مضامین و مقالات

پندرہ گولڈ پتلیوں کا, "پتیلاسر” گلدستہ انجمن اور اسکا یوم انجمن حامی المسلمین بھٹکل ل

  • نقاش نائطی
    ۔+966562677707

وہ قوم کیا ترقی کریگی جو اپنی اولاد کی تعلیم پر کئے خرچ سے زیادہ انکی شادیوں پر خرچ کیا کرتی ہے

ہر تعلیمی ادارہ اپنی عمارتوں سے نہیں, بلکہ اس کے طلباء کے تعاقب خوابوں سے عظیم بنتا ہے۔
فی زمانہ سب سے اہم, دینی اقدار کے ساتھ اپنی اولاد کو عصری تعلیم کی دولت سے مالا مال کیا جائے

آل عرب آل نائطہ بھٹکل قوم، ایک خوبصورت سنگم کا حسین تصور ہے جو دیڑھ ہزار سال قبل خاتم الانبیاء،دور ہی سے،بھٹکل سمیت کیرالہ کوچین،ٹامل ناڈ کلیکیرے، مہاراشٹرا کونکن اور گجرات احمد آباد کھمبات کے ساحل سمندر پر اپنی بادبانی کشیاں لنگر انداز کئے یورپ و آیسیا کو اپنی تجارت سے ہم آہنگ و سرفراز کئے، قول رب تعالی سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ۔پاک ہے وہ (پروردگار) جس نےاس(مسافت) کو ہمارے تابع کر دیا اور ہم اس سے مسخر (مستفید) نہ ہوسکے۔
خصوصا” اہل بھٹکل کو یہ وہ اعزاز حاصل ہے کہ جنوبی ھند پر تین صدقبل مسیح والے جین کلچر راج”چالوکیاس” "کدمباس” "راشٹر کوٹا” سے ہوتے ہوئے 1336وجیہ نگر سلطنت تک اپنی ایمان دارانہ امانت دارانہ تجارت سے علاقے میں ایک ایسا وقار و رتبہ والا پرامن ماحول پیدا کردیا تھا کہ اپنے وقت کے حکومت کرنے والے جین آل نے اپنی بیٹیوں کو ہماری زوجیت میں دئیے، ہمیں یہیں رچ بس جانے، ہر ممکنہ مدد و نصرت بھی کی تھی۔یہ اور بات ہے کہ تجارت کے لئے یہاں آبسے ہمارے جد امجد نے، اپنے مال تجارت عربی النسل گھوڑوں کی ھند
بھرکےمختلف راجوں مہاراجاؤں تک بحفاظت ترسیل کے لئے، جب اپنی فوج و سلطنت ہوسپٹنم ہونور قائم کرلی تھی تو فائی ٹنگ فور سروائیول، وجیہ نگر راجہ کو ہوسپٹنم ہونور مسلم سلطنت پر فوج کشی کئے، ہمارے جد امجد کی پہلی مسلم آل نائطہ سلطنت کو تاراج اور ہزاروں کو شہید کرنا پڑا تھا اس کے بعد ہی ہوسپٹنم ہونور سے جان کی امان کے لئے, آل نائطہ قبیلے کو جنوب کی طرف ہیرانگڈی، کوروئے،سمسی، ولکی، منکی، سرلگی، مرڈیشور، ٹینگنگنڈی، شیرور، بسرور، بیندور ، گنگولی، کنڈلور،اوپنے، ہلگیرے، ناگور، کرمنجیشور، کوپ، اس وقت کے تونسے اور آج کے ہوڈے، اڈپی تک ساحل سمندر مختلف گاؤں قریوں تک آباد ہوگئے تھے. تو شمال کی طرف کمٹہ، ہلدی پور، مرزان، کاروار سے آگے گوا کے بنجر ساحل کو اپنے دوسرے مستقر تجارت کے طور آباد کرنا پڑا تھا۔


