دیگر

CONTENT فہرست

 

1. Preface (مقدمہ)
2. Introduction (تمہید)
3. Purpose & Objectives (اغراض و مقاصد)
4. Summary Introduction (اجمالی تعارف)

جغرافیہ و محلِ وقوع

5. Geographical Location (جغرافیائی محلِ وقوع)
6. Boundaries & Jurisdiction (حدود و چوحدی)
7. Social and Cultural Diversity

آبادی کا سماجی و تہذیبی تنوع
———

انفراسٹرکچر و سہولیات

8. Roads & Connectivity (سڑکیں)
9. Communication & Postal System (رسل و رسائل)
10. Telephone / Network System (ٹیلی فون نظام)
11. Irrigation System (آبپاشی کا نظام)
12. Electricity System (بجلی کا نظام)

ثقافت، فنون اور تہذیب

13. Culture & Traditions (ثقافت)
14. Education /Arts / Creative Activities ( تعلیم ، فنون)
15. Sports & Athletics (کھیل کود)
16. Religious Sites (مذہبی مقامات)
17. Cultural Fabric (تہذیبی ساخت)
18. Popular & Historical Places (مشہور مقامات)

سماجی، معاشی، سیاسی و مذہبی حالات

19. Social Conditions (سماجی حالات)
20. Economic Conditions (معاشی حالات)
21. Political Conditions (سیاسی حالات)
22. Religious Conditions (مذہبی حالات)
23. Medical & Health Conditions (طبّی حالات)

روزمرّہ زندگی

24. Dress / Clothing (پوشاک)
25. Food / Cuisine (خوراک)
26. Lifestyle & Living Standards / Language ( رہن سہن اور زبان )

اہم شخصیات، سفارشات، اختتام

27. Important Personalities (اہم شخصیات)
28. Usmani Recommendations (عثمانی سفارشات)
29. Concluding Remarks (اختتامی کلمات)
30. Advices , Remarks & Views.

( نصائح. مشورے . تبصرات . آراء )

**دیباچہ**

رِکھ

@@ لکیر، نشان @@

ہر دور کی اپنی ایک دھڑکن ہوتی ہے، اور ہر بستی کا اپنا ایک مزاج۔ لوگ آتے ہیں، جاتے ہیں، لیکن ان کے قدموں کے نشان رہ جاتے ہیں— وہ نشان جو وقت کی گرد میں کبھی دھندلے نہیں پڑتے۔ انہی نشانات کو محفوظ کرنے، ان کی معنویت کو سمجھنے اور ان کے پسِ منظر کو روشن کرنے کی کوشش ’رِکھ‘ کی صورت اس کتاب میں سمٹ آئی ہے۔

’’رِکھ‘‘ دراصل اُن لوگوں کی کہانی ہے جنہوں نے گنوّر کی مٹی میں اپنی محنت، محبت، علم، کردار، قربانی اور خدمت کے ایسے نقوش چھوڑے جنہیں آنے والا زمانہ احترام سے پڑھتا رہے گا۔ یہ کتاب محض خاکہ نگاری نہیں، بلکہ ایک فکری دستاویز ہے— جذبات، مشاہدے، تحقیق اور حقیقت کی ہم آہنگ آمیزش۔ اس میں وہ چہروں کی جھلکیاں ہیں جنہوں نے ایک چھوٹے سے گاؤں کو بڑے خیالات عطا کیے، وہ کردار ہیں جنہوں نے چراغ اپنے ہاتھوں سے جلائے اور دھواں دوسروں کو نہ دیا، وہ خاموش محسن ہیں جو شہرت کے مسافر نہیں، خدمت کے راہی تھے۔

اس دیباچے میں اس امر کا اعتراف ضروری ہے کہ ایک مؤرخ کا کام صرف لکھ دینا نہیں، بلکہ دیکھنے، سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت بھی مانگتا ہے۔ اسی لیے اس کتاب میں ہر خاکہ تحقیق کے عمل سے گزر کر تحریر ہوا ہے— کہانی کو حقیقت سے، اور حقیقت کو کردار سے جوڑنے کی کوشش کے ساتھ۔ کہیں استاد کی دانش ہے، کہیں بزرگ کی متانت، کہیں سیاسی فہم، کہیں مذہبی بصیرت، کہیں سماجی جدوجہد، اور کہیں وہ عام آدمی جس کی خاموشی بھی بسا اوقات ایک تاریخ ہوتی ہے۔

’’رِکھ‘‘ پڑھنے والا محسوس کرے گا کہ یہ کتاب صرف افراد کی کہانی نہیں، بلکہ گنوّر کی روحانی، علمی، سماجی اور تہذیبی تاریخ کا معتبر ورثہ ہے۔ یہ وہ نقوش ہیں جن کے بغیر کسی خطّے کی شناخت ادھوری رہ جاتی ہے۔ ہر خاکہ ایک چراغ ہے— کبھی محراب میں جلنے والا، کبھی دروازے پر لٹکتا ہوا، کبھی دل کے اندر روشن، اور کبھی ماضی کی راہگزر پر اجالا بکھیرتا ہوا۔

میری دلی آرزو ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے والا جہاں ان کرداروں سے محبت کرے، وہیں اپنی ذات کے اندر بھی ایک ’’رِکھ‘‘— ایک نشان— چھوڑ جانے کا جذبہ محسوس کرے۔ کیونکہ انسان کی اصل پہچان اس کے چھوڑے ہوئے نقوش میں ہوتی ہے، نہ کہ گزر جانے میں۔

آخر میں، میں اُن تمام بزرگوں، اساتذہ، محققوں اور اہلِ قلم کا ممنون ہوں جنہوں نے اس سفر میں رہنمائی اور ہمت بخشی۔ دعا ہے کہ یہ کاوش محض کتاب نہ رہے، بلکہ ایک تحریک بنے— اپنے علاقے، اپنی تہذیب، اپنے بزرگوں اور اپنے کرداروں کو پہچاننے کی تحریک۔

— مصنف
ڈاکٹر محمد نوشاد عثمانی
——————————————-

1. Preface (مقدمہ)

**مقدمہ**

رِکھ

( لکیر، نشان )

انسانی زندگی دراصل نشانات کی ایک طویل قطار ہے— کہیں مٹنے والی لکیریں، کہیں نہ مٹ سکنے والے زخم، کہیں یادوں کی نرمی اور کہیں تجربات کی صلابت۔ ہر انسان اپنے وجود کے سفر میں کوئی نہ کوئی ’’رِکھ‘‘ چھوڑ جاتا ہے؛ کبھی اپنے کردار سے، کبھی اپنے قلم سے، اور کبھی اپنے اخلاق سے۔ یہی رِکھ بعد میں تاریخ بنتی ہے، فہم و ادراک بنتی ہے، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن سمت کا تعین کرتی ہے۔

’’رِکھ‘‘ نام مجھے اس لیے موزوں محسوس ہوا کہ یہ کتاب محض خاکہ نگاری کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے، گاؤں، کرداروں اور شخصیات کی اُن پوشیدہ جہتوں کی بازیافت ہے جو اکثر روزمرہ کے شور میں دب جاتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگیوں نے اپنی سادگی، محنت، علم، دیانت اور خدمات سے ایسی لکیریں کھینچیں جنہیں وقت کا مسحور کن ہاتھ بھی مٹا نہیں سکا۔ ان کی شخصیتوں کی یہی لکیریں ہمارے اجتماعی شعور کا نقشہ بناتی ہیں۔

اس کتاب میں شامل ہر خاکہ ایک تحقیقاتی سفر کا حاصل ہے— گاؤں کے گلی کوچوں سے لے کر بزرگوں کی یادداشتوں تک، تاریخ کی تہوں سے لے کر موجودہ حالات کی روشنی تک۔ میں نے پوری کوشش کی ہے کہ ہر کردار کو اس کی اصل سچائی، اس کی اندرونی حرارت اور اس کی خارجی جدوجہد کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس میں نہ مبالغہ ہے، نہ غیر ضروری اختصار۔ یہ وہ ادب ہے جو مشاہدے، تحقیق، سماجی تناظر، جذباتی گہرائی اور اخلاقی بصیرت— سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔

’’رِکھ‘‘ دراصل گنوّر جیسے خطّے کی فکری، سماجی، علمی اور روحانی تاریخ کا ایک آئینہ ہے۔ یہ کتاب اُن عظیم اور خاموش لوگوں کو خراجِ تحسین ہے جو نئے چراغ جلانے کے بجائے خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے نام کے لیے نہیں، اپنے کام کے لیے جینا سیکھا۔ یہی کردار کسی بھی بستی کے اصل ستون ہوتے ہیں۔ یہی رِکھ— اصل نشان— تاریخ کو معتبر بناتے ہیں۔

میری خواہش ہے کہ یہ کتاب نہ صرف پڑھنے والے کے ذہن کو اُجالا دے، بلکہ اس کے دل میں یہ احساس بھی بیدار کرے کہ ہر انسان اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی بحیثیتِ انسان، بحیثیتِ فکر، بحیثیتِ بہادر کردار— ایک ’’رِکھ‘‘ ضرور چھوڑ سکتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ رِکھ روشنی کی ہو یا اندھیرے کی۔

