مضامین و مقالات

منبر پر حسین، میدان میں کوفی ! یہ منافقت نہیں تو کیا ہے ؟؟؟

احساس نایاب شیموگہ ۔۔۔

محبت کی گونج کو ظلم کی لاٹھیوں نے کیا خاموش
بریلی میں مسلم نوجوانوں پر یوگی پولس کی بربریت اور مولانا توقیر رضا خان کی گرفتاری پر
جماعت اسلامی ہند کے علاوہ باقی تمام رہنما و قائدین کی مجرمانہ خاموشی
لمحہ فکریہ۔۔۔۔

آئی لو محمد ﷺ کے معاملے کو لے کر پولس نے کئی سارے جھوٹے دعوے کئے ہیں کہ مولانا توقیر رضا صاحب کے گھر سے پٹرول بم اور غیرقانونی ہتھیار برآمد ہوئے ہیں , جن میں کسی قسم کی سچائی نظر نہیں آتی
کیونکہ
احتجاج کے دن یوگی پولس نے مولانا کو ان کے گھر مین نظربند کر رکھا تھا، باقی احتجاج کے دوران جو کچھ بھی ہوا ہے وہ پولس کی لاٹھیوں کا نتیجہ ہے
محبت کی گونج پر جب پولس کی لاٹھیان برسی تو کئی سر پھوٹے، کئی نوجوان لہولہان ہوئے،

اُس پر ستم یہ کہ
مظلوم زخمیوں کی مزاج پرسی کرنے کے بجائے سینکڑوں بےقسور نوجوانوں کو ملزم قرار دے کر جیلوں میں ٹھونسا گیا ۔۔۔۔

تو ادھر دوسری طرف ایک پاگل، سنکی تاناشاہ کی تاناشاہی نے قانونی غلاف اڑھاکر مولانا کو گرفتار کروا دیا۔۔۔

جبکہ یوگی پولس کی ظالمانہ کاروائ دنیا کے آگے ہے اور خود کو یوگی کہنے والے کی غیراخلاقی بیان بازیاں گودی میڈیا پر گردش کررہی ہیں
جو کسی سی ایم کی نہیں بلکہ غنڈے بدماش کی زبان لگتی ہے ۔۔۔۔

افسوس اس پورے معاملے میں جماعت اسلامی ہند کے علاوہ باقی کسی نے آواز نہیں اٹھائی

آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے ممبر
مولانا خالد رشید فرنگی کا بیان بیحد افسوسناک ہے
ان صاحب کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو آئی لو محمد ﷺ کا ٹرینڈ روک دینا چاہئیے کیونکہ
جس طرح سے مسلمان آئی لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پوسٹر لگارہے ہیں, ریلیاں نکال رہے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔۔۔

خالد رشید فرنگی صاحب سے سوال ہے
آپ کے مطابق اگر مسلمان آئی لو محمد ﷺ نہ کہیںں تو کیا کہیں
کیا مسلمانوں کو جئے شری رام یا ہر ہر مہادیو کا نعرہ لگانا چاہئیے ۔۔۔۔ ؟؟

حجاب معاملے پر مسکان نے جب اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تو اُس بچی کی تعریف کی گئی ، انعام و اعزاز سے نوازہ گیا تھا ۔۔۔۔
تو یہان خاموشی کیوں ؟؟؟

لاکھون کروڑوں مسلمان اپنے نبی سے محبت کا اعلان کررہے ہیں تو یہان سب کو جہالت عجلت، جذباتیت نظر آرہی ہے؟؟؟
کیا ظالم حکمران کے آگے کھڑے ہونا ان نوجوانوں کی غیرت ایمانی نہیں ہے ؟؟؟
ان کی اس جرات پر کیا ہمارے رہنما و رہبر حوصلہ افزائی کے دو بول نہیں بول سکتے ؟؟؟