سو چھ سال قبل ہمارے جد امجد کے ان ایام اسیری فرنگی انگریز 1919 قائم انجمن حامی المسلمین کے ماتحت آج مصروف آگہی علم و عرفاں پندرہ مختلف اسکول و کالجز میں زیر تعلیم 6 ہزار پانچو سو نونہالان قوم کو، ان کے کئی سواساتذہ کےساتھ، مختلف یونیفارم زیب تن کئے،علاقے کے سب سے بڑے اسپورٹس گروانڈ انجمن آباد میں انجمن ڈے کے موقع پر ایک ساتھ دیکھنے کا اپنا ہی ایک عجیب لطف و سرور تھا۔ ہمارے پشتینی نانی دادی اماں جین عورتوں کے سجنے سنورنے والے جین کلچر سونے کے زیورات،”کپلپاٹی” "راخٹا چمخٹی” مختلف لڑیوں پر مشتمل "پوتلیاسر” کے طرح مختلف انجمن اسکولوں کے طلبہ و طالبات کا قطار در قطار میدان انجمن آباد، یوں کھڑا انہیں دیکھ، ہمیں ہمارے اسلاف کے چمکتے زیورات مانند یہ ساڑھے چھ ہزار طلبہ طالبات کا یہ حسین سنگم لگا تھا۔اسی کے دہے ہمارے ایام تلمیذ کلیہ کالج بعد آج اپنے ہی بچپن کے کھیلے کودے اپنا پسینہ بہائے، اسپورٹس گراؤنڈ میں، مستقبل کے معمار قوم آج کے ساڑھے چھ ہزار تلامیذ دید نے،مستقل رہائش بعد الموت گور جانب خاموشی سے بڑھتے قدموں میں، وہ جوش جوانی بھردی تھی کہ ہم اپنے آپ کو،آج کے ان ساڑھے چھ ہزار طلبہ میں کھوجتے پائے گئے تھے۔ کسی استاد میں ہمیں نظام سر کی تو کسی میں شاہجہاں سر تو کسی میں پاشاہ سرکی، تو کسی میں، بھینڈے کٹے، گوڈیگار اور لطیف ماسٹر کی شبیہ نظر آرہی تھی۔ منتظم تقریب کی مائک پر گونجتی آواز، گو بار بار مخل ہو، ہمیں باد نسیم کے جھونکوں کے سہارے محو پرواز ماضی بعید، بچپن کے دلخوش کن یادوں کی سیر سے واپس، آج کے ان تاریخی لمحات کو محفوظ ذہن کرنے، مکرر واپس بلائے ہمیں ماضی و حال کے مسحور کن لمحات کا تقابل کروارہی تھی۔
انجمن کے ماتحت پروان چڑھ رہے تعلیمی آگہی نظام کو مختلف پندرہ اسکولوں کالجز پر مشتمل ہر اسکول و کالجز کی جدا جدا سالانہ اسپورٹس و کلیکیولر ایکٹیوٹی پر مشتمل سالانہ تقاریب منعقد کئے جاتے تھے۔لیکن انجمن حامی المسلمین میں پڑھی لکھی تربیت پائی نئی مجلس منتظمہ نے اپنے جوان سال عہدیداروں کی سرپرستی میں پورے پندرہ اسکول و کالجز طلبہ طالبات کے لئے متحدہ روزہ مرد و نساء کے لئے جدا جدا سالانہ گیدرنگ انجمن ڈے کی حیثیت سے منانے کا اس سال سے جو وطیرہ اپنایا ہے حسن انتظام اور انجمن طلبہ سرپرستوں سمیت ارباب قوم کے لئے بھی اپنے نونہالوں کی تعلیمی سرگرمی دید بہترین انداز کرنے ممد لگتی ہے۔ اس سال انجمن ڈے پر ڈسٹرکٹ منسٹر منکل ویدیا کے ساتھ کرناٹکا اسمبلی اسپیکر یوٹی قادر, بیدر شاھیں ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ کے روح رواں ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب اور کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ کے پہلے مسلم وائس چانسلر ایم اے خان صاحب اور پڑوسی شیرور ساؤتھ کینرا گرین ویلی تعلیمی ادارے کے روح رواں محمد میراں منیگار صاحب کی شرکت نے ل, یوم انجمن پروگرام کو کامیاب تر بنایا ہے۔شاہین اسکول بیدر کے روح رواں ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے اپنی تقریر میں مرحوم صدیق جعفری علیہ الرحمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے, انکے ساتھ بھٹکل آتے, انجمن حامی المسلمین کے دینی اقدار عصری تعلیم دینے کے اسلوب کے پیش نظر, ان میں تعلیمی ادارہ اپنے یہاں قائم کرنے کی کسک پہلے اٹھنے والی بات کا اعتراف کرتے ہوئے, انجمن کے ساتھ ملکر قوم و ملت کے نونہالوں کو نیٹ جیسے مرکزی تعلیمی کورسز میں یکتائیت حاصل کرواتےہوئے آئی اے ایس, آئی پی ایس والی۔