
نظام تعلیم کی تباہی کا انتظام
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
پچھلے دنوں پورے ملک نے دیکھا کہ نیٹ امتحانات کا پیپر لیک ہو گیا ۔ایک ہفتے تک تو یہ بس ایک الزام تھا ،لیکن اس کے بعد ملک کی معروف قومی امتحان ایجنسی نے بھی اسے قبول کر لیا ۔ شاید پہلا موقع تھا کہ ایجنسی نے اپنی غلطی کی تسلیم کی اور وزیر تعلیم کو سامنے ا ٓکر اس کے لیے معافی مانگنی پڑی ۔یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے بہ نظر غائر دیکھا جائے تو یہ واقعات ملک کے پورے نظام کو تہہ و بالا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ 2019 سے اب تک بہت سے اہم امتحانات کے 90 سے زائد پیپر لیک ہو چکے ہیں ۔جن سے کم از کم ایک کروڑ بچوں کا مستقبل متاثر ہوا ہے ان میں میڈیکل ،انجینیئرنگ یو جی سی ،سیکنڈری بورڈ اور نوکریوں کے مقابلہ جاتی امتحانات شامل ہیں ۔ہرچند کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں کبھی ان کا انکار کرتی رہیں اور کبھی کورٹ کے احکامات کے تحت دوبارہ امتحان کروا دیتی ہیں ۔ کبھی کبھی چھوٹے موٹے مجرمین کو گرفتار کر کے کچھ سزائیں بھی دے دی جاتی ہیں، لیکن اصل مافیا کبھی گرفت پہ نہیں آیا ۔حتی کہ 2024 میں نیٹ کا پیپر لیک ہونے کے بعد مرکزی حکومت کو ایک انتہائی سخت قانون پبلک ایگزامینیشن پریونشن آف انفیئر مینز ایکٹ یعنی عوامی امتحانات میں غیر اخلاقی ذرائع سے تحفظ کا قانون مجریہ فروری 2024 بنایا ،جس کے تحت مجرمین کو کم از کم 10 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی۔ لیکن تاحال اس قانون کے تحت کسی کو بھی کوئی سزا نہیں ملی ،جبکہ پرچے ہر سال لیک ہو رہے ہیں۔
موجودہ مرکزی حکومت نے نومبر 2017 میں پہلی مرتبہ ایک قومی امتحان ایجنسی قائم کی تھی ۔اس میں ایک ڈائریکٹر، ایک سیکرٹری اور آٹھ ممبران ہوتے ہیں، جن کو مرکزی حکومت اپنی منشا اور خواہش کے مطابق نامزد کرتی ہے۔ یہ ایجنسی وزارت تعلیم کے تحت خود مختار ادارہ ہے جو ملک کے سب سے اہم کم سے کم 15 امتحانات منعقد کراتی ہے، جس میں میڈیکل ،انجینئرنگ، فارمیسی ،زراعت ،مینجمنٹ ،یو جی سی فیلوشپ ،قانون ،فیشن ڈیزائن سینک سکول وغیرہ کہ امتحانات شامل ہیں ،جس کے ذریعےباریں پاس بچے گریجویٹ کورسز میں داخلہ لینے کی اہلیت حاصل کرتےہیں، ان میں ہر سال کل ملاکر تقریبا ڈھائی کروڑ بچے حصہ لیتے ہیں۔ اس کا بجٹ تقریبا 35 کروڑ روپے سالانہ ہے ۔دسویں اوربارہویں کے امتحانات کے لیے الگ سے بورڈ قائم ہیں جن کا اس ایجنسی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے ۔سینٹر بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن ،سی آئی ایسی، این آئی او ایس سمیت ملک میں پرائیویٹ اور ریاستی بورڈوں کی تقریبا 60 کی تعداد ہے۔ جن میں کل ملا کر ہر سال تقریبا دو کروڑ بچے حصہ لیتے ہیں ۔ان میں سےبارہویں پاس بچے اس قومی امتحان ایجنسی کے مختلف امتحانات میں بیٹھتے ہیں ۔گزشتہ 10 سال میں 90 امتحانات میں سے کوئی ایک بھی امتحان شک و شبے سے بالاتر نہیں ہے۔ یہاں کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں پہلا سوال یہ ہے کہ آخر اس ایجنسی کے قیام کی ضرورت ہی کیا تھی ،اس سے قبل بھی یہ سب امتحانات ہو ہی رہے تھے اور ان میں سے کسی پر پیپرلی کا الزام نہیں لگا تھا 2017 سے پہلے عام طریقہ کار یہ تھا کہ 12 کی امتحانات تو بورڈ ہی لیتا تھا، اس کے بعد جو بچے کالجوں میں داخلہ لینے جاتے ہیں وہاں متعلقہ کالج یا یونیورسٹی اپنے مقابلہ جاتی امتحان خود لیتی تھی یا میرٹ کی بنیاد پر داخلے ہوتے تھے ۔