
ایران پر حملہ عالمی نظام کی تباہی کا آغاز
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
بالآخر امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کر دیا اور ان کے سپریم لیڈر اور روحانی پیشوا حجت الاسلام آیت اللہ حسن علی خامنہ ای کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ پہلے ہی حملے میں شہید کر دیا ۔مزید برآں دیگر درجنوں فوجی رہنماؤں کو بھی شہید کر دیا گیا۔ اس حملے کی توقع جون 2025 کی بارہ دن کی جنگ بندی کے بعد سے ہی تھی لیکن گزشتہ دو ماہ میں اس اندیشے میں شدت آگئی۔ ایک طرف امریکہ کا سب سے خطرناک بحری بیڑا بحر عرب میں تعینات ہو گیااور دوسری طرف عمان میں گفتگو جاری تھی۔ اور ہر دو فریق کا دعوی تھا کہ گفت و شنید مثبت سمت میں جا رہی ہے اور تیسرے دور کی گفتگو کے لیے تاریخ کا تعین کیا جا رہا تھا ۔
اندازہ یہی تھا کہ گفتگو محض ایک بہانہ تھا کہ تیاریوں کے لیے زیادہ وقت مہیا ہو سکے۔ در اصل ایران پر حملے کی عجلت اسرائیل کو امریکہ سے کہیں زیادہ ہے ۔ ایران اور امریکہ کے بیچ تو مسئلہ تجارت کا ہے امریکہ کو ہر ملک کا تیل اور معدنیات اپنے قبضے میں کرنی ہے جبکہ اسرائیل کا مسئلہ تجارتی نہیں اعتقادی ہے۔ صیہونیت کا ماننا یہ ہے کہ ظہور دجال کا زمانہ قریب آگیا ہے اور ان کے استقبال کے اقدامات ضروری ہیں ۔ جس کے لیے اسرائیل عظمی کا قیام لازمی ہے کہ قدیم یہودی بستیوں کو دجال کی آمد سے قبل ایک اسرائیل عظمی کی حکومت کا حصہ بنایا جا سکے اس کا مجوزہ نقشہ اسرائیلی وزیراعظم اقوام متحدہ میں دکھا بھی چکے ہیں ۔
تقریبا پورا مشرق وسطی اس نقشے میں شامل ہے جس میں موجودممالک کے ساتھ اسرائیل اپنے سیاسی اور سفارتی تعلقات پہلے ہی استوار کر چکا ہے۔ابراہیمی معاہدہ اس کا شاہد ہے۔ ان ممالک کا فوجی اور اقتصادی انحصار بھی زیادہ تر اسرائیل پر ہے۔ اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ایران ہے جو 1979 میں ایرانی اسلامی انقلاب کے بعد سے ہی واضح لفظوں میں اسرائیل کی اس پالیسی کا شدید مخالف رہا ہے اس لیے کہ اعتقادی طور پر ایرانی حکومت کا بھی یہ ماننا ہے کہ امام مہدی کا ظہور عنقریب ممکن ہے اور ان کے استقبال کی تیاری کی جانی چاہیے اس غرض سے ایرانی انقلاب کے قائدین نے یوم اول سے ہی فلسطینی کاز کی کھل کر حمایت بھی کی اور ہر قسم کی مدد بھی کرتے رہے ۔نیز غزہ اور اسرائیل کی جنگ میں ایران کی یہ مدد واضح طور پر ساری دنیا نے محسوس بھی کی۔ لبنان کا حزب اللہ بھی اسرائیلی سرحد پر واقع ہے اسی لیے ایرانی انقلاب کے فورا بعد اس نے بھی خاصی قوت حاصل کی۔ ادھر شام کے بشار الاسد جو مذہبی طور پر علوی فرقے سے تعلق رکھتے تھے جسے متفقہ طور پر خلاف اسلام قرار دیا جا چکا ہے لیکن علوی ہونے کے ناطے ایران سے ان کی اعتقادی قربت رہی تھی چنانچہ ان کی حکومت کو قائم رکھنے کے لیے لمبے عرصے تک ایران نے ان کی بہت مدد کی۔ اس طرح حماس، حزب اللہ اور بشار حکومت کی مالی اور فوجی اعانت کے ذریعے اسرائیل چاروں طرف سے مستقل گھرا ہوا تھا اور اپنی سرحدوں میں کوئی توسیع نہیں کر پا رہا تھا جس سے اسرائیل عظمی کے قیام میں کافی تاخیر ہو رہی تھی ۔ایران پر حملے کی عجلت کی اصل وجہ یہی ہے۔ اسرائیل کے پاس اپنی ایسی کوئی قوت نہیں ہے کہ وہ اپنے چاروں طرف موجود ان قوتوں سے تنہا مقابلہ کر سکے اس لیے امریکی مدد کی اسے شدید ضرورت رہی ہے جسے یقینی بنانے کے لیے ایک طرف امریکہ میں مقیم یہودی آبادی نے پوری امریکی معیشت کو اپنے قابو میں کر رکھا ہے وہیں ایک صیہونی جیفری ایپسٹین جیسے درندہ صفت ایجنٹ کے ذریعے امریکہ سمیت دنیا بھر کی تمام قیادتوں کو بلیک میل کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ۔ چنانچہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ گزشتہ سال جون کے بعد سے ہی ان فائلوں کا چرچا ساری دنیا میں تیزی کے ساتھ پھیلا ہے۔ خود ہمارے ملک سمیت دنیا بھر کے طاقتور ترین لوگوں کے نام عوامی طور پر ظاہر کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ ابھی 80 فیصد فائلیں اور ظاہر کی جائیں گی ایپسٹین فائلوں کے انکشافات کو ایرانی حملے کی پیش بندی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ قاریئن کو یاد ہوگا کہ وینزویلا کے صدر کی مجرمانہ انداز میں گرفتاری کے بعد میں نے لکھا تھا کہ اس کا اصل مقصد وینزویلا کے تیل پر مکمل قبضہ کرنا ہے تاکہ ایران پر حملے کی صورت میں جب ابنائے ہرمز بند ہو جائے گی تو امریکہ اور یورپ کو تیل کی کمی پیش نہ آئے گزشتہ دو تین دن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابنائے ہرمز بند ہو گئی اور دنیا بھر کے 30 فیصد تیل کی ترسیل بھی بند ہو گئی ایسے میں جتنا نقصان ہوگا وہ بیشتر ایشیائی ممالک کا ہی ہوگا امریکہ اور یورپ وینزویلا کے تیل سے اپنا کام بآسانی چلا لیں گے یہ بڑے واقعات ایران پر حملے کی مضبوط پیش بندی تھے۔
حملے کے دوسرے دن امریکی صدر ڈونا ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ دو تین دن میں ختم ہو جائے گی لیکن ایرانی رد عمل کی شدت کا تجزیہ کرنے کے بعد تیسرے دن ان کا بیان بدل گیا اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ جنگ لمبی چل سکتی ہے ویسے بھی کے بعد۱۹۸۰ اب کوئی جنگ مختصر مدت کی نہیں ہوتی ہے ایران ،افغانستان ، عراق کی طویل جنگیں اس کی مثال ہیں ۔ یمن پر بھی انہی اتحادی حکومتوں کے ساتھ 2015 سے جنگ جاری ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ کو بھی چار سال گزر گئے جس کی پشت پر بھی امریکہ اور نیٹو ہی ہے۔ ان حالات میں ایران کی جنگ دو تین دن کی نہیں ہو سکتی ایران کے شہید رہبر اعظم نے اپنی شہادت سے چند ہفتے قبل واضح کر دیا تھا کہ ایران کی طاقت کا اندازہ کرنے میں امریکی تجزیہ غلط ہے۔جنگی تجزیہ کار عموما امریکہ اسرائیل کے جنگی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی کا موازنہ ایران سے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران کی طاقت بہت محدود ہے بادی النظر میں یہ درست بھی ہے۔
اس طاقت میں نیٹو اور خلیجی عرب ممالک کو بھی امریکہ کے ساتھ شامل کر لیا جائے تو ایران کی صلاحیت ایک پہاڑ کے مقابلے ذرہ جیسی رہ جاتی ہے لیکن غور طلب یہ ہے کہ 1980 کے جنگ میں بھی یہی تمام ممالک متحدہ طور پر ایک نوزائدہ اور تنہا کھڑی ایرانی حکومت سے لڑ رہے تھے اس وقت انقلاب بھی مضبوط نہیں ہو سکا تھا اقتصادی اور فوجی طور پر بھی ایران بہت کمزور تھا اس کے باوجود رہبر انقلاب آیت اللہ خمینی رح کی قیادت میں آٹھ سال ہتھیار نہیں ڈالے اور جنگ بے نتیجہ رہی۔ پہلے کے مقابلے ایران اب ہر اعتبار سے کئی گنا زیادہ مضبوط ہے۔ وہ اب ایک غیر اعلان شدہ ایٹمی طاقت ہے 47 سال کے معاشی مقاطعہ کے باوجود اقتصادی طور پر 1979 کے مقابلےقدرے بہتر پوزیشن میں ہے اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اب خطے میں ایران کا سیاسی اثر و رسوخ اتنا زیادہ ہے کہ چاہے ان چاہے پورا ایشیا اس جنگ کی لپیٹ میں آرہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ سمندر کے اس پار خلیجی ممالک اور پڑوسی عرب ممالک میں امریکہ نے اپنے مضبوط فوجی اڈے قائم کیے ہیں جن پر تقریبا 50 ہزار امریکی فوجیوں کے علاوہ خطرناک ترین جنگی ہتھیار اور جاسوسی کے جدید آلات موجود ہیں ۔