مسلم کھیپ تیار کرنے کروانے کی ضرورت پر زور دیا یوم انجمن کے پہلےدن بعدنماز عصر مختلف انجمن اسکول و کالجز کے طلبہ کی طرف سے تفریحی پروگرام ڈرامے وغیرھم نے شب گیارہ تک حاضرین اجلاس کو محو و مصروف رکھا تھا طلبہ کی طرف سے پیش کئے گئے مختلف ڈرامے نوجوان نسل کے ساتھ مسلم امہ میں بڑھتے موبائل مینیا سقم کی ہلاکت خیزی کی طرف توجہ جہاں مبذول کرائی گئی, وہیں قرون اولی کی اسلامی تاریخ عمر بن عبدالعزیر علیہ الرحمہ کے خلیفہ وقت نامزد کئے جانے کے باوجود, اقتدار اعلی سے بے رغبتی نیز عوامی دباؤمیں اقتدار خلافت قبول کئے جانے کے بعد , عدل و انصاف والی حکومت قائم کئے عملا” دکھاتی تاریخ اسلامی کی منظر کشی واقعی لائق دید تھی۔ وہ بھی ایسے پس منظر میں خود کو فقیر منش کہنے والے آج کے حکمران, کیسے عوامی ٹیکس کروڑوں روپیوں سےاپنے تعیش پسندانہ کپڑوں سمیت رکھ رکھاؤ عیش پرستی میں اڑاتے ہم دیکھتے ہیں۔حاکموں کی بھی بعد الموت خالق کائینات کے سامنے جواب دہی کا ڈر درشاتی خلیفہ المسلمین عمر بن العزیز کی زندگی کا نمونہ دکھانا یقینا” ہمارے نونہالان وطن کی پرورش پر مثبت اثرات ڈالتے ہم پائیں گے۔ اس قوم کو قیامت تک، اپنے قومی اعلی اقدار, زندہ جاوید رکھنے سے کون مانع رکھ سکتا ہے؟ جو قوم خود اپنے بزرگوں کے اخلاق حمیدہ, اپنی اولاد میں ودیعت کرتے رہنے,اپنے جد امجد کےواقعات, انہیں سناتے اور اپنے تفریحی پروگرام ڈراموں میں درشاکر اپنے نونہالوں کے معصوم اذہان میں اپنے اسلاف کے اعلی اقدار ودیعت کرتےرہاکرتے ہیں۔ اس خوبصورت ڈرامائی انداز نے ہمیں پینتالیس سال قبل والے ہمارے ایام تلمیذکلیہ سالانہ گیدرنگ کے مواقع پر, ہمارے لکھے اور پیش کئے گئے,دوبئی چو وھریت, گڑگڑی میراں , ونتی پائیں, ونتی کان, رائتہ چو پسولو, "ساٹو گلا کاٹو” جیسے مختلف معرکہ الآراء نائطی ڈراموں کے دور کی یاد تازہ کرگئی۔وہ بھی کیا دن تھے؟ طلبہ انجمن کے سرپرستوں کے ساتھ معاشرے کے مرد و نساء۷ صرف نائطی ڈرامہ دید کے لئے سالانہ گیدرنگ کا انتظار کرتے پائے جاتے تھے۔ دراصل معاشرے کی کمیوں خامیوں برائیوں کو خوبصورت انداز ڈراموں کی صورت پیش کئے جاتے اصلاح معاشرہ کی سعی ناتمام کی جاتی تھی,نائطی ڈرامہ کلچر کو معاشرے میں دوبارہ زندہ کیا جانا چاہئیے۔آج کے پیش کئے گئے تفریحی پروگرام کی آخری کڑی انسانی مینار نہ صرف واقعی قابل دید تھا بلکہ عالمی سطح ہندستانی ٹی وی پر پیش کئے جانے والے متحیرالعقل پروگرام انڈیا گوٹ ٹیلنٹ میں دکھائے جانے لائق پروگرام ہے۔ بچوں کے مینار پروگرام کی کلپ کسی بھی طریق انڈیا گوڈ ٹیلنٹ ٹی وی پروگرام منتظمین تک پہنچائی جائے تو انجمن طلبہ کو بھی نیشنل ٹی وی پر, اپنے جوھر دکھانے کا موقع حاصل کیا جاسکتا ہے۔ بچوں کے ڈراموں میں ایک ڈرامہ شہر میں کئی ایک اقسام کی تعلیم کا بہترین انداز انتظام رہتے ہوئے۶۶ بھی,بعض متوسط آل کی بچے, اپنے والدین کو اپنے ادارے کی تعلیم غیر معیاری بتائے اور پئش کئے, انہیں مناتے ہوئے, اعلی تعلیم کے لئے شہروں کی طرف رخ کرتے پائے جاتے ہیں اور ان بچوں کے والدین اپنی اولاد کی محبت و الفت میں, انجمن کےتعلیمی معیار اپنی اولاد کے کہے پر اعتبار کئے انہیں شہروں میں تعلیم کے لئے بھیجتے پائے جاتے ہیں۔ اعلی تعلیم کے کچھ کورسز انجمن میں فقدان کی صورت,شہروں میں اپنے لاڈلوں کو جانے کی اجازت دینا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن جو کورسز انجمن میں ہیں اس کورسز کے لئے بچوں کو دوسرے شہروں میں بھیجنا کیا کفران نعمت کے زمرے والا ہمارا عمل تو نہیں ہے؟رہی بات انجمن کے معیار تعلیم کی, ذیل میں آج ہی کے انجمن ڈے تقریب دوران نونہالان انجمن کو جو اعزازات دئیے گئے ہیں ان پر ایک نظر سنجیدگی سے ڈالیں تو ہمیں اپنے انجمن میں دئیے جانے والی تعلیم کا اسٹینڈرڈ صوبے کے دیگر تعلیمی اداروں کے مقابلے کتنا اچھا ہے, معلوم ہو جائیگا۔ ویسے بھی قوم و معاشرہ کو درکار تعلیم انہیں مہیہ کروانے کی اپنے طور انجمن پوری کوشش کرتی پائی جاتی ہے۔آج کے یوم انجمن میں عنقریب بھٹکلی طلبہ و طالبات کے لئے پیرا میڈیکل اور میڈیکل تعلیم انتظام و اہتمام کی بات کھل کر سامنے آچکی ہے اس ضمن میں قوم کو بہت جلد نوید نؤ ملتی ہم پائیں گے۔انشاءاللہ

