
نسلوں کا بحران! والدین، معاشرہ اور پولیس کی مشترکہ ذمہ داری !
احساس نایاب، شیموگہ۔۔۔
شہر میں حالیہ دنوں پیش آنے والے واقعات بیحد خوفناک اور تشویشناک ہیں، خصوصاً اُن گھروں کے لیے جہاں بیٹیاں ہیں۔ گزشتہ روز شہر کی تین لڑکیاں، جن میں دو مسلم اور ایک غیر مسلم شامل تھیں، ہندو لڑکوں کے ساتھ ایک کار میں پائی گئیں۔ جب علاقہ مکینوں نے لڑکیوں کے گھر والوں سے رابطہ کیا تو ایک ماں کا جواب سن کر دل و دماغ پر سکتہ طاری ہوگیا۔
ماں نے سخت لہجے میں کہا
“جاؤ با، ہمارے شہر میں یہ سب معمولی۔ کیا تو بھی نئی بات ہے تو بولو ۔۔۔۔
یہ وہ جواب ہے جو کسی باحیا انسان کی زبان پر زیب نہیں دیتا۔ جب والدین اپنی اولاد کے غلط راستوں کو “عام” سمجھنے لگیں، تو معاشرے کا برباد ہونا یقینی ہوجاتا ہے۔
ایک وقت تھا جب ایسے واقعات کی خبر سن کر خاندان کے سر شرم سے جھک جاتے ۔ غیرتمند ماں باپ زمین میں گڑھ جاتے، گھروں کا ماحول یوں سوگوار ہوجاتا جیسے کوئی مئیت ہوئی ہو۔ مگر افسوس! آج یہ سب معمول بن چکا ہے، اور یہی معمول ہماری نسلوں کو اندر سے جلا کر راکھ کر رہا ہے۔۔۔۔
آج کے دور میں آزادی، پرائیویسی اور خودمختاری کے نام پر وہ کام عام ہو گئے ہیں جنہیں کبھی بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ سوشل میڈیا کی دوستیاں، غیراخلاقی تعلقات اور غلط لوگوں تک آسان رسائی نے نوجوانوں کو ایسے خطرات میں دھکیل دیا ہے کہ ایک غلط قدم ساری زندگی برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔۔۔۔
مسلم لڑکیاں سنگھی فرقہ پرستوں کے بچھائے ہوئے جال میں پھنستی جا رہی ہیں، بلیک میل ہوتی ہیں، ’’گھر واپسی‘‘ جیسے گھناؤنے گروہوں کا شکار بنتی ہیں، اور بعض تو زندگی تک گنوا دیتی ہیں۔ کئی الم ناک واقعات ایسے بھی ہوئے جن میں لڑکیوں کی لاشیں ریلوے پٹریوں، ندیوں، جنگلوں، یا سوٹ کیس اور بوریوں میں برہنہ حالت میں ملی ہیں ۔۔۔
افسوس! پھر بھی کوئی سبق نہیں سیکھتا۔
ایسی صورتِ حال میں والدین، خصوصاً ماؤں کا کردار نہایت اہم ہے۔ ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی دوست بھی بنیں اور محافظ بھی۔ پیار اور سمجھداری سے اُنہیں صحیح اور غلط کا فرق بتائیں، زمانے کے خطرات سمجھائیں، اُنہیں اعتماد دیں لیکن نگرانی بھی رکھیں۔
اگر بیٹیاں غلطی کی طرف قدم بڑھائیں تو والدین کا فرض ہے کہ وقت رہتے اُنہیں روکیں، سنبھالیں، اور گمراہی سے بچائیں—تاکہ وہ کسی غیرفہم شخص یا فرقہ پرستوں کے جال میں پھنس کر ذلیل و رسوا نہ ہوں۔۔۔۔ اپنی جان نہ گنوا بیٹھیں ۔۔۔۔
والدین کے ساتھ ساتھ قوم کے ذمہ داران کی بھی بڑی ذمہ داری ہے ۔۔۔
لڑکیوں کے جو معاملات سامنے آ رہے ہیں، بلا شبہ وہ ناقابلِ برداشت ہیں۔ لیکن اُنہیں روکنے کا ہرگز یہ طریقہ نہیں کہ لڑکیوں کی ویڈیوز یا تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی جائیں، اُن سے سوال جواب کے نام پر زور زبردستی کی جائے، یا دنیا کے سامنے اُن کا تماشہ بنایا جائے۔
