
4مئی 1960شہر بھٹکل کا پہلا منور تر, روشن دن
ڈاکٹر محمد فاروق،شاہ بندری المعروف نقاش نائطی/ ابن بھٹکلی
00919448000010
*4 مئی 1960 یہ وہ دن تھا جب تمدنی ترقی یافتہ بجلی کے قمقوں پر مشتمل انسانی تاریخ میں, سرزمین بھٹکل چمک دمک اٹھا تھا۔اہل بھٹکل کے لئے, ہر گھر میں موجود دیواروں کے اندر بنائے گئے خانوں میں، جلتے دیوں سے یا چھت سے لٹکی بند لالٹین سے روشن راتوں میں، کچھ آدھ بچے کام نپٹائے جاتے تھے۔ ورنہ شہر بھٹکل تو شہر مدینہ کی طرح, اسلامی اداب، شب و روز چلنے والے ماحول کا عادی، گوشہ بھارت تھا۔ دن بھر کی محنت مشقت، دھماکا چوکڑی, عیش و عشرت والے لمحات بعد، ماقبل غروب آفتاب, شام کے کھانے سے فارغ، گھر کے جملہ مرد و نساء بچوں کے، جہری ذکر و اذکار،شور و غوغا کرتے, استغفار پڑھتے روح پرور منظر, اور پھر،آذان مغرب بعد، باجماعت نماز پڑھے,گھر واپس آئے،گھر کے مرد حضرات، چائے پئیے یا حقہ کی گڑگڑاہٹ میں، گھر کے اپنے کام سمیٹتی نساء سے، ہنسی مذاق گفت و شنید کرتے، قبل العشاء والا یہ وقت، کیسے کٹ جاتا تھا،کسی کو اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا، مرد آہن کے مسجدوں سے بعد العشاء لوٹتے وقت تک، گھر کے ابتدائی صحن "وسرو” میں اوپری منزل جانے کے لئے بنی سیڑھی کے نیچے "ایندلو” نما خواب غفلت سونے لائق پلنگ بنایا جاتا تھا اور اس "وسرو” نما ھال میں، گھر آنے والے مہمانوں کے لئے،کرسیاں یا لمبی میز جسے "مروٹ” کہا جاتا ہے عموما” ہر گھر کے تزئین کا حصہ ہوتے تھے۔ بعض گھروں میں، اسی "وسرو” سے باہر، سر راہ نکلنے والی "ڈیونی” اور سڑک سے تھوڑے اوپر اٹھے، تعمیر گھروں کی دیوڑھی پر چڑھنے، لٹکتے، گانٹھ دار خوبصورت رسی، جسے مقامی زبان میں”دھمسو” کہا جاتا تھا،ایک طرف ڈیوڑھی تو دوسری طرف ایک کمرہ نما، جالی دار لکڑی کی ہمہ وقت بند و کھولی جانے لائق، کھڑکی میں پھنسا، ایک پلنگ”ایندلو” بھی ہوا کرتا تھا جس کے نیچے بھی، دن کے اوقات گھر آنے والے مہمانوں کی نظروں سے، اوجھل رکھی جانے والی بہت ساری غیر متعلقہ اشیاء رکھی جاتی تھیں، جہاں پر بیٹھ گھر کی بزرگ نساء، خودکو سر راہ چلنے والوں کی نظروں سے محفوظ تر رکھے، راہ گیروں و در درگھوم سودا سلف بیچنے والوں،والیوں پر نظر رکھاکرتی تھیں۔ ہر گھر کےداخلی دروازے پر، ایک لکڑی کی پٹیوں سے مزین "ٹٹی” یا "چلمن” آویزاں رہتی تھیں،جس کی اوٹ سے، گھر کی نساء خود پردے کے پیچھے سے، حسب ضرورت باہر والوں سے رابطے میں رہتی تھیں*
*مرد آہن کی اولاد،مرد بچوں کوتو، "وسرو” میں، اور گھر کے، بزرگ کے، جھولا جھولتے، محو خواب ہونے والے دوسرے کمرے "مزگھر” میں نساء بچیوں کو چٹائیاں بچھائے، سلائے جانے کا انتظام ہوجاتا تھا۔ "مزگھر” کے بعد والے کمرے میں، دونوں طرف نئے شادی شدہ جوڑوں کے لئے خصوصی بنائی گئی ایک یا دو "واخوری”، حجرہ یا ارام گاہ یا بیڈ روم میں، تین دیواروں کے درمیان بنائے گئے پلنگ کے نیچے، گھر کے جز وقتی استعمال قیمتی سامان قرینے سے رکھے رہتے تھے،ان دو حجروں کے درمیان بنے راہ گزر "ڈومپو” سے، اسکے بعد والے کمرے "سؤخی” مہمانوں کے لئے، غرفہ طعام یا ڈائینگ روم، اس کے بعد والا کمرہ "کوڑ” یا باورچی خانہ، جس میں گھر کے سب مکینوں کے لئے، نہ صرف کھانا پکتا تھا بالکہ گھرکےمکینوں کے،ڈائیننگ روم کا بھی کام لیاجاتا تھا۔