میں اس عاجزانہ کاوش کو ان تمام محسنوں، محققوں، مشاہدہ نگاروں، بزرگوں اور معلموں کے نام کرتا ہوں جنہوں نے مجھے سکھایا کہ انسان کی اصل کامیابی دولت میں نہیں، نشان میں ہوتی ہے— یعنی وہ رِکھ جو اس کے گزر جانے کے بعد بھی باقی رہ جائے۔

دعا ہے کہ یہ کتاب پڑھنے والے کے دل تک اُترے، اس کی سوچ کو سنوارے، اور ہماری اجتماعی تاریخ کے چھپے ہوئے نقوش کو نئی زندگی عطا کرے۔

— مصنف
ڈاکٹڑ محمد نوشاد عثمانی

——————————————–

2. Introduction
**تمہید**

وقت… کیا ہے؟
ایک ٹھہرا ہوا سا سایہ، جو کبھی بولتا نہیں مگر سب کچھ سنبھالے رہتا ہے—
قدموں کی چاپیں، مٹی کی مہک، بزرگوں کی آنکھوں کی نمی، نسلوں کے بدلتے افکار، اور گاؤں کی پگڈنڈیوں پر بکھری ہوئی صداقتیں۔
یہ خاموش راوی نہ تھکتا ہے، نہ جھوٹ بولتا ہے؛
بس ہر منظر کو اپنی گود میں رکھ کر
ہمیں بہت آہستہ، بہت دھیرے سے سناتا رہتا ہے۔

گنَور کی یہ تحریر بھی اسی خامشی کی ایک روشن لکیر ہے—
نہ اس میں دعویٰ کی گرد ہے نہ فتوے کا غبار؛
یہ تو بس دل کی وہ کپکپاہٹ ہے
جو ایک مسافر اپنے دامن میں سمیٹ کر
وقت کی عدالت میں رکھ دیتا ہے۔
یہ مکمل تاریخ نہیں—یادداشت کا ایک سادہ سا چراغ ہے،
جس میں روشنی کم بھی ہو سکتی ہے، لرزش بھی،
مگر اس کی لو میں سچائی کی حرارت پوری طرح موجود ہے۔

جو بھی اس گاؤں سے محبت رکھتا ہے
وہ اس تحریر کا ہمسفر ہے۔
یہاں اختلاف کا دروازہ بند نہیں ہے بلکہ
کھلا ہوا ہے، لیکن اختلاف برائے تعمیر ہو ۔

**میں خود ہی تُجھے دیتا ہوں اختلاف کا حق
یہ حق اختلاف ہے ، مخالفت کا نہیں**

سچائی کبھی تنہائی میں پیدا نہیں ہوتی؛
وہ تو دلوں اور ذہنوں کی آمیزش سے نکھرتی ہے۔
جسے جو یاد ہو، جو دکھائی دے،
وہ اس چراغ میں اپنا دیا شامل کر دے—
روایت جب تک سانس لیتی رہے، قومیں زندہ رہتی ہیں ، مردہ قومیں روایت سے استفادہ نہیں کرتیں ۔ ایسے چراغ ایندھن رہتے ہوئے بُجھ جاتے ہیں ۔

یہ جھروکہ نئی نسل کے لیے رکھا گیا ہے ،
تاکہ وہ جان سکے کہ1975 سے 2025 تک
اس مٹی نے کیا دیکھا، کیا سہا، کیا سنبھالا
اور کیسے ہر آزمائش کے بعد
اپنے زخموں پر روشنی کی پٹّی باندھ کر آگے بڑھی۔

میری یہ سادہ کوشش
اہلِ گنَور کے دلوں تک اترے،
اور تاریخ کے سنہرے اوراق میں
ایک چھوٹا سا، مگر سچّا اضافہ بن جائے۔

ڈاکٹر محمد نوشاد عثمانی

——————————————–
3. Purpose & Objectives

اغراض و مقاصد

گنَور کی خاکہ نگاری پر مبنی اس کتاب رِکھ کا بنیادی مقصد صرف چند یادداشتیں جمع کرنا نہیں، بلکہ ایک پوری بستی کی فکری، تاریخی اور تہذیبی روح کو محفوظ کرنا ہے۔ اس کے اغراض و مقاصد درج ذیل ہیں:

1. تاریخی ورثے کا تحفظ:
گنَور کے گزشتہ پچاس برسوں میں پیش آنے والے واقعات، رجحانات، سماجی تبدیلیوں اور شخصیات کو ایک مستند تحریری شکل دینا، تاکہ آنے والی نسلیں اپنے ماضی سے جڑی رہیں۔

2. نسلوں کے درمیان علمی ربط پیدا کرنا:
بزرگوں کی یادوں، مشاہدات اور تجربات کو محفوظ کر کے نئی نسل کے سامنے ایسا آئینہ رکھنا جس میں وہ اپنے گاؤں کی فکری بنیادوں کو پہچان سکیں۔

3. جامع اور منظم معلومات فراہم کرنا:
گنَور کی جغرافیائی ساخت، تعلیمی پس منظر، معاشرتی ڈھانچے، مذہبی فضا اور سیاسی شعور کو مربوط انداز میں پیش کرنا، تاکہ مطالعہ کرنے والا پورے گاؤں کا ایک واضح نقشہ ذہن میں بنا سکے۔

4. تحقیقی روایت کو مستحکم کرنا:
واقعات اور حوالوں کو ترتیب دے کر ایک ایسی تحقیقی بنیاد فراہم کرنا جس پر مستقبل میں مزید تفصیلی تاریخ، مقالات یا تحقیقی منصوبے قائم ہو سکیں۔

5. تحریر کے اصل موضوعات کو نمایاں کرنا:
شخصیتوں، مقامات، اداروں اور اہم موڑوں کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ واضح کرنا کہ کن عوامل نے گنَور کی فکری اور سماجی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

6. غیر ضروری تفصیلات سے اجتناب:
مواد کے بے جا پھیلاؤ سے بچتے ہوئے صرف وہی نکات سامنے لانا جو تاریخی، سماجی یا ادبی اعتبار سے اہم اور قابلِ مطالعہ ہیں۔

7. ادبی روایت کا فروغ:
گنَور کے لسانی، ادبی اور فکری ذوق کو اس انداز میں پیش کرنا کہ یہ کتاب ادب، خاکہ نگاری اور تحقیق تینوں کا حسین امتزاج محسوس ہو۔

8. مقامی تاریخ کو قومی تاریخ سے جوڑنا:
گنَور کے معاشرتی و تعلیمی سفر کو اس تناظر میں رکھنا کہ چھوٹے علاقوں کی تاریخ بھی قومی فکری دھاروں میں کس طرح رنگ بھرتی ہے۔

9. تنقید اور اختلاف کی گنجائش پیدا کرنا:
قاری کو یہ دعوت دینا کہ وہ اپنی یادیں، مشاہدات اور اصلاحات پیش کرے، تاکہ یہ روایت جامد نہ رہے بلکہ مسلسل بہتر ہوتی رہے۔

10. قاری کے لیے آسان فہم مگر سنجیدہ رہنمائی:
مواد کو ایسی زبان اور ترتیب میں پیش کرنا جو ادبی حسن، فکری گہرائی اور تحقیق کی سنجیدگی—تینوں کا توازن برقرار رکھے۔

11. علمی امانت اور دیانت کا التزام:
اس کتاب میں ہر واقعہ، ہر حوالہ اور ہر مشاہدہ پوری سچائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ذاتی پسند یا ناپسند کو علم و تحقیق پر غالب نہیں آنے دیا گیا، تاکہ تحریر ایک معتبر دستاویز کے طور پر باقی رہے۔

12. مقامی تاریخ کی نئی تعبیر:
گنَور کی بستی کو محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ ایک تہذیبی اکائی سمجھتے ہوئے اس کے کردار، زبان، محاوروں اور روزمرّہ سماجی حرکات کو نئی تحقیق کے زاویے سے دیکھا گیا ہے۔

13. روایات اور جدیدیت کا توازن:
کتاب نہ صرف پرانی یادوں کو بیان کرتی ہے بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ گاؤں نے بدلتے زمانے کے ساتھ خود کو کیسے ہم آہنگ کیا۔ یوں گزشتہ نصف صدی کا ایک متوازن مطالعہ سامنے آتا ہے۔

14. کردار نگاری کا منفرد اسلوب:
شخصیات کو صرف تعارف کی سطح پر نہیں، بلکہ ان کے اخلاق، افکار، خدمات اور اثرات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، تاکہ قاری کو اصل سماجی ماحول کی جھلک محسوس ہو سکے۔

15. لسانی اور ادبی لطافت:
تحریر میں میر کی سادگی اور تاثیر، اور مولوی عبدالحق کی شستہ اردو کا رنگ شامل ہے—جس سے اس کا ادبی معیار بلند اور مطالعہ دلنشین ہو جاتا ہے۔

16. تاریخی ریکارڈ کا احیا:
وہ واقعات، نام، کوششیں اور ادارے جنہیں وقت کی گرد نے ڈھانپ دیا تھا، اس کتاب میں دوبارہ روشن کر دیے گئے ہیں—تاکہ اجتماعی حافظہ محفوظ رہے۔

17. مقامی سماج کا سماجی و نفسیاتی تجزیہ:
گاؤں کے رویّوں، قوتوں، کمزوریوں، رجحانات اور بدلتے اجتماعی مزاج پر نہایت نفسیاتی اور معاشرتی باریک بینی کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔

18. قاری کے ساتھ فکری مکالمہ:
یہ کتاب صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ قاری سے سوال کرتی ہے، سوچ کو جھنجھوڑتی ہے، اور اسے معاشرتی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے—ایسے جیسے مصنف اور قاری کے درمیان مسلسل ایک مکالمہ جاری ہو۔

19. ربط و تسلسل کی اعلیٰ مثال:
واقعات اور ابواب یوں مربوط ہیں کہ قاری بغیر کسی رکاوٹ کے پچاس برس کا سفر ایک ہی سانس میں طے کر لیتا ہے۔ نہ تکرار ہے، نہ غیر ضروری طوالت۔

20. گاؤں کے اجتماعی شعور کی ترجمانی:
کتاب ان لوگوں کو بھی آواز دیتی ہے جن کی خدمات خاموش تھیں مگر بنیاد مضبوط کرنے میں فیصلہ کن تھیں۔ یوں یہ صرف تاریخ نہیں—گنَور کے اجتماعی شعور کا عکس بھی ہے۔
——————————————–

4. Summary Introduction

$$$ اجمالی تعارف $$$

گنور انتظامی اعتبار سے سب ڈسٹرکٹ بسفی میں واقع ہے اور ضلع مدھوبنی کا حصہ ہے، جو اپنی تہذیبی وراثت کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔
گاؤں کا کل رقبہ 266 مربع کلومیٹر ہے، جبکہ مردم شماری 2011 کے مطابق یہاں کی مجموعی آبادی 4491 نفوس پر مشتمل ہے۔ 917 مکانات اس بات کا اشاریہ ہیں کہ یہ ایک گنجان مگر مربوط آبادی والا گاؤں ہے، جہاں خاندان، محلے اور خاندانی رشتے اب بھی اپنی پوری حرارت کے ساتھ زندہ ہیں۔

گنور کا سرکاری کوڈ 220391، جبکہ ریاست بہار کا کوڈ 10 ہے۔ یہ گاؤں گرام پنچایت نہاس روپاولی نارتھ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، جس کا پنچایتی کوڈ 97244 ہے۔ اسی طرح بسفی بلاک پنچایت (کوڈ 2434) اس کی انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بناتا ہے۔ (گوگل کے اعداد و شمار)

گاؤں سے قریب ترین قصبہ مدھوبنی ہے جو یہاں سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے—یہی قصبہ گنور کے لوگوں کی تجارت، تعلیم اور سرکاری امور کے لیے مرکزی مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔
شہر دربھنگہ یہاں سے تقریباً 32 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے جو گنور کے لوگوں کی تجارت، تعلیم، سرکاری امور، علاج و معالجہ اور رسل و رسائل کے لیے مرکزی مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

آبادی کا سماجی و تہذیبی تنوع

گنور کی منفرد پہچان اس کی سماجی تشکیل میں ہے۔ یہ گاؤں دو حصوں—مشرقی اور مغربی—پر مشتمل ہے:

1. مغربی گنور

یہ حصہ نسبتاً کم آبادی والا ہے اور یہاں بالخصوص غیر مسلم برہمن خاندان آباد ہیں۔ ان کی تعداد کم ہونے کے باوجود وہ اس خطے کی قدیم تہذیب، رسم و رواج اور برہمنائی وراثت کے امین ہیں۔ ان کے گھروں کی خاموش دیواریں صدیوں پرانی روایتوں کی سانسیں سنبھالے بیٹھی ہیں۔

2. مشرقی گنور

یہ گاؤں کا بڑا اور زیادہ گنجان حصہ ہے، جہاں مسلم برادری کے ساتھ ساتھ متعدد غیر مسلم ذاتیں آباد ہیں، جن میں پاسوان، بڑھئی، ٹھاکر، پاسی، داس، چمار، دوساد اور دیگر طبقات شامل ہیں۔
یہاں مذہبی و سماجی تنوع گنور کے اجتماعی حسن کو اور زیادہ روشن کرتا ہے۔ مسلمان اور دیگر برادریاں دستکاری، ہنر، کھیتی اور مزدوری کے شعبوں سے وابستہ رہ کر گنور کی معاشرتی ساخت مکمل کرتی ہیں۔
مشرق کی اس گہماگہمی میں رشتے، روایات، اور باہمی تعاون کی وہ گرمجوشی ہے جو دیہی زندگی کو ایک خاص جمال عطا کرتی ہے۔

گنور — ایک زندہ اور متحرک گاؤں

گنور صرف اعداد و شمار کا نام نہیں، بلکہ یہ ایسے لوگوں کی بستی ہے جن کی زندگیوں میں
روایت کا احترام، محبت اور بھائی چارہ،
مختلف طبقوں کے درمیان ہم آہنگی،
اور تعلیم، محنت اور معاشی جدوجہد کی کہانی—
سب کچھ ایک ساتھ رواں دواں ہے۔

یہ گاؤں اپنی حسنِ معاشرت، مہمان نوازی، مذہبی رواداری، محبت بھرے لہجوں اور دیہاتی سادگی کے باعث آج بھی دلوں کے انتہائی قریب ہے۔
یہاں کی پگڈنڈیاں صرف مٹی کے راستے نہیں بلکہ برسوں کے بھروسے، کہانیوں اور تعلقات کا سفر بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔

گنور کی فضا میں ایک ایسی کشش ہے جو آدمی کو اس کی جڑوں تک واپس لے جاتی ہے—
وہ جڑیں جو محبت سے سیراب ہوں،
روایت سے مضبوط ہوں،
اور انسانیت کی حرارت سے ہمیشہ زندہ رہیں۔

یہی گنور کا حسن ہے—
زندہ، روشن، نرم، سچا،
اور ہر دل میں اتر جانے والا۔

اعدادی شکل و شہابت
ذیل میں سرکاری مردم شماری 2011 (Census of India) اور معتبر سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر گنور (Genaur) گاؤں، جو بسفی سب ڈسٹرکٹ، مدھوبنی ضلع، بہار، ہندوستان میں واقع ہے، تاریخی حیثیت اور اہمیت کے ساتھ سرکاری اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں:

📊 گنور – سرکاری مردم شماری 2011 (Census 2011) کے مطابق اعداد و شمار

📍 گاؤں کی بنیادی معلومات

گاؤں کا نام: گنور (Genaur)

گاؤں کوڈ (Census Village Code): 220391

سب ڈسٹرکٹ (تحصیل): بسفی (Bisfi)

ضلع: مدھوبنی (Madhubani)

ریاست: بہار (Bihar)

پوسٹل کوڈ: 847223

کل جغرافیائی رقبہ: 266.13 ہیکٹر (2.66 کلومیٹر²)

 

👨‍👩‍👧 آبادی (Population)

تفصیل اعداد و شمار (2011)

کل آبادی 4,491 افراد
مرد 2,344
خواتین 2,147
جنس تناسب (Sex Ratio) 916 خواتین/1000 مرد
0–6 سال کی آبادی 863 بچے
بچوں کا جنس تناسب 939 لڑکیاں/1000 لڑکے
گھرانے (Households) 917

🔎 یہ آبادی کل دیہی ہے اور ضلع مدھوبنی کی مجموعی آبادی اور ساخت میں حصہ ڈالتی ہے۔

📚 تعلیم (Literacy)

طبقہ شرح (%)

مجموعی خواندگی 66.84%
مرد خواندگی 72.56%
خواتین خواندگی 60.56%

📌 گنور کی تعلیم کی شرح خاصی بہتر ہے مدھوبنی ضلع کے اوسط کے مقابلے میں، جو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عام طور پر کم ہوتی ہے۔

🧑‍🌾 نسلی گروہ (Caste Data)

گروہ آبادی فیصد

Scheduled Castes (SC) 428 ~9.53%
Scheduled Tribes (ST) 5 ~0.11%

یہ سرکاری درج نسلی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گنور میں مختلف سماجی گروہوں کی نمائندگی ہے جیسا کہ بھارتی دستور میں تعین شدہ ہے۔

💼 کام اور معیشت (Workforce)

گاؤں کی کل ورک فورس تقریباً 1,100 افراد ہے، یعنی تقریباً 24.5% پوری آبادی۔

زیادہ تر لوگ پائیدار روزگار (Main Work) میں شامل ہیں (93.4%)، جن میں کسان (cultivators) اور زراعتی مزدور اہم ہیں۔

یہ گاؤں کی زرعی معیشت کا سرکاری عکس پیش کرتا ہے جو دیہی بہار میں غالب ہے۔

📜 تاریخی و سماجی اہمیت (سرکاری پس منظر سے)

🏞️ مدھوبنی ضلع اور گنور کا تاریخی تناظر

مدھوبنی ضلع ہندوستان کے تاریخی مِتھِلا ثقافتی علاقے میں واقع ہے، جو قدیم تہذیب، ادب، روایات، اور علمی تاریخ کے اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے۔

گنور جیسا گاؤں اس ثقافتی اور سماجی تشکیل کے بنیادی اکائی کے طور پر شمار ہوتا ہے، جہاں زراعت، تعلیم، سماجی ڈھانچہ، اور لوک روایتیں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

2011 Census کے اعداد و شمار دیہی ترقی، خواندگی، صنفی ساخت، اور ورک فورس کی خصوصیات کے حوالہ سے گنور کی ترقی و چیلنجز کو ظاہر کرتے ہیں۔

 

[22/02, 10:28 am] Akram Chacha Kolkata: 5. Geographical Location

جغرافیائی محلِ وقوع

تقریباً 26 ڈگری شمالی عرض البلد اور 86 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع یہ خطہ، شمالی بہار کی زرخیز مٹی اور
سرسبز میدانوں کے بیچ اپنی مخصوص شناخت رکھتا ہے۔ یہ مقام دربھنگہ شہر سے تقریباً بتیس کلومیٹر شمالِ کی
سمت ایک ایسی نرم اور مسلسل مسافت پر پھیلا ہوا ہے جہاں شہروں کا شور آہستہ آہستہ دھیمے
دیہی سکوت میں تحلیل ہوتا چلا جاتا ہے۔

اور جب نظر مشرق کی طرف بڑھتی ہے تو ضلع مدھوبنی کے صدر مقام سے قریب پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر
یہی گنور ایک ایسی خاموش مگر باوقار موجودگی کے ساتھ دکھائی دیتا ہے جیسے وقت نے اسے
اپنی متوازن گود میں جگہ دے رکھی ہو۔

جغرافیے کی زبان میں یہ جگہ اگرچہ صرف چند اعداد و خطوط کا مجموعہ ہے،
لیکن حقیقت میں یہ ایک مکمل ثقافتی فضا، ہزاروں دعاؤں، صدیوں پرانی روایتوں، اور
زمین سے جڑے ہوئے انسانوں کی کہانی اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔

——————————————–
6. Boundaries & Jurisdiction

چو حدی

گنور کی سرحدیں اس کی جغرافیائی شناخت ہی نہیں بلکہ اس کی تہذیبی وسعت اور تمدنی پھیلاؤ کی گواہ بھی ہیں۔
مغرب کی سمت پرسؤنی اپنے قدیم کھیتوں اور روایتوں کے ساتھ گنور کے دروازے پر کھڑی محسوس ہوتی ہے،
جبکہ مشرق میں سمری کی زرخیز زمینیں اس بستی کی طرف ایک نرم مگر مضبوط رشتہ قائم رکھتی ہیں۔

جنوب میں روپوھلی اور نہسا کی پرسکون بستیوں کا سلسلہ گنور کے جغرافیے کو توازن عطا کرتا ہے؛
اور شمال میں بجراہا کی ٹھنڈی ہواؤں اور خاموش آہٹوں سے مل کر یہ پورا خطہ ایک ایسا حلقہ بناتا ہے
جس میں زمینی کشادگی کے ساتھ تہذیبی ہم آہنگی بھی صاف محسوس ہوتی ہے۔

یوں گنور کی چوحدی صرف چار سمتوں کی معمولی لکیر نہیں، بلکہ ایک ایسا جغرافیائی دائرہ ہے
جو گاؤں کی قدامت، ثقافت اور روزمرہ زندگی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

——————————————–

7. Social and Cultural Diversity

آبادی کا سماجی و تہذیبی تنوع

گنور کی منفرد پہچان اس کی سماجی تشکیل میں ہے۔ یہ گاؤں دو حصوں—مشرقی اور مغربی—پر مشتمل ہے:

1. مغربی گنور

یہ حصہ نسبتاً کم آبادی والا ہے اور یہاں بالخصوص غیر مسلم برہمن خاندان آباد ہیں۔ ان کی تعداد کم ہونے کے باوجود وہ اس خطے کی قدیم تہذیب، رسم و رواج اور برہمنائی وراثت کے امین ہیں۔

2. مشرقی گنور

یہ گاؤں کا بڑا اور زیادہ گنجان حصہ ہے، جہاں مسلم برادری کے ساتھ ساتھ متعدد غیر مسلم ذاتیں آباد ہیں، جن میں پاسوان، بڑھئی، ٹھاکر، پاسی، داس، چمار، دوساد اور دیگر طبقات شامل ہیں۔
یہاں مذہبی و سماجی تنوع گنور کے اجتماعی حسن کو اور زیادہ روشن کرتا ہے۔ مسلمان و دیگر برادریاں دستکاری، ہنر، کھیتی اور مزدوری کے شعبوں سے وابستہ رہ کر گنور کی معاشرتی ساخت مکمل کرتی ہیں۔

گنور — ایک زندہ اور متحرک گاؤں

گنور صرف اعداد و شمار کا نام نہیں، بلکہ یہ ایسے لوگوں کی بستی ہے جن کی زندگیوں میں:

روایت کا احترام ۔ محبت اور بھائی چارہ ۔
مختلف طبقوں کے درمیان ہم آہنگی ۔ اور
تعلیم، محنت اور معاشی جدوجہد کی کہانی
سب کچھ ایک ساتھ رواں دواں ہے۔

یہ گاؤں اپنی حسنِ معاشرت، مہمان نوازی، مذہبی رواداری، اور دیہاتی سادگی کے باعث آج بھی دلوں کے قریب ہے۔
——————————————–

گنور کی آب و ہوا

(ضلع مدھوبنی، بہار کے تناظر میں)

گنور کی آب و ہوا بنیادی طور پر مرطوب ذیلی اُستوائی (Humid Subtropical Climate) کہلاتی ہے، جو پورے ضلع مدھوبنی بلکہ شمالی بہار کے بیشتر علاقوں پر محیط ہے۔ یہاں موسموں کی گردش واضح، شدت کے ساتھ اور قدرتی توازن کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ سال کو عموماً چار نمایاں موسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
گرمی، برسات، خزاں اور سردی۔

1. موسمِ گرما (مارچ تا جون)

گنور میں موسمِ گرما نسبتاً طویل اور شدید ہوتا ہے۔

مارچ کے وسط سے گرمی کا آغاز ہو جاتا ہے

مئی اور جون سب سے زیادہ گرم مہینے شمار ہوتے ہیں

درجۂ حرارت عموماً:

کم از کم: 25° سینٹی گریڈ

زیادہ سے زیادہ: 40° تا 45° سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے

اس دوران:

گرم اور خشک ہوائیں (لو) چلتی ہیں

دوپہر کے وقت شدید تپش ہوتی ہے

دیہی آبادی میں تالاب، کنویں اور ندی نالے پانی کا اہم ذریعہ بنتے ہیں

یہ موسم محنت کش طبقے، کسانوں اور مزدوروں کے لیے خاصا کٹھن ہوتا ہے، تاہم یہی گرمی زمین کو برسات کے لیے تیار بھی کرتی ہے۔

2. موسمِ برسات (جون کے آخر تا ستمبر)

گنور کی آب و ہوا کا سب سے اہم اور زندگی بخش موسم برسات ہے۔
یہاں بارش کا دارومدار جنوب مغربی مون سون پر ہوتا ہے۔

خصوصیات:

بارش کا آغاز عموماً جون کے آخری ہفتے میں

جولائی اور اگست میں سب سے زیادہ بارش

سالانہ اوسط بارش: 1000 تا 1200 ملی میٹر

برسات کے اثرات:

کھیتوں میں دھان، مکئی اور دالوں کی کاشت

ندی نالوں اور نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانا

بعض اوقات سیلابی کیفیت، خاص طور پر کم اونچائی والے علاقوں میں

یہ موسم اگرچہ بیماریوں اور نمی میں اضافہ لاتا ہے، مگر زرعی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

3. موسمِ خزاں (اکتوبر تا نومبر)

برسات کے بعد گنور میں خزاں کا معتدل اور خوشگوار موسم آتا ہے۔

اہم خصوصیات:

بارشوں میں واضح کمی

آسمان صاف اور فضا خوشگوار

درجۂ حرارت: 20° تا 30° سینٹی گریڈ

یہ موسم:

فصلوں کے پکنے کا وقت

تہواروں اور سماجی سرگرمیوں کا دور

صحت کے اعتبار سے سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے

دیہی زندگی میں اس موسم کو سکون، خوشحالی اور اطمینان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

4. موسمِ سرما (دسمبر تا فروری)

گنور میں سردی کا موسم مختصر مگر مؤثر ہوتا ہے۔

درجۂ حرارت:

کم از کم: 5° تا 8° سینٹی گریڈ

زیادہ سے زیادہ: 18° تا 22° سینٹی گریڈ

نمایاں خصوصیات:

صبح اور رات میں کہر اور دھند

ٹھنڈی ہوائیں

بعض اوقات سرد لہر (Cold Wave)

یہ موسم:

گندم، سرسوں اور سبزیوں کی کاشت کے لیے موزوں

دیہی علاقوں میں ایندھن، الاؤ اور گرم لباس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے

مجموعی موسمی اثرات

گنور کی آب و ہوا:

زرعی بنیادوں پر قائم ہے

یہاں کی معیشت، تہذیب اور روزمرہ زندگی موسموں سے گہرا تعلق رکھتی ہے

گرمی محنت سکھاتی ہے، برسات امید جگاتی ہے، خزاں سکون دیتی ہے اور سردی برداشت

یہی موسمی تنوع گنور کو ایک زندہ، متحرک اور قدرتی توازن والا گاؤں بناتا ہے، جہاں انسان اور فطرت صدیوں سے باہم ہم آہنگ چلے آ رہے ہیں۔

——————————————-

**گنور کی فصلیں

(موسم کے اعتبار سے)**

گنور کی معیشت کی بنیاد زراعت پر قائم ہے۔ یہاں کی زمین زیادہ تر ہموار، زرخیز اور آبی تلچھٹ (Alluvial Soil) پر مشتمل ہے، جو صدیوں سے دریائی اثرات کے باعث فصلوں کے لیے موزوں چلی آ رہی ہے۔ گنور میں کھیتی کا پورا نظام موسم، بارش اور دستی آبپاشی کے گرد گھومتا ہے۔

گنور میں عملی طور پر کھیتی کو تین موسمی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے:

1. کفریب (برسات کی فصلیں)

2. ربیع (سردیوں کی فصلیں)

3. زید (گرمی کی درمیانی فصلیں)

۱۔ کفریب کی فصلیں (برسات — جون تا اکتوبر)

کفریب گنور کا سب سے اہم زرعی موسم ہے، کیونکہ یہ براہِ راست مون سون کی بارشوں پر منحصر ہوتا ہے۔ زیادہ تر زمین اسی موسم میں زیرِ کاشت آتی ہے۔

اہم کفریب فصلیں

🌾 دھان (چاول)

گنور کی سب سے بڑی اور بنیادی فصل

برسات کے آغاز کے ساتھ نرسری تیار کی جاتی ہے

جولائی میں پنیری کی روپائی

کٹائی: اکتوبر–نومبر

گھریلو خوراک اور مقامی معیشت دونوں کے لیے مرکزی حیثیت

🌽 مکئی

نسبتاً اونچی اور نکاس والی زمینوں پر

بارش کے ابتدائی مرحلے میں بوائی

انسانی خوراک اور مویشیوں کے چارے دونوں کے لیے استعمال

🌱 دالیں (ارہر، مونگ وغیرہ)

دھان کے ساتھ یا علیحدہ قطعات میں

زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے میں مددگار

گھریلو غذائی ضرورت پوری کرتی ہیں

🥬 برسات کی سبزیاں

لوکی، کدو، بھنڈی، بینگن وغیرہ

زیادہ تر گھریلو یا مقامی بازار کے لیے

بارش اور نمی میں بہتر نشوونما

کفریب موسم گنور کے کسان کے لیے امید، محنت اور سب سے زیادہ مشقت کا موسم ہے۔

۲۔ ربیع کی فصلیں (سردیاں — اکتوبر تا اپریل)

ربیع کا موسم برسات کے بعد آتا ہے۔ اس وقت زمین میں موجود نمی اور محدود آبپاشی کے ذریعے فصلیں اگائی جاتی ہیں۔

اہم ربیع فصلیں

🌾 گندم

ربیع کی سب سے اہم فصل

بوائی: نومبر

کٹائی: مارچ–اپریل

گھریلو آٹے اور غذائی خود کفالت کا ذریعہ

🌼 سرسوں

تیل دار فصل

کم پانی میں اچھی پیداوار

دیہی گھریلو تیل کا اہم ذریعہ

🌱 مسور اور چنا

دالوں میں نمایاں

سرد موسم میں بہتر پیداوار

خوراک کے ساتھ مٹی کی صحت کے لیے مفید

🥔 آلو

محدود مگر اہم فصل

زیادہ محنت اور دیکھ بھال کی ضرورت

نقد آمدنی کا ذریعہ

ربیع کا موسم گنور میں نسبتاً پُرسکون سمجھا جاتا ہے، کیونکہ نہ شدید گرمی ہوتی ہے نہ مسلسل بارش۔

۳۔ زید کی فصلیں (گرمی — مارچ تا جون)

زید کا موسم ربیع اور کفریب کے درمیان کا وقفہ ہے۔ گنور میں یہ فصلیں صرف وہیں ممکن ہوتی ہیں جہاں:

کنواں

بورنگ

یا کسی اور ذریعۂ آبپاشی کی سہولت ہو

اہم زید فصلیں

🍉 تربوز اور خربوزہ

گرم موسم کی نمایاں فصلیں

مقامی بازار میں فوری فروخت

کسان کے لیے قلیل مدت میں نقد آمدنی

🥒 کھیرا، ککڑی، لوکی

گھریلو اور مقامی استعمال

پانی کی باقاعدہ فراہمی ضروری

🌱 مونگ

مختصر مدت کی دال

زمین کی زرخیزی میں اضافہ

زید کی فصلیں گنور میں محدود پیمانے پر ہیں، مگر محنت کے لحاظ سے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔

مجموعی جائزہ

گنور کی کھیتی:

موسم کے تابع

محنت کش کسان پر منحصر

بارش، سردی اور گرمی کے قدرتی توازن سے جڑی ہوئی

یہاں:

کفریب زندگی بخشتا ہے

ربیع غذائی استحکام دیتا ہے

زید محنت کا فوری ثمر دکھاتا ہے

یوں گنور کی فصلیں صرف زمین سے نہیں، بلکہ موسم، صبر اور کسان کے عرقِ پیشانی سے جنم لیتی ہیں۔
——————————————-

گنور کے پھل اور پھول

گنور کی آب و ہوا، زرخیز زمین اور موسمی تنوع نے یہاں پھلوں اور پھولوں کی محدود مگر مستحکم کاشت کو فروغ دیا ہے۔ اگرچہ گنور بڑے تجارتی باغبانی کا مرکز نہیں، تاہم گھریلو باغات، کھیتوں کے کناروں اور بستیوں کے اطراف پھلدار درخت اور پھولدار پودے دیہی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔

اوّل: گنور کے پھل

گنور میں پھلوں کی کاشت زیادہ تر قدرتی موسم، کم لاگت اور گھریلو ضرورت کے تحت کی جاتی ہے۔

🍋 آم

گنور کا سب سے نمایاں اور محبوب پھل

پھول (بور): فروری–مارچ

پھل: مئی–جون

گھریلو استعمال اور محدود فروخت

اکثر پرانے، روایتی درخت

🍌 کیلا

نشیبی اور نم زمین میں

سال بھر دستیاب

گھریلو غذائی ضرورت کا اہم ذریعہ

🍈 امرود

گھروں اور کھیتوں کے کناروں پر

سردیوں میں زیادہ دستیاب

کم دیکھ بھال میں بہتر پیداوار

🍋 لیموں

ہر صحن اور باغیچے کی عام پہچان

سال کے مختلف حصوں میں پھل

گھریلو استعمال میں خاص مقام

🥭 کٹہل (جیک فروٹ)

بڑے اور پرانے درخت

گرمیوں میں پھل

سبزی اور پھل دونوں صورتوں میں استعمال

🍇 پپیتا

مختصر مدت میں تیار ہونے والا پھل

گھریلو کاشت

سال بھر دستیاب

🍉 تربوز اور خربوزہ

گرمی (زید موسم) میں

کھیتوں میں عارضی کاشت

فوری نقد آمدنی کا ذریعہ

دوم: گنور کے پھول

گنور میں پھولوں کی کاشت زیادہ تر مذہبی، تہذیبی اور گھریلو ضرورتوں کے لیے ہوتی ہے۔

🌼 گیندا

سب سے عام اور کثرت سے اگایا جانے والا پھول

سال بھر، خاص طور پر سردیوں میں

مذہبی رسومات اور تقریبات میں استعمال

🌸 گلاب

گھریلو باغیچوں میں

خوشبو اور زیبائش کے لیے

محدود پیمانے پر کاشت

🌺 جوا (Hibiscus)

مندروں اور گھروں میں

مذہبی اہمیت

سال بھر کھلتا ہے

🌼 چمپا اور موتیا

خوشبو دار پھول

صحنوں اور راستوں کے کنارے

شام کے وقت مہک پھیلاتے ہیں

🌺 رنگون کریپر / مدھومالتی

بیل دار پھول

دیواروں اور آنگنوں کی زینت

موسمی خوبصورتی کا ذریعہ

موسمی تقسیم (خلاصہ)

موسم پھل پھول

گرمی آم، کیلا، کٹہل، تربوز جوا، چمپا
برسات کیلا، پپیتا گیندا، گلاب
سردی امرود، لیموں گیندا، موتیا

مجموعی جائزہ

گنور میں پھل اور پھول:

دیہی معیشت کا ضمنی سہارا

گھریلو خود کفالت کی علامت

تہذیبی اور مذہبی زندگی کا حصہ

یہاں کا ہر درخت اور ہر پھول منافع سے زیادہ ضرورت، روایت اور فطرت سے ہم آہنگی کی علامت ہے۔
——————————————–
[22/02, 10:32 am] Akram Chacha Kolkata: 8. Roads & Connectivity (سڑکیں)

 

گنور کی سڑکیں — ایک تاریخی، عمرانی اور تحقیقی جائزہ

تمہید

کسی بھی گاؤں یا بستی کی ترقی کی بنیاد اس کی سڑکوں اور راستوں پر استوار ہوتی ہے۔ سڑکیں نہ صرف نقل و حمل کا ذریعہ ہوتی ہیں بلکہ معاشی، سماجی اور تہذیبی ارتقا کا آئینہ بھی سمجھی جاتی ہیں۔ بہار کے ضلع مدھوبنی میں واقع گنور اس حوالے سے ایک منفرد اور عمیق تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ گنور کی سڑکوں کا سفر محض مٹی کے راستوں سے شروع ہو کر مضبوط، کشادہ اور باضابطہ تعمیر شدہ راستوں تک کا نہیں، بلکہ یہ تبدیلی پورے معاشرتی ارتقا اور ذہنی بیداری کی علامت ہے۔

ابتدائی دور—کچی راہیں، کچے خواب

گنور کی پرانی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ صدیوں تک یہاں آمد و رفت انتہائی محدود اور غیر منظم رہی۔ آبادی چونکہ کھیتوں اور چراگاہوں کے گرد پھیلی ہوئی تھی، اس وجہ سے گلیاں تنگ، پیچ دار اور موسمی حالات کے مطابق بدلتی رہتی تھیں۔ برسات کے موسم میں یہی راستے دلدل بن جاتے، خشک سالی میں گرد سے اَٹے رہتے اور سردیوں کی دھند میں مکمل اوجھل ہو جاتے۔

ان کچی راہوں پر سفر نہ صرف مشکل تھا بلکہ وقت طلب بھی۔ لوگ گھنٹوں پیدل چل کر قریبی بازاروں، تعلیمی مراکز یا طبّی امداد تک پہنچتے تھے۔ بیل گاڑی، تانگا اور چند خوشحال گھرانوں کی گھوڑا گاڑیاں ہی نسبتاً آسان سواری تھیں۔ ہاری، کسان اور مزدور طبقہ زیادہ تر پیدل ہی سفر پر مجبور رہتا تھا۔

قرب و بعد کا ادراک—گنور اور مدھوبنی کا رشتہ

مدھوبنی چونکہ گنور کا ضلعی مرکز ہے، اس لیے تاریخی طور پر دونوں کے درمیان فاصلہ ایک بڑا سماجی مسئلہ تھا۔ گنور کے لوگوں کو مدھوبنی تک جانے کے لیے بے شمار قدرتی اور مصنوعی رکاوٹوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ برساتی نالے، کچی پگڈنڈیاں، کھیتوں کے درمیان سے گزرتے راستے اور غیر ہموار زمین نے کئی دہائیوں تک سفر کو مشکل بنائے رکھا۔

عصرِ جدید کی شروعات—ترقی کی پہلی کرن

سن 1975 سے 1985 کے درمیان بہار میں ترقیاتی اسکیموں کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس کا اثر گنور تک بھی پہنچا۔ اسی زمانے میں پہلی مرتبہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سڑکوں کی پختہ تعمیر کا آغاز ہوا۔ گنور کو قریبی علاقوں سمری، پرسونی، نرسام، کلواڑی، ہتھاس، بسفی اور مدھوبنی سے جوڑنے کے لیے نئی راہیں بنیں۔

ان رابطہ سڑکوں نے نہ صرف لوگوں کے سفر کو آسان بنایا بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی نئی زندگی عطا کی۔ اناج، سبزیاں، مویشیات، خام زرعی پیداوار اور دستکاروں کے تیار کردہ سامان اب آسانی سے بازار تک پہنچنے لگا۔

پلوں کی تعمیر—معاشی گردش کا انقلاب

گنور کے اطراف میں چھوٹے برساتی نالوں اور چھوٹی ندیاں سفر کی سب سے بڑی رکاوٹ تھیں۔ کئی دہائیوں بعد جب پلوں کی تعمیر شروع ہوئی تو گویا گنور کے لوگوں نے پہلی مرتبہ حقیقی معنوں میں آزادیِ سفر کا مزہ چکھا۔ ان پلوں نے موسموں کی قید ختم کی، راستوں کو سال کے بارہ مہینے قابلِ استعمال بنایا اور خرید و فروخت، تعلیم اور صحت تک رسائی کو ممکن بنایا۔

اندرونی گلیوں کا بدلتا منظرنامہ

وقت کے ساتھ گنور کی اندرونی آبادیاں بھی تعمیر و ترقی کے سفر میں شامل ہو گئیں۔ تنگ گلیوں پر اینٹوں کا سولنگ، کھلے نالیوں کی جگہ پکی نالیاں، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور محلہ در محلہ نئی سڑکوں کا جال بچھایا گیا۔ اس نے دیہی طرزِ زندگی میں ایک غیر معمولی تبدیلی پیدا کی۔

آج گنور کے بیشتر علاقوں میں موٹر سائیکل، ای رکشہ، فور وہیلر اور چھوٹی کمرشل گاڑیاں آسانی سے گزر رہی ہیں، جو ماضی کے حالات میں ناقابلِ تصور تھا۔

تعلیم و صحت پر اثرات

سڑکوں کی بہتری نے گنور کے تعلیمی اور طبّی اداروں تک رسائی کو کہیں زیادہ آسان بنا دیا۔ اسکولوں میں بچوں کی حاضری میں اضافہ ہوا، اساتذہ اور طلبہ کو دور دراز علاقوں سے آنے میں مشکلات کم ہوئیں۔ اسپتالوں اور طبی مراکز تک راستے بہتر ہونے کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں علاج تک بروقت رسائی ممکن ہوئی۔

معاشی و تجارتی سرگرمیوں کا پھیلاؤ

سڑکوں کی مضبوطی نے مقامی معیشت کو نئی توانائی بخشی۔ اب سبزی منڈیاں، چھوٹے ہاٹ بازار، دودھ کی تجارت، زرعی مصنوعات کی ترسیل اور دستکاری کی اشیاء شہروں تک تیزی سے پہنچنے لگیں۔ وقت اور لاگت دونوں کی بچت نے گنور کے لوگوں کی مالی حالت بہتر بنانے میں مدد دی۔

جدید دور کے چیلنجز

اگرچہ گنور کی سڑکوں نے طویل سفر طے کیا ہے، لیکن موجودہ دور کے تقاضے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہیں۔ کئی سڑکیں اب بھی:

بارش کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں،

اندرونی گلیاں مزید کشادگی مانگتی ہیں،

مناسب ڈرینج سسٹم کی کمی کی وجہ سے سڑکیں جلد خراب ہو جاتی ہیں،

اسٹریٹ لائٹس کی عدم موجودگی میں رات کا سفر غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔

مستقبل کی ضرورت—پائیدار انفراسٹرکچر

گنور کی ترقی اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جب یہاں پائیدار، مضبوط، محفوظ اور سمارٹ انفراسٹرکچر تیار کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:

ہر محلے اور چوک تک پکی، کشادہ اور معیاری سڑکیں بنیں؛

جدید ڈرینج سسٹم تیار ہو؛

دیہی سطح پر سڑکوں کی مستقل مرمت کا نظام قائم ہو؛

نئی پلوں اور بائی پاس کی تعمیر کو ترجیح دی جائے؛

شمسی اسٹریٹ لائٹس کا جال بچھایا جائے؛

ٹرانسپورٹ پالیسیوں کو گاؤں کی ضرورت کے مطابق ڈیزائن کیا جائے۔

اختتامیہ

گنور کی سڑکیں اس کے ماضی کی جدوجہد، حال کی تبدیلی اور مستقبل کی امیدوں کا دروازہ ہیں۔ مٹی کی پگڈنڈیوں سے لے کر مضبوط پختہ راستوں تک کا سفر گنور کے لوگوں کی محنت، بیداری اور اجتماعی شعور کا زندہ ثبوت ہے۔ مگر ترقی کا سفر جاری رہتا ہے۔ گنور اسی وقت حقیقی خوشحالی کی منزل کو چھو سکتا ہے جب اس کی سڑکیں جدید دور کی ضرورتوں کے مطابق مزید مضبوط، ترقی یافتہ اور دیرپا ہوں۔
——————————————-

9. Transportation . Communication & Postal System
( سواری ۔ رسل و رسائل۔ اور مواصلاتی نظام )

 

گنور کا سواری نظام (1975–2025)

تمدّن کے مطالعے میں سواری نظام کو کسی بھی سماج کی معاشرت، تجارت اور تہذیب کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ گنور کی تاریخ بھی اسی اصول کی شاہد ہے، جہاں سواریوں کا ارتقا محض گاڑیوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ گاؤں کے فکری اور معاشی سفر کی علامت ہے۔

1. ابتدائی عہد — بیل گاڑی، تانگہ اور گھوڑ سواری

1975 سے پہلے گنور کی زندگی بیل گاڑی، تانگہ، یکہ اور ٹم ٹم کے گرد گھومتی تھی۔ زرعی بوجھ، شادی بیاہ، میلوں اور قصبہ جاتی سفر سب انہی پر انجام پاتے تھے۔
اسی عہد میں گھوڑ سواری کا آغاز جناب خلیفہ صاحب سے ہوا، جسے بعد میں ودود صاحب نے مضبوطی سے برقرار رکھا۔ یہ سواری اُس دور کی شان اور امتیاز تھی۔

2. سائیکل کا دور — رفتار کی پہلی جھلک (1975–1985)

1975 کے بعد گنور کی سماجی زندگی میں سب سے نمایاں تبدیلی سائیکل کی شکل میں آئی۔
گاؤں کی پہلی سائیکل محترم محمد یعقوب صاحب نے خریدی، اور اس نئی رفتار نے نوجوانوں میں علم، تجارت اور روزمرہ کاموں کی راہیں آسان کر دیں۔
اسی زمانے میں جناب لعل محمد خان صاحب نے سب سے طویل مسافتیں سائیکل پر طے کر کے گاؤں کی روایت میں ایک مستقل مقام حاصل کیا۔

3. عوامی سفر کا نظام — جیپ، بس اور رکشہ (1985–2000)

1985 کے بعد گنور سے قصبوں تک سفر کے لیے جیپیں استعمال ہونے لگیں۔
1990 کے آس پاس بس سروس نے تعلیم، علاج اور روزگار تک رسائی کو مضبوط کیا۔
اسی عرصے میں سائیکل رکشہ کا استعمال بڑھا، جس میں سب سے نمایاں خدمت چلتر پاسوان نے انجام دی، جو برسوں تک گاؤں کے لوگوں کے لیے سہارا بنے رہے۔

4. جدید رفتار — موٹر سائیکل اور آٹو رکشہ (1995–2005)

گنور کے جدید عہد کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب محمد مصطفٰی ابنِ محمد ابراہیم صاحب نے گاؤں کی پہلی موٹر سائیکل خریدی۔
یہ بائک گنور کے لیے رفتار، سہولت اور فوری رسائی کا نیا دروازہ ثابت ہوئی۔
2000 کے بعد آٹو رکشہ نے گاؤں اور قصبوں کے درمیان عوامی سفر کو تیز اور آسان بنا دیا۔

5. جدید ترین پیش رفت — پہلی جیپ اور پہلی کار (محمد مظاہر صاحب)

گنور میں چار پہیہ سواریوں کی اصل اور نمایاں تاریخ محمد مظاہر صاحب کے نام سے شروع ہوتی ہے—
جنہوں نے گاؤں میں سب سے پہلے جیپ بھی خریدی اور کار بھی۔
یہ دونوں سواریوں کا یکجا آغاز گاؤں کی جدید ٹرانسپورٹ تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھا۔

مزید یہ کہ:

محمد مظاہر صاحب خود ایک بڑے میکینک ہیں

اور ان کے بھائی محمد سلطان صاحب غیر معمولی اور حیرت انگیز میکینک کے طور پر مشہور ہیں۔

دونوں بھائیوں کی فنی مہارت نے نہ صرف گاڑیوں کے استعمال کو آسان بنایا بلکہ گنور میں میکینکی ہنر کا ایک مضبوط عملی معیار بھی قائم کیا۔

6. 2005–2025 — رفتار، ربط اور ترقی کا مکمل دور

2005 کے بعد گنور میں:

موٹر سائیکل

آٹو رکشہ

کار

جیپ

بس

سبھی سفر کے مضبوط ستون بن گئے۔
تعلیم، تجارت، صحت، خواتین کا سفر، زرعی نقل و حمل—سبھی میں نمایاں بہتری آئی۔
گاؤں کا رابطہ قصبوں اور شہروں سے پہلے سے زیادہ تیز، مربوط اور محفوظ ہوا۔

اختتامیہ

گنور کا سواری نظام دراصل اُس اجتماعی شعور کا آئینہ ہے جو زمانے کے بدلتے تقاضوں کو قبول بھی کرتا ہے اور انہیں اپنے فائدے میں ڈھالتا بھی ہے۔
گھوڑ سواری سے لے کر موٹر سائیکل تک، اور جیپ سے پہلی کار تک—
یہ تمام مرحلے اس بات کے گواہ ہیں کہ گنور نے ہمیشہ ترقی کے راستے کو پہچانا اور اپنایا۔

محمد مظاہر صاحب، محمد سلطان صاحب، مصطفٰی صاحب، چلتر پاسوان، یعقوب صاحب، لعل محمد خان—
یہ تمام نام گنور کی سواری تاریخ کے روشن باب ہیں۔

——————————————

رسل و رسائل

بہار کے ضلع مدھوبنی کا قدیم اور ثقافتی طور پر اہم گاؤں گنور ایک طویل تاریخی سفر سے گزر کر اپنی موجودہ شناخت تک پہنچا ہے۔ آمد و رفت اور مواصلات کا نظام کسی بھی بستی کی ترقی کا پہلا زینہ ہوتا ہے، اور یہی حال گنور کا بھی رہا ہے۔

ابتدائی دور میں گنور کی بیشتر سڑکیں کچی، ناہموار اور تنگ گلیوں پر مشتمل تھیں۔ بڑے شہروں سے کوئی باقاعدہ رابطہ نہ تھا، اس لیے لوگ دور رس سفر پیدل طے کرتے تھے۔ کہیں کہیں گھوڑا سواری، بیل گاڑی اور تانگا استعمال ہوتا، جبکہ سائیکل بھی بہت کم افراد کے پاس ہوا کرتی تھی۔

سن 1980 کے بعد گنور میں تعمیر و ترقی کی نئی لہر اٹھی۔ پکی، مضبوط اور کشادہ سڑکوں کا جال بچھنا شروع ہوا۔ گاؤں کو پہلے سمری، پرسونی، نرسام، بسفی، مدھوبنی، دربھنگہ اور دیگر شہروں سے جوڑا گیا۔ اس کے بعد اندرونی گلیوں اور محلوں تک پکی سڑکوں کی توسیع ہوئی۔ چھوٹے بڑے پل بھی تعمیر کیے گئے، جنہوں نے نقل و حمل اور معاشی سرگرمیوں کو نئی زندگی بخشی۔

اگرچہ یہ سفر قابلِ قدر ہے، لیکن آج بھی گنور کی بیشتر سڑکیں مسلسل دیکھ بھال اور مزید ترقی کی محتاج ہیں۔ ایک خوشحال اور فعال دیہی معاشرہ اسی وقت بنتا ہے جب اس کے راستے مضبوط ۔ روشن ۔ محفوظ اور دیر پا ہوں

————————————–

مواصلاتی نظام

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

——————————————
10. Telephone / Network System
(ٹیلی فون نظام)

ٹیلیفون کا نظام: رابطے کی نئی دنیا

گنور میں ٹیلیفون کا نظام تقریباََ 1996 سے شروع ہوا۔ ابتدائی دنوں میں فون کی سہولت محدود تھی، مگر یہ ایک انقلابی قدم تھا۔ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اب اپنے عزیزوں سے بات کر سکتے تھے اور کاروباری رابطے بھی آسان ہو گئے۔ ٹیلیفون نے گنور کے رہائشیوں کے لیے دنیا کے ساتھ تعلق کا ایک نیا راستہ کھولا۔

تاہم، وقت کے ساتھ تکنیکی انقلاب نے ٹیلیفون کے روایتی نظام کو دھیرے دھیرے غیر ضروری بنا دیا۔ 2008 کے بعد موبائل فون کی آمد نے گنور میں ٹیلیفون کی ضرورت کو تقریباً ختم کر دیا۔ موبائل فون نہ صرف رابطے کو آسان بناتا تھا بلکہ تیز، قابل اعتماد اور ہر جگہ دستیاب تھا۔ یوں ٹیلیفون کا روایتی نظام ایک تاریخ بن کر رہ گیا، لیکن اس نے گنور کے لوگوں کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کا بیج ضرور بویا۔

سماجی اور ثقافتی اثرات

بجلی اور ٹیلیفون کی آمد نے گنور کے لوگوں کی زندگی میں نہ صرف سہولتیں پیدا کیں بلکہ ان کے طرز زندگی اور سوچ میں بھی تبدیلیاں آئیں۔

لوگ زیادہ تعلیم یافتہ اور باخبر ہو گئے، کیونکہ رات میں مطالعہ ممکن ہوا۔

کاروبار اور تجارت میں رفتار آئی، کیونکہ فون کے ذریعے کاروباری رابطے ممکن ہوئے۔

سماجی تعلقات میں اضافہ ہوا، اور دیہاتی کمیونٹی زیادہ مربوط اور معلومات سے آگاہ ہونے لگی۔

