مضامین و مقالات

سیاسی متبادل کی تلاش میں سرگرداں بھارت

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد مغربی بنگال اور آسام کے نتائج نے سب کو ہی ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ مختلف حلقوں میں مختلف انداز میں اس پر غور و فکر کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے ۔کانگریس سمیت تمام علاقائی اور موروثی سیاسی جماعتیں بھی اپنے مستقبل کو لے کر پریشان ہیں ۔دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی آبادی مسلمان بھی متفکر نظر آتے ہیں ۔ان نتائج کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف آسام جیسی ریاست جہاں قابل لحاظ تعداد میں مسلمان ہیں اور اس پوزیشن میں ہے کہ اگر درست انتخابی حکمت عملی اختیار کریں تو اپنا وزیراعلی بھی بنا سکتے ہیں ۔کیونکہ کسی بھی ریاست میں کسی ایک طبقے کا یکمشت 35 فیصدووٹ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ پھر بھی نہ صرف یہ کہ ان کے منتخب نمائندوں کی تعداد کم ہو گئی بلکہ جس پارٹی کو انہوں نے متحدہ طور پر ووٹ دیا اس کی تعداد بھی کم ہو گئی اور کانگریس کے ایک کے علاوہ تمام مسلم امیدوارہی جیت سکے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ فرقہ ورانہ بنیادوں پر ریاست کا ووٹ تقسیم ہو گیا اور مقابلہ 35 بنام 65 ہو گیا ۔گو کہ اس سے قبل بی جے پی کی یہ کوشش جزوی طور پر گزشتہ دو انتخابات میں بھی کامیاب رہی تھی لیکن اس انتخاب میں وہ مکمل طور پر کامیاب ثابت ہوئی۔ کم و بیش یہی صورتحال اس مرتبہ بنگال میں بھی پیش آئی جہاں مسلم ووٹ تقریبا 30 فیصد ہے ،بی جے پی یہاں پہلی بار 45 فیصد ووٹ لینے میں کامیاب ہوئی ،جبکہ مسلم ووٹ متحدہ طور پر سابق حکمران ٹی ایم سی کو ہی ملا ۔یہاں بھی کانگریس اور سی پی ایم کے مسلمان ہی جیتے۔ ٹی ایم سی سے بھی بیشتر مسلم امیدوار ہی کامیاب ہوئے ۔گویا یہاں بھی پہلی بار فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہی ووٹ کی تقسیم ہوئی ۔ خدشہ ہے کہ آئندہ کسی بھی انتخاب میں یہ تقسیم اور نمایاں ہو سکتی ہے۔ ضمنا اگر کیرل کا بھی ذکر کریں تو مسلم لیگ کے بغیر وہاں بھی کانگریس حکومت سازی نہیں کر سکتی تھی کیرل میں بھی 25 فیصد سے زائد مسلم ووٹ ہے۔

اس صورتحال نے کانگریس سمیت تمام مبینہ سیکولر پارٹیوں کو پریشان بلکہ شرمسار بھی کیا ہے کہ اس کے پاس مسلمانوں کے سوا کوئی دیگر ووٹ بچا ہی نہیں ، اب بی جے پی یہ تاثر دینے میں پوری طرح کامیاب ہے کہ یہ پارٹیاں محض مسلمانوں کی پارٹیاں رہ گئی ہیں اور قومی دھارے سے کٹ چکی ہیں۔ سر دست ان پارٹیوں کے پاس اس بیانیہ کو بدلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔اس کی ذمہ داری کم از کم مسلمانوں پر تو ہرگز نہیں ڈالی جا سکتی کہ گزشتہ 45 سال سے انہی مبینہ سیکولر پارٹیوں کی ایما پر بی جے پی کو ہرانے کے نام پر مسلم پارٹیوں کے ہوتے ہوئے بھی مسلمان انہیں نظر انداز کر کے سیکولر پارٹیوں کو یک مشت ووٹ دیتے چلے آرہے ہیں۔ حالانکہ جیتنے کے بعد ان میں سے کسی بھی پارٹی نے مسلمانوں کی تعلیمی ،اقتصادی اور سماجی ترقی یا ایوان اقتدار میں متناسب شراکت داری دینے میں انتہائی بخل سے کام لیا ہے۔ پھر بھی اپنا ملی فریضہ سمجھتے ہوئے مسلمان اسی روش پر آج بھی قائم ہیں، کو کہ گزشتہ ایک دہائی سے مسلمانوں کی اس حکمت عملی کے خلاف بہت سے مسلم اور غیر مسلم سیاسی دانشور آگاہ کرتےرہے ہیں ،لیکن مسلمانوں نے اس پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی اور سیکولر پارٹیوں کے مسلم ؎گماشتوں کے ذریعے پیدا کردہ خوف کی سیاست کا ہی شکار ہو کرمزید حاشیے پر چلے گئے۔ آج یہ پارٹیاں خود بھی اسی حاشیے پر کھڑی ہیں۔ بنگال کی سیاست پر غور کریں تو ممتا بنرجی نے امام و موذنوں کی تنخواہیں بڑھانے، مدارس کو کچھ گرانٹ دینے مسلمانوں کے بڑے جلسے جلوسوں میں علامتی طور پر مسلم اصطلاحات کا استعمال کرنے کے سوا اتنی بڑی آبادی کی ہمہ جہت ترقی کے کیا اقدامات کیے ،یہ ایک بڑا سوال مسلمانوں کو پوچھنا چاہیے تھا ۔کسی بھی طبقے کی ہمہ جہت ترقی محض دکھاوٹی علامتوں کے ذریعے کبھی ممکن نہیں ہوتی، سر پر دوپٹہ رکھنے سے یا کسی لیڈر کے نماز میں شریک ہو جانے سے مسلمانوں کے مسائل کبھی حل نہیں ہوسکتے۔ بلکہ انہی حرکتوں سے فرقہ وارانہ تقسیم کو مہمیز حاصل ہوتی ہے۔ ثبوت آج سامنے ہے ۔یہی صورت آسام میں بھی رہی جہاں ، 2014 سے قبل ایک بار کے سوا ہمیشہ کانگریس ہی بر سر اقتدار رہی۔لیکن مسلمانوں کی تعلیمی ،اقتصادی اور سماجی حالت ملک بھر کے مسلمانوں کے مقابلے سب سے زیادہ خراب ہے۔ لیکن فرضی علامات کا استعمال یہاں بھی ہوتا رہا۔ اب بنگال آسام دونوں ریاستوں کے مسلمان اپنے وجود اور بقا کی جدوجہد کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ترقی اور عمومی دھارے میں کھڑے ہونے کا تو سوال ہی اب بہت دور ہو گیا ہے ۔ مسلمانوں کے دم پر اقتدار کے مزے لوٹنے والی یہ پارٹیاں آج انگشت بدنداں ہیں کہ اب وہ کیا کریں کہ تنہا مسلم ووٹ کے بل پر تو وہ اقتدار میں واپس نہیں ا ٓسکتیں، واضح رہے کہ یہی وہ دلیل تھی کہ جسے سمجھا کر مسلمانوں کی قیادت والی پارٹیوں سے انہیں برگشتہ خاطر کیا جاتا تھا کہ مسلم قیادت والی پارٹیاں دوسرے طبقات کی ووٹ نہیں لے سکتی اس لیے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی اب اسی صورتحال سے یہ پارٹیاں بھی دو چار ہیں۔
ایسے میں یہ پارٹیاں اپنی حکمت عملی پر اثر نو غور کرنے کی بجائے ایک دوسرا ہی کھیل کھیل رہی ہیں ان پارٹیوں کے مسلم گماشتے جو کبھی دانشوری کے بھیس میں اور کبھی علما دین کے بھیس میں نظر آتے ہیں مگربراہ راست ان پارٹیوں کے لیڈر نہ ہوتے ہوئے بھی انہی کے اشاروں پر کام کرتے ہیں ۔یہ مسلمانوں کو اپنی سیاسی حکمت عملی آزادانہ طور پر طے کرنے سے ہمیشہ روکتے رہے ہیں اور خوف میں مبتلا کر کے مسلمانوں کو ان سیاسی جماعتوں کی جھولی میں ڈھکیل کر اپنی قیمت بھی وصول کرتی رہتے ہیں۔ آج انہی پارٹیوں کے اشارے پر ایک وہ ایک نیا پیترا اختیار کر رہے ہیں ۔ان نتائج کے بعد ایک خبر عام طور پر گردش کر رہی ہے کہ اب مسلمانوں کو کم از کم ایک الیکشن میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ یعنی ایک جمہوری ملک میں سب سے بڑے متحدہ ووٹ کو صلاح دی جا رہی ہے کہ ملک کے جمہوری نظام سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر لیں۔ واضح رہے کہ یہ وہی مشورہ ہے کہ جس کی کوشش اور تبلیغ نظریاتی طور پر ہمیشہ آر ایس ایس کرتی رہی ہے۔ ہندوتوا وادی تنظیمیں ہمیشہ کوشاںرہی ہیں کہ مسلمان ملک میں دو نمبر کے شہری بن کر رہیں، انتخاب ہو یا اقتدار اعلی میں ان کی شرکت ۔ ان تنظیموں کو کبھی راس نہیں آیا۔ اس کی مرحلہ وار اور مستقل جدوجہد بھی کی جاتی رہی ہے ۔گزشتہ سو سال میں اس کے متعدد مثالیں اور حوالے دیے جا سکتے ہیں ۔ مثلا دو سے زائد بچوں والوںکو وہوٹ کے حق سے محروم کرنے کا مشورہ ، انڈر گریجویٹ کو ووٹ کے اختیار سے محروم کرنا ،انتخابی حلقہ بندی کے ذریعے مسلم ووٹ والے علاقوں کو تقسیم کرنا ،یا ایسے حلقوں کو ریزرو کرنا ،بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کی بحث ،ان کے قائدین کی پارلیمانی اور عوامی بحثیں ،ہر جگہ یہ پالیسی دیکھی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اب تو مسلم ووٹ والے بوتھوں پر پولیس اور نیم عسکری دستوں کی اضافی تعیناتی کے ذریعے خوف کا ماحول پیدا کر کے مسلم رائے دہندگان کے پولنگ کو کم کرنے کی حکمت عملی بھی واضح ہے۔ رام پور کا ضمنی انتخاب اور اب بنگال اسمبلی کے انتخاب اس کی تازہ مثالیں ہیں۔
