
دعوت دیں اسلام الی اکفار، کیا وقت کی اہم ضرورت نہیں ہے؟
نقاش نائطی
نائب ایڈیٹر اسٹار نیوز ٹیلوزن دہلی
۔ +966562677707
"اسلام دنیا کا بہترین مذہب اور مسلمان اس دنیا کے بدترین انسان ہیں”۔جارج برنارڈ شاہ
اللہ کے رسولﷺ نے نبوت سے قبل،40 لمبے سال تک، اپنے اخلاق حسنہ اور انسانیت کی خدمت والی عملی دین والی زندگی سے، کفار مکہ کے درمیان آمین و صادق کے القاب پائے تھے، اور بعد نبوت، مکی 13 سالہ زندگی میں، جس ایمان کی محنت و آبیاری کی تھی، وہ خالص جذبہ ایمانی، امین و صادق والے اقدار اور وعدہوفائی کا جذبہ، چند ایک خاص مومن مسلمانوں کو چھوڑ کر، دنیا کے کسی بھی حصے کے مسلمانوں میں اجتماعی طور,کیا پایا جاتا ہے؟
انیسویں صدی کی ابتداء میں، مغرب کے فلسفہ سرمایہ دارانہ (کیپیٹیلزم) کے خلاف، روس میں لینن نے اشتراکیت کی بنیاد ڈالی تو اسوقت مشترکہ ھند و پاک پنجاب کے مشہور مسلم اسکالر علامہ عنایت اللہ خان المشہور علامہ مشرقی، لینن سے ملنے گئے اور انہیں دعوت دین اسلام پیش کرتے ہوئے، سمجھانے کی پوری کوشش کی تھی کہ زمانے سے چلے آرہے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف، عملی طور، سابقہ تیرہ سو سال سے دنیا کے آدھے سے زیادہ حصہ پر حکومت کر رہے مسلمانوں کےاسلام نے، جو عملی نمونہ پیش کیا ہے آپ کی اشتراکیت کا حل صرف اور صرف اسی اسلام میں ہے۔لیکن جب لینن نے علامہ مشرق سے یہ پوچھا کہ کیا دنیا کے کسی بھی خطہ میں کوئی ملک اسلام عملی طور،پورا کا پورا موجود ہے؟ اگر کوئی ملک میں اسلام عملی دین کی حیثیت نمونتا” موجود نہیں ہے تو کسی بھی ملک میں کوئی شہر دین اسلام عملا” موجود ہے؟ تو اس وقت علامہ مشرق کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ آدھی سے زائد دنیا پر اسلامی حکومتیں تھیں لیکن وہ مدینہ والا مکمل اسلامی عملی نظام، ہر جگہ مفقود تھا۔ اس لئے علامہ مشرقی لینن کو اسلام مذہب اپنانے، مائل کرنے میں ناکام واپس لوٹ آئے۔
آج بھی عالم میں، دنیا کی آبادی کا دوسرا سب سے بڑا حصہ، مذہب اسلام کا پیروکار ہے لیکن جس جذبہ ایمان پر نبوت کے منصب تمکنت پر متمکن ہونے کے بعدآپﷺ تیرہ لمبے سال تک محنت کی، سوائے سعودی عرب و دیگر عرب ریاستوں کے،اور دنیا کے مختلف مقامات میں، اہل سلف عقیدے کےماننےوالوں کےعلاوہ، دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت جذبہ ایمانی سے ماورا شرک و بدعات ہی میں مست و مغرور و مگن پائی جاتی ہے۔اور آپ ﷺ نے ماقبل نبوت چالیس لمبے سال تک,اپنے لین دین والے اخلاق حسنہ سے اور انسانیت کی خدمات سے آمین و صادق و وعدہ وفائی کاجو اعلی معیار و اقدار دنیا والوں کے لئے چھوڑا تھا، سوائے چند ذاتی مسلم مومنین کے، عمومی طور عالم کے مسلمین میں یہ تمام اقدار مفقود پائے جاتے ہیں۔ آخر کیوں؟ یہان تک کہ دعوت دین اسلام کے عملی نمونےکے دعوے دار, دعوت تبلیغ تحریک, عالمی سطح کی سب سے بڑی دعوتی تحریک ہونے کے باوجود,حقوق اللہ نماز روزے عملی دعوت سے پرے حقوق العباد عمل پیرائی بہت کمزور نظر آتی ہے۔ جبکہ حقوق اللہ کی کمی و بیشی, غفورالرحیم کےجذبہ رحمانیت, قابل معافی ہونے کے نقطہ نظر سے, نہ معاف کئے جانے والے حقوق العباد,کمی و بیشی کے مقابلہ, ھیج تر نظر آتے ہیں۔ خود خاتمم الانبیاء سرور کونین مصطفی ﷺ نے حقوق اللہ پاسداری کی محت 13سالہ مکی زندگی میں جہاں جزوی طور کی تھی وہیں حقوق العباد پاسداری کا سبق تلبیس کی بات, بعد نبوت پورے 23 سال سے پرے,ماقبل نبوت زمانہ لڑکپن سے پورے چالیس سال تک آپ ﷺ کی عملی نمونہ زندگی اور کفار مکہ کی طرف سے آپﷺ کے, امانت و صداقت راست گوئی کی شہادت دیتےالقاب امین و صادق, یہ درشانے کے لئے کافی ہیں کہ رب عالمین جب بھی کسی کو کوئی خاص انتہائی تبریک والے مقام متمئز پر براجمان کرنا چاہتے ہیں تو, انہیں پہلے, اپنی خاص نگہداشت میں تربیت کرواتے, اس مقام تک لے آتے ہیں ۔نہ کہ ماضی کی داغدار شخصیت کو, سنگھی مودی مغسلہ میں دھلائی بعد پاک و صاف آمین و صادق سمجھے گئے جیسا, کسی کو بھی منصب تبریک تک براجمان نہیں کیا جاتا ہے۔کیا آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد صرف مسلمانوں سے صوم و صلوۃ کروانا یا اذکار کی رٹ لگوانا، رب دو جہاں کو مقصود تھا؟ کیا رب دو جہاں کے حضور آسمانوں میں اس کی بندگی کرنے والے فرشتوں کی بہتات نہ تھی ؟ پھر آخر کیا بات ہے؟ ہم مسلمین نے آپﷺ کے 63 سالہ زندگی کے اصل نچوڑ,امانت صداقت, وعدہ وفائی کا پاس و لحاظ، نیز انسانیت کی خدمت کےجذبہ کو ہم مسلمانوں میں رائج کرنے کی محنت کو اصل نبوی محنت نہیں مانا ہے۔ جاپان امریکی و یوروپی ممالک نے، امانت صداقت, وعدہ وفائی کے بعض اقدار رسولﷺ, جو اپنائے ہیں، وہ آج عالم کی امامت کے دعویدار بنے, ہم مسلم اکثریت کو اپنی ٹھوکروں پر رکھے، ہم پر حکومت کررہے ہیں۔ کم سنی سے جوانی تک جس پیشہ تجارت کو,آپ ﷺ نے، نہ صرف اپنایا تھا بلکہ تمام پیشوں کا سردار پیشہ تجارت جسے کہا تھا، ہم مسلم آبادی کا کتنا فیصد حصہ، اس پیشہ تجارت سے منسلک ہے؟ یہود و نصاری کے نبی پیشہ سے بڑھئی, (کارپینٹر) اور چرواہے (شیفرڈ) تھے اور نہ صرف ہمارے نبی آخرالزماں اپنے آپ کو معلم یا استاد ہمیشہ کہا کرتے تھے بلکہ اللہ رب العزت نے اپنے آسمانی ہدایت والی کتاب قرآن مجید میں بھی آپﷺ کو معلم یا استاد مخاطب کرتے ہوئے انہیں استاد کے درجے پرمہمیز کیا ہوا ہے۔ آج تقابل کرکے دیکھیں عالم کے منجملہ اقوام میں بڑھئی اور چرواہے کی قوم یہود و نصاری علم کے حصول میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں اور ہم معلم، نبی آخر الزماں ﷺکے سچے پکے امتی، علم کے حصول میں اتنے پیچھے کیوں ہیں؟ کیا کبھی ہم مسلمین نے اس پر غور و تدبر بھی کیا ہے؟ جبکہ ہمارے نبیﷺ کے ذریعہ سے، ہم تک پہنچائی گئی قرآن کریم کی پہلی آیت تحکمی "پڑھ، اپنے پیدا کرنے والے رب کے نام سے” کے بعد والی دوسری آیت(پڑھ) "جس نے خون کے لوتھڑے سے، انسان کو پیدا کیا” ارض و سماوات، بحر و جبل، چرند پرند درند کہ ان گنت اقسام کے، دیکھے یا ان دیکھےحشرات الارض، نباتات، اور ماہ و انجم کے اسرار و رموز کو، علوم قرآنی کی روشنی میں تدبر کر،حل کرنے کے علم کو، سیکھنے کا حکم جس رب نے امت محمدیہ ﷺ کو دیا تھا اور اسی نبی آخر الزماں نے، اسلام کی پہلی حرب بدر بعد، اسیران کفار کی رہائی کے بدلہ،ان میں موجود علم و ہنر سپاہ گری کو مسلمانوں میں منتقل کر، رہائی پانے کا مزدہ جان فزاء سنایا تھا۔کیا اس وقت اسیران سردار قریش کی علم سکھانے کے بدلےرہائی سے آپ ﷺ کی مراد علم لغت صرف نحو زبان عربی تھی یا اس وقت ان عربوں میں بڑھ چڑھ کر پروان چڑھ رہا شوق شاعری تھا۔ بالکہ ان ایام عرب بدؤں میں ریت کو سونگھ کر، اس پر چلنے والی ہواؤں کے دوش سے، آنے والے طوفان و قافلوں کی آمد کی پیشگی خبر رسانی (فن سراغ رسانی) کا علم, جو ان میں موجود تھااور فن حرب تلوار و نیزہ زنی نیز گھڑ سواری اور فن تجارت کے جو جوہر تھےوہ مسلمین انصار مدینہ میں منتقل کرنا مقصود تھا؟ اس وقت اس گھڑ سواری والے ایام میں، مدینہ سے ساڑھے چار ہزار میل، لگ بھگ، سوا سات ہزار کلومیٹر دور چائنہ تک حصول علم کے لئے جانے کا جو کہا گیا تھا وہ بس یونہی تھا؟ آج کہنے کو تو بعض سلفی حضرات یہ کہتے پائے جاسکتے ہیں کہ "حصول علم کے چائینا تک سفرکا قول رسولﷺ، سند یافتہ ثابت نہیں ہے” لیکن اس قول رسول ﷺ میں،حصول علم کے لئے کی جانے والی تڑپ و محنت درشانا مقصود یے۔ آج حصول علم کے لئے، مسلم طلبہ کے مقابلے یہود و ہنود و نصاری طلبہ کے ہجوم درہجوم، ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کرتے تناظر میں، یہود و ہنود و نصاری کے مقابلہ، ہم مسلمان حصول علم کے معاملے میں کتنے پیچھے اور پچھڑے ہوئے ہیں، تقابل کر دیکھنے اور محسوس کرنے سے پتا چل جاتا ہے۔
اور جہاں تک اخلاق حسنہ اور آپسی تجارتی لین دین میں امانت داری و وفا شعاری کے فقدان کا بحثیت قوم مسلم، ہمیں خود اس کا اندازہ و احساس جب ہے تو پھر ہم میں نبوی اقدار و اخلاق لانے کی جہد، سنن صوم و صلوۃ واذکار سے زیادہ ضروری کیا نہیں ہیں؟ مسلم معاشرے میں ان اقدار اسلامی کو رائج کروانے کی ذمہ داری علماء وقت کی کیا نہیں ہے؟ آج دنیا بھر میں ہم نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہیں یا تاریخ کی کتابوں کے اوراق پلٹ کر دیکھتے ہیں،چیدہ چیدہ ایک آدھ مسلمانوں کے اخلاق حمیدہ سے متاثر ہوکر، یہود و نصاری کے بعض نوجوان نہ صرف حلقہ بگوش اسلام ہوچکے ہیں بلکہ بعد کی اپنی دعوتی زندگی سے لاکھوں یہود ونصاری کے دائرہ اسلام میں آنے کا سبب بن رہے ہیں۔فی زمانہ عالم انسانیت پر زبردستی نافذ کی گئی حرب جدید بین الملوکی کی ابتداء, اسلام دشمن یہود و نصاری کی طرف سے زبردستی عرب علاقے فلسطین میں لابسائے گئے جارح و ظالم اسرائیل کی سازشانہ چالبازیوں کے نتیجہ میں, یہ حرب ایران امریکہ ظہور پزیر ہوئے عالم انسانیت کے لئےخطرےکا باعث بنی ہوئی ہے۔ سابقہ پچھتر سالوں سے اسرائیل ظلم و انبساط سہے فلسطینی مجاہدین حماس نے 7,اکتوبر 2023 اسرائیلی فلسطین جھڑپ میں بارہ سو اموات کے ساتھ سو کے قریب یہودیوں کو یرغمال بنائے اپنی تحویل میں لئے جانے کے بعد,ان پچھتر سالوں میں پہلی دفعہ اسرائیل پر جزوی حربی برتری جب حماس نے حاصل کرلی تھی۔تب اسرائیل کے سابقہ پچھتر سالوں والے ظلم و انبساط باوجود , روزانہ ہزروں فلسطینیوں کے اسرائیلی افواج کے ہاتھوں بے قصور شہید کئے جاتے تناظر میں اور اسرائیلی جیلوں میں قید وبند فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بے رحمانہ ظلم و زیادتی کئے جاتے پس منظرمیں بھی,حماس مجاہدین نے اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ اسلامی اقدار جو حسن سلوک کیا ہے وہ امریکی و یورپی عصری تعلیم یافتگان کے لئے یقینا” تازیانہ عبرت ہے۔ اس کے نتائج آج نہیں تو کل یہود و نصاری والے انکے تحویل میں رہے قیدیوں کے ساتھ سلوک ناروا کے خلاف حماس مجاہدین کے اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ کئے حسن سلوک کا تقابل کئے, کسی بھی صورت اسلامی اعلی اقدار و اخلاق کو نظر انداز نہیں کرپائیں گے اور ایک نہ ایک دن انہیں اسلامی اقدار و اخلاق کو تسلیم کئے مائل اسلام ہونا ہی پڑے گا۔
