
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے!
کوویمپو یونیورسٹی میں ایم اے اردو پر لگی بندش۔۔۔ ذمہ دار کون ؟؟؟ دشمن یا اردو کے نام پر پلنے والے جراثیم ؟؟؟
احساس نایاب شیموگہ۔۔۔
کوویمپو یونیورسٹی میں ایم اے اردو کا شعبہ بند ہونے کے کگار پر ہے، بات افسوس کی ہے کہ اردو شعبہ بند ہورہا ہے۔ مگر اس سے کہیں زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس خبر پر اردو کے نام لیوا، اردو علمبرداروں کی خاموشی نہیں ٹوٹی۔ نہ کوئی احتجاج، نہ کوئی اجتماعی آواز، نہ کوئی تحریک، نہ کوئی فکری اضطراب۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی زبان کا نہیں بلکہ کسی بے جان عمارت کا دروازہ بند ہورہا ہو ۔۔۔۔
ایسے میں سوال پوچھنا واجب ہے
اگر آج بھی اہلِ اردو خاموش ہیں تو پھر وہ کب بولیں گے ؟؟؟
یہاں غالب نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔۔
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر ناقابلِ انکار ہے کہ آج اردو کو اس کے دشمنوں سے زیادہ نقصان اس کے اپنے دعوے داروں نے پہنچایا ہے۔ اردو کے نام پر ادارے قائم ہیں، انجمنیں قائم ہیں، تنظیمیں قائم ہیں، سیمینار، کانفرنسیں، مشاعرے اور اعزازات کی تقریبات بھی جاری ہیں، مگر یہ سب کچھ اردو کی خدمت کے لیے کم اور ذاتی تشہیر، تعلقات، مفادات اور کاروبار کے لیے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔ اردو کے نام پر ایسا بازار سجا دیا گیا ہے جہاں قابلیت کی نہیں بلکہ سفارش، خوشامد، تعلقات اور گروہ بندی کی قیمت لگتی ہے۔۔۔۔ ایسے میں یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ
تعلقات کے سہارے جو مسندوں پہ براجمان ہیں،
وہی اردو کے قاتل بھی ہیں، وہی نگہبان ہیں
آج حالت یہ ہے کہ جو شخص ایک معیاری مضمون بھی نہیں لکھ سکتا، وہ چند خوشامدی ہمنواؤں، چند تصویروں اور چند سفارشی تعلقات کے سہارے راتوں رات "صاحبِ کتاب” بن جاتا ہے۔۔۔
اور جو لوگ برسوں سے خاموشی کے ساتھ تحقیق اور ادب کی خدمت کر رہے ہیں، وہ نظرانداز کر دیے جاتے ہیں، جبکہ دوسروں کی تحریریں چرا کر، خیالات چرا کر اور دوسروں کی محنت کو اپنا نام دے کر لوگ اعزازات وصول کرتے پھر رہے ہیں۔ ادب کی کھلے عام چوری ہو رہی ہے، حق دار کا حق مارا جا رہا ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ چور ہی سب سے زیادہ عزت اور داد سمیٹ رہا ہے، اس سے بڑی بدقسمتی ادب کی اور کیا ہوگی ؟؟؟؟ کہ
حرم اردو کے سجدہ نشیں بھی کیا کیا نکلے
زبان بیچتے رہے اور خود پاسباں نکلے۔
اردو کی انجمنیں اور تنظیمیں بھی اب خدمت کے مراکز کم اور ذاتی حلقوں کے کلب زیادہ محسوس ہوتی ہیں، ہر جگہ وہی چہرے، وہی تعریفیں، وہی اعزازات، وہی تصاویر اور وہی خود ستائی۔۔۔۔۔ اگر کہیں میرٹ، دیانت اور حقیقی ادبی خدمت کا سوال اٹھ جائے تو خاموشی چھا جاتی ہے، ماتھے پر بل اور لہجے بدل جاتے ہیں۔۔۔۔ اختلافِ رائے برداشت نہیں، مگر چاپلوسی کو ادب کا معیار بنا دیا گیا ہے۔۔۔۔
اساتذہ کا کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں رہا، تدریس ایک مقدس ذمہ داری تھی، مگر افسوس اسے صرف ملازمت بنا دیا گیا ہے، تعلیمی اداروں کی حیثیت اب محض اے ٹی ایم مشین بن کر رہ چکی ہے۔۔۔۔ بس ہر ماہ ایک موٹی رقم مل جاتی ہے باقی اردو، اردو طلبہ اور ان کا مستقبل جائے بھاڑ میں ۔۔۔۔ ایسے ایمان فروشوں کے لئے ہم بس اتنا کہیں گے۔۔۔۔۔
اردو کے نام پہ رزق بھی، اعزاز بھی، شہرت بھی ملی،
مگر افسوس!
