طاقتور مسلمان کمزور مسلمان سے بہتر ہے
از قلم : محمد حارث اکرمی ندوی
شریعت اسلامیہ نے صرف عبادات کی طرف ہماری رہنمائی نہیں کی، بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبہ کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے، اگر ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں شریعت کے بتائے ہوئے اصول کو لائیں گے تو یقینا ہماری زندگی ایک بابرکت اور کامیاب زندگی ہو جائے گی، ان چیزوں میں ایک چیز اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، "طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر ہے” (مسلم 2664)
پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ تعالی نے جو ہمیں صحت دی ہے جو زندگی دی ہے اس کی قدر کرنی چاہیے، اگر ہم اپنی صحت کو بہتر رکھیں گے اور اپنے اپ کو چست رکھیں گے تو تو اتنے بہتر طریقے سے ہمیں عبادات کر سکیں گے اور زندگی کے دوسرے امور کامیابی سے انجام دے سکیں گے، اس کے برعکس اگر ایک کمزور انسان ہوگا اور اس کی صحت اچھی نہیں ہوگی تو وہ اتنی چستی اور اتنی طاقت کے ساتھ عبادات اور زندگی کے دوسرے امور انجام دے نہیں سکے گا جتنا ایک صحت مند انسان دے سکتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور حدیث میں پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جاننے کی تلقین کی ہے اس میں سے ایک صحت بھی ہے، ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے صحت کو بگڑنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے یا طاقت کو بہتر بنانے کے لیے طاقت کے بگڑنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ جتنی ہمارے اندر طاقت اور صحت ہے اس کا خیال رکھنا اور اس کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، ساتھ ہی ساتھ ہمیں ان تمام چیزوں کے استعمال کرنے سے بچنا چاہیے جس سے مستقبل میں ہماری صحت کے لیے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس میں سے ایک نشہ ور چیزوں کا استعمال بھی ہے۔
ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ طاقت صرف جسمانی نہیں بلکہ ایمان، اخلاق، نیت، اور عمل کی مجموعی قوت ہے، لیکن جسمانی صحت کو بھی شریعت نے عبادت کا ذریعہ قرار دیا ہے، اس لیے ہمیں اپنی صحت کی حفاظت کے لیے معمولی ورزش بھی کرنی چاہیے تاکہ بدن چست رہے عبادات کے وقت اور دوسرے امور کے وقت ہمیں تھکاوٹ نہ ہو، یہ جسم اللہ کی دی ہوئی امانت ہے ہمیں اس امانت کا بہتر طریقے سے خیال رکھنا ہے، اور اس امانت کے بارے میں قیامت کے دن اللہ تعالی ہم سے سوال کریں گے
صحت کی حفاظت کے لیے ہمیں متوازن غذا کا استعمال کرنا چاہیے، ساتھ ہی ساتھ وقت پر سونا وقت پر جاگنا اور کھانے پینے کے سلسلے میں بھی بے احتیاطی سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالی قران میں فرماتے ہیں *”ولا تقتلوا انفسكم”* اپنے اپ کو قتل کرو۔۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں *”إن لبدنك عليك حقاً” (بخاری)* جسم کا بھی انسان پر حق ہے۔
مگر یہ چیز یاد رکھیں طاقت کو غرور نہ سمجھیں اس کا غلط استعمال نہ کریں، کسی پر اس کے ذریعے سے ظلم نہ کریں، یا صحت اور طاقت کو اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں استعمال نہ کریں، بلکہ میں کہتا ہوں ہر موقع پر صبر سے کام لیں چاہے تم صحیح ہو سامنے والا غلط ہو اس موقع پر بھی صبر کریں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : *” طاقتور وہ نہیں جو سامنے والے کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل زور آور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے”* (متفق علیہ)
خلاصہ :
اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صحت اور طاقت اللہ کی قیمتی نعمتیں ہیں، جن کے ذریعے ہم عبادات بھی بہتر کر سکتے ہیں اور دنیاوی ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھا سکتے ہیں۔ صحت کی حفاظت شریعت کا حصہ ہے کیونکہ یہ جسم اللہ کی امانت ہے۔ نبی ﷺ نے طاقتور مومن کو کمزور مومن پر فضیلت دی اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھایا کہ اصل طاقت نفس پر قابو اور غصے کے وقت صبر کرنا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی جسمانی صحت، ذہنی مضبوطی، اور اخلاقی قوت—تینوں کی حفاظت کرنی ہے، اور اپنی طاقت کو صرف نیکی، خدمتِ خلق اور اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کی کامیابی بھی دیتا ہے اور آخرت کی سرخروئی بھی۔




