
ذکر و انث شباب قوم میں,علم کی ترویج وقت کی اہم ضرورت
نقاش نائطی
+966562677707
ایکیسویں سالانہ تقریب ,عائشہ عربی کالج للمستورات ھیرور سرسی کرناٹک
اہل نائطہ کے ایک گاؤں ھیرور سرسی میں امہات المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ عربی کالج للمستورات کی سالانہ تقریب میں شرکت کا موقع نصیب ہوا ۔
عرب کھاڑی سے اپنی بادبانی کشتیوں سے عربی النسل گھوڑے کھجور زیتوں گیہوں لا بھارت میں بیج یہاں سے کالی مرچ چاول دال گرم مصالحہ جات اور سلک کپڑے وہاں لے جاتے, عرب کی منڈیوں کے ساتھ آگے یورپ تک اسکی تجارت کرنے والے عربی النسل قبیلے کے یمنی حضرمی لوگ اپنی تجارت بہتر انداز چلانے کے لئے, بھٹکل سے گزرتی شرابی ندی جو بحیرہ عرب میں سموجاتی ہے بحیرہ عرب سے اس ندی راستے بھٹکل گاؤں میں گھستے ہوئے دارنٹا ندی کنارے موجودہ مشما ندی کے پاس سب سے پہلے لنگر انداز ہوئے یہی ںبس گئے تھے۔ ان ایام اہل عرب اہل نائطہ تجار بحیرہ عرب کے ساحل سمندر کئی ایک مقامات پر لنگر انداز ہوئے وہاں وہاں اپنا تجارتی مستقر قائم کئے ہوئے تھے۔ گجرات احمد آباد کھمبات ساحل سمندر, مہاراشٹر کونکن علاقوں والے ساحل سمندر, کرناٹک بھٹکل و آس پاس کے ساحل سمندر ,کیرالہ کوچین کا ساحل سمندر اور مدراس موجودہ چینائی کلیکیرے کا ساحل سمندر پر شروعاتی دور کم و بیش دیڑھ ہزار سال قبل ہی سے آل عرب آل نائطہ قبیلے یہاں آباد ہیں۔ان میں مدراس کلیکرے کی پللیہ جمعہ مسجد, کیرالہ کوچین کی چیرامن جمعہ مسجد 629 عیسوی سال کے آس پاس تعمیر کئے بھارتیہ تاریخ کا حصہ ہیں لیکن گجرات کھمبات کی پہلی تعمیر جونی مسجد چونکہ پرانی عمارت قبلہ اول بیت المقدس کی طرف رخ کئے تعمیر کی گئی تھی اب بھی اس پرانی مسجد کا ڈھانچہ آثار قدیمہ کے طور بحال رکھتے اب بھی موجود پائی جاتی ہے فروی 624 دو ھجری بحکم خداوندی بحالت نماز قبلہ اول بیت المقدس ارض فلسطین سے, قبلہ ثانی بیت اللہ کعبہ مسجد حرم مکہ المکرمہ رخ کئے نماز پڑھی گئی تھی اس اعداد و شمار سے نزول اسلام پہلے پندرہ سال دوران عرب کھاڑی سے مسلمانوں نے اپنی پہلی مسجد کجرات کھمبات تعمیر کرتے وقت قبلہ اول بیت المقدس کی طرف رخ کئے مسجد تعمیر کی تھی کچھ سالوں بعد قبلہ رخ تبدیل کئے جانے کے بعد, مسجد توڑ قبلہ بدلی کرنے کے بجائے وہاں ان ایام موجود کثرت تعداد مسلمانوں نے, قبلہ اولی کی یاد میں اس پرانی مسجد ڈھانچے کو ویسے ہی چھوڑ, اس کے برابر دوسری نئی مسجد تعمیر کی تھی۔ ایک بات یہاں قابل ذکر ہے کہ کسی نئی جگہ آباد لوگ وہاں اپنے عقیدے مطابق عبادت گاہ بناتے ہیں تو کافی تعداد میں اس مذہبی تفکر کے لوگوں کا وہاں مستقل سکونت پذیر ہونا بھی ضروی ہوتا ہے اسی سے یہ اندازہ لگایا جاتاہے کہ ابتدائے اسلام سے قبل ہی سے یہ عرب تجار ھند کے ان پانچ علاقوں میں بغرض تجارت پہلے سے سکونت پذیر تھے۔ نزول اسلام کی خبر ملنے کے بعد, اپنے وہاں عرب کھاڑی کے رشتہ داروں کے حلقہ بگوش اسلام ہونے کی خبر ملنے ہی یہاں کے آل عرب اہل نائطہ مسلمان ہوئے, انہوں نے یہاں اپنے علاقوں میں مسجدیں تعمیر کی ہونگی۔ چونکہ گجرات کھمبات بیت المقدس کیطرف تعمیر پرانی مسجد ڈھانچہ یونہی چھوڑ دوسری جگہ بڑی مسجد تعمیر کی گئی تھی اس بیت المقدس کی طرف قبلہ والی مسجد ہی نے ماقبل اسلام وقت ہی سے آل عرب اھل نائطہ قبیلوں کے یہاں ھند میں رچ بس جانے کو ثبوت کے طور پیش کیا جاتا ہے مہاراشٹر کونکن اور کرناٹک بھٹکل والوں نے اپنی ابتدائی مسجد کی تاریخ کو محفوظ نہیں رکھا ہے اور اپنی پرانی مساجد کو شہید کئے ہی وہاں وہاں وقت وقت نئی مساجد تعمیر کی جاتی رہی ہیں اس لئے گجرات کھمبات طرز پر ان کے ساتھ ہی کرناٹک بھٹکل اور مہاراشٹر کونکن میں, آل عرب آل نائطہ قبیلے, کیا شروع ہی سے آباد تھے؟ یہ سوال ہمیشہ باقی ہی رہتا ہے۔ البتہ بھٹکل کے آل عرب آل نائطہ قبیلے والوں میں یہ وصف امتیاز باقی رہا ہے کہ وہ شروع زمانے ہی سے , اپنے تجارتی و معاشرتی تنازعات آختلافات کو مقامی حکومتی عدالتوں سے ماورا رکھے, اپنے آل نائطہ قبیلے کے علماء زعماء و اھل تدبر لوگوں پر اپنے تنازعات حل کے لئے اپنی جماعت المسلمین ادارہ قائم کئے, اسکے ماتحت محکمہ شرعیہ کا دینی عدالتی نظام قائم کئےشروع زمانے ہی سے اسلامی کورٹ طرز محکمہ شرعیہ سے رجوع ہوئے اپنے تنازعات حل کیا کرتے تھے۔ بھٹکل محکمہ شرعیہ کے پرانے موجود ریکارڈ میں, ہزار بارہ سو سال قبل والے تنازعات حل کئے پائے جانے والی تحریری ریکارڈ دستیابی سے پتہ چلتا ہے, کہ جنوب ھند کی ان پانچ ریاستوں میں ماقبل اسلام ہی سے یا بعد نزول اسلام ابتدائی دنوں سے, آل عرب آل نائطہ قبائل ان پانچ علاقوں میں کم از کم آباد یوچکے تھے۔ انہی پرانے دستاویزات دستیابی کی وجہ سے بھٹکل آل نائطہ قبیلے والوں نے, سال دو سال قبک ھند میں اپنےمستقل پزیری کی ہزار سالہ تقاریب منعقد کی تھیں۔ بھٹکل و اطراف بھٹکل, منکی کائکنی, ٹینگنگنڈی بھٹکل شیرور بیندور گنگولی سکونت پزیر آل نائطہ قبیلے والوں نے اپنے ھند بھر میں پھیلے ہوئے گھوڑے تجارت کو, اپنے مستقل رہائشی علاقہ بھٹکل سے تھوڑی دور, ہوناور کے پاس شراوتی ندی کے اندرونی حصے ولکی سمسی ہیرانگڈی مسلم اکثریتی علاقوں کے قریب شاہراہ 17منکی کے بعد بائیں ہاتھ قائم چرچ کے سامنے اندر جاتے راستے پر شراوتی ندی ہی کے قریب ہوسپٹم میں اپنا تجارتی مستقر بنائے اپنے تجارتی گھوڑوں کو دیش بھر راجے رجواڑوں نوابوں سلطانوں تک تجارتی ترسیل آسان و محفوظ بنانے کے لئے اپنی فوج بھی قائم کی ہوئی تھی۔ کرشنا دیورایا (1509 تا 1529) راجہ وجئے نگر کی افواج کو تمام تر گھوڑے پہنچانے کی ذمہ داری بھی اہل نائطہ بھٹکل قبیلے ہی کے پاس رہنے سے اہل نائطہ اہل بھٹکل والوں کے ھند بھر مختلف راجوں رجواڑوں سے اچھے تعلقات سے۔ راجہ وجئے نگر کرشنا دیو رایا, بھمانی