انجمن فطرہ اسکول

1) مسٹر محمد اقبال محمد عمران چامنڈی عمر 9
الف ) سیکنڈ پوزیشن 25کلو کیٹگری کرناٹکا جونئر اسٹیٹ کراٹے چمپین شب
ب ) گولڈ میڈل چوتھاجنوبی ھند کراٹے چمپئن شب مقابلے بنگلور
ج) پہلی پوزیشن مختلف صوبائی کراٹے چمپین شب مقابلے اور فرسٹ پرائز کاٹا
د)پہلی پوزیشن کاٹا اور تیسری پوزیشن عالمی کراٹے مقابلوں میں

انجمن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنولوجی اینڈ مینجمنٹ

1) مس ضیاء انجم عبدالغفور
فرسٹ ائیر ٹاپر 8.7 سی جی پی اے
2) مس ارزش محمد اسماعیل اوگا دوسرے سال کی ٹاپر 9.34 سی جی پی اے
3) مسٹر محمد فہد زہیر احمد تیسرے سال کا ٹاپر 9.34 سی جی پی اے
4) مس نورا محمد شعیب قاضیہ چوتھے سال کی ٹاپر 9.39 ؤسی جی پی اے
5) مس نمرا ندیم احمد شاہ بندری پٹیل ایم بی اے ٹاپر 9.03سی جی پی اے
6) مس نقیہ حبیب اللہ دامدا ایم سی اے ٹاپر 9.34سی جی پی اے
7) مس پروین روی آر ہریجن گولڈ میڈل فرسٹ پرائز وی ٹی یو اسٹیٹ لیول کراٹے ٹورنامنٹ 2025_2026. اور ساوتھ ویسٹ زون مدھیہ پردیش کے لئے منتخب
8) مس لکھیتا شنکر نائک فولڈ میڈل اسٹیٹ لیول کھیلو انڈیا اسمیتا وومن کک باکسنگ لیک 2025_2026 اور ساٹھ انڈیا ذون کے لئے منتخب