یا مظلوم نوجوانوں کی حمایت کرنے، حکومت کی آنکھون مین آنکھین ڈال کر ظالم کو ظالم کہنے پر جیلوں میں ڈال دئے جانے کا خوف ہے ؟؟؟

وجہ جو بھی ہو امت کے نونہالوں کو مرتا چھوڑ سبھی اپنی اپنی گردنین بچانے میں لگے ہیں ۔۔۔۔ ان کے حق میں دو بول بولنا آپ کے لئے مشکل ہوچکا ہے ؟

ممبر و محراب پر کھڑے ہوکر کربلا کی شہادت پر لمبی چوڑی تقریرین کرنے، شہادت کا درس دینے والے رہنما آج اُمت پر ظلم ہوتا دیکھ کر چپ کیوں ہیں ؟؟؟

یہ دہرا معیار کیوں ؟
اُمت کو سمجھ نہیں آرہا آپ کا وہ چہرہ سچا ہے یا یہ چہرہ ؟؟؟

بعض احباب کا کہنا ہے کہ "محبت دلوں میں ہونی چاہیے”۔
بیشک نبی کریم ﷺ سے محبت دل کی گہرائیوں میں ہونی چاہیے،
لیکن اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے محبت کا علانیہ اظہار ایمان کی پہچان ہے۔

محض تسبیح گھمانا اور سجدوں میں گر جانا ہی ایمان نہیں،
بلکہ ظالم کے سامنے کلمۂ حق کہنا، اور دین و ناموسِ رسالت کی خاطر ڈٹ جانا، اصل ایمان ہے۔

ایمانی غیرت اور دینی حمیت کا مظاہرہ کسی موقع یا مصلحت کا محتاج نہیں ہوتا۔
جب ایمان للکارتا ہے، تو مسلمان ہر حال میں حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے، چاہے وقت سازگار ہو یا نہ ہو۔۔۔۔

خیر ان کے علاوہ ایک اور معزز رہنما نے بھی بریلی واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ۔
کیا آپ اپنے گھر کی دیواروں پر آئی لو مئی وائف کے پوسٹرس لگاکر اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کرتے ہیں ؟

اس تبصرے پر معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بیوی اور نبی کریم ﷺ کے مقام و مرتبے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
بیوی سے محبت ایک نجی معاملہ ہے، جس کا اظہار بند کمروں میں ہوتا ہے،
جبکہ نبی ﷺ سے محبت کا اظہار سرِ عام کرنا ایمان کی علامت ہے۔

جیسا کہ حدیث مبارک ہے
"تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُس کے لئے اُس کے والد، اُس کی اولاد، اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔”
(صحیح بخاری)

نبی کریم ﷺ سے صحابہ کی محبت محض زبانی دعویٰ نہیں تھی، بلکہ جب کوئی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا، تو وہ اپنی جان کی پروا کئے بغیر دفاع کرتے۔

ہمارے سامنے کعب بن اشرف، ابو رافع اور لبید بن اعصم جیسے واقعات موجود ہیں،
جہاں صحابۂ کرام نے نبی ﷺ کی حرمت پر آنچ آتے ہی عملی اقدام کیا۔۔۔۔

جو لوگ نبی ﷺ سے محبت کے علانیہ اظہار پر اعتراض کرتے ہیں، وہ یہ جان لیں کہ
یہ اظہارِ محبت ایمان کا تقاضا ہے، نہ کہ کوئی غیر ضروری جذباتیت۔
نبی ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ ہر مسلمان کا دینی و ایمانی فریضہ ہے۔۔۔۔۔

مگر افسوس
مولانا توقیر رضا صاحب کی گرفتاری کے خلاف اگر کسی نے کھُل کر کچھ کہا ہے تو وہ صرف جماعت اسلامی ہند ہے
ان کے علاوہ باقی ساری تنظیمین، جماعتین خاموش تماشائی بن کر بزدلی کا مظاہرہ کررہی ہیں ۔۔۔۔۔۔