بیجاپور حیدرآباد دکن سلطنت سمیت ھند میں بڑھتی ہوئی مسلم حکمرانی پس منظر آل نائطہ بھٹکل تجار کی بڑھتی فوجی طاقت سے سراسیمہ تھے۔ کسی بھی وقت, دکن بیجاپور کا کوئی بھی مسلم نواب بھٹکل اہل نائطہ فوج کو مدد پہنچائے اسکے لئے مزید خطرہ پیدا ہوسکتا تھا اس لئے ان دکنی نوابوں کو بھی گھوڑے ترسیل بند کرنے ہی کے لئے ساتویں صدی کے اوائل ہی میں ہوسپٹم آل نائطہ سلطنت یا چھاؤنی پر, حملہ آور ہوئے, بڑی تعداد میں آل نائطہ والوں شہید کیا تھا اور آل نائطہ سلطنت ہوسپٹنم ہی کو تہس نہس کر رکھ دیا تھا۔ہوسپٹم ہوناور سے اپنی جان بچاکر آل نائطہ قبیلے والے لوگ ہوناور کاروار ساحل سمندر کمٹہ ہلدی پور سمیت کئی علاقوں میں تو منکی کائکنی ٹینگنگنڈی,بھٹکل شیرور بیندور، بسرور، گنگولی، کنڈلور، ہلگیرے ، ناگور، اوپنے کوپ، کرمنجیشور، تونسے، اڈپی کے ساحل سمندر آباد ہوگئے تھے۔ ہہاں ہیرور عائشہ نساء کالج 21 سالانہ تقاریب میں اہل نائطہ قبیلہ کی تاریخ یہاں مفصل بیان کرنے کا کیا مقصد؟ دراصل جو قوم اپنے شاندار سنہرے ماضی کو یاد رکھے اپنے شاندار مستقبل کے تانے بانے بنتی یے تو پھر انہیں انکی کامیابی حصول سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ اس لئے ہماری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مختلف علاقوں میں آباد اہل نائطہ قبیلہ والوں کی نئی نسل تک شاندار تاریخ آل عرب آل نائطہ پہنچے۔
ھیرور یہ ہمارا دوسرا سفر تھا۔چونکہ آل عرب اہل ناطہ قبیلہ اپنے آبائی پیشہ تجارت سے منسلک رہنے کی وجہ سے مختلف نئے علاقوں میں دائمی ھجرت کرتے آئے ہیں ۔ لوگوں سے سنا تھا کہ نیشنل شاہراہ 17 کمٹہ ہوناور کے درمیان واقع ھلدی پور, زمانے قبل سکونت پذیر اہل نائطہ قبیلے والوں نے, تیس ایک سال قبل سپاری تجارت سے منسلک رہتے یہاں ھیرور میں مستقل سکونت اختیار کرلی ہے۔آج یہاں جب ہم صبح پہنچے تو
آل عرب آل نائطہ قبیلے کے گڑھ شہر بھٹکل سے 120 کلومیٹر دور سرسی سے 20 کلومیٹر قبل شاہراہ سے سیدھے ہاتھ پر 11کلومیٹر اندر, تیس چالیس ال نائطہ برادری و سو دیڑھ سو مسلمانوں کے گھروں پر مشتمل چھوٹی سے بستی ھیرور میں جامع مسجد کے متصل , مستورات کے لئے چھوٹی سے عمارت باوجود اتنا شاندار کلیہ یا کالج دیکھ کر ازحد مسرت ہوئی۔ سب سے اہم ان علاقوں کے آل نائطہ مسلمانون نے, اپنے جد امجد آل عرب کے سلف و صالحین کے تفکر سلفی نظریہ یا اہل حدیث تفکر کو پورے اخلاص کے ساتھ تھامے ہوئے سپاری پھل تجارتی لیں دین سے منسلک عزت و افتخار والی زندگی شان سے جی رہے ہیں۔ بھٹکل سے اس جلسہ کی شرکت کے لئے تشریف لائے چار رکنی وفد کو,آل بھٹکل ہی کی طرح سفید لنگی بردار بھائیوں نے, نہ صرف استقبال کیا بلکہ بھٹکلی اہل نائطہ کھان پان مٹن و بیف کھورمہ سالن کے ساتھ خالص نائطی "اوڑ”و پراٹھوں پر مشتمل بقدر ادام نہیں بلکہ بقدر گودام ناشتہ سے استقبال کیا گیا سب سے پہلے پیٹ بھر ناشتہ میں اہل نائطہ قوم کا زمانے قبل کا اب بھٹکل معاشرے میں تقریبا” معدوم سا ہوگیا جنوب ھند والی اٹلی ناشتے سے مماثلت رکھتا ناشتہ "اوڑ” گوشت کھورمے کے ساتھ کھانے ملنے نے ہم بھٹکلیوں کو بچپن کے کھائے ناشتوں کی یاد تازہ کردی تھی۔ دوپہر کھانے میں عربی اسٹائیل کاخوشبودار پلاؤ, خوشخا گوشت خورمے کے ساتھ مرد و نساء پر مشتمل چھ سات سو کے مجمع کبیر کو, بہترین انداز پروستے عمل نے, آل نائطہ قبیلے کی مہمان نوازی وصف کو بھی اظہر من الشمس کی طرح واضح کردیاہے ۔