عموما” ہر گھر کےاس”کوڑ” نما باورچی خانے میں بھی، ایک طرف پلنگ یا لمبی میز "مروٹ” ضرور ہوتے تھے، جس پر گھر کے بڑے بزرگ، صدا براجمان رہے،ہم کلامی کیا کرتے تھے۔گھر کے آخرصحن یا برآمدے سے پہلے "نھاننی” غسل خانہ اور پھرایک "گھوٹو” باہری کام گھر بھی ہواکرتے تھے۔ کوڑ یا باورچی خانے کے بعد، "نھاننی” سےپہلے ایک چھوٹا ساکمرہ، تین طرفہ دیواروں پر، قرینے سے لکڑی کے "رفوف” یا "ریفے” بنائے،”غرفہ تخزین” اسٹاک روم ہوتا تھا۔ ہر گھر کے درمیانی حصہ "کوڑ” مہمان خانہ میں، ہاتھ منھ دھونے یا وضو کرنے کا مناسب انتظام رہتا تھا، جسکا زیر استعمال پانی اسکے بعد والے حصہ گھر "سؤخی” "نھاننی” غسل خانہ یا "گھوٹو” کےنیچے سے، زیر زمین باہر برآمدے تک چلا جاتا تھا۔ عموما”، "غرفہ تخزین” یا گھر کے کسی خالی کونے یا حصہ کو وقتی پردہ دار کمرہ میں تبدیل کئے, بنائے گئے خصوصی غرف "لاؤنے” میں، ان ایام شفاخانوں یا، ہاسپیٹل ماورائیت والے زمانے میں، اسی کمرہ لاؤنے یا غرفہ تخزین کو، گھر کی نساء "تؤلیدی غرف” ڈلیوری روم میں تبدیل کئے جاتے، گھر خاندان کی معتبر و معمر دائمی آماں کی سرپرستی میں، نئی نسل محمدیہ ﷺ کا استقبال کیا جاتا تھا۔ گھر کے کسی دروازے پر یا خصوصی ایسے تولیدی کمرے کے دروازے پر، بنائے جانے والے رف یا ریفو "تالیسو”، پر جڑی بوٹی ادویات شیشیاں رکھی جاتی تھیں*
*عموما” اہل بھٹکل اہل نائطہ کے رہائشی گھر فن تعمیر غالبا” انکے آبائی آل عرب وطن یمن، عدن، یا حضرموت کےفن تعمیر سے مماثلت رکھتے،سر راہ سے ایک طرف سےتین دیواروں پر دو گھر،چار دیواروں پر تین گھر، اسی تسلسل سے گلی کے ایک نکڑ سے دوسرے نکڑ تک متواتر قطار درقطار رہائشی گھر تعمیر کئے جاتے تھے، جو سر راہ تعمیر گھروں کے پیچھے والی سڑک تک طویل تر، مگر چوڑائی میں تنگ، یک منزلہ یا دومنزلہ گھروں کا تسلسل ہوتا تھا جس کی چھتیں لکڑی سے بنے فریم پر, چکنی مٹی سے بنائے خصوصی کھپریل سے ڈھکے جاتےتھے،جو برساتی پانی کےساتھ گرمی کے ایام والی، شمسی تپش سے، گھر کے مکینوں کو محفوظ تر رکھتی تھیں۔ گھروں کی فن تعمیر ایسی نرالی ہوتی تھیں،کہ گھر کے انتہائی آخری سرے پر بنائے گئے بیت الخلاء میں، حاجت روائی کے لئے بیٹھے صاحب خانہ کے لئے، انکے سامنے دیوار پر بنےخانے سے،گھر کی مختلف کھڑکیوں، دروازوں سے، ہوتے ہوتے، گھر کے داخلی دروازے پر لٹکلی چلمن یا "ٹٹی” انہیں صاف نظر آتے, گھر میں داخل ہونے والے, ہر کسی پرنظر رکھی جاتی تھیں۔گھر کےصدر دروازہ کے ساتھ بنی دو کھڑکیاں ہوں یا گھر کے پچھواڑےوالی دیوار پر بنائی گئی دو گھڑکیاں، یا تو مشرق یا مغرب کیطرف کھلی رہتے، ساحل سمندر سے چلنے والے باد نسیم کے جھونکوں کو، ہمہ وقت گھر کے اندر، در کر لاتے، گھر کے مکینوں کو صدا فرحت بخش تازہ تر ہوا کے جھونکوں سے محظوظ کراتی رہتی تھیں*
