مضامین و مقالات

دست قضا میں گرفتار قوم

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

علامہ اقبال نے فرمایا تھا
صور ت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر لمحہ اپنے عمل کا حساب
اسی طرح دوسرے نظم میں انہوں نے فرمایا ؎
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
زندہ وکامیاب قومیں جب اقتدار میں آتی ہیں تو اپنے نظریات وفلسفے کو عوامی طور پر نافذ کرنے کی سعی کرتی ہیں۔ اس غرض سے ان کا ہر عمل عدل و انصاف پر مبنی ہوتا ہے ،مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیتیں، نہ ہی کوئی انداز تفاخر ہوتا ہے ،نتیجے میں ان اقوام کے ارباب حل و عقد اور عوام کی قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے ،سوچ کی سمت مثبت ہوتی ہے اور ذہنوں میں ترقی اور ارتقا کی نئے نئے منصوبے آتے ہیں اور ان پر ایماندارانہ عمل درآمد ہوتا ہے جس سے معاشرہ مزید ترقی یافتہ بن جاتا ہے ،عوام خوشحال ہوتے ہیں امن و انصاف کی فضا قائم ہوتی ہے، سماجی رشتے برادرانہ ہوتے ہیں ، نئی نئی ایجادات ظہور میں آتی ہیں اور حکمرانی کا عرصہ طویل ہو جاتا ہے ۔لیکن اس کے برعکس شکست خوردہ اور مغلوب قوموں کی نفسیات بھی منفی ہو جاتی ہے ،تحمل اور برداشت کا مادہ کم ہو جاتا ہے ،ظلم عام ہو جاتا ہے، علم مفقود ہو جاتا ہے ،کج بحثی معاشرتی رواج بن جاتی ہے، حقیقت خرافات میں گم ہو جاتی ہے، مفروضوں پر لایعنی بحث میں وقت ضائع کیا جاتا ہے ، ہر فریق خود کو ہی درست سمجھنے لگتا ہے، ذاتی بالادستی کی دوڑ تیز ہو جاتی ہے ،پوری قوم ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، احتجاج حکمت عملی بن جاتا ہے ،ایسے میں مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے کوئی ذہن آمادہ نہیں رہتا بلکہ ماضی کی داستانیں ہی سرمایہ افتخار رہ جاتی ہیں ۔ایسی اقوام دیگر اقوام کے لیے بوجھ بن جاتی ہیں ،ان کے اچھے سے اچھے اصول بھی قابل تنقید بن جاتے ہیں ،ایسا پورا سماج قابل نفرت قرار پاتا ہے ۔گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے مسلم سماج عالمی سطح پر اسی نفسیات کا شکار ہے اور اقوام عالم کے دسترخوان پر لقمہ تر بن گیا ہے کہ ہر ترقی یافتہ قوم اس پر جھپٹ کے اسے ہضم کر لینا چاہتی ہے۔ شاید اسی کا نام اسلامو فوبیاہے ۔خود وطن عزیز میں بھی یہ عمل واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ویسے تو آزادی سے قبل ہی مسلمانوں کو حاشیے پر کھڑا کر دینے کا عمل شروع ہو چکا تھا لیکن ایک مضبوط اقتدار کے طویل دورانیہ سے گزر کر آنے کی وجہ سے احترام کی ایک رمق ابھی باقی تھی ،لیکن اقتدار سے محروم ہو جانے کی خلش نے مسلم سماج کو اپنے اندر سے ہی جھنجھلاہٹ اور غصے کا شکار بنا دیا ۔چنانچہ معمولی معمولی باتوں پر مناظرے بازی ،عمومی نظریاتی اختلافات کو بھی ذاتی کردار کشی موجب بنا دینا،اپنے محسنین کو معتوب کرنے کا عمل بسرعت جاری تھا۔ ایسے میں کسی دوسرے کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔اس صورتحال نے علم سے دوری اور مستقبل کی ایک مخصوص منصوبہ بندی کو نظر سے بالکل اوجھل کر دیا تھا ۔چنانچہ ملک کے آزاد ہوتے ہی اقتدار کی منتقلی نے بادمخالف کو اتنا تیز کر دیا کہ ہم اپنے بنیادی اصولوں ،فکر اور روایات سے خود ہی متنفر ہوتے چلے گئے ، ملک کے دیگر طبقات کے مقابلے بتدریج عاشیے پر کھسکتے چلے گئے ،شکست خوردہ نفسیات نے اپنی ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ہی لگایا ۔