سب سے اہم اج کے اس تقریب کے مہمان خصوصی شیخ عبد القدیر عمری حفظہ اللہ نے, جہاں اسلامی خطوط نساء تعلیم تربیت پر, بعد محشر جنت میں لیجانے والی یا جنت کامستحق بنانے والی نساء کے اقدار پر احادیث کی روشنی مدلل شعلہ بیان تقریر میں, بہت اچھے نکات جہاں کہے اور سمجھائے وہیں پر نساء تعلیم و تربیت اہمیت پر چند باتیں کہتے ہوئے جب ایسے نساء مدارس و کلیات کو مدد و نصرت کئے اپنی آخرت سنوارنے کی بات اپنی طرف سے مجمع کے سامنے رکھی تو حضرت شیخ عبد القدیر حفظہ اللہ کے امداد دینے کہے جملوں کو مختلف علاقوں سے آئے مہمانان جلسہ اس عائشہ کالج کو بھی عطیات کی ضرورت کے پیشن نظر امداد کی درخواست کی گئی ہے, نا سمجھیں اسلئے منتظمین مدرسہ کی طرف سے نظامتی کلمات دوران اس بات کو حاضرین جلسہ کے روبرو جس بہتر انداز یہ کہتے ہوئے کہ 21 سال قبل اس مدرسہ کی شروعات کے وقت ہی جو عہد کیا گیا تھا کہ مدرسے کے حسن انتظام کے لئے تمام تر اخراجات ھیرور ساکن تجار نائطہ ہی برداشت کریں گے اور الحمد للہ ان ایکیس سالوں نے اپنے عہد پر قائم بھی رہنے پاک۔پروردگار نے مدد بھی کی ہے اپنے اداروں کے حسن انتظام خود برادری کے تاجر افراد ہی سنبھالنے والا یہ وصف خاص بھی, ھیرور نائطہ آل عرب برداری کے وصف خاص درشانے کافی لگتا ہے۔
دس بجے صبح باپردہ طالبات کا غائبانہ تقریری پروگرام شروع ہوا جس میں طالبات نے نہایت شستہ اردو انگرئزی کھڑا اور عربی زبان تقریریں کرتے ہوئے حاضرین جلسہ کو محضوض کیا۔ طالبات کا پروگرام معاشرہ کے جدت پسند ترقی پزیت بے پردگی سقم کی طرف اشارہ کرتے نہایت خوبصورت انداز دو طالبات کے آپسی مکالمہ کی شکل خوبصورت انداز پیش کیا گیا
شیخ ابوالفضل عمری صدر مرکز اہلحدیث کاروار نے مختصرا” مہمان خصوصی تقریر سے پہلےچندنکات پر مشتمل صدارتی تقریر کی
اس کے بعد اس سیشن کے اختتام پر جھارکھنڈ سے خصوصی مہمان کے طور دعوت دئیے بلائے گئے شعلہ بئان مقرر شیخ محترم پرویز عبدالکبیر صفاوی حفظہ اللہ نے پرمغز ایک ساعتی تقریر سے حاضریں اجلاس کو محظوظ کیا اس کے بعد ایسے ہنگامی مصروفیت سے لبریز مواقع پر صلاة ظہر و عصر جمع تقدیم باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے ایک عمدہ سنت رسولﷺ کو مسلم معاشرے سے متعارف کیا
ظہرانے کے بعد تین بجے دوسرا سیشن شروع ہوا مہمان خصوصی کے طور آج کے اجلاس میں اترپردیش سنت کبیر سے تشریف لائے شیخ محمد جعفر انوار الحق ھندی حفظہ اللہ نے اہل نائطہ قبیلہ والوں کو چھوڑ باقی مسلم امہ میں آپنے آس پاس والے ھندو معاشرے سے عود کر آئے اللہ کے رسول محمدﷺ نے جس نکاح شادی کو ہم مسلم امہ کے لئے آسان تر کردیا تھا ہم نام نہاد مسلمان و علماء کرام نے اسی نکاح و شادی کو غریب و مفلوک حال مزدور پیشہ مسلمانوں کے لئے مشکل تر کردیئے جاتے, مسلم کنواری بچیوں کے لئے, سنگھی ھندو لؤٹریب کا شکار بنتے انہیں لقمہ تر بنادیا ہے۔ اس موضوع پر حقائق و احادیث کی روشنی مدلل خوب تر نکات پر مشتمل تقریر کی۔ عائشہ کالج طالبات درمیان امتیازی کامیاب طالبات اکو انکے والدین یا سرہرست معرفت انعامات تقسیم کئے گئے۔ اور شام سوا چھ بجے کے قریب پندرہ منٹ وفقاتی سوال جواب سیشن بعد جلسہ بخیر و خوبی برخاست ہوا۔ وما علینا الا البلاغ