*آل بھٹکل آل عرب کے سابقہ پچاس سال پرانے رہائشی گھروں کی بناوٹ مماثلت چنئی کلیکیرے، گجرات احمد آباد، کھمبات، گھوگا ساحل سمندر کے علاقوں کے، ان ایام والے گھروں سے، اور یمن عدن حضر موت کےپرانے رہائشی گھر، محلوں کی تعمیری مماثلت، یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ کہیں نہ کہیں 615 عیسوی کے آس پاس گجرات کھمبات گھوگا، آکر بسے آل عرب قبائل اور 625 عیسوی کے آس پاس کلیکیرے چنئی ساحل سمندر آبسے اور انہی ایام کرناٹک بھٹکل آبسے، اہل عرب قبائل کا کوئی نہ کوئی تعلق خاص رہا ہے۔ بھٹکل کون تاریخ سے ہمارے جد امجد آبسے تھے، اسکے کوئی تاریخی شواہد تونہیں ہیں لیکن، کسی بھی علاقے غیر میں، اپنے مذہبی عقیدے والا عبادت خانہ یا مسجد تعمیر کئے جانے سے، کافی پہلے سے،اچھی تعداد میں اس مکتبہ فکر کے لوگ، آکر وہاں بسے ہونگے، گجرات کھمبات گھوگا ساحل سمندر پر ان ایام620 عیسوی کے آس پاس قبلہ اولی کی طرف رخ کئے تعمیر "گھوگا جونی”مسجد (جو ان ایام موجود پرانی مسجد، مدنی زندگی میں قبلتين مسجد مدینہ منورہ، نماز پڑھتے وقت حالت نماز، قبلہ اول بیت المقدس سے تبدیل کئے جاتے، حرم مکی مسجد حرام کعبہ اللہ کی طرف رخ کئے نماز پڑھنے کے حکم خداوندی بعد، مسجدکچھ بڑی بنانے کے چکر میں، پرانی مسجد اسی طرح متروک چھوڑے جانے کی وجہ سے) اور 629 عیسوی کے آس پاس چنئی ساحل سمندر کلیکیرے پللیہ جمعہ مسجد اور ان تینوں علاقوں کے مسلم مکین کے گھر تعمیر بناوت مماثلت، یہ ثابت کرنے لئےکافی ہوتی ہے کہ کرناٹک ساحل سمندر بھٹکل میں، انہی ایام ماقبل رسالت محمد مصطفی ﷺ، کفار و مشرک آل عرب اپنے تجارتی غرض سے آباد تھے اور عرب وادی میں نبی آخر الزماں ﷺ کا ظہورجب ہوا تو، وہاں سے یہاں آنے والےعرب تجار قافلوں کی زبانی معلوم ہونے پر،یہاں ساکن عرب مشرکین نے بھی حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہوئے، مسلمان بنے، اپنی پرستش بندگی کے لئے مساجد قائم کی ہوں! لیکن زمانے کے ساتھ وہی مسجد تعمیر نؤ ہوتے ہوتے، سابقہ ریکارڈمحفوظ رکھنا انہوں نے ضروری نہ سمجھا ہو۔انگریزوں کے زمام حکومت میں کیرالہ میں مقیم، بھٹکل والوں کے جیسے آل عرب ماپلاس قوم کےساتھ انگریزوں سے جھڑپ دوران، ماپلاس کی تائید میں بھٹکلی آل نائطہ کی انگرئزوں کے ساتھ جھڑپ میں، مسلم شہدا کی نامعلوم تعداد کے مقابلے، مارے گئے انگرئز افواج کی قبریں، آج بھی شہر بھٹکل ڈونگر پللی میں موجود ہیں۔*

*آل بھٹکل دیڑھ ہزار سال قبل ہی سے اپنے خانگی تجارتی تنازعات مقامی حکومتی عدالتوں کے بجائے، اپنے درمیان قائم جماعت المسلمین کے ماتحت، محکمہ شرعیہ میں حل کرتے آئے ہیں، ہزار سال ایسے ہی محکمہ شرعیہ حل ہوئے قضیہ فیصلے کی تحریر عربی رسم الخط اپنی نائطی زبان میں، محکمہ شرعیہ کے پاس موجود ہیں، جسے دیکھ مسلم پرسنل لاء ذمہ داروں نے بھٹکل جماعت المسلمین ادارے کو ھندو و پاک بنگلہ دیش مشترکہ ھند کی اولین جماعت المسلمین ادارہ تسلیم کیا تھا۔*