تاریخ کے اوراق کا ایک عمدہ سبق ترکی کے ایک معمولی بقالہ دوکان مسلم تاجر ابراھیم کے عمدہ اخلاق حسنہ سے، ایک یہودی کس طرح سے اسلام قبول کرتا ہے اور بعد میں داعی اسلام بنتا ہے، اس واقعہ کو دیکھا جائے اور مسلم اکثریتی علاقوں، ملکوں میں، اسلامی تعلیم اور تعلیم عصرحاضر اس دونکاتی مختلف الجہتی مفروضہ کو ختم کرتے ہوئے، عصری تعلیم حاصل کرنے والوں کو، ایک حد تک ضروری اسلامی تعلیم دینے کا بندوبست کیا جائے اور دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کو عصر حاضر سے ہم آہنگ رہتے، دنیا والوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے، شان نیازی سے دنیا والوں کے ساتھ چلنے لائق عصری تعلیم بھی دلوائی جائے اور سب سے اوپر دونوں فریق طلباء میں معاملات، اخلاقیات پر انہیں عمل پیرا رہتے، چلتے پھرتے دین اسلام کے سفیر بن جیتے، آپنے اطراف کے غیر مسلم بھائیوں میں، دین اسلام کی خاموش دعوت دینے والا داعی بنایا جائے۔آج بھارت میں ھندو احیاء پرستی کے بہانے سے، مسلم دشمنی کی جو فضا زبردستی پروان چڑھائی جارہی ہے، اسے ہم اپنے اخلاق حمیدا ہی سے جیت سکتے ہیں۔ وما علینا الا البلاغ۔
یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے۔فرانس میں کہیں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ پر ترکی کے ایک پچاس سالہ بوڑھے آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔اردگرد کے لوگ اس بوڑھے کو "انکل ابراہیم” کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔انکل ابراہیم کی دکان میں چھوٹی موٹی گھریلو ضروریات کی اشیاء کے علاوہ بچوں کیلئے چاکلیٹ، آئسکریم اور گولیاں، ٹافیاں دستیاب تھیں !اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک سات سالہ بچہ (جاد) تھا۔ جاد تقریباً روزانہ ہی انکل ابراہیم کی دکان پر گھر کی چھوٹی موٹی ضروریات خریدنے کیلئے آتا تھا دکان سے جاتے ہوئے انکل ابراہیم کو کسی اور کام میں مشغول پا کر،جاد نے کبھی بھی ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولی تھی ایک بار جاد،دکان سے جاتے ہوئے چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا، انکل ابراہیم نے جاد کو پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا :- "جاد …! آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا؟”انکل ابراہیم نے یہ بات محبت میں کہی تھی یا دوستی سے، مگر جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔جاد آج تک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی مگر معاملہ اس کے برعکس تھا۔جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا کہ ” آپ اگر مجھے معاف کر دیں، تو آئندہ میں کبھی بھی چوری نہیں کروں گا ”
مگر انکل ابراہیم نے جاد سے کہا:- "اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا، ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا۔” اور بالآخر اسی بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا …!
وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔
بلکہ ایسا ہو گیا کہ انکل ابراہیم ہی جاد کیلئے باپ، ماں اور دوست کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی کہتا ایسے میں انکل میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتے اور جاد سے کہتے کہ "کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو”جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے دو صفحے پڑھتے، جاد کو مسئلے کا حل بتاتے، جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر کو چلا جاتا …! اور اسی طرح ایک کے بعد ایک کرتے سترہ سال گزر گئے۔
سترہ سال کے بعد جب جاد چوبیس سال کا ایک نوجون بنا تو انکل ابرہیم بھی اس حساب سے سڑسٹھ سال کے ہوچکے تھے داعی اجل کا بلاوا آیا اور انکل ابراہیم وفات پا گئے …!
