
پندرہ شعبان کی رات شبِ برات
۔ ابن بھٹکلی
۔ +966562677707
شب برات کی رات مغفرت، رحمت اور جہنم سے آزادی کی عظیم رات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کثرت سے بخشش فرماتا ہے۔ اس رات میں خصوصی عبادت، تلاوتِ قرآن، توبہ واستغفار اور انفرادی طور پر قبرستان جانا مستحب ہے۔ یہ رات سالانہ فیصلے، تقدیر کی تبدیلی اور بندوں کے رزق کی تقسیم کی بھی رات مانی جاتی ہے۔
شبِ برات کی فضیلت اور اعمال کی تفصیلات:-
فضیلت اور مغفرت: احادیث کے مطابق اس رات اللہ تعالیٰ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے نجات دیتا ہے۔
عبادت کی رات:- اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے، اس لئے تلاوت، نوافل اور ذکر و اذکار میں وقت گزارنا باعثِ ثواب ہے۔
خصوصی دعا:- اس رات میں گناہوں سے سچی توبہ اور مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔
روایتِ حدیث:- رسول اللہ ﷺ کا اس رات بقیع (قبرستان) تشریف لے جانا اور مردوں کے لئے دعا کرنا ثابت ہے۔
روزہ:- شبِ برات کے اگلی صبح (15 شعبان) کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔
احتیاط:- شبِ برات میں آتش بازی، پٹاخے، اجتماعی قبرستان میں چراغاں کرنا یا کسی عمل کو ضروری سمجھ کر ثواب کی نیت سے کرنا بدعت میں مبتلا ہونے جیسا عمل ہے اس سے احتراز واجب ہے۔ اس رات انفرادی طور پر عبادت کو ترجیح دینی چاہیے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ”شعبان کی پندرہویں شب میں, میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آرام گاہ پرموجودنہ پایا تو تلاش میں نکلی، دیکھاکہ آپ ﷺ جنت البقیع یعنی قبرستان میں ہیں، پھرمجھ سے فرمایاکہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے ،اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمان سے دنیا پر نزول فرماتاہے اورقبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے بھی زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتاہے“۔
2-دوسری حدیث میں ہے:”اس رات میں اس سال پیداہونے والے ہربچے کانام لکھ دیا جاتا ہے ،اس رات میں اس سال مرنے والے ہرآدمی کانام لکھ لیا جاتا ہے، اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اورتمہارارزق اتاراجاتاہے۔“
3- ایک روایت میں ہے کہ”اس رات میں تمام مخلوق کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے سات اشخاص کے، وہ یہ ہیں:- مشرک، والدین کانافرمان،کینہ پرور، شرابی،قاتل، شلوارکو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا اورچغل خور،ان سات افرادکی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی ہے ،جب تک کہ یہ اپنے جرائم سے توبہ نہ کرلیں۔
4- حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں منقول ہے کہ اس رات میں عبادت کیا کرو اور دن میں روزہ رکھاکرو،اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اوراعلان ہوتا ہے:” کون ہے جوگناہوں کی بخشش کروائے؟کون ہے جورزق میں وسعت طلب کرے؟کون مصیبت زدہ ہے جومصیبت سے چھٹکاراحاصل کرناچاہتاہو؟”
ان احادیثِ کریمہ اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اوربزرگانِ دین رحمہم اللہ کے عمل سے اس رات میں تین کام کرنا ثابت ہے:-
1- قبرستان جاکر مردوں کے لئے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی دعا کی جائے،لیکن یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساری حیاتِ مبارکہ میں صرف ایک مرتبہ شبِ برأت میں جنت البقیع جاناثابت ہے؛ اس لئے اگرکوئی شخص زندگی میں ایک مرتبہ بھی اتباعِ سنت کی نیت سے چلا جائے تو اجر و ثواب کاباعث ہے، لیکن پھول پتیاں، چادر چڑھاوے، اور چراغاں کااہتمام کرنا اور ہرسال جانے کولازم سمجھنا،اس کو شب برأت کے ارکان میں داخل کرنا ٹھیک نہیں ہے۔جو چیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس درجے میں ثابت ہے اس کواسی درجہ میں رکھناچاہئے، اس کانام اتباع اور دین ہے۔