*آج کسی دوست کی طرف سے ہمیں ارسال کردہ اس وقت کے آل نائطہ سیاسی قیادت اس وقت صوبہ کرناٹک کے معاون وزیر مالیات، جے ھیچ شمس الدین علیہ الرحمہ کے اثر رسوخ سے شہر بھٹکل کو موجودہ بجلی سے پہلی بار منور کرتی "سویچ آن” تقریب 4 مئی 1960 کے دعوت نامہ کی نقل ملنے نے، انگرئزوں کے زمانے سے بھی بہت پہلے، دیڑھ ہزار سال قبل،بھٹکل آمد پر، رہایشی محلے منظم انداز قائم کرتے۔ ابھی ہماری ہیدائش کے دو ایک سال کے اندر، بعدالمغرب تاریک تر، غیر عمل پزیر ہوتی دنیا میں بھی، اپنے اباء واجداد کے ترقیاتی منصوبوں پر ایک نظر دوڑاتے، نئی نسل جدید کو، ان کے ترقی پزیری کی دید کرانے کے خیال نے، ہمیں ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پر مجبور کیا یے۔ مرحوم جے ھیچ شمس الدین کی بنا مذہب و ملت تفریق، عوامی خدمات کے ایک واقعہ کو شباب قوم جدید، آل نائطہ کے گوش گزار کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ 4 مئی 1960 کو بجلی قمقوں سے جگمانے سے بھٹکل ساکن ھندو مسلم سبھی خوش تھے۔ لیکن بھٹکل کے سب محلوں بازاروں میں کھمبوں پر کھینچی گئی بجلی تار نے، بھٹکل بجلی آمد سےگیارہ مہینے بعد وسط اپریل بیسیوں سال سے، ھندوؤں کےمذہبی”چنا پٹنہ سری ہنومنتھا رتھ اوتسوا”، یا رتھ یاترا /جاترا جو عموما” 30 فٹ اونچا اور اس کے چبوترے کی چوڑائی 15 فٹ، نیز اس کا وزن کم و بیش 500 ٹن ہوتا ہے۔ جبکہ سڑک کے اس پار سے اس پار دوڑتی بجلی لائین پندرہ فٹ اونچائی پر کھینچی ہوتی ہیں.ایسے میں انکا مذہبی چنا پٹنہ سری ہنومنتھا رتھ سڑکوں سے کیسے گرازا جائے،یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ھندو بھائیوں کے سامنے تھا۔ مقامی مسلم ایم ایل اے کو نظر انداز کئے، انہوں نے ان ایام ریاستی و مرکزی سیاسی گلیاروں میں، اپنی پہنچ کے پیش نظر، کئی دوسرے ایم ایل اے و ایم پی سےملاقاتیں کئے، بنگلور تا دہلی تک تمام کوششیں کیں، جو بے سود رہیں۔ رتھ یاترا سے کچھ دن پہلے، جب برادران وطن کا ایک وفد غالبا” اس وقت کے مشہور تاجر،رام نتھا میڈیکل اسٹور کے مالک کی سربراہی میں، اس وقت کے مقامی ایم ایل اے، جے ھیچ شمس الدین سے مل کر، بیسیوں سال سے کھیچے چلے آرہے، اپنے ہنومنتھا رتھ اوتسوا کو بجلی کھمبے تاروں سے درپیش مشکلات کا تذکرہ کیا تو، جے ھیچ شمس الدین علیہ الرحمہ نے، علاقے کے بجلی انجینیر کو بلواکر، رتھ یاتراکھینچے جاتے وقت،ایک دوضرورت والے راستوں پر بجلی لائیں منقطع کئے، وقتی بجلی تار ہٹوانے کا آرڈ، بحیثیت صوبائی وزیر دیتے ہوئے، کئی مہینوں سے الجھے بردران وطن کے مسئلہ کو یوں چٹکیوں میں حل کیا تھا۔اللہ انکو ان عوامی خدمات کے طفیل جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے*