یقیناً وہ کسی کے گھر کی بیٹیاں ہیں، لیکن سب سے پہلے وہ قوم کی عزت ہیں—اور افسوس کہ ہم اپنی ہی عزت کو اپنے ہاتھوں تار تار کر رہے ہیں۔
اگر ایسی حرکتیں کوئی ناسمجھ، لڑکے کریں تو سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن جب بڑے، باشعور اور قوم کے ذمہ دار افراد ذمہ داری کے نام پر اس قسم کی جہالت کا مظاہرہ کریں تو افسوس دوگنا بڑھ جاتا ہے۔۔۔
یقین جانیں لڑکیوں کی وائرل ویڈیو دیکھ کر بہت بُرا لگتا یے۔
جنہیں عزت، وقار اور امانت سمجھ کر محبت سے سمجھانا چاہیے تھا، یا ضرورت پڑے تو تھوڑا بہت ڈانٹ کر والدین کے حوالے کرنا چاہیے تھا۔۔۔
افسوس کہ اُنہی بیٹیوں کو سرعام تماشہ بنا دیا گیا۔
غلطی اُن سے بیشک ہوئی، لیکن کیا اُن کی غلطی کی سزا یہ تھی کہ پوری دنیا کے سامنے اُنہیں اور بےعزت کیا جائے؟
آخر سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل کرکے ہم نے کون سی فتح حاصل کرلی؟
اصلاح کا یہ کون سا طریقہ ہے؟
لڑکیوں کو اس انداز سے بھیڑ کے درمیان کھڑا کر دینا ایسا منظر تھا جیسے کوئی شکست خوردہ قیدی ہو، یا دورِ جہالت میں لونڈیوں کے بازار لگتے تھے ۔۔۔۔۔ ویڈیو کا منظر ہوبہو اسی کی عکاسی تھا۔
محض دو لڑکیوں کو سمجھانے کے لئے کیا پورے شہر کا اکٹھا ہونا ضروری تھا؟
پندرہ سولہ سال کے لڑکے بھی وہاں موجود تھے۔
کیا وہاں موجود بزرگ اور ذمہ داران کو ایک لمحے کے لیے بھی خیال نہ آیا کہ معاملہ جوان لڑکیوں کا ہے، اور اس مقام پر لڑکوں کی بھیڑ کا ہونا مزید بے حیائی اور فتنہ کا سبب ہے؟
چند سنجیدہ بزرگ بیٹھ کر لڑکیوں کو پیار سے سمجھاتے، اُنہیں سنبھالتے اور والدین کے حوالے کر دیتے۔
افسوس کہ ایک برائی روکنے کے نام پر اس سے بھی بڑی جہالت کا مظاہرہ کیا گیا۔۔۔
معاف کیجیے !
اگر یہی اصلاح کا طریقہ ہے تو ہم عمر میں بڑے ہو کر بھی بچوں سے زیادہ ناسمجھ جاہل ہیں۔
ایسی حرکات سے ہم نہ صرف اپنی نوجوان نسل کی اصلاح میں ناکام ہوں گے بلکہ اُنہیں بدظن، باغی اور بے خوف بنا دیں گے۔ ان کے دلوں سے عزت تو دور کی بات، ڈر خوف بھی ختم ہو جائے گا اور اُلٹا پریشانیاں مزید بڑھ جائیں گی۔
یاد رہے!
کسی کی ویڈیو وائرل کرنا قانونی جرم ہے۔
اسی طرح کسی کو بھیڑ کے آگے اس طرح ہراسان کرنا موب لنچنگ کے زمرے میں آتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں موجود افراد، بالخصوص نوجوان، ایف آئی آر کی زد میں آسکتے ہیں۔
یوں لڑکیوں کو شدت پسندی کے چلتے کھو دیں گے، اور لڑکوں کی زندگیاں بھی برباد ہو جائیں گی۔۔۔
اگر واقعی قوم اور اس کی نوجوان نسل کا درد دل میں ہے تو ضرور اصلاح کیجیے۔۔۔
لیکن سلیقے، حکمت اور شرافت کے ساتھ۔۔۔۔
یہاں پر چند ضروری اقدامات!