مگر یاد رہے نمبر سب کا آئے گا
دشمن کے وار سے بچ بھی گئے تو اللہ کی گرفت سے بچنا ناممکن ہے
بات اللہ اور اللہ کےمحبوب اور عاشقان محبوب کی ہے جو آج اپنے حصہ کی قربانیان دے رہے ہیں

مگر المیہ یہ ہے کہ
جب بھی کوئی مسلمان عالم، قائد، یا نوجوان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے تو ہم میں سب سے پہلے آواز باہر سے نہیں، اندر سے سنائی دیتی ہے۔
یہ آواز دشمن کی نہیں، بلکہ اپنوں کی ہے۔ یہ آواز اتحاد یا حمایت میں نہیں تنقید و مخالفت میں ہوتی ہے

یاد رہے
جب I Love Muhammad ﷺ کہنا جرم بن جائے،
تو جان لیں کہ یہ صرف ایک جملے پر حملہ نہیں، پوری امت کے جذبے پر وار ہے۔
مولانا توقیر رضا کو صرف اس لئے گرفتار کیا گیا کیونکہ انہوں نے عاشقانِ رسول ﷺ کے جذبات کی ترجمانی کی۔
ان پر الزام یہ نہیں کہ انہوں نے نفرت پھیلائی، یا کسی کا قتل کیا
بلکہ ان کا جرم اتنا ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اعلان کیا ۔۔۔۔

کیا اب نبی سے محبت کا اعلان بھی ریاستی اجازت سے مشروط ہوگا؟

یہ احتجاج کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا یہ وہی غیرتِ ایمانی تھی،
جو صحابہ نے بدر میں دکھائی، اور
حسین نے کربلا میں ۔۔۔۔

آج یہی غیرت ایمانی نوجوانوں نے سڑکوں پر دہرا دی۔
یہ مظاہرہ گلیوں میں تھا،
مگر اس کی گونج عرش تک گئی ۔۔۔۔
لیکن افسوس اس گونج سے دشمن سے زیادہ ہمارے چند اپنے خوفزدہ ہوکر نوجوانون پر تنقید کرنے لگے ۔۔۔۔

بس یہ وہی لمحہ ہے، جہاں امت خود اپنی ہی پیٹھ میں خنجر گھونپتی ہے

جبکہ یہ وقت احتساب کا نہیں، اتحاد کا ہے
کیا آپ نے کبھی سنا ہےکہ کسی غیر مسلم قوم نے اپنے گرفتار رہنما کے لئے یہ کہا ہو کہ
پہلے دیکھتے ہیں کہ وہ قصوروار تو نہیں ؟

بالکل نہیں
بلکہ وہ پوری طاقت سے، ایک آواز ہو کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
پتہ ہے کیوں؟
کیونکہ وہ جانتے ہیں جو آج اس کے ساتھ ہو رہا ہے، کل وہ میرے ساتھ بھی ہو گا۔

آخر مسلمان کب اس بات کو سمجھیں گے؟
کب ہم ایک دوسرے کی ڈھال بنیں گے؟

کیا کبھی کسی نے سوچا کہ دشمن کی چال کیا ہے؟
تاریخ اٹھاکر دیکھین تو
یہ وہی پرانی چال ہے جو صلاح الدین ایوبیؒ اور محمد بن قاسم کے زمانے میں تھی۔
پہلے مسلمانوں کو اندر سے توڑو،
پھر ان پر الزامات لگا کر گرفتار کرو،
پھر اپنوں میں ہی سے ان کے خلاف گواہ بنواؤ، اور آخرکار انہیں تنہا چھوڑ دو جیلوں میں سالوں سال سڑھنے کے لئے۔

تاریخ گواہ ہے
صلاح الدین ایوبیؒ جب بیت المقدس کی آزادی کے لیے کھڑے ہوئے، تو دشمن صرف صلیبی نہیں تھے
بلکہ ان کے اپنے بھی سازشوں میں شریک تھے۔