قرضِ اردو چکانے کی باری آئی تو سب احسان فراموش نکلے۔
کاش! اگر اساتذہ واقعی اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کر رہے ہوتے، اگر وہ طلبہ میں اردو کا شوق پیدا کر رہے ہوتے، اگر وہ زبان کے مستقبل کے لیے فکر مند ہوتے، تو آج کوویمپو یونیورسٹی میں ایم اے اردو کا شعبہ بند ہونے کی نوبت شاید نہ آتی۔۔۔۔۔
مگر افسوس آج بہت سے لوگ اردو کی خدمت سے زیادہ، اردو کے نام پر تنخواہ وصول کرنے، تقریروں میں اردو کی عظمت بیان کرنے، تصویروں اور مصنوعی ذہانت کے بل بوتے پر حاصل کی گئی تصنیفی شہرت میں مگن ہیں۔۔۔۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اردو کے نام پر آج سب کچھ ہو رہا ہے، سوائے اردو کی خدمت کے، محفلیں سج رہی ہیں، مشاعرے ہورہے ہیں، کتابوں کی رونمائیاں ہو رہی ہیں، اعزازات تقسیم ہو رہے ہیں، اخبارات میں تصویریں چھپ رہی ہیں، مگر زبان مسلسل سکڑ رہی ہے، شعبے بند ہو رہے ہیں، طلبہ کم ہوتے جا رہے ہیں اور نئی نسل اردو سے دور ہوتی جا رہی ہے، کسی کے چہرے پر تشویش نہیں، کیونکہ سب کو اپنی اپنی کرسی، اپنی شہرت اور اپنے مفادات عزیز ہیں۔۔۔۔۔
جن کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو اخلاق، کردار، تہذیب اور اردو ادب کی عظمت کا درس دیا جانا چاہیے تھا، آج وہاں بعض اوقات اساتذہ اور لیکچررز کی علمی خدمات سے زیادہ ان کے ذاتی تعلقات، گروہ بندیوں اور تنازعات کے اوراق کھلتے نظر آتے ہیں۔۔۔
جہاں کی فضا میں میر کی سادگی، غالب کی فکر اور اقبال کی خودی کی بازگشت سنائی دینی چاہئے، جہاں اردو ادب کی شیرینی گھُلنی چاہئیے تھی، وہاں کے در و دیوار سے سازشوں، رقابتوں اور رسہ کشیوں کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔۔۔۔ جہاں تحقیق اور فکر کے چراغ روشن ہونے چاہئیں، وہاں انا، مفاد اور باہمی کھینچا تانی کے الاؤ دہکتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔
افسوس یہ ہے کہ اردو کے نام پر محفلیں تو آباد ہیں، مگر اردو کے مسائل ویران پڑے ہیں۔ تصویریں بہت ہیں، کارکردگی کم ہے، دعوے بہت ہیں، نتائج کم ہیں۔۔۔۔ میر، غالب اور اقبال کے ناموں پر سیمینار تو منعقد ہوتے ہیں، مگر ان کے پیغام، فکر اور ادبی دیانت کو فراموش کردیا جاتا ہے ۔۔۔
ایسے ماحول میں اگر کوویمپو یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو یہ کسی ایک شعبے کی بندش نہیں، بلکہ اہلِ اردو کی اجتماعی ناکامی، مفاد پرستی اور بےحسی کا باقاعدہ سرکاری اعلان ہے۔ یہ فیصلہ دراصل اردو کے نام پر سجی محفلوں، بانٹے گئے اعزازات اور بلند بانگ دعوؤں کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ ہے جس کی گونج بہت دور تک سنائی دے گی۔۔۔۔۔
یاد رہے!
