مضامین و مقالات

عالمی سطح پر اخلاقی پستی کے اثرات و متحرکات

ک

نقاش نائطی
۔ +966594960485

غیراخلاقی عملی زندگی گزارنے والے حکمران ہی،پورے معاشرے کے اخلاقی انحطاط کے ذمہ دار
https://simple.wikipedia.org/wiki/Brigitte_Macron

گناہ و معصیت سے پاک و صاف معاشرہ ملنا فی زمانہ ممکن ہی نہ رہا ، لیکن جس معاشرے میں معصیت و گناہ عام ہوجائے تو ہس اس معاشرے کو تنزلی کا شکار ہونے سے کون روک سکے ہے؟ اور جس معاشرے کا سربراہ مملکت ہی معصیت و گناہ کی زندہ مثال ہو اس معاشرے میں ناموس رسولﷺ جیسے آسمانی مذہب خلاف نفرت آمیز مہم کو اسٹیٹ ٹیررزم کے طور کیا جانے لگے تو اس میں تعجب خیز آخر کیا بات یے؟

جس طرح اپنی اردھانجلی یا رخ ثانی بیوی کو، زندگی کا کبھی سکھ نہ دیتے ہوئے، اسے عفوان شباب میں ہی، معاشرے کے مہذب بھیڑیوں کے بیچ اپنی عزت بچاتے، تل تل مرنے بھگوان بھروسے صدا چھوڑ گھر سے بھاگ جانے والے کسی نالائق شخص کو، جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا سربراہ مملکت بنا دیا جاتا ہے تو دنیا شاہد ہے ایک وقت کی آسمانی ویدک سناتن دھرمی آستھا محبت عزت و وقار والے چمنستان بھارت ہی کی جنتا، اپنے لائق پرم پوجیہ سربراہ مملکت کی دیکھا دیکھی، کل تک عزت سے دیکھی اور برتی جانے والی نساء کو خود اپنے ہاتھوں بے عزت کرنے لگتا ہے۔اس معاشرے میں لائق تبریک بہن بیٹی کی عزت خود اسکے اپنے لوٹنے لگتے ہیں
جس ملک کی عوام کو اس بات کا بخوبی ادراک ہوجائے کہ اس کا سربراہ مملکت اپنے عفوان شباب میں قدم رکھتے ہی، اس کی نہایت لائق تبریک استاد و مربی کے منصب پر متمکن، اس کی عمر سے بھی ڈھائی گنا، یا اس سے 24 سال بڑی، اس کی اپنی آماں سے بھی زیادہ عمر رسیدہ، خود اس کی اپنی استاد سے جنسی اختلاط کرتا پکڑا جائے اور اخلاقی حدود میں جدا کئے جانے کے باوجود تعلیم کے اختتام بعد اپنی بوڑھی معشوقہ کو اس کے شوہر سے طلاق حاصل کر، اسکے ساتھ شادی رچالے تو ہم آپ خود اس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسے عیاش و اوباش کسی شخص کے سربراہ مملکت بننے کے بعد، اس ملک کی عام عوام کا ذہنی تفکر، کس قدر اخلاقی انحطاط کا شکار ہوسکتا ہے؟

