
تم مجھے یوں ہرا نہ پاؤ گے۔۔۔۔
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
پچھلے ڈیڑھ ماہ سے میں لگاتار بین الاقوامی، خصوصاً ایران جنگ پر ہی لکھ رہا ہوں، حالانکہ ملک کے اندر بھی مستقل ایسے معاملات درپیش ہیں جن پر فوری خامہفرسائی ضروری ہے۔ مگر خطے کے حالات اس قدر مخدوش اور اہم ہیں کہ ادھر سے نظر ہی نہیں ہٹتی۔ گجرات میں یکساں سول کوڈ کے نام پر ہندو کوڈلاگو کرنے کا قانون بنانا۔ مردم شماری کا آغاز، اور اس کے ساتھ ہی پارلیمانی و اسمبلی سیٹوں میں اضافہ اور نئی حلقہ بندی کی تیاری، ملک کی مختلف ریاستوں میں جاری ووٹر لسٹوں کی ازسرِنو ترتیب۔یہ سب نہایت اہم موضوعات ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ویسے بھی انتخابی تجزیہ اور تبصرہ میرا پسندیدہ موضوع ہے۔ آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری نہایت اہم ریاستیں ہیں جن کا ایک معروضی تجزیہ ہونا چاہیے۔اس دوران انتخابات کا کوئی تفصیلی تجزیہ کرنے کا موقع تو نہیں ملا، لیکن میڈیا اور کچھ زمینی روابط کے ذریعے اجمالی طور پر اتنا اندازہ ضرور ہو رہا ہے کہ کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ ویسے بھی 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد ملک کے مختلف سماجی طبقات بی جے پی اور غیر بی جے پی کے خیموں میں اس قدر واضح طور پر تقسیم ہو چکے ہیں کہ اب انتخابات میں کسی مداخلت سے زیادہ کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ مقامی سیاسی جماعتوں کی مصلحتیں، ضرورتیں اور حکمتیں ہی کسی حد تک انتخابات میں ہار جیت کے فیصلوں پر اثر انداز ہو تی ہیں، اور پھر ایک دوسرے پر ووٹ کٹوا سیاست کا الزام لگا کر بری الذمہ ہو جاتی ہیں۔ سماجی اور مذہبی تنظیموں کا انتخابات پر اب کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ جب تک مقامی ،علاقائی اور موروثی سیاسی جماعتیں اپنی روش نہیں بدلیں گی، تب تک انتخابی نتائج میں کسی نمایاں تبدیلی کاامکان نظر نہیں آتا۔ ایسے میں تجزیہ کیا بھی جائے تو بھلا کیا فرق پڑنے والا ہے؟ لیکن ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی تھوپی گئی غیر قانونی اور بلاجواز جنگ سے مغربی ایشیا خصوصاً، اور پوری دنیا عموماً ضرور متاثر ہو رہی ہے۔
حالات روز بروز کشیدہ اور ہیجان انگیز ہوتے جا رہے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے کے دوران بھی کئی ایسے واقعات ہوئے جو مستقبل کے خدشات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ مثلاً اسی دوران اسرائیل پر ایرانی حملوں میں کافی شدت آئی ہے اور اسرائیل کے متعدد اہم شہروں اور تنصیبات پر کامیاب حملے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں خلیجی ممالک میں امریکی و اسرائیلی مفادات، تنصیبات اور فوجی اڈوں کو بھی کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ادھر امریکہ کے 17 سے زیادہ نہایت مہنگے اور مہلک ترین جنگی جہازوں کو بھی ایران نے زمین بوس کر دیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ بحرانی کیفیت میں ہیں اور اس عالمِ ہیجان میں ہذیان سرائی پر اتر آئے ہیں۔ پہلے 48 گھنٹے، پھر پانچ دن اور پھر 10 دن کی مبینہ مہلت دینے کے اعلانات کے باوجود حملے بھی کر رہے ہیں اور ایران میں زمینی فوج اتارنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ نیز ایران کو جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لیے مجبور کرنے کی کوشش میں لایعنی دھمکیاں دیتے ہوئے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بازاری گالیاں بھی دے رہے ہیں جس سے ساری دنیا میں خود ہی موضوعِ مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔
اس خلجان کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ایک طرف عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب اور قطر واضح طور پر اپنی سرزمین سے امریکی فوجی اڈوں سےایران پر حملہ کرنے کی شدید حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔ اور امریکہ سے اپنی سابقہ تجارتی اور عسکری معاہدات پر بھی ازسرِ نو غور کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ چین، روس اور اٹلی کے سربراہان کے ساتھ براہِ راست ملاقاتیں کر کے مستقبل کی نئی شیرازہ بندی کے اشارے دے رہے ہیں۔بحرین نے اگرچہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف قرارداد تو رکھ دی ، لیکن روس، چین اور فرانس نے ویٹو کر کے اسے ناکام بنا دیا۔ لیکن اس دوران بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ مزید برآں بحرین کے عوام بھی اپنی حکومت سے بغاوت کے لیے پر تول رہے ہیں، جو نہ صرف بحرین کی حکمران امارت کے لیے خطرناک ثابت ہوگی بلکہ دیگر خلیجی ممالک کے لوگوں کے لیے بھی ایک نظیر بن جائے گی۔چنانچہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات یہ نہیں چاہیں گے کہ بحرین میں اس قسم کی کوئی عوامی تحریک اٹھے، لہٰذا یہ سب مل کر بحرین پر دباؤ بنا رہے ہیں کہ ذرا دھیرے چلو۔ اس سب پر سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ ناٹو سمیت تقریباً پورا یورپ نہ صرف یہ کہ امریکہ کے ساتھ کھڑا نہیں ہو رہا بلکہ مخالفت بھی کر رہا ہے۔ تیسری جانب خود امریکی اور اسرائیلی عوام نے اپنی ہی حکومتوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔امریکہ کے تقریباً ہر بڑے شہر سمیت یورپی ممالک میں ایک کروڑ کے قریب عوام نے سڑکوں پر نکل کر اس جنگ کی مخالفت کی ہے۔ ایسے ہی مظاہرے اسرائیل میں بھی ہو رہے ہیں اور فرار ہونے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ان ممالک میں روزمرہ کی اشیائے ضروریہ اور تیل کے دام بھی اس ہفتے تیزی سے بڑھ گئے ہیں، جس سے وہاں کے عوام پر جنگ کا براہِ راست اثر پڑنا شروع ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کو عوامی پذیرائی میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور اس ہفتے محض 20 فیصد امریکی عوام کی حمایت رہ گئی ہے۔ یہ سب وہ حالات ہیں جن سے ٹرمپ اور نیتن یاہو پر جنونی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ ادھر ایران میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ روزانہ لاکھوں ایرانی سڑکوں پر نکل کر اپنی حکومت کی تائید اور جنگ کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ ادویات اور کھانے پینے کی قیمتیں مفت کے برابر کر دی گئی ہیں، جبکہ علاج و معالجے کے شعبے میں بھی نرخ کم یا مفت کر دیے گئے ہیں۔ دنیا بھر سے اربوں روپے کے عطیات ایران پہنچ رہے ہیں جن سے ان ضروریات کی تکمیل کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
خود ہمارے ملک سے ادویات سے بھرے ہوئے دو ہوائی جہاز ایران جا چکے ہیں، جبکہ تیسرے جہاز کی پرواز ممکن نہیں ہو سکی۔ عالمی سطح پر بھی ایرانی موقف کو بھرپور تائید حاصل ہو رہی ہے۔ عالمِ اسلام کو لمبے عرصے کے بعد اس طور پر اس جنگ نے متحد کیا ہے کہ جس کی مثال صدیوں سے نہیں دیکھی گئی تھی۔ ایران کا بڑے سے بڑا مخالف بھی آج دینی طور پر نہ سہی، لیکن سیاسی طور پر ایران کی حمایت کر رہا ہے۔ دنیا بھر کے غیر مسلمین بھی اسی طرح متحد ہوئے ہیں۔ گویا دنیا میں آج جو طاقتیں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف تھیں اور اپنی کمزوریوں کی وجہ سے خاموش تھیں، آج وہ سب لام بند ہو کر ایران کے ساتھ کھڑی ہیں۔