انجمن انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ کمپیوٹر ایپلیکیشن

1) مس نرمین نذیر محتشم 93.56% BCA فرسٹ رینک
2) مسٹر عبدالمجید مختار احمد محتشم 91.98%BCA تھرڈ رینک کرناٹکایونیورسٹی دھارواڑ 2024_2025
3) مسٹر ابوبکر ایان خلیل اصغر شاھبولی گولڈ میڈل ان پورلفٹنگ 83کلو مقابلے
4)مسٹر محمد نوار محمد رضوان اسرمٹا گولڈ میڈل پور لفٹنگ اینڈ فزکس 59کلو
5) مسٹر عمر عبدالمجید شیخ جی تیسری پوزیشن عالمی الفقان حفظ القرآن مقابلے جز ۵ کیٹگری
6) مسٹر محمد سعد محمد شفیع خان یونیورسٹی بلو فٹبال
7) مسٹر محمد رباط عبدالعوف گوائی یونیورسٹی بلو بیڈمنٹنٹ
8) مسٹر محمد شاھد باشاء لاٹ
اوپن نیشنل کراٹے چمپین شب ہوناور پہلی پوزیشن کومیٹی اور تیسری پوزیشن کاٹا

انجمن آرٹس اینڈ سائینس کالج اینڈ پی جی سینٹر

1) مسٹر انظار حسین محمد امتیاز عالمی رینک دسویں پوزیشن اور آل انڈیا رینک تھرڈ پوزیشن فانینشل رپورٹنگ
2) مسٹر رزدان محمد حسین شریف عالمی رینک دسویں پوزیشن اور آل انڈیا تیسری پوزیشن ایڈوانس آڈیٹ اینڈ ایسورینس
3) مسٹر محمد ارحان ریاض پاشا ریپبلک ڈے پریڈ 2025 وزیر اعظم ریلی این سی سی
4) سائیناتھ منجوناتھ کھاروی یونیورسٹی بلو شطرنج
5) مسٹر عبدالسبحان عبدالرفیع عبدالقادر مانی یونیورسٹی بلو فٹ بال
6) مسٹر محمد افنان محمد مشتاق محمدو یونیورسٹی بلو فٹبال بال

انجمن پری یونیورسٹی کالج فور بوائز

1) مسٹر محمد ایان ناصر شیخ عبدالکریم 95.66%پی یونیورسٹی سیکنڈ ایر کامرس
2) مسٹر ایان احمد محمد امین قاضیوں.83% پی یوسی سائینس

انجمن بوائز ہائی اسکول

1) مسٹر محمد اسلاف رئیس احمد فاروقی وقار انجمن 2025_2026

اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول
1) مسٹرمحمد عطیف عبدالستار قاضی ٹھرڈ پلیس ان اسٹیٹ لیول کراٹے چمپین شب ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس چکبیلاپور
2) مسٹر ساحل ملک سرتاج ملک وقار اسلامیہ 2025_2026

انجمن انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ کمپیوٹر اپلیکیش

1) مس نرمین نذیر محتشم 93.56% in BCA فرسٹ رینک ان کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ
2) مس فاطمہ نازنین بنت شبیر مٹا 92.64%BBA تھرڈ رینک کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ
3) مس ملیحہ احمد جمیل جوباپو 91.76%BBA ففت رینک کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ
4) مس امہ رفیدا بنت محمد مظہر91.25%BBA سیونت رینک کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ

انجمن کالج آف ایجوکیشن
1) مس شویتھا منجوناتھ کوپیا نائک 93% فرسٹ پوزیشن

انجمن کالج فور وومن

1)مس فاطمہ سلومی عبدالسلام دامودی 94.72% BCom
2) مس سینیم محمد شعیب برماور94.36%BSc

انجمن پری یونیورسٹی کالج فور وومن
1) مس عایشہ شاہین تفضل حسین جوّکا 98.33% سائینس ڈسٹرکٹ لیول تھرڈ پوزیشن اینڈ فرسٹ پوزیشن تعلق لیول
2) مس عائشہ امتیاز فکردے 98.16% سائنس سیکنڈ پوزیشن تعلق لیول پی یو بورڈ
3) مس مصیرا مشتاق شیخ 97.5% کامرس سیکنڈ پوزیشن تعلق لیول
4) مس امشا ایرم نورالامین مومن گولڈ میڈلسٹ آل انڈیا اوپن کراٹے چمپین شپ 2025 اڈپی

انجمن گریز ہائی اسکول بستی روڈ
1) مس ام کلثوم عبدالسلام محتشم 8th رینک تعلق لیول SSLC بورڈ امتحان 2025
2) مس ثناء زبیر شیخ 6 رینک SSLC بورڈ امتحان تعلق لیول 2022
3) مس آمنہ رمشا ارشاد احمد شاہ بندری بتول انجمن 2025_26
4) مس آریحہ محمد یونس قاسمجی بتول انجمن رننر آپ
5) مس امہ سولیم ابراہیم بیٹکیری ایمیننٹ اسٹوڈنٹ 2025_25

انجمن گرلز انگلش میڈیم ہائی اسکول نوائط کالونی
1) مس میمونہ محمد امین عجائب رینک 7th SSLC اسٹیٹ بورڈ امتحان 2024
2) مس فاطمہ زہرہ صابر احمد چامنڈی فرسٹ پوزیشن ان قرآت مقابلہ اسٹیٹ لیول پرتبھا کرنسی
3) مس شیزاءندیم شاہ بندری دختر انجمن 2025_2026
4) مس زینب صفاء عبدالسمیع گوائی دختر انجمن 2025_2026

آج کی اس پروقار تقریب میں کئی ایک پہلو واقعتا” نہ بھولے جانے والے ہیں اولا” ہزار دشمنان انجمن، موقع موقع سے، بہانے بہانے، انجمن کو بدنام و رسوا کرنے کی کوشش کرتے رہیں، لیکن ساڑھے چھ ہزار نونہالان قوم کو عصری تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیوستہ کرتے ہوئے بھی، ان میں حامی المسلمین والے ہمارے اپنے بانیان انجمن کی، تڑپ و قربانیوں کی کسک ودیعت کرنا, کسی مہم جوئی سے کم کارنامہ تھوڑی نا ہے؟ اس انگرئز سامراج دوران بین الڈسٹرکٹ کے پہلے سند یافتہ گریجویٹ مسند اعلی براجمان ہونے پر، ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کی فرنگی حکومتی پیش کش کو درکنار کر، حکم وحی اولی نبی آخرالزماں "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ،خَلَقَ الإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ” "پڑھ اپنے رب کے نام کے ساتھ، جس نے پیدا کیا”، (اس پہلے حکم تحکمی کے بعد کیا پڑھنے کا اصل حکم ربانی ہے؟) "انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ہے” اصل میں علوم، سائینس جغرافیہ، علم ارض و سماوات بحر و جبل، صحراء و غابات، ماہ وانجم و جمیع مخلوقات، جن علوم آگہی ہی کی بدولت، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین و سلف و صالحین نے ابتدائی ایام رسالت مآب سے، سکوت غرناطہ اسپین و بغداد تک اور جزوی طور سکوت استنبول ترکیہ تک، ان تیرہ سو سالہ اسلامی سلطنت سے انسانیت کو مستفید کروانے ہی کے لئے۔ اور دیار غیر، فرنگی یورپ ہسپانیہ اسپین 711ع لنگر انداز اپنے واپسی سفر کے امکانات کو ختم کرتے، اپنی ہی کشتیوں کا جلا ڈالنے کی ہمت و توانائی و توکل بخشتے ہوئے، ان عاشقان خاتم الانبیاء نے دریاؤں پر گھوڑے دوڑاتے ہوئے،تین چوتھائی عالم انسانیت پر حکمرانی دین اسلام قائم کرلی تھی۔