یہی تو دنیا کے تیز تر رفتار سے ترقی پذیر ملک فرانس میں ہورہا ہے ، آزادی حق گوئی کے بہانے سے کسی اور آسمانی دھرم کےہیشواؤں کی تضحیک یہ تو میکروں جیسے ناعاقبت اندیش، اسکے فرنچ آباء و اجداد کے، سو سال قبل ١٨٩٠ آزادی حق رائےدہی ڈرامہ ٹھیٹر کی بنیاد رکھے جانے سے، اس وقت ہی شروع ہوا فتنہ ہے جب فرانس کے کسی ڈرامہ ٹھیٹر میں خاتم الانبیاء سرور کونیں رسول محمد مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ڈرامہ شروع کئے جانے کی خبر، اس وقت کےسلطنت عثمانیہ سلطان عبدالحمید علیہ الرحمہ تک جب پہنچی تھی تو سلطان عبد الحمید نے اس وقت سلطنت عثمانیہ ترکیہ میں موجود فرانسیسی سفیر کو اپنے دربار میں بلاکر، اس شاتم رسول ﷺ فرنچ ٹھیٹر کوبند کئے جانے یا بصورت دیگر عثمانی لشکر جرار سے مقابلہ کے لئے تیار رہنے کی صاف صاف دھمکی دی تھی۔اور سلطان عبدالحمید علیہ الرحمہ کی اس وقت کی دھمکی کے باعث ہی فرنچ حکومت نے،اس وقت 1890 میں فرانس میں اس ٹھیٹر پر پابندی لگائی تھی۔ جس کی ہوبہو عکاسی مشہورترک ڈرامہ ایڈغرل غازی ڈرامہ میں درشائی گئی ہے۔ آج اس واقعہ پر سو سال گزرنے کے بعد،اسی فرانس میں، اسی انداز سے شاتم رسولﷺ تضحیک آمیز خاکے منظم انداز شائع کرواتے ہوئے اور اسکی ترویج منظم انداز عام کرواتے ہوئے، نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی دوسری مذہبی اکثریت ہم مسلمانوں کو ،خصوصا فرانس میں زمانے سے پیار و محبت چین و سکون سے رہتے آئے لاکھوں فرنچ مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے ہوئے، انہیں ایک منظم سازش کے تحت ان شاتم رسول ﷺ تضحیک آمیز خاکے بنانے والوں پر، سزا آمیز کاروائی کرتے ہوئے، مسلمانوں کو شدت پسند یا دہشت گرد اقرار دینے کی، والیان فرانس کی دانشتہ سازش لگتی ہے۔خصوصا شاتم رسول ﷺ اسکول ٹیچر کے، اسکے کئے کی سزا، غیرت ایمانی سے لبریز ایک شدت پسند مسلم نوجوان کی طرف سے پانے کے بعد، اسکی تائید و حمایت میں سربراہ فرانس کا نہ صرف کھڑا پایا جانا بلکہ، اس شاتم رسول و گستاخ رسول ﷺ کو فرانس حکومت کے سب سے بڑے سیول اعزاز سے نوازا جانا، صدر فرانس کی ذہنی پستی و مسلم دشمنی کی عکاسی کرتا منھ بولتے ثبوت سے کیا کم ہے؟ایسے میں یہ اپنے آپ کو مہذب تعلیم یافتہ کہلانے والے یہ مسیحی حکمران، اسلامی دشمنی والے اپنے ڈھیٹ کردار کو اسلام و فیوبیا کے بہانے سے جہاں جائز ٹہرائے پائے جاتے ہیں،وہیں اپنے مذہبی پیشوا رسول مجتبی محمد مصطفی ﷺ کی شان میں ان کی بےعزتی دانستہ کرنے والوں کے خلاف ہم مسلمانوں کے اظہار غم و غصہ کو بھی، مذہبی بنیاد پرستی قرار دیتے پھرتے ہیں
یورپ و امریکی ملکوں میں اپنے نیچرل قابل عمل اسلوب والے اقدار پر مشتمل آسان و سہل مذہب اسلام کو پھلتے پھولتے دیکھ کر، کیا مغربی دنیا کے ٹھیکدار مسیحی و صیہونی حکمرانوں کو مذہب اسلام سے ڈر لگنے لگا ہے ؟ یا سو سال قبل اسی فرانس حکومت کو، کچھ ایسے ہی شاتم رسولﷺ ڈرامہ درشاتے تناظر میں ، اس وقت کی خلافت عثمانیہ کے ہاتھوں اٹھائی جانے والی ذلت کی یاد، ابھی دو ایک سال بعد خلافت عثمانیہ کے دوبارہ معرض وجود میں آنے ڈر کے پس منظر میں، ان مسیحی حکمرانوں کو بے چین کئے ہوئے ہے؟