مثلا دلی یونیورسٹی میں ہر کورس میں جتنے امیدوار فارم بھرتے تھے ان کے بارہویں کے نمبروں کی بنیاد پر میرٹ لسٹ بنا کر داخلے ہوتے تھے لیکن بہت سی دیگر یونیورسٹیاں اپنے الگ الگ مقابلہ جاتی تھیں اور اس میرٹ کی بنیاد پر داخلے ہوتے تھے۔ جس کے نتیجے میں ایک محدود امتحان ہوتا تھا، جس میں دھاندلی کا امکان بہت کم ہوتا تھا، میرٹ میں تو دھاندلی کا امکان ہی نہیں تھا۔ 2010 میں اس قومی امتحان ایجنسی کی تجویز اسی لیے پیش کی گئی تھی کہ بچوں کو الگ الگ یونیورسٹیوں کے مقابلہ جاتی امتحانوں میں نہ بیٹھنا پڑے اور ایک ہی امتحان میں شریک ہو کر اسی کی میرٹ پر ملک کے مختلف کالجوں میں داخلہ لیا جا سکے۔اس کے بعد سی پی ایم ٹی، جے ای ای، آئی ایم سی وغیرہ نے بھی مرکزی امتحان لینے شروع کر دیے تھے۔ یہ طریقہ کامیابی سے جاری تھا۔اب بارہویں پاس بچہ ملک کے کسی بھی کالج یا یونیورسٹی کےکسی بھی کورس میں داخلہ لینا چاہتا ہے تو اسے مزیدایک اور امتحان سی یو ای ٹی وی دینا پڑتا ہے۔ اور گریجویشن پاس کر لے تو ماسٹر کورس میں داخلے کے لیے سی یو ای ٹی۔ پی جی کا امتحان بھی دینا پڑے گا گویا امتحان در امتحان در امتحان ۔یہیں ایک دیگر سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر ہر ایک کورس کے لیے الگ الگ امتحان دینا پڑے گا تو پھربارہویں کلاس کی امتحان کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ایک بچہ گیارہویں کلاس میں ہی طے کر لیتا ہے کہ اسے میڈیکل، انجینیئرنگ، فائننس ،قانون یا کسی اور مضمون میں کیریئر بنانا ہے پھر اسی اعتبار سے وہ گیارویں اوربارویں کے اپنے مضامین طے کرتا ہے۔ تو پھر اسی اعتبار سےبارہویں کا بورڈ کاامتحان لینے کے بجائے براہ راست سی یو ای ٹی، نیٹ ،جے ای ای جیسے امتحان کیوں نہیں دیے جاسکتے؟ ہر بچہ دسویں اوربارویں کے بورڈکے امتحان سے ڈرتا ہے اور سخت محنت کرتا ہے کہ کسی طرح اچھے نمبروں سے پاس ہو جائے، اس کے والدین اور اساتذہ بھی یہ محنت کرتے ہیں، اب اگر بچے کی محنت کامیاب ہو گئی اور اس نے 99 فیصد نمبر حاصل بھی کر لیے تو اسے اس محنت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اگلے ہی مہینے اسے دوسرے مقابلے جاتی امتحان میں بھی بیٹھنا ہے، جس کے نمبرات یا اسکور کی بنیاد پر طے ہوگا کہ اس کا داخلہ کہاں اور کیسے ہوگا اگر بارہویں میں اتنے نمبر لا کر بھی وہ اگلے امتحان میں یہ نتیجہ نہیں لا پایا تو پھر اس کی ساری محنت اکارت گئی اور وہ ڈپریشن میں جانے لگتا ہے۔ ایسے میں اگر یہ بھی معلوم ہو کہ پیپر لیک ہو گیا اور لاکھوں روپے میں پیپر خریدنے والے لوگ کامیاب ہو گئے تو محنتی اور لائق بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا ؟چنانچہ قومی امتحان ایجنسی کا یہ طریقہ کار ہی سرے سے غلط ہے۔بارہویں کلاس کے نمبرات کا شمار کیے بغیر نتائج دینا طلباء کی بنیادی محنت کا سرے سے انکار ہے اور ایک ظالمانہ رویہ ہے۔