جن پر فوری اور سنجیدہ توجہ دی جائے۔۔۔
جب کسی شہر میں ایسے واقعات سامنے آنے لگیں کہ نوجوان لڑکیاں غلط ماحول اور غلط لوگوں کے ساتھ پکڑی جائیں، اور والدین کی زبان پر صرف یہ ہو کہ “یہ سب آج کل عام ہے”، تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مسئلہ چند گھروں کے بچوں کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ اس وقت اصلاح صرف نصیحت سے نہیں ہوتی، اس کے لیے مضبوط سماجی اقدامات کی ضرورت ہے۔۔۔
یہان سب سے پہلا قدم، ہر محلے اور ہر علاقے میں باقاعدہ کاؤنسلنگ مراکز قائم کئے جائیں جہاں نوجوان لڑکیاں اور لڑکے اپنے مسائل پر کھل کر بات کر سکیں۔
سوشیل میڈیا کی لت، غلط صحبت، تعلقات کے نتائج، ذہنی دباؤ، اور بلیک میلنگ کے خطرات انہیں وہ لوگ سمجھائیں جو نوجوانوں کی نفسیات جانتے ہوں اور انہیں گھر جیسا اعتماد دے سکیں۔ انہیں سنبھال سکیں۔۔۔
ایسے مراکز نوجوانوں کے لیے وہ جگہ ہیں جہاں وہ بھٹکنے سے پہلے مدد لے سکیں ۔۔۔۔
اسی کے ساتھ ہر شہر میں سنجیدہ، باوقار اور عمر دراز خواتین کی ٹیمیں ہونی ضروری ہیں۔ یہ خواتین محبت، تجربے اور حکمت کے ساتھ لڑکیوں تک پہنچیں، انہیں دنیا کے جالوں سے آگاہ کریں، غلط تعلقات کے انجام سمجھائیں، بلیک میلنگ اور مذہبی یا سماجی شدت پسندی کے خطرات بیان کریں، اور ساتھ ہی ماؤں کو بھی تربیت دیں کہ بیٹی سے دوستی کیسے قائم کی جائے اور نگرانی کس طرح محبت کے ساتھ کی جائے۔ ایسے معاملات میں مردوں کا آگے آنا مناسب نہیں، اس سے غلط فہمیاں جنم لے سکتی ہیں اور الزامات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، اس لیے ایک عورت، دوسری عورت کو بہتر انداز میں سمجھا سکتی ہے اور بہتر سنبھال بھی سکتی ہے۔
مساجد اور دینی مراکز کا کردار بھی اس اصلاح میں بنیادی ہے۔ اگر خطبوں میں والدین کی ذمہ داریوں، نوجوانوں کی تربیت، اور معاشرتی بگاڑ کے نتائج پر سنجیدہ اور حکیمانہ رہنمائی دی جائے تو محلے مضبوط ہوتے ہیں، اور نوجوانوں کے ذہنوں میں پاکیزہ سمت بنتی ہے۔۔۔۔
یقین جانیں مسجد اپنا اصل کردار نبھائے تو پورا شہر محفوظ ہو سکتا ہے۔۔۔۔
ان تمام کوششوں کے درمیان پولیس کا کردار سب سے نازک ہے۔ پولیس کا کام یہ نہیں کہ ہر معاملے میں فوراً FIR درج کر دے۔ ایسے واقعات صرف ایک فرد کا نہیں، پوری قوم کی عزت کا معاملہ ہوتے ہیں۔ پولیس کو چاہیے کہ کارروائی سے پہلے محلے کے معتبر افراد، خواتین کی کمیٹیوں اور سماجی ذمہ داروں کے ساتھ بیٹھ کر حقیقت سمجھے۔ بغیر تحقیق کے ایف آئی آر ناانصافی اور خاندانوں کی بربادی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ ساتھ ہی قانون کا غلط استعمال کہلائے گی ۔۔۔۔
اس کے برعکس، جب پولیس اور سماج ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو نہ صرف لڑکیاں محفوظ ہوں گی بلکہ غلط عناصر بھی کمزور پڑیں گے، والدین باشعور بنیں گے اور ان شاءاللہ نوجوانوں کے راستے بہتر ہوں گے۔
یاد رہے !
معاشرہ اُسی وقت محفوظ ہوگا، جب والدین، محلہ، ذمہ داران ، خواتین کی ٹیمیں، دینی مراکز اور پولس، سب ایک صف میں کھڑے ہوں۔ یہی وہ اجتماعی ذمہ داری ہے جو نسلوں کو تباہی کے کنارے سے واپس لا سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم ذاتی انا کے چلتے، خاموش رہ کر اپنی نسلوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں، یا عقل، حکمت ، اتحاد، غیرت اور ذمہ داری کے ساتھ ان کا مستقبل بچانے کے لئے آج ہی قدم بڑھائیں؟
بغیر کسی ذاتی مفاد کے خالص ملک و ملت کے لئے متحد ہوکر اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر انہیں انجام دیں ۔۔۔۔
فیصلہ ہمیں مل کر کرنا ہے ۔۔۔ ابھی اور اسی وقت ۔۔۔۔