محمد بن قاسم نے جب سندھ فتح کیا، تو دشمن سے زیادہ خطرہ اپنوں کی غداری تھی۔
نتیجہ کیا ہوا ؟
امیر کی اطاعت پر جب وہ واپس آئے، تو بنو امیہ کی سیاست نے سترہ سالہ ہیرو کو قید کر بےرحمی سے قتل کر دیا۔۔۔۔

اور آج ہم بھی کسی کو ہیرو قائد ماننے سے پہلے، ان کی خامیاں گننے میں مصروف ہیں
آج بھی وہی منظر ہے، بس کردار بدلے ہیں ۔۔۔

مولانا کلیم صدیقی جو ہزاروں لوگوں کو اسلام کی روشنی میں لائے، انہیں زبردستی تبدیلی مذہب کے نام پر قید کر دیا گیا ۔۔۔۔
عمر خالد ، آئینی دائرے میں بات کرنے والا نوجوان جسے فسادات کا ماسٹر مائنڈ قرار دے دیا گیا ۔۔۔۔
شرجیل امام، جس نے صرف تقریر کی اسے UAPA جیسے سخت قوانین میں بند کر دیا گیا۔۔۔۔

اب مولانا توقیر رضا جو I Love Muhammad ﷺ پر امت کو متحد کر رہے تھے،
انہیں بھی جیل میں ڈال دیا گیا اور
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ
ان کی رہائی کے لیے سب سے کم آواز، مسلم لیڈروں کی ہے۔۔۔۔۔۔۔

سمجھ نہیں آتا
کب تک ہم "خاموش غدار” بنے رہیں گے؟
کب تک ہمارے رہنما و قائدین یہ کہتے رہیں گے کہ ابھی وقت نہیں ہے
خاموشی میں حکمت ہے…
کوئی یہ نہیں کہتا کہ اسی خاموشی کا دوسرا رُخ بزدلی و منافقت بھی ہے ۔۔۔۔۔
بس یہی جھوٹے دلاسے کہ ہمیں سب سے پہلے قوم کو امن کا پیغام دینا ہے فلاں فلاں..
جبکہ امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ انصاف نہ ہو، ظلم برداشت کرنا امن نہیں، غلامی ہے۔

اگر ہر بار ہمارے ملی و سیاسی رہنما خاموش ہو گئے تو اُمت کے نوجوان ہمیشہ شکار بنتے رہیں گے ۔
امت کا اولین فرض تو یہ ہے کہ وہ ہر بےقسور کی گرفتاری، ہر الزام پر ایک مضبوط دیوار بن جائے

دشمن کا مقصد صرف جیل بھرنا نہیں، بلکہ مسلمانوں کے حوصلے توڑنا ہے۔
جب مولانا توقیر رضا صاحب کو پکڑا جاتا ہے، اور ہم کہتے ہیں
شاید انہوں نے ریلی کا وقت غلط چنا۔ تو دشمن دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر مسکراتا ہے

جب ہم عمر خالد کے بارے میں کہتے ہیں
وہ ذرا سخت بولتا تھا
تو جیل میں اس کی قید دشمن کی سازش سے نہیں بلکہ ہماری بزدلی و جملوں سے لمبی ہو جاتی ہے۔

یاد کریں
جب امام حسینؓ تنہا رہ گئے تھے، تو دشمن یزید نہیں جیتا، بلکہ خاموشی ہار گئی تھی۔
اُن پر بھی مسلمانوں نے اسی قسم کے الزامات لگائے، اور سارے خاموش تماشبین بنے رہے ۔۔۔۔

جب اندلس جلا، تو پہلے قلعے اندر سے ٹوٹے۔۔۔
جب بغداد گرا، تو تاتاری گھوڑے بعد میں آئے، پہلے مسلمانوں کی زبانیں خاموش کی گئیں۔
آج پھر وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے ۔۔۔۔