ملک کے 824 میڈیکل کالجوں میں کل ملا کر ایک لاکھ تیس ہزار ہی سیٹیں ہیں، ان میں بھی آدھے سے زیادہ سیٹیں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں ہیں جہاں نیٹ میں بہت کم نمبر حاصل کرنے والے بچوں کو داخلہ ملتا ہے، جس کے لیے انہیں تقریبا ایک کروڑ روپے فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہاں پھر سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اگر پرائیویٹ کالج میں ہی جانا ہے تو پھر نیٹ کی کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح انجینیئرنگ کالجوں میں 15 لاکھ اورمینجمنٹ میں چار لاکھ سیٹیں ہیں ۔اس تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ بارہویں پاس کرنے والے تقریبا دو کروڑ میں سے محض 20 لاکھ بچوں کو ہی اپنے من پسند کورس میں داخلہ مل سکتا ہے ۔باقی بچوں کا کیا ہوگا اس کا جواب حکومت کے پاس موجود نہیں ہے۔ اس ماراماری کی وجہ سے پیپر بھی لیک ہوتے ہیں اور والدین لاکھوں روپے خرچ کر کے پیپر خریدتے بھی ہیں۔
مذکورہ بالا کوائف کی روشنی میں غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب سے یہ امتحانات شروع ہوئے ہیں تب سے ملک کے مختلف علاقوں میں کوچنگ سینٹر تیزی سے بڑھے ہیں، کورس کی اہمیت کے اعتبار سے ان کی فیس بھی ہے، محض بارہویں اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے لیے لاکھوں روپے فیس ادا کرنی پڑتی ہے، پھر ان مقابلہ جاتی امتحانات کی فیس الگ ہے، وہ بھی لاکھوں روپے میں ہے، پھر انہی مراکز میں سے اکثر میں لیک پیپر بھی مل جاتے ہیں، ان کوچنگ سینٹر میں داخلہ کرانے اور من پسند کالج اور کورس میں داخلے کرنے کے لیے گلی گلی ایجنٹ بیٹھے ہیں جو 35 سے 40 لاکھ روپے میں گارنٹی سے داخلہ کرا دینے کا وعدہ کرتے ہیں ۔یہ سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے تو یہ کیسے مانا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر اس ناجائز کاروبار کی بھنک تک حکومت کو نہیں ہے؟ لہذا حکومت ،امتحان ایجنسی اور کوچنگ مافیا کے گٹھ جوڑ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یہاں یہ سوال بھی بنتا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی اس جرم میں اتنا بے تحاشہ اضافہ کیوں ہوا؟
یہ امتحان مافیا ملک کے مستقبل کو کہاں لے کر جا رہا ہے اس کا تصور بھی ہولناک ہے۔ یہ سلسلہ اگر جاری رہتا ہے تو اگلے پندرہ یا 20 سال میں ملک کے مریضوں کا ،ہسپتالوں کا ان رشوت خور اور نا اہل ڈاکٹروں کے ہاتھوں کیا انجام ہوگا ؟عوامی زندگی میں انتظامیہ کا ہر ادارہ ان رشوت خور اور نا اہلوں سے بھرا ہوگا ۔کتنے خراب انجینیئر، وکیل ، جج بزنس مینجر ، پروفیسر، ریسر چ اسکالر اوربیوروکریسی ، پالسی ساز اداروں کے سربراہ، خاص طور پر ملک کی ہمہ جہت ترقی کے لیے لازمی اداروں مثلا اسرو،و ایٹمی ریسرچ پروگرام، توانائی کے ادارے، بیوروکریسی ،عدلیہ ،سب جگہ یہی لو گ بیٹھے ہوں گے اور مزید رشوت دے کر ترقی بھی پاتے رہیں گے۔ ارکان پارلیمنٹ کتنے باصلاحیت اور لائق و فائق ہیں وہ تو سب جانتے ہی ہیں ملک کا انتظامیہ اور عدلیہ میں بھی اس قسم کے کرپٹ جاہلوں کی بھرتی ہوتی رہی تو ایک عام آدمی کا جوحشر ہوگا اس کے علاوہ خود ملک کا مستقبل کس قسم کے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگا اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔خود کو وطن پرست کہنے والی حکمران جماعت وطن کو اخرکس مقام پر لا کھڑا کرنا چاہتی ہے ۔تھوڑی سی دولت کے خاطر ملک کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹنے کا یہ عمل وطن پرستی ہے یہ وطن دشمنی یہ بات اہل وطن کو خود طے کرنی ہوگی ۔یہ بھی سوچنا ہوگا کہ مریادا پرشوتم رام چندر جی اگر ہمارے زمانے میں موجود ہوتے تو ان مبینہ رام بھکتوں کو کیا یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دیتے ؟
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں )
[email protected]