کچھ بھی ہو سو سال قبل سقوط خلافت عثمانیہ بعد، اس وقت برطانیہ فرانس امریکہ جرمنی پر مشتمل فاتح مشترکہ مسیحی افواج نے، شکست خوردہ سلطنت عثمانیہ کے والیان کو زبردستی سو سالہ عقد لوزین میں مقید و مجبور کرتےہوئے، ان کے تمام حقوق و مراعات سے انہیں ماورا کرتے ہوئے،اپنے ہی ملک ترکیہ سے انہیں بے دخل جلاد وطن کر، اپنی خود ساختہ جمہوری اقدار تلے، اپنے زر خرید غلام، کمال اتا ترک کو ترکیہ پر زبردستی براجمان کراتے ہوئے، گویا انہوں نے اپنے طور خلافت عثمانیہ سےابدی طور چھٹکارا پالیا تھا، لیکن مشیت ایزدی کے آگے کبھی کسی کی چلی یے جو اس معاملے میں ان کی سازش کامیاب ہوجاتی؟ یہ تو اچھا ہوا نجم الدین اربکان جیسے ذی فہم ترک سیاستدان نے،عقد لوزین کے اختتام سے ربع صد سال قبل ہی، عصر حاضر کے مسیحی عالمی حکمرانوں کی سازشوں کے چلتے، خدا بیزار، دین بے زار، یورپین آزادی حق رائے دہی ڈگر پر چلتے یا چلنے پر مجبور کئے گئے ترک عوام کو، بدریج مائل دین اسلام کرتے ہوئے، سو سالہ عقد لوزین کے اختتام پر دوبارہ خلافت عثمانیہ کے ظہور کرانے کے لئے، رجب طیب اردگان کی سیاسی تعلیم و تدریب کر،ترک مملکت کی پتوار اسکے حوالے جو کی تھی۔ اور جس نہج پر نجم الدین اربکان اور انکے دین پسند رفقاء نے، دوبارہ خلافت عثمانیہ کو وجودبخشنے کی راہ پر گامزن رجب طیب اردگان کو کیا تھا۔ اللہ کا فضل و کرم ہے رجب طیب اردگان نے اپنے اللہ کی مدد سےاور بتدریج اپنی حکمت عملی سے،یہود و نصاری والی نام نہاد جمہوریت کے سازشی چکرویو درمیان رہتے ہوئے بھی، مملکت ترکیہ کو سو سالہ عقد لوزین کے اختتام وقت، 2023 قبل خلافت عثمانیہ اسلامیہ کے ظہور کے آثار صاف صاف دکھائی دینے لگے ہیں۔اور اللہ رب العزت کی طرف سے انعام کردہ پیٹرو ڈالر سے مالامال، اپنے منصب امامت عالم اسلام کی ذمہ داریوں سے تک ماورائیت اختیار کئے، اپنے ازلی دشمن اسلام، یہود سے سازباز کر، اپنے زمام حکومت کو بچانےکی فکر میں مستغرق، عرب ممالک کے ان شاہان کے، فی زمانہ مسیحی حکمرانوں کی طرف سے دانستہ سازش کے تحت شاتم رسولﷺ ، اپنی سازش سے عالم بھر میں سقم اسلام وفیوبیا کی مہلک وبا پھیلاتے تناظر میں بھی، ان کی مجرمانہ خاموشی نے، والی خلافت عثمانیہ ترکیہ رجب طیب اردگان کو اور پچاس پچپن مسلم ملکوں کی اکلوتی ایٹمی طاقت پاکستان کو، سرابراہ مسلم امہ کی عظیم دعویداری سنبھالنے کی راہ آسان کردی ہے۔اورخصوصا عالم کی اب کی سب سے بڑی معشیت سربراہ عالم کے دعویدار تجارتی ملک چائینا، سابق عالمی قوت روس، اور روس سے ربع صد سال قبل آزاد ہوئی مختلف مسلم مملکتیں، افریقی مسلم ممالک کے ساتھ مل کر، عنقریب پاکستان میں بلائی جانے والی نشست میں عالمی اسلامی تنظیم نؤ قائم ہوتے ہوئے، ایک بہت بڑی معشیتی و حربی مشترکہ طاقت کے طور مستقبل قریب میں ابھرتے ہوئے، سو سالہ عالم پر مسیحی راج اور اسلام و فیوبیا سازش کے بہانے، عراق، لیبیا،شام و سوریہ یمن و افغانستان کی تاراجی و لاکھوں مسلم شہدا ہلاکت خیزی بعد، خلافت عثمانیہ کےدوبار ظہور پذیر ہونے کی صورت مسلم امہ عالم کے لئے ایک مظبوط ڈھال و ناقابل تسخیر قلع مانند، خلافت عثمانیہ سے مسلم امہ عالم کی امیدیں بندھتی نظر آتی ہیں۔اللہ کرے ہزاروں نیک خواہشات سے لبریز ہم مسلم دلوں کی دھڑکن، اس خواب خلافت عثمانیہ کے ظہور ثانی کو آسان کرتے ہوئے، ہم مسلمین کو سرخ رو کرے۔وما علینا الا البلاغ
ایک وقت الجیریا پر قابض یہی وہ فرانس حکومت تھی، جس نے الجیریا پر اپنے زمام حکومت میں، آزادی الجیریا کی لڑائی لڑتے الجیریائی لاکھوں مسلمانوں کو شہید نہ صرف کیا تھا بلکہ اعلی تعلیم یافتہ جمہوری اقدار سے سرشار ان ظالم فرنچ حکمرانوں نے 18،000 الجیریائی شہید مسلمانوں کی کھوپڑیوں کو فرانس لے جاتےہوئے فرانس میں انسانی کھوپڑیوں کا میوزیم قائم کر، اپنے الجزائر زبردستی اقتدار وحشیانہ راج کا ثبوت ابھی بھی باقی رکھے ہوئے ہے
فرانس میوزیم میں رکھی گئی 18000 الجزائر کی کھوپڑی، کیا الجزائر واپس بھیجی جائے گی؟

فرانس کا الجزائری مسلم کھوپڑیوں والی نمائش گاہ
https://www.facebook.com/doamuslims2/videos/375139119878600/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button