قیادت نے پوری امت کو سراپااحتجاج بنا دیا ،داخلی اصلاح کی تمام گنجائشیں ختم ہو گئیں اور جس کسی نے بھی اس اصلاح کی جانب نشاندہی کی اسے غدار فرار دے کر پیچھے دھکیل دیا گیا،مگر جس نے جذباتی نعروں کے ساتھ علم احتجاج بلند کیا اسے لیڈر مان کر ملت آگے بڑھی، نتیجہ یہ ہے کہ حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں بچا ،ہر احتجاجی تحریک کا نتیجہ مزید ناکامی کی صورت میں سامنے آیا، اس داخلی کمزوری کا فائدہ اغیار نے بھی خوب خوب اٹھایا ۔جو کچھ بچا کھچا ہمارے دامن میں ابھی باقی تھا وہ فرقہ وارانہ فسادات نے چھین لیا ۔چنانچہ تعلیم، صنعت و حرفت، کاروبار ،سماجی ہم آہنگی اور دیگر طبقات کے ساتھ جو باہمی رشتے باقی تھے وہ بھی بتدریج ختم ہو گئے اور ملک میں ہم تقریبا یکا و تنہا کھڑے رہ گئے ۔مرکز میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد اس احساس محرومی میں شدت آئی ۔اس سے قبل یہ امیدیں بہرحال تھیں کہ ایک سیکولر حکومت ہے جو مسلمانوں کی بھی کچھ نہ کچھ تو سنتی ہی ہے ۔حالانکہ سچر کمیٹی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ حکومتوں نے مسلمانوں کی بنیادی ترقی کے اقدامات میں کس قدر مجرمانہ کوتاہی برتی ہے۔ بی جے پی حکومت نے اس میں مزید اضافہ یہ کیا کہ اب وہ ان تمام آثار کو مٹانے کے در پےہے جن سے ملک میں ہماری تاریخی شناخت ظاہر ہوتی ہے۔ وہ تمام سرکاری منصوبے جن سے کسی حد تک ہماری اشک شوئی ہوتی ہے وہ منصوبے بھی ختم کیے جا رہے ہیں۔ تعلیمی ترقی کے راستے بھی مسدود کیے جا رہے ہیں اور کاروباری و صنعتی ترقی کی راہیں بھی بند کی جا رہی ہیں۔ ایسےمیں مسلمانوں کی بیشتر قیادت اپنی ہی حفاظت و بقا کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ مسلمانوں کے ادارے ہوں یا تنظیمیں یا پھر منصب قیادت پر فائزچند افراد ،سب کے سب حکومت وقت کی جنبش ابرو کے تابع ہیں ۔اس سے ان کو ذاتی فوائد تو خوب حاصل ہو جاتے ہیں مگر امت کو مزید قعر مذلت میں دھکیلنے کا کام بھی یہی لوگ کرتے ہیں۔ خطرات مول لے کر اگر کوئی بولنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو انہیں اداروں،انجمنوں، تنظیموں اور قائدین کے پیروکار جو ایک مافیا کی صورت اختیار کر چکے ہیں اپنی طاقت کے بل پر ان آوازوں کو دبا دیتے ہیں ،یا مطعون کر کے حاشیے پر دھکیل دیتے ہیں ۔مثال کے طور پر حال ہی میں بنگال کے ایک قائد نے کھڑے ہو کر ایک بابری مسجد کی تعمیر کا اعلان کر دیا ،نعرہ اتنا جذباتی تھا کہ اطراف کے بہت سے مسلمانوں کو متاثر کر گیا، لاکھوں مسلمان اس کی تعمیر میں شریک ہونے کے لیے اکٹھا ہو گئے، کروڑوں روپے کا چندہ بھی آنا فانا جمع ہو گیا ،یہ صاحب ایک اعلان سے ہی اگلی سات پشتوں کا مستقبل سنوار گئے لیکن جس امت کو اس جذباتیت کے غار میں دھکیلا گیا اس کا مستقبل کتنا خطرناک ہونے والا ہے اس کا شاید انہیں اندازہ بھی نہ ہو ،یہ محض ایک واقعہ صرف اس لیے نقل کیا گیا کہ ملک کے میڈیا نے دانستہ طور پر اسے اتنی شہرت دی کہ ملک کا بچہ بچہ اس سے واقف ہے۔ لیکن ایسے ہی درجنوں واقعات ملکی اور مقامی طور پر روزانہ پیش آتے ہیں کہ جہاں ہم خاموشی کے ساتھ بیٹھ کر صورتحال پر کوئی علمی اور باخبر تبادلہ خیال کرکےمستقبل کی حکمت عملی طے کرتے ہوں۔ بلکہ ہر شخص ذاتی طور پر جو ٹھیک سمجھتا ہے وہ نعرہ لے کر کھڑا ہوتا ہے اور پھر آپس میں دست بگریباںہو جاتے ہیں ،مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے جبکہ اختلاف مزید پڑ جاتا ہے۔ حال ہی میں مردم شماری اورایس آئی آر کا عمل ملک بھر میں جاری ہے ۔اس کے بعد انتخابی حلقہ بندی کا عمل شروع ہو جائے گا ۔پارلیمانی اور اسمبلی سیٹوں کی تعداد تقریبا دگنی ہو جائے گی ۔نئے نئے حلقے بنیں گے ،ریزرویشن بھی نئے سرے سے لاگو ہوگا ،ایسے میں کوئی تو یہ کوشش کر رہا ہے کہ گلی گلی اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے اس عمل میں اپنے لوگوں کی مدد کریں کہ جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں اور ان تکنیکی چیزوں کو نہیں سمجھتے، مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی کسی ذاتی مصلحت کی وجہ سے پورے عمل کا ہی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں ،حالانکہ اس کا شدید نقصان اگلی نصف صدی تک پوری امت کو بھگتنا پڑے گا ۔اور اس پورے عرصے میں ہم محض شکوہ کناں، سراپااحتجاج بن کر رہ جائیں گے، حاصل کچھ نہیں ہوگا۔ اب ہمیں انفرادی طور پر یہ سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی کہ امت کا مجموعی نفع و نقصان کس عمل میں مضمر ہے، اور اسی بنیاد پر فیصلے کرنے ہوں گے ۔احتجاج ایک حد تک واجب ہے کہ جمہوریت میں احتجاج کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا لیکن احتجاج کی بھی ایک حکمت عملی ہوتی ہے ، ایک مقصد اور کچھ اہداف ہوتے ہیں، وگرنہ احتجاج برائے احتجاج رہ جاتا ہے اور مصیبت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ 1972 میں متبنی بل کے خلاف احتجاج سے لے کر اب تک مختلف تنظیموں اور اداروں کی جانب سے مختلف امور پر احتجاجات اور مقدمات کی ایک طویل فہرست ہے جو دراصل ہماری ملی ناکامیوں کی فہرست ہے ۔ان ناکامیوں سے اب ہمیں سبق سیکھ لینا چاہیے۔
آج ایک زمانہ مانتاہے کہ ایران گزشتہ نصف صدی کی بے تحاشہ پریشانیوں کے باوجوداپنی عالمی برتری اور بالادستی ثابت کر چکا ہے ۔ امت مسلمہ ہند کو بھی اس موقع پر یہ معروضی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ بالادستی کیسے قائم ہوئی ۔ایک مجبور و مقہور اور مفلس، ناکہ بندی کا شکار قوم ،تمام تر نامساعد حالات کے باوجود اتنی آگے کیسے بڑھ گئی ۔ظاہر ہے انہوں نے انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ اپنی تعلیمی ترقی پر بے تحاشہ زور صرف کیا ،ساتھ ہی سائنسی سماجی اور دینی علوم میں بھی مہارت حاصل کی ، جس نے انہیں ایک مضبوط اور مثبت سماج بنایا ،بے مائیگی کے اس عرصے میں انہوں نے اپنی ہی چاروں طرف موجود چھوٹے چھوٹے وسائل کو بروئے کار لا کراپنےتاریخی ورثے کا استعمال کیا ۔پے در پے ظلم نے ان کی حمیت کو بیدار کیا اور انہیں ایک سیسہ پلائی ہوئی قوم بنا دیا جو ہر مصیبت کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئی۔ یہ سب کچھ ایک مخلص ایماندار اور جانثار قیادت کے زیر انتظام ہوا ،جس نے اپنے اہل و عیال کی فکر کرنے کی بجائے اپنی قوم کی فکر پہلے کی اور قربانیاں دینے سے گریزنہیں کیا۔ آج اچانک ہمیں ایک موقع ملا ہے کہ ہم خرابے کا شکار ایک قوم کی سربلندی کا بغور مطالعہ کریں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ کیا یہ طریقہ کار امت مسلمہ ہند کے لیے بھی مفید ہو سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button