ایسے میں جہاں آر ایس ایس اور بی جے پی کی دلی خواہش ہے کہ مسلمان انتخابی میدان سے کلیتا کنارہ کش ہو جائیں وہیں یہ مبینہ سیکولر پارٹیاں بھی اب یہ خواہش رکھتی ہیں کہ تنہا مسلم ووٹ ان کی شبیہ کو ایک مسلم پارٹی کی حیثیت سے داغدارکر رہا ہے۔ تو مسلمانوں کو ہی میدان سے ہٹا دیا جانا چاہیے ۔پھر وہ اپنی ذات برادری اور پسماندگی کے عنوان سے سیکولرزم کی دہائی دیتے ہوئے کچھ غیر مسلم ووٹوں کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں اور بی جے پی کے ہندوتو نعرے کو بھی پنکچر کرکےخود بھی ہندو مفادات کا محافظ بنا کر پیش کر سکتی ہیں۔ ویسے بھی یہ پارٹیاں نرم ہندوتوا کی راہ پر تو چل ہی رہی ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کے جمہوری سماجی اور اقتصادی حقوق کی پرواہ کرنے کی بھی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جائے گی ۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان ریاستی انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی اور سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کے تعلق سے اب ایک ہی صفحے پر آ کھڑی ہوئی ہیں۔
یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ یہ مشورہ کسی سیکولر پارٹی کے قائد کی طرف سے نہیں آیا ہے بلکہ ان پارٹیوں سے غیر رسمی طور پر وابستہ مسلمانوں کے ہمدرد نظر آٓنے والے مسلم گماشتوںکی جانب سے آٓگے بڑھایا جا رہا ہے ۔نہ دامن پہ کوئی دھبہ ، نہ خنجر پہ کوئی دا غ ، نہ مقتول کے حلق سے ہی کوئی آہ ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ نفسیاتی طور پر مسلمان ملک کے جمہوری نظام سے بھی مکمل طور پر مایوس ہو جائیں گے اور دستوری نظام سے بھی دستبردار ہو کر مزید حاشیے پر ایک خاموش تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔ بی جے پی کی طرح کل یہ سیکولر جماعتیں بھی آسانی سے کہہ دیں گی کہ آپ کے ووٹ سے تو نہیں جیتے، پھر آپ کے بارے میں کیوں سوچیں۔ ادھر مسلم قیادت والی پارٹیاں بھی گھر بیٹھ جائیں گی ۔آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔ اس خطرناک مشورے کےعلی الرغم ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلم سیاسی قیادت ملک کے دیگر محروم طبقات کے ساتھ ایک نئی سیاسی حکمت عملی پر غور کرے اور ملک میں روایتی سیاسی جماعتوں کے مقابلے ایک نیا سیاسی متبادل کھڑاکرنے کی جدوجہد کریں، جیسا کہ حال ہی میں تمل ناڈو میں ہوا ہے۔ بہرحال زمینی حقیقت آج بھی یہ ہے کہ ملک میں بہت سے مذہبی اقلیتیں قبائل اور چھوٹے چھوٹے پسماندہ طبقات اس سیاسی نظام سے مطمئین نہیں ہیں ، مگر مسئلہ یہ ہے کہ کوئی طاقتور متبادل موجود نہیں ہے ،لیکن اندر اندر مایوسی اور حبس موجود ہے۔ مسلمان قائدین کو اس حبس کا عمیق تجزیہ کر کے ان طبقات سے اپنے روابط مضبوط کرنے چاہئیں ، اس جدوجہد کے ذریعے نئے سیاسی آفاق تلاش کرنا ہی ملک کے وسیع تر مفاد میں ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button