اگر آپ کچھ کہہ نہیں سکتے، تو خاموش بھی نہ رہیں۔
ظلم پر آپ کی خاموشی بھی ظلم کی ساتھی حمایتی بن جائے گی
اگر آپ کے دل میں ایمانی غیرت زندہ ہے، تو ظالم کے خلاف بولئے
اگر آپ زبان سے نہیں بول سکتے،
تو قلم سے لکھیں۔
اگر قلم سے نہیں لکھ سکتے،
تو کم از کم دل سے مظلومین کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
بالکل کچھ نہیں کرسکتے تو جو کررہے ہیں اُن کا ساتھ دین ان کی حوصلہ افزائی کریں
اگر یہ بھی ممکن نہیں تو خدارا ان کے خلاف ، ان کی مخالفت میں بےتکے بیانات دے کر اپنوں کو گنہگار ثابت کرکے، دشمن کو طاقتور نہ بنائیں ۔۔۔۔

کل جب تاریخ لکھی جائے گی، تو یہ بھی لکھا جائے گا
جب مسلمانوں کو ایک ایک کر کے قید کیا جارہا تھا تو کچھ لوگ ان کے حق میں آواز اٹھانے کے بجائے ان کی خامیاں گن رہے تھے۔
اپنی ذات کو حسینی لشکر کا ساتھی بنانے کے بجائے خود کو کوفیوں کا ساتھی ثابت کررہے تھے۔۔۔۔

فیصلہ صرف آپ کا ہے
آپ خاموشی کا مجسمہ بننا چاہتے ہیں؟ یا امت کی آواز؟
آپ سازش کے تماشائی بننا چاہتے ہیں؟ یا حسین کے سپاہی؟

آج اُمت پوچھتی ہے
جب توقیر رضا گرفتار ہوئے، آپ کی زبان کیوں بند تھی ؟

جب I Love Muhammad ﷺ کہنے والوں پر UAPA لگا، تو آپ کا ضمیر کہاں تھا؟
کیا آپ صرف تقریروں، شہرت، اور سیاست کے لیے مسلمان ہیں یا سچ میں امت کا درد رکھتے ہیں؟

آپ کی خاموشی ہمیں چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ آپ کی کرسی زیادہ قیمتی ہے، امت کا غیرت مند جوان نہیں۔
یہ کیسا المیہ ہے کہ دشمنانِ اسلام تو پلاننگ میں ایک،
عمل میں ایک، اور اعلان میں بھی ایک ہیں
لیکن ہم ! جو نبی کی امت ہیں، ہم پہلے اپنے بھائی کی خطا ڈھونڈتے ہیں، پھر اس پر فتوے، پھر اس پر تنقید، پھر دشمن کو سامنے سے موقعہ دیتے ہیں

امت اپنے رہنماؤں سے جاننا چاہتی ہے
آپ نے مظلوم مسلمانوں کے خاطر کتنے بیانات دیے؟
کتنی پریس کانفرنسز کی؟
کتنے احتجاج کی کال دی؟
کتنے نوجوانوں کے اہلِ خانہ سے جا کر تسلی دی ؟
یا کم از کم، کتنی بار آپ نے کہا
میں ان کے ساتھ ہوں، کیونکہ وہ نبی ﷺ کی محبت میں کھڑا ہے ۔۔۔
اگر آپ کے دل میں یہ جذبہ نہیں،
تو آپ رہنما نہیں، صرف تماشائی ہیں
امت کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو صرف تقریر نہ کریں، بلکہ وقتِ مصیبت میں ڈھال بن کر کھڑے ہوں۔۔۔۔

اُمت سے چندہ لے کر اُمت کو قسطون مین امداد بانٹ دینے سے کوئی رہنما یا قائد نہیں بن جاتا
جو ہر حال میں امت کی ڈھال بن جائے وہی قائد ہے ۔۔۔۔

ابھی بھی وقت ہے
غلطیوں پر بحث بعد میں بھی ہوسکتی ہے
پہلے اپنوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔
کیونکہ یہ وقت عدالتیں لگانے کا نہیں، امت سے فاداری کا ہے ۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button