جب محافظ اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوجائیں تو پھر زبانوں کو دشمنوں کے حملوں سے نہیں، اپنے ہی دعویداروں کی بےعملی سے زخم ملتے ہیں اور وہ جلد زوال پذیر ہوتی ہیں ۔۔۔۔ آج اردو کا نوحہ صرف یہ نہیں کہ اس کے مخالف بڑھ گئے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے محافظ کم پڑ گئے ہیں، اور جو ہیں اُن میں سے اکثر عشق و مشق کے افسانوں، سازشوں کے معمار، تعلقات کے جال، اعزازات کی دوڑ، گروہی سیاست اور مفادات کی تجارت میں اس قدر مگن ہیں کہ اردو کا جنازہ اُن کے سامنے سے گزر جائے بھی تو شاید انہیں اپنی محفلوں سے فرصت نہ ملے۔۔۔۔۔
ہم ایک بار پھر اہلِ اردو کو خبردار کر رہے ہیں کہ کوویمپو یونیورسٹی میں ایم اے اردو کا بند ہونا محض ایک شعبے کا خاتمہ نہیں ہوگا، بلکہ اُن تمام نعروں، دعوؤں اور نمائشی خدمات کا جنازہ ہوگا جو برسوں سے اردو کے نام پر فروخت کی جاتی رہی ہیں۔ یہ فیصلہ اس تلخ حقیقت پر مہرِ تصدیق ہوگا کہ ہم نے اردو کو تقریروں، سیمیناروں، مشاعروں اور تصویروں میں تو بہت زندہ رکھا، مگر عملی میدان میں اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔۔۔۔ آج اگر ایک شعبہ بند ہو رہا ہے تو کل پورا مستقبل بند ہوگا، اور اُس روز کٹہرے میں کوئی حکومت، کوئی ادارہ اور کوئی دشمن نہیں بلکہ خود اہلِ اردو کھڑے ہوں گے۔۔۔۔ تب صفائی دینے کے لئے نہ کوئی منبر کام آئے گا، نہ کوئی مشاعرہ، نہ کوئی اعزاز، نہ کوئی سفارشی تعلق، اور نہ ہی خودستائی کے وہ قصے جن کے سہارے برسوں تک اردو کی لاش پر جشن منایا جاتا رہا۔۔۔۔
اگر آج بھی اردو کے نام پر یہی بازار گرم رہا، اگر قابلیت کی جگہ تعلقات، دیانت کی جگہ خوشامد، تحقیق کی جگہ نقل، اور خدمت کی جگہ مفاد پرستی کو ترجیح دی جاتی رہی، تو یاد رکھیے کہ کل صرف ایک شعبہ نہیں مرے گا، بلکہ اردو کا پورا تعلیمی، ادبی اور فکری مستقبل دفن ہو جائے گا۔۔۔۔۔ پھر تاریخ کسی اغیار کو موردِ الزام نہیں ٹھہرائے گی، بلکہ صاف لفظوں میں لکھے گی کہ اردو کو دشمنوں نے نہیں مارا تھا، اسے اُن لوگوں نے کمزور کیا جو خود کو اس کا محافظ، خادم اور علمبردار کہتے تھے۔۔۔۔۔
آج اردو پہ نوحہ کس لیے، قاتل کوئی اغیار نہیں
اپنوں کے ہاتھوں لٹی ہے، یہ قصہ اتنا دور نہیں۔۔۔۔۔