اُنہوں نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کیلئے ایک صندوقچی چھوڑی تھی اُن کی وصیت تھی کہ:-” اس کے مرنے کے بعد یہ صندوقچی اس یہودی نوجوان جاد کو تحفہ میں دیدی جائے …! ”
جاد کو جب انکل کے بیٹوں نے صندوقچی دی اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا، کیونکہ انکل ہی تو اسکے غمگسار اور مونس تھے۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ انکل کو دیا کرتا تھا …!جاد، انکل کی نشانی گھر میں رکھ کر دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا۔مگر ایک دن اُسے کسی پریشانی نے آگھیرا، "آج انکل ہوتے تو وہ اُسے کتاب کھول کر دو صفحے پڑھتے اور مسئلے کا حل سامنے آجاتا” جاد کے ذہن میں انکل کا خیال آیا اور اُس کے آنسو نکل آئے !”کیوں نہ آج میں خود کوشش کروں !”
کتاب کھولتے ہوئے وہ اپنے آپ سے مخاطب ہوا لیکن کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا کہ:-” مجھے اس میں سے دو صفحے پڑھ کر سناؤ ۔مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا:-” یہ کیسی کتاب ہے …؟ "تیونسی نے کہا :-” یہ ہم مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے …! ”
جاد نے پوچھا :- "مسلمان کیسے بنتے ہیں …؟ "تیونسی نے کہا :-” کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں …! "جاد نے کہا :- ” تو پھر سن لو میں کہہ رہا ہوں أَشْھَدُ أَنّ لَّا إِلَٰہَ إِلَّالله و أَشْھَدُ ان محمد رسول الله …! "جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لئے "جاد اللہ القرآنی” کا نام پسند کیا۔
نام کا اختیار اس کی قرآن سے والہانہ محبت کا کھلا ثبوت تھا۔ جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، دین کو سمجھا اور اور اس کی تبلیغ شروع کردی …!یورپ میں اس کے ہاتھ پر چھ ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبل کیا۔ ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو انکل ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں براعظم افریقہ کے اردگرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور انکل کے دستخط کیے ہوئے تھے ساتھ میں انکل کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی:-” ادع إلی سبيل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ "، ” اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ …! ”
جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ انکل کی اس کیلئے وصیت ہو۔ اور اسی وقت جاد اللہ نے، اس وصیت پر عمل کرنے کی ٹھانی، اور ساتھ ہی جاد اللہ نے یورپ کو خیرباد کہہ کر کینیا، سوڈان، یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا،دعوت حق کیلئے ہر مشکل اور پر خطر راستے پر چلنے سے نہ ہچکچایا اور اللہ تعالیٰ نے، اس کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا …!
جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں، اپنی زندگی کے تیس سال گزار دیئے۔ سن 2003ء میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھر کر محض چون سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملے …!
جاد اللہ کی محنت کے ثمرات ان کی وفات کے بعد بھی جاری ہے۔وفات کے ٹھیک دو سال بعد ان کی ماں نے ستر سال کی عمر میں اسلام قبول کیا …!جاد اللہ اکثر یاد کیا کرتے تھے کہ انکل ابراہیم نے اس کے سترہ سالوں میں کبھی بھی اسے غیر مسلم محسوس نہیں ہونے دیا اور نہ ہی کبھی کہا کہ اسلام قبول کر لو۔ مگر اس کا رویہ ایسا تھا کہ جاد کا اسلام قبول کیئے بغیر چارہ نہ تھا …!
یہاں اس واقعے کے بیان کرنے کا فقط اتنا مقصد ہے کہ، کیا مجھ سمیت ہم میں سے کسی مسلمان کے اخلاق و عادات و اطوار و کردار انکل ابراہیم "جیسے ہیں کہ کوئی غیر مسلم جاد ہم سے متاثر ہو کر، جاداللہ القرآنی بن کر ہمارے مذہب اسلام کی اس عمدہ طریقے سے خدمت کر سکے ؟اللہ تعالیٰ مجھ گناہ گار و سیاہ کار سمیت ہم سب مسلمانان عالم پر، بےحد رحم فرمائے اور عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے …! چلتے، چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر، اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو

