخار چلا گیا، نزلہ بھی تقریباً ختم ہو گیا۔ مگر خشک کھانسی جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اسی درمیان عید الفظر آگئی۔ اگلے روز مجھے شدید تقاضے کے تحت اپنے آبائی وطن جانا پڑا۔ ایک ہفتے میں واپسی ہوئی۔ آنے کے اگلے روز ہی لوز موشن کے ساتھ بخار آگیا۔ ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ اس نے ای سی جی اور سینے کا ایکس رے تجویز کیا۔ لیکن اس سے قبل کہ میں یہ ٹیسٹ کرواتا دو روز کے بخار، لوز موشن اور خوراک کی کمی کی وجہ سے کمزوری نے جسم میں ڈیرہ جما لیا۔ اٹھنا بیٹھنا مشکل ہو گیا۔ بخار کے دوسرے روز عصر بعد واش روم سے واپس آتے وقت بیہوشی طاری ہو گئی اور میں گر پڑا۔ بچوں نے اٹھا کر کمرے میں لٹایا۔ بلڈ پریشر چیک کیا گیا تو وہ بہت نیچے آگیا تھا۔ دو تین منٹ کے بعد حواس بحال ہونا شروع ہوئے اور چار پانچ منٹ میں بیہوشی کا اثر ختم ہوا۔
میں نے مذکورہ دونوں ٹیسٹ کروائے۔ سینے کا ایکس رے تو ٹھیک تھا لیکن ڈاکٹر نے ای سی جی رپورٹ دیکھنے کے بعد کارڈیالوجسٹ سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ ہارٹ کا پمپنگ فنکشن کمزور ہے۔ کارڈیالوجسٹ نے 2 ڈی ایکو اور این ٹی پرو پی بی این ٹیسٹ کروایا۔ اللہ کا شکر کہ یہ دونوں ٹیسٹ نارمل نکلے۔ لیکن مجھے یہ بات پریشان کرتی رہی کہ آخر بیہوشی کیوں طاری ہوئی۔ کیا بی پی کا نیچے آنا اس کی وجہ رہی یا کمزوری یا پھر کوئی اور وجہ۔ میرے بیٹے نے میکس اسپتال (ساکیت) دہلی میں انٹرنل میڈیسن کے سینئر ڈاکٹر ارون دیوان سے اپوانٹمنٹ لیا۔ انھوں نے موجودہ اور سابقہ رپورٹوں کو دیکھنے کے بعد تین وجوہات میں سے کسی ایک پر شبہ ظاہر کیا۔ بقول ان کے یا تو سوڈیم کی کمی ہو گئی ہے، یا ہارٹ میں کوئی مسئلہ ہے یا پھر دماغ کی کوئی نس متاثر ہے۔ انھوں نے سوڈیم کی جانچ کے لیے کے ایف ٹی، دل کی دھڑکن کی جانچ کے لیے چوبیس گھنٹے کی ہولٹر مانیٹرنگ اور دماغ کی جانچ کے لیے برین ایم آر آئی تجویز کی۔ کے ایف ٹی کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ سوڈیم میں کچھ کمی آگئی تھی لیکن اتنی بھی نہیں کہ اس کی وجہ سے بیہوشی طاری ہو۔ ڈاکٹر کے مطابق سوڈیم کی کمی کی وجہ بی پی کی دوا ”کووینس ڈی“ کا استعمال ہے۔ اس میں جو ”ڈی“ کا عنصر ہے وہ جسم میں نمک کم کر دیتا ہے۔ لہٰذا ڈاکٹر نے ”کووینس پلین“ لینے کا مشورہ دیا۔ دل کی دھڑکن کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کی رپورٹ بھی نارمل نکلی۔
اب وہ قصہ سنیے جس کا ذکر ابتدا میں کیا گیا ہے۔ جب میں برین ایم آر آئی کرانے پہنچا تو ایک گھنٹے کے بعد نمبر آیا۔ مجھے گاون پہنا کر بٹھا دیا گیا۔ نصف گھنٹے کے بعد ایم آر آئی روم میں لے جایا گیا۔ جن لوگوں نے ایم آر آئی کرائی ہوگی انھیں معلوم ہوگا کہ ایک لمبی سی مشین ہوتی ہے جس کے ذریعے یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اٹینڈینٹ نے اس سے لگے ہوئے اسٹریچر پر مجھے لٹا دیا اور آنکھیں بند رکھنے کی ہدایت دی۔ چند سیکنڈ کے بعد میں نے آنکھیں ذرا سی کھولنی چاہیں تو اس نے سختی سے بند کرا دی۔ میں نے پوچھا کتنا وقت لگے گا اس نے کہا بمشکل پندرہ منٹ۔ اس نے پہلے تو بڑا والا ایئر فون لگا کر دونوں کان بند کیے۔ پھر ایک چوکھٹا سا رکھا جس سے ٹھوڑی سے لے کر اوپر تک کا پورا حصہ ڈھک گیا۔ اس نے اس سے ملتا جلتا ایک اور ڈھکن رکھا جس کی وجہ سے پورا سر پیک ہو گیا۔ اس نے مشین کا بٹن آن کیا اور اسٹریچر مشین کے اندر۔ صرف پیر کے پنجے باہر رہ گئے۔ میں نے دونوں ہاتھوں کو سیدھا رکھا۔ سر تو پہلے ہی سیدھا کر دیا گیا تھا۔ آنکھیں پہلے ہی بند کرا دی گئی تھیں۔
برین ایم آر آئی بہت سے لوگوں نے کرائی ہوگی اور ممکن ہے کہ ان کو کسی قسم کا احساس نہ ہوا ہو۔ لیکن میرا پورا جسم جیسے ہی مشین کے اندر گیا مجھے سب سے پہلا خیال قبر کا آیا، میں کانپ گیا۔ مشین اسٹارٹ ہوئی۔ مختلف قسم کی آوازیں نکلنی شروع ہوئیں۔ اب یہاں کوئی سہارا نہیں تھا۔ سہارا تھا تو دعاوں کا۔ میری زبان پر فوراً دعاوں کا ورد شروع ہو گیا۔ آنکھوں کو بند رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔ اگر سختی سے بند کرنے کو نہ کہا گیا ہوتا تو میں کھول بھی دیتا۔ جانے کیسے کیسے اندیشوں نے گھیر لیا۔ دعاوں کا ورد تیز ہو گیا۔ میں عالم تصور میں کبھی خانہ کعبہ میں پہنچ جاتا اور دعاوں کے ساتھ ساتھ کلموں کی ادائیگی کرنے لگتا تو کبھی مسجد نبوی میں پہنچ جاتا اور درود پڑھنے لگتا۔ جتنی دعائیں یاد تھیں سب پڑھ ڈالیں۔ لیکن باہر نکلنے کا موقع ابھی نہیں آیا۔ مشین سے مختلف قسم کی آوازیں آرہی تھیں۔ ٹیں ٹیں ٹیں، ٹوں ٹوں ٹوں،گھیں گھیں گھیں، ٹن ٹن ٹن، کھٹر پٹر، گھرر گھرر اور جانے کیسی کیسی۔ اگر چہ وہ آوازیں ڈراونی تو نہیں تھیں لیکن مجھے خیال آیا کہ یہ نقلی قبر تو کوئی خاص ڈراونی نہیں ہے لیکن اصلی قبر کیسی ہوتی ہوگی۔ کیا وہاں خوفناک قسم کی آوازیں نکلتی ہوں گی۔ اگر نکلتی ہوں گی تو کتنا خوف آتا ہوگا۔ جہاں کوئی مددگار اور پرسان حال نہیں ہوگا۔
اٹینڈینٹ مشین آن کرکے دوسرے روم میں چلا گیا جہاں شیشے کے اس پار سے ماہرین مانیٹر کر رہے تھے۔ ایم آر آئی روم میں صرف مشین تھی اور مشین کے اندر میں۔ مجھے خیال آیا کہ اسی طرح قبر میں اتارنے کے بعد لوگ تنہا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ یہاں تو ہاتھ میں ایک ہارن تھما دیا گیا ہے کہ اگر کوئی پریشانی ہو تو اسے بجا دینا۔ لیکن قبر میں تو ایسا کوئی انتظام نہیں ہوگا۔ وہاں کسی قسم کی پریشانی ہو یا دل گھبرائے تو قبر کا مکین کیا کرے۔ یہاں اٹینڈینٹ چھوڑ کر چلا گیا اور پھر کوئی نہیں آیا لیکن قبر میں لوگوں کے جاتے ہی نکیرین آجائیں گے جن کی شکلیں پتہ نہیں کیسی ہوں گی۔ سنا ہے کہ نیک لوگوں کے لیے اچھے ہوں گے اور برے لوگوں کے لیے خراب۔ وہ ہم سے تین آسان سے سوال کریں گے۔ کیا ہم ان سوالوں کے جواب دے پائیں گے۔
قبر اخروی زندگی کی پہلی منزل ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ پہلا امتحان ہے۔ جو اس امتحان میں پاس ہو گیا وہ تمام امتحانوں میں پاس ہو جائے گا۔ اس کے لیے اخروی زندگی میں نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی۔ جو ناکام ہو گیا اس کو قبر سے ہی عذاب کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ قبر کی دیواریں آپس میں ملا دی جائیں گی۔ ہڈی پسلی پس اٹھیں گی۔ یہ عالم برزخ ہے جو اس وقت تک رہے گا جب تک کہ قیامت قائم نہیں ہو جائے گی۔ کتابوں میں آیا ہے اور علمائے کرام سے سناگیا ہے کہ جو لوگ نیک ہوں گے وہ تین سوالوں کے جواب دے دیں گے۔ تیرا رب کون ہے، تیرا دین کیا ہے اور تیرے نبی کون ہیں۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ جو نیک نہیں ہوں گے ان کے لیے یہ تین سوال انتہائی مشکل ہو جائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ نیک روحوں کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور بد روحوں کے لیے جہنم کے۔
ایک مسلمان جو دعائیں مانگتا ہے ان میں ایک یہ بھی ہوتی ہے کہ یا اللہ قبر کے عذاب سے بچا۔ ہمیں ایک تو نیک اعمال کرنے چاہئیں اور دوسرے یہ دعا مسلسل مانگنی چاہیے کہ اے اللہ ہمارے لیے قبر کی منزل آسان کر۔ ہم تینوں سوالوں کے جواب دے دیں۔ یا اللہ تو ہمارے لیے قبر میں جنت کے دروازے کھولنا جہنم کے نہیں۔ ہم بہت گنہگار ہیں۔ صرف تیری رحمت کا سہارا ہے۔ اگر یہ سہارا نہیں ملا تو ہمارا ٹھکانہ کہاں ہوگا۔ تو ہمیں توفیق دے کہ ہم تیری عبادت کریں اور تیرے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ یا اللہ تو ہماری دعائیں قبول کر اور قبر کے عذاب سے بچا۔
اس نقلی قبر کے تجربے سے گزرنے کے بعد سے مجھے مسلسل قبر کی یاد آتی ہے۔ میں دعا کرتا ہو ںکہ اے جنت و جہنم کے مالک تو مجھے اس پہلے امتحان میں سرخرو کر تاکہ آگے کا راستہ آسان رہے۔ مجھ جیسے گنہگار کو تیری رحمت کے علاوہ کسی اور چیز کا سہارا نہیں۔ ایم آر آئی کی رپورٹ تو تقریباً ٹھیک نکلی دعا ہے کہ قیامت کے روز اعمال نامے کی رپورٹ بھی ٹھیک نکلے۔ آمین۔
موبائل: 9818195929

میرے مضمون پر معروف شاعر، استاد اور اردو داں شاہد الہ آبادی کا تبصرہ
میں نے روزنامہ ”آگ“ میں شائع آپ کا مضمون ”جب میں نقلی قبر کے تجربے سے گزرا“ پڑھا۔ مضمون دل کو چھو گیا۔ عنوان میں ”نقلی قبر“ کا لفظ تجسس پیدا کرتا ہے۔ مضمون پڑھنے سے قبل میں غور کرتا رہا کہ انجم صاحب نے کیا لکھا ہوگا۔ کئی متبادل ذہن میں آئے۔ امریکہ ایران جنگ کے بارے میں سوچا، ہندوستانی حالات کے بارے میں سوچا۔ کئی قسم کی باتیں ذہن میں آتی رہیں۔ لیکن مضمون میں کافی دیر تک نقلی قبر کے بارے میں کوئی انکشاف نہیں ہوتا۔ آپ نے جو تجسس پیدا کیا ہے وہ ایک فن ہے۔ بیماری کے ذکر کے بارے میں کچھ لوگ سوچ سکتے ہیں کہ خودنمائی کی گئی ہے، اپنی بیماری کا پروپیگنڈہ کیا گیا یا مبالغہ آرائی ہے یا اس میں بھرتی کی چیزیں ہیں۔ لیکن یہ سب بالکل نہیں ہے۔ البتہ آپ نے مضمون سے مریضوں کی بھرپور رہنمائی کی ہے۔ یہ رہنمائی مضمون کا ماحصل ہے۔ یعنی کوئی بھی صورت حال ہو اللہ سے رجوع کیجیے آپ کو راحت اور سکون کا احساس ہوگا۔ اللہ غیب سے مدد کرے گا۔ بیماری شفا میں بدل جائے گی۔ مشینوں سے جو مضر اثرات پیدا ہوتے ہیں وہ بھی مفید بن جائیں گے۔ آپ نے مشین کے اند رداخل ہونے کے بعد دعائیں پڑھنی شروع کیں۔ آپ نے بہت ایمانداری کے ساتھ آپ بیتی سنائی ہے۔ اس میں یہ نصیحت پوشیدہ ہے کہ اگر کوئی ان حالات سے گزرے تو یہی کرے جو میں نے کیا۔ ایم آر آئی مشین سے نکلنے والی ریز سے خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن دعاوں کے نتیجے میں وہ مشین آپ کے لیے شفا بن گئی۔ آپ نے ایم آر آئی مشین کے حوالے سے قبر کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ دعوت غور و فکر دیتا ہے۔ اس میں اللہ کی معرفت کا پہلو نمایاں ہے۔ اللہ آپ کو صحت و عافیت عطا فرمائے۔ اس کا اختتامی جملہ بہت جامع ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ جس طرح ایم آر آئی کی رپورٹ تقریباً ٹھیک نکلی اسی طرح قیامت کے روز اعمال نامے کی رپورٹ بھی ٹھیک نکلے، ایک زبردست دعا ہے اور میرے نزدیک معرفت الہٰی ہے۔
شاہد الہ آبادی، الہ آباد

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button