اور سکوت اندلس و بغداد بعد ان فرنگی انگریز حکمرانوں کے حکم تیغ و تلوار نوک پر، عمل پیرا ہم والیاں اسلام، علماء کرام نے، "طلب العلم فريضة على كل مسلم” کی تعبیر دو مختلف نظریات پر قائم کئے، ہم عاشقان علوم عصر حاضر مسلم امہ کے لئے،”حصول علم عصر حاضر” نہ صرف غیر ضروری بالکہ ملحدانہ سوچ کاغماز بتائےہوئے، ہم مسلم طالبان علم و عرفاں کو مسجدوں درگاہوں کی چار دہواروں میں مقید مدرسوں تک محدود جو کردیا تھا گو آج شہادت جامع بابری مسجد بعد والے ھندو سنگھی ذہنیت غلباتی پس منظر نے، دوبارہ مسلم امہ میں حصول علم عصر حاضر کی اہمیت کو اجاگر کردیا ہے لیکن فی زمانہ بھی جید علماء کرام میں، اب بھی وہی اسیری فرنگی سوچ، کچھ حد تک باقی ہے جو انہیں، آج بھی حصول علوم عصر حاضر اولاد مسلم امہ کو ہزاروں کے مجمع میں، ببانگ دہل "ولدالحرام” اور "بنت الحرام” کہنے کی جرات و ہمت بخشتا ہے۔ وقفہ وقفہ سے والیاں علم و عرفان دین اسلام کی 180 ڈگری بدلتی سوچ، معراج سفر دوران نار جہنم میں جلتے والیاں دین کی کثرت کو اجاگر کیا کرتی ہے
آج 2025 اس اختتامی ماہ میں ساڑھے چھ ہزار طلبہ وطالبات پر مشتمل نونہالان قوم و ملت کا یہ ادارہ ا انجمن حامی المسلمین,اس سفر صد سال بعد، اپنی تعلیمی آگہی سفر صرف آل بھٹکل سے پرے قرب و جوار بین الڈسٹرکٹ اپنی تعلیمی آگہی مشن لیجاتے ہوئے، مشن آگہی تعلیم تقریبا” جنوب ھند کے تمام تر علاقوں میں اس کے استفادہ کے مواقع پیدا کرتے ہوئے، انجمن حامی المسلمین بھٹکل کو جنوب ھند کے علیگڑھ ثانی کے طور منارہ علم عرفان اس شمع کی کرنیں پہنچانے پہنچوانے لائق بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لئے اراکین انجمن کی ایک ٹیم قرب و جوار کے گاؤں دیہات قریات شہر گھوم گھوم کر انجمن تعارفی اجلاس منعقد کئے جاتے، وہاں وہاں مقامی تعلیمی ابتدائی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے بعد، اعلی تعلیم کے لئے انہیں بھٹکل انجمن حامی المسلمین کی طرف
ملتفت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک طرف قرب و جوار کی امت مسلمہ پر اعلی تعلیمی مراکز قیام کا بوجھ نہ پڑنے دیتے ہوئے، انہیں بھٹکل انجمن حامی المسلمین کے اعلی تعلیمی کورسز میں داخلہ دلوائے; انہیں یہاں بھٹکل کے دینی ماحول سکونت پزیری کے مواقع دیتے ہوئے، انکے نونہالوں کے لئے، اعلی تعلیم حصول کو آسان بنایا جائے تو دوسری طرف اعلی تعلیم حصول اتنے بہترین مواقع والے انجمن حامی المسلمین کے مختلف کورسز تعلیمی مراکز کو طلبہ کے فراوانی جاری و ساری رکھنے کا مناسب بندوبست بھی کیا جاسکے۔ امید ہے انجمن کے ہم منتظمین اس سمت تفکر تو تدبر عملی کوشش کے ساتھ بھٹکل کو اعلی تعلیم یافتگان کا ایک منبع بنائے جیسا ہم پورے جنوب ھند کے مسلم امہ کو بھی اپنے ساتھ اعلی تعلیم حصول میں ترقی کرواسکیں۔ ومالتوفیق الا باللہ

حیدرآباد میں منعقدہ آل انڈیا مسابقۂ حفظِ قرآن میں بھٹکل کی حافظہ کا شاندارمظاہرہ؛ 167 حافظات میں دوسرا مقام

حیدرآباد میں دارالقرأت الحسنین مغل پورہ (منسلک دارالقرأت الباسطیہ، قدیم ملک پیٹ) کی جانب سے منعقدہ دو روزہ دوسرے آل انڈیا مسابقۂ حفظِ قرآن مجید میں پہلا مقام ریاستِ کیرالہ کے کولم کی حسنیٰ فاطمہ بنت نجم الدین نےتو بھٹکل انجمن حامی المسلمین کے ماتحت چلنے والے "انجمن آزاد پرائمری اسکول” کی طالبہ نورا قاضیا بنت محمد شعیب قاضیا نے شاندار پرفارمینس پیش کرتے ہوئے دوسرا مقام حاصل کیا ہے۔