2- اس رات میں نوافل، تلاوت، ذکر و اذکار کا اہتمام کرنا۔اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نفل ایک ایسی عبادت ہے جس میں تنہائی مطلوب ہے، یہ خلوت کی عبادت ہے، اس کے ذریعہ انسان اللہ کاقرب حاصل کرتا ہے، لہذا نوافل وغیرہ تنہائی میں اپنے گھرمیں اداکرکے اس موقع کو غنیمت جانیں،نوافل کی جماعت اورمخصوص طریقہ اپنانا درست نہیں ہے،یہ فضیلت والی راتیں شور و شغب اور میلے، اجتماع منعقدکرنے کی رات نہیں ہیں،بلکہ گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کراللہ سے تعلقات استوار کرنے کے قیمتی لمحات ہیں، ان کوضائع ہونے سے بچائیں۔
3- دن میں روزہ رکھنابھی مستحب ہے، ایک تواس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اوردوسرا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرماہ ایام بیض(۱۳،۱۴،۱۵) کے روزوں کااہتمام فرماتے تھے، لہذا اس نیت سے روزہ رکھا جائے تو موجب اجروثوب ہوگا۔
باقی اس رات میں پٹاخے پھوڑنا ،آتش بازی کرنا اورحلوے کی رسم کااہتمام کرنا یہ سب خرافات اوراسراف میں شامل ہیں،شیطان ان فضولیات میں انسان کومشغول کرکے اللہ کی مغفرت اورعبادت سے محروم کردیناچاہتاہے اوریہی شیطان کااصل مقصدہے۔
ہر وہ کام جو رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی سے ثابت نہ ہو وہ کام ثواب کی نیت سے کرنا ہی دراصل بدعت ہے جسے لوگ عموما” بدعت حسنی قرار دئیے بڑے شوق سے کرتے ہیں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوی ایسی چیز ایجاد کرتا ہے “جو ہمارے دین کے اصولوں سے ہم آہنگی نہیں رکھتی” تو وہ مردود ہے۔ (صحیح البخاری حدیث 861)
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- "جس شخص نے (رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی سے) کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اور اس کے بعد لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور عمل کرنے والوں کے برابر بھی اجر ملے گا، اور عمل کرنے والوں کے ثواب سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی، اور جس نے (رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی سے پرے اپنے طور گڑھ کر) کوئی غلط طریقہ جاری کیا، اور اس کے بعد اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اس پر اس کا گناہ ہو گا، اور عمل کرنے والوں کے مثل بھی گناہ ہو گا، اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی”
شیطان رجیم کا کام ہی ہم مسلمانوں کو راہ حق سے بھٹکائے راہ ظلالت کی طرف لے جانا۔ اگر کسی مسلمان کو شیطان رجیم شراب پینے جوا کھیلنے یا زنا کرنے کی طرف مائل کرے تو گنہ گار مسلمان جو ایسے قبیح گناہ کے شکار ہوتے ہیں انہیں اس بات کا ادراک رہتا ہے کہ وہ غلط کام کررہے ہیں اس لئے زندگی میں کسی نہ کسی وقت, انہیں اپنے گناہ کا احساس ہوتے ہوئے وہ توبہ استغفار کئے,( راہ حق کی طرف پلٹ آنے کی امید باقی رہتی ہے لیکن جب شیطان رجیم ہم مسلمانوں کو کوئیت ایسا کام جو دراصل اللہ رسول ﷺ کی عملی زندگی سے ثابت نہ ہو اور جو بظاہر اچھا عمل لگتا ہو تو ہم مسلمان ویسے غیر تسلیم شدہ بدعتی عمل کو دین کا عمل سمجھے ثواب کی نیت سے وہ بدعت وظلالت والا کام تا عمر بھی کرتے رہیں تو ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوئے توبہ استغفار کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی سو ہم تا عمر وہ بدعت و ظلالت والا کام کرتے رہیں گے اور چونکہ اس بدعت و ضلالت والے کام کو ہم پوری دیانت داری دین کا کام سمجھ کررہے ہوتے ہیں, ہم میں اصل دینی اعمال سنن و فرائض کی اہمیت ہی باقی نہیں رہے گی۔ اللہ ہی سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو دین خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ پوری تندہی سے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔وما التوفیق الا باللہ