جنگ چاہے جتنے دن جاری رہے، لیکن جنگ کا نتیجہ تو سامنے آ ہی گیا ہے۔ اس قسم کی جنگوں میں شکست و فتح کو محض فوجی برتری یا شہری ڈھانچے کی تباہی کی بنیاد پر طے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ دو غیر مساوی قوتوں کے مابین معرکہ آرائی کا دورانیہ اور اس کی اخلاقی حمایت طے کرتی ہے کہ اصل فتح یاب کون ہوا۔ مثلاً اگر کربلا کی جنگ پر ہی نظر ڈالی جائے تو بادی النظر میں یزیدی لشکر نے امام حسینؓ کو شہید کر کے ان کے خانوادے کو قید کرنے میں تو کامیابی حاصل کی، لیکن دنیا میں آج تک کسی بھی زاویے سے یزیدی لشکر کو کبھی فاتح قرار نہیں دیا گیا۔ یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ حالیہ جنگ دراصل غزہ جیسے کمزور ترین ، دہائیوں سے اسرائیلی نرغے میں محصور اور زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم خطے پر تھوپی گئی جنگ کا ہی اگلا مرحلہ جو حماس کے زیر قیادت 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے اچانک حملے سے شروع ہوئی۔ اس حملے نے گویا جمود توڑنے کا کام کیا۔ اسرائیل پر حماس کے اس اچانک حملے کی توقع بھی دنیا کو بالکل اسی طرح نہیں تھی، جیسے یہ امید نہیں تھی کہ ایران امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کا مقابلہ برابری کی سطح پر کرے گا۔
حماس کے اس ایک حملے نے اسرائیل اور امریکہ دونوں کی نیند حرام کر دی تھی اور دونوں کی بند مٹھیاں کھل گئی تھیں۔ اور دنیا نے اچھی طرح جان لیا کہ دونوں ممالک کسی بھی طرح ناقابلِ تسخیر تو ہرگز نہیں ہیں۔ لاکھوں ٹن بارود غزہ پر برسا دینے کے باوجود یہ دونوں ممالک مل کےبھی آج تک نہ توحماس کو شکست دے سکے اور نہ ہی غزہ پر مکمل قبضہ کر سکے۔ بے یار و مددگار اہلِ غزہ کے ہاتھوں رسوا ہونے کے بعد ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ ایران پر حملہ کر کے اسے نیست و نابود کر دیں تاکہ اپنی رسوائی سے بچ سکیں، لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہو پا رہا۔سمجھا جا سکتا ہے کہ سنی ٖ غزہ اور شیعہ ایران کا ظالم بھی ایک ہے اور ظلم کی وجہ بھی ایک ہی ہے پھر مظلوم الگ الگ کیسے رہ سکتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ آج بھی مسلکوں کے خمار میں غلظاں ہیں ان کو چاہیئے کہ ذرا خلوص کے ساتھ رفع یدین کریں تاکہ آستیوں میں چھپے بت گر سکیں۔
اسی طرح جنوبی لبنان کو توکھنڈر تو بنا دیا گیا، مگر حزب اللہ کو شکست نہیں دی جا سکی۔ مغربی ایشیا میں اس پے در پے شکست نے دونوں کی وحشت زدگی اب ہیبت ناکی میں بدل رہی ہے۔ ایران پر مزید شدید حملوں کی دھمکی دراصل جوہری حملے کی دھمکی محسوس کی جا رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، اور اسرائیل کے کئی لیڈر تو کھل کر کہہ چکے ہیں کہ یہ ایٹمی ہتھیار میوزیم میں سجانے کے لیے نہیں بنائے گئے۔ ان بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اپنے مٹتے ہوئے وجود کو بچانے کے لیے آخری حربے کے طور پر ہیروشیما اور ناگاساکی کے طرز پر ایران پر ایٹمی حملہ کیا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جنونی قیادت اپنے حملوں کے خطرناک انجام کی پرواہ نہیں کرے گی، حالانکہ اس ایٹمی تابکاری سے خود اسرائیل کا ایک خطہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم ایران کے پڑوس میں موجود خلیجی اور عرب ممالک، بالخصوص ترکی، بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔
شاید عرب ممالک کو بھی اس خطرناک صورتِ حال کا بخوبی احساس ہے۔ اسی لیے وہ جنگ بندی کے خواہاں ہیں اور امریکہ سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔ کیا ایٹمی حملے کے بعد بھی امریکہ اور اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکیں گے ۔ جاپان پر کیے گئے ایٹمی حملوں کا انجام اسی سوال کا پیشگی جواب ہے۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں)