اس مقابلے میں ملک کی 16 ریاستوں اور 8 بیرونِ ممالک کی مجموعی طور پر 167 خواتین و طالبات نے شرکت کی تھی۔ مسابقے میں متحدہ عرب امارات، لیبیا، مصر، قطر، انڈونیشیا، مالدیپ، کینیا اور چاڈ سمیت 8 ممالک کی حافظات نے بھی حصہ لیا۔ ۔
https://sahilonline.net/hyderabad-bhatkal-student-shines-at-all-india-quran-memorisation-competition-secures-second-position-among-167-participants

انجمن بوائز ہائی اسکول، بھٹکل کے لیے ایک قابل فخر لمحہ
بہت خوشی کے ساتھ، ہم یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے طلباء نے علی پبلک پری یونیورسٹی کالج، بھٹکل کے زیر اہتمام انسپیرا 2025 میں حصہ لیا اور شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔

یہ انٹر اسکول فیسٹ ایک اور پلیٹ فارم بن گیا جہاں انجمن بوائز ہائی اسکول (ABHS) کا ٹیلنٹ اور محنت چمک اٹھی۔

ہمارے لڑکوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں, وہ اعتماد، ہمت اور کمال کے ساتھ اپنی قابلیت صلاحیت پیش کرتے ہیں۔ الحمدللہ، انہوں نے متعدد ایوارڈز جیتے اور ہمارے ادارے کا سر فخر سے بلند کیا۔

پہلا انعام – اسلامی اور عمومی کوئز
عبدالقادر ایدروس (10ویں) اور سلیت احمد گوائی (9ویں)

پہلا انعام – ٹیبل ٹینس
عثمان رکن الدین (10ویں)، نوفیل احمد (9ویں) اور ابراہیم پلور (9ویں)

دوسری پوزیشن – فٹنس چیلنج
محمد اقدس (10ویں)

دوسری پوزیشن – ہیو بمقابلہ آپ (مشکل مماثلت اور سوالات)
احمد ارحم (10ویں) اور ساحل (10ویں)

دوسری پوزیشن – تیز نگاہ (میموری ٹیسٹ)
رائف (دسویں)، سیان پوٹی (دسویں)

الحمدللہ، ہمارے طالب علموں نے بہت سے ایوارڈز جیتے اور فیسٹیول میں ٹاپ پرفارمرز کے طور پر نمایاں رہے۔

ہم تمام جیتنے والوں اور شرکاء کو ان کی شاندار کوششوں کے لیے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ *اللہ تعالیٰ ہمارے طلباء کو ہر بری نظر سے محفوظ رکھے اور ان کو مزید بلندیوں تک پہنچائے۔ آمین

انجمن ڈے کے موقع پر شاندار تقریب
بھٹکل میں میڈیکل اور لاء کالج کے قیام پر زور— ریاستی اسمبلی کے اسپیکر یو ٹی قادر کا خطاب
https://www.bhatkalnews.in/2025/12/13122025-106-13-2025-1030.html?m=1

بھٹکل: انجمن ملٹی پرپز اسپورٹس ایرینا کا شاندار افتتاح

https://links.fikrokhabar.com/7d0164fd

یوٹی قادر اسپیکر کرناٹکا اسمبلی بھٹکل انجمن ڈے پر عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے

انسانی پیرامیڈ ایک مشکل تر اسپورٹس ایونٹ

آج کے پیش کئے گئے تفریحی پروگرام کی آخری کڑی انسانی پیرامیڈ نہ صرف واقعی قابل دید تھا بلکہ عالمی سطح ہندستانی ٹی وی پر پیش کئے جانے والے متحیرالعقل پروگرام "انڈیا گوٹ ٹیلنٹ” میں دکھائے جانے لائق پروگرام ہے۔ بچوں کے پیرامیڈ پروگرام کی کلپ کسی بھی طریق "انڈیا گوڈ ٹیلنٹ” ٹی وی پروگرام منتظمین تک پہنچائی جائے تو انجمن طلبہ کو بھی نیشنل ٹی وی پر, اپنے جوھر دکھانے کا موقع حاصل کیاجاسکتا ہے۔ ابن بھٹکلی
https://www.facebook.com/share/p/17g6skJ6gU/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button