*بیسویں صدی کے درمیانی حصہ میں آل نائطہ بھٹکل و اطراف بھٹکل کی سیاسی قیادت کرنے والی شخصیت المحترم مرحوم جے ھیچ شمس الدین علیی الرحمہ کو، خالق و مالک دوجہاں انکی اپنی قبر و عالم برزخ میں جنت کے باد نسیم کےٹھنڈ جھونکوں میں ضیاء وقت کرتے، بعد المحشر جنت کے اعلی درجوں کا اہل بنائے۔ آج 3 اور 4 نومبر 2026 کی شب,امریکی انتخاب میں جہاں انہی بزرگ متوفی سیاسی قیادت کے بیٹےامریکی جنسیہ ڈاکٹر طیب کے داماد مصر نزاد ڈاکٹر عبدل آلسید، ڈیمو کریٹ امیدوار کی حیثیت انتخاب لڑے، امریکی سیاست میں، دوسرے ظہران ممدانی کی حیثیت ابھرے،امریکی عوام کو، فری شفایابی سہولیات، سستی رہائش، صاف ہوا پانی، عوامی تعلیم، سیاست سے پیسہ کمانے، اور ترقی پسند معاشی پالیسیوں پر زور دیتے ہوئے،اپنے ھند نزاد دادا سسر کے نقش قدم پر امریکی عوام کو سہولیات بہم پنچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ عبد السید کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے، امریکی سیاست میں تقویت پکڑنے والےایک اور ظہران ممدانی،عبدل السید سے، امریکی سیاست ماورا رکھنے ہی کے لئے، اس انتخابی ریس نے، قومی توجہ مبذول کرائی ہے اور اس پر شدید مسلم مخالف بیان بازی کی گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اور ریپبلکن مخالف مائیک راجرز جیسے عالمی قدآور شخصیات نے، بارہا "عبدل السید کےعقیدے کو نشانہ بناتے ہوئے، اس پر یا اس کے خاندان پر اخوان المسلمون سے تعلقات، شریعت کی حمایت، یا "جہادی” کے طور پر کام کرنے کا جھوٹا الزام بھی لگایایے”۔ عبدل السید نے, صاحب اقتدار ٹولے کے حملوں کے خلاف بولتے ہوئے، صاف گوئی سے کہا ہے کہ”ان کا مذہبی عقیدہ انکا ذاتی معاملہ ہے اور ان کے مخالفین اسلام و فوبیا کا استعمال کرتے ہوئے، عوامی صحت دیکھ بھال اور زندگی کے اخراجات جیسے بنیادی معاشی خدشات سے ووٹروں کی توجہ ہٹا ریے ہیں” مشیگن کے اس انتخاب میں عبدل السید سے پہلا انتخابی راؤنڈ ہارنے والی یہودی نزاد امریکن ھیلی اسٹیون نے، اپنی ہی پارٹی ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کے خلاف، ریپبلکن پارٹی امیدوار مائک روجر کے حق میں ووٹ دینے کی عوام سے التجا کرتے ہوئے، اس سیکیولر انتخاب کو اسلام و فیوبیا کا رنگ دئیے،اس انتخابی دنگل کو عبدل السید کے لئے، مشکل تر ضرور بنادیا ہے لیکن ہمیں قوی امید ہے مشیگن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبد السید، اچھی مارجن سے اپنی جیت درج کراتے ہوئے، امریکی عوام کی خدمت کرتے کرتے، اپنے دادا سسر، ھند نزاد جے ھیچ شمس الدین علیہ الرحمہ کا نام بھی روشن کرینگے۔انشاءاللہ۔*
*1960 نئی آمدہ بجلی سے بھٹکل کومنور کرتے،مرحوم جے ھیچ شمس الدین علیہ الرحمہ کے، 66 سال قبل والے، بجلی سویچ آن پروگرام کے دعوت نامے نے، ہمیں، ماقبل بجلی والے بھٹکل ترقی پزیری اور قائد سیاست سابق جے ھیچ شمس الدین علیہ الرحمہ کی عوامی خدمات کو یاد کرتے، انکے پڑپوتے داماد بھٹکلی مصری نزادامریکن ڈاکٹر عبدل السید سے قوم اہل نائطہ تعارف کرانے کا موقع ہمیں نصیب ہوا یے. اللہ کرے امریکی انتخاب مشیگن سےانتخاب لڑے امریکی کانگریس میں پہنچنے والے ، سابق کرناٹکا وزیر مالیات مرحوم جے ھیچ شمس الدین علیہ الرحمہ کے نقش قدم پر، انکے پڑ پوتے داماد مصری نزاد امریکی عبد السید کو بنا تفریق مذہب و ملت انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے اور ان سے دین اسلام کی خاموش خدمات لے۔ وما التوفیق الا باللہ*