ایران کے پڑوس میں یہ تمام امریکی فوجی اڈے 1988 کی عرب ، ایران جنگ کے خاتمے کے محض دو سال بعد 1990 سے قایم ہونا شروع ہوئے ہیں ۔ بظاہر کہا جاتا ہے کہ یہ امریکی افواج خطے میں عربوں کی مدد کے لیے لائی گئی ہیں جس کے لیے یہ ممالک خاصی خطیر رقم امریکہ کو ادا کرتے ہیں ۔مگر تحفظ کس سے ؟ایران سے؟ ایران نے تو انقلاب کے بعد سے اب تک کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ لشکر کشی نہیں کی ہمیشہ ہی اس پر جنگ ٹھوپی گئی اور وہ دفاعی جنگ لڑتا رہا اور کامیاب رہا ۔ظاہر ہے کہ خطے میں امریکی فوجی طاقت ایک طرف عرب حکومتوں پہ اپنا کنٹرول اور تسلط قائم کرنے کے لیے ہیں تو دوسری جانب ایران کی فوجی گھیرا بندی کے لیے بھی تعینات ہے ۔عربوں کے علاوہ روس اور چین کی توانائی کی ضروریات کی تکمیل بھی سرد جنگ کے بعد سے ایران پر ہی منحصر ہو گئی ہے۔ یوکرین کی جنگ کے آغاز کے بعد یہ ضرورت اور شدید ہو گئی ہے خود بھارت بھی ایک حد تک ایران کی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے اس پر انحصار رکھتا ہے۔ گزشتہ 20 سال میں چابہار سمندری پورٹ پر بھارت تقریبا ایک بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔
دو دن کے اندر دنیا نے دیکھ لیاکہ مغربی اور جنوبی ایشیا کے تمام ہوائی اور سمندری راستے بند ہو گئے جس سے ان ممالک کا سارا کاروبار ٹھپ ہو گیا کروڑوں ڈالر روز کا نقصان ہو رہا ہے شئر مارکیٹ لڑھک گئی تیل کے دام بڑھ گئے۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہےآنے والے دنوں میں روزمرہ کی اشیاء بھی مہنگی ہوتی چلی جائیں گی اب تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس صورتحال کو دنیا آخر کتنے دن تک برداشت کر سکتی ہے ہزاروں مہلک ہتھیاروں سے بھی بڑا یہ ہتھیار ایران نے پچھلے 47 سال کے معاشی بائیکاٹ کے ذریعے ہی تیار کیا ہے اسی لیے فوجی ماہرین کا تجزیہ میدان جنگ میں غلط ثابت ہو رہا ہے۔ روس اور چین سمیت کئی ممالک نے ایران کے حق میں بات کی ہے جبکہ مسلم ممالک کے متحدہ تنظیم او ،آئی سی نے ایران کی مذمت کی ہے۔ چین کے بحری بیڑے بحر عرب کی جانب روانہ ہو چکے ہیں خطے میں دباؤ بڑھا تو تیسری عالمی جنگ یہی ہوگی ۔ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ تیسری جنگ ایشیا میں ہماری زمین ہماری دولت اور ہمارے خون سے لڑی جائے گی مگر فائدہ یورپ کو ہوگا ۔پچھلی دونوں جنگیں یورپ میں لڑی گئی تھیں۔ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلے گا ایک بات تو واضح طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اگر اس جنگ میں ایران کو شکست ہوئی تو یہ دراصل چین اور روس کی شکست ہوگی جس کے نتیجے میں عالمی نظام پر بلا شرکت غیرے امریکی تسلط قائم ہو جائے گا اور دنیا کے ایپسٹین وادیوں کا بول بالا ہوگا ممکن ہے کہ کسی دن روسی صدر کو بھی صدارتی محل سے ایسے ہی اٹھا لیا جائے جیسے وینزویلا کے صدر کو اٹھایا تھا۔ اس کے علاوہ جو ایک دور رس نتیجہ جس پر ابھی توجہ کم ہے یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ خلیجی امارتیں عوامی بغاوت کے نتیجے میں گر جایئں ۔ رہبر معظم کی شہادت کے خلاف جس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں شدید مظاہرے کیے جا رہے ہیں اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک میں بسنے والی بڑی شیعہ آبادیاں اپنی حکومتوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہو سکتی ہیں۔ نیز امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں سے پریشان عوام میں افرا تفری پھیل سکتی ہے۔ بہرحال اسرائیل عظمی کے قیام کے نام پر شروع ہوئی اس عالمی جنگ کے نتیجے میں اسرائیل عظمی بنے یا نہ بنے لیکن دنیا بھر میں بھوک، غربت، افلاس اور طویل کساد بازاری کا سبب ضروربنے گی ۔شاید ہم قیامت کے بہت نزدیک آچکے ہیں۔