نتیجہ

گنور میں بجلی اور ٹیلیفون کے نظام کی آمد ایک چھوٹے دیہی قصبے کی ترقی کا عکاس ہے۔ ابتدائی مشکلات اور محدود سہولیات کے باوجود، یہ نظام لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی لے آیا۔ اگرچہ موبائل فون کے آنے کے بعد روایتی ٹیلیفون نظام ختم ہو گیا، مگر بجلی نے آج بھی گنور کی زندگی کو روشن رکھا ہوا ہے۔ یہ ترقی کا سفر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ چھوٹے دیہات بھی تکنیکی اور سماجی ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

——————————————

11. Irrigation System (آبپاشی کا نظام

آبپاشی کے ذرائع — گنور کا زرعی ورثہ

گنور کا معاشرتی اور معاشی ڈھانچہ ہمیشہ سے زرعی بنیادوں پر استوار رہا ہے۔ یہاں کے کھیتوں کی سیرابی چند اہم قدرتی اور انسانی ذرائع پر منحصر رہی ہے:
ندی، نہر، تالاب (پوکھر) اور کنواں۔

اگرچہ گاؤں کے آس پاس کوئی بڑی ندی نہیں بہتی، مگر تقریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق و مغرب دونوں سمتوں میں دو ندیاں موجود ہیں۔ یہی ندیاں کھیتوں کی آبپاشی کے ساتھ ساتھ برسات کے دنوں میں سیلاب کا سبب بھی بنتی رہی ہیں۔

گنور کی نہریں

گنور کے مغربی حصے میں ایک نہر شمال سے جنوب کی جانب رواں ہے، جبکہ مشرقی سمت میں دوسری نہر مشرق سے مغرب کی طرف بہتی ہے۔ یہ دونوں نہریں اس علاقے کی زرعی سیرابی میں تاریخی کردار رکھتی ہیں۔ ان نہروں کے ذریعے کھیتوں کو پانی ملتا رہا، اور یوں گاؤں کی زراعت نے کئی دہائیوں تک اپنا استحکام برقرار رکھا۔

پوکھر اور ان کا بدلتا ہوا کردار

گنور میں مغرب سے مشرق کی جانب تقریباً آٹھ سے دس تالاب (پوکھر) پائے جاتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہی تالاب اہلِ گاؤں کے لیے غسل، نہانے اور روزمرہ ضروریات کا ذریعہ تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان پوکھروں کا کردار بدل گیا، اور اب یہ بڑے پیمانے پر مچھلی پروری (Fish Farming) کے مراکز بن چکے ہیں، جو گاؤں کی معیشت میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

گنور کا قدیم کنواں

گنور کے مشرقی حصے کے مغربی کنارے ایک قدیم کنواں بھی واقع تھا، جو پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ تھا۔ زمانے کی تبدیلی، بارشوں کی کمی اور مٹی بھر جانے کے سبب اب یہ کنواں استعمال کے قابل نہیں رہا۔

آبپاشی کے جدید طریقے

پہلے پوکھروں اور نہروں کے پانی کو کرین کے ذریعے کھیتوں تک پہنچایا جاتا تھا، مگر ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ موٹر پمپ (دمکل) کا استعمال عام ہوگیا۔ اس تبدیلی نے کھیتی باڑی کی رفتار اور پیداوار دونوں میں اضافہ کیا

——————————————-

12. Electricity System
(بجلی کا نظام)

بجلی کا نظام: ترقی کا سفر

گنور ، ایک چھوٹا مگر اہم دیہی قصبہ، اپنی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے باوجود طویل عرصے تک بنیادی سہولیات سے محروم رہا۔ اس قصبے کی روزمرہ زندگی میں تبدیلی کا آغاز تب ہوا جب بجلی اور ٹیلیفون کے نظام نے یہاں قدم رکھا۔ یہ سفر نہ صرف تکنیکی ترقی کی کہانی ہے بلکہ سماجی اور معاشرتی تبدیلیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

بجلی کی آمد: روشنی کی پہلی کرن

گنور میں بجلی کا آغاز تقریباً 1990 میں ہوا۔ لیکِن فعال نہ ہو سکا ۔ 1995 میں منظّم طریقے سے دوبارہ عمل پیراہن کیا گیا ۔ جو پہلے کے مقابلے بہت مؤثر اور کامیاب رہا ۔
ابتدائی دنوں میں بجلی کا نظام مکمل طور پر فعال نہیں تھا اور اکثر یہ وقتاً فوقتاً آتی جاتی رہی۔ دیہاتی زندگی میں بجلی کی آمد ایک نیا باب کھولنے کے مترادف تھی۔ رات کے وقت چراغوں اور دیہاتی روشنیوں سے محرومی ختم ہوئی اور زندگی کی رفتار میں بھی ایک تیزی آئی۔

اگرچہ ابتدائی دور میں بجلی اکثر کٹ جاتی تھی، مگر اس کی آمد نے مقامی لوگوں کے طرز زندگی میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔ دکانیں اور چھوٹے کاروبار رات دیر تک جاری رہ سکتے تھے، بچے رات میں پڑھائی کر سکتے تھے، اور گھریلو زندگی میں سہولت اور آرام کا اضافہ ہوا۔ یوں بجلی نہ صرف ایک تکنیکی سہولت بلکہ ترقی کی علامت بن گئی۔

ٹیلیفون کا نظام: رابطے کی نئی دنیا

گنور میں ٹیلیفون کا نظام تقریباََ 1996 سے شروع ہوا۔ ابتدائی دنوں میں فون کی سہولت محدود تھی، مگر یہ ایک انقلابی قدم تھا۔ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اب اپنے عزیزوں سے بات کر سکتے تھے اور کاروباری رابطے بھی آسان ہو گئے۔ ٹیلیفون نے گنور کے رہائشیوں کے لیے دنیا کے ساتھ تعلق کا ایک نیا راستہ کھولا۔

تاہم، وقت کے ساتھ تکنیکی انقلاب نے ٹیلیفون کے روایتی نظام کو دھیرے دھیرے غیر ضروری بنا دیا۔ 2008 کے بعد موبائل فون کی آمد نے گنور میں ٹیلیفون کی ضرورت کو تقریباً ختم کر دیا۔ موبائل فون نہ صرف رابطے کو آسان بناتا تھا بلکہ تیز، قابل اعتماد اور ہر جگہ دستیاب تھا۔ یوں ٹیلیفون کا روایتی نظام ایک تاریخ بن کر رہ گیا، لیکن اس نے گنور کے لوگوں کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کا بیج ضرور بویا۔

سماجی اور ثقافتی اثرات

بجلی اور ٹیلیفون کی آمد نے گنور کے لوگوں کی زندگی میں نہ صرف سہولتیں پیدا کیں بلکہ ان کے طرز زندگی اور سوچ میں بھی تبدیلیاں آئیں۔

لوگ زیادہ تعلیم یافتہ اور باخبر ہو گئے، کیونکہ رات میں مطالعہ ممکن ہوا۔

کاروبار اور تجارت میں رفتار آئی، کیونکہ فون کے ذریعے کاروباری رابطے ممکن ہوئے۔

سماجی تعلقات میں اضافہ ہوا، اور دیہاتی کمیونٹی زیادہ مربوط اور معلومات سے آگاہ ہونے لگی۔

نتیجہ

گنور میں بجلی اور ٹیلیفون کے نظام کی آمد ایک چھوٹے دیہی قصبے کی ترقی کا عکاس ہے۔ ابتدائی مشکلات اور محدود سہولیات کے باوجود، یہ نظام لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی لے آیا۔ اگرچہ موبائل فون کے آنے کے بعد روایتی ٹیلیفون نظام ختم ہو گیا، مگر بجلی نے آج بھی گنور کی زندگی کو روشن رکھا ہوا ہے۔ یہ ترقی کا سفر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ چھوٹے دیہات بھی تکنیکی اور سماجی ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکتے ہیں۔
[22/02, 10:33 am] Akram Chacha Kolkata: 13. Culture & Traditions
(ثقافت)
رنگ، رَس، روایت اور یکجہتی

گنور کی ثقافت ہمیشہ سے چاک وچوبند رہی ہے۔
یہاں ثقافتی ماحول دو مختلف مگر ہم آہنگ دھاروں پر مشتمل ہے:

مغربی حصہ

یہاں قومی گیت، جھومر، رقص ، میتھلی ناچ، سوہر، بیہائی، کجری۔ بھگوت گیتا ۔ ہنومان چالیسا ۔ سیتا کا پارٹ ۔ رامائن اور مہابھارت کا پارٹ اور ڈارمہ کا چرچا ہے۔
یہ تہذیبی رنگ گنور کی میتھل روایت کو جیتا جاگتا رکھتے ہیں۔

مشرقی حصہ

یہاں مذہبی اور ادبی مجالس کا نظم نہایت مضبوط ہے:
قومی ترانہ، نعت شریف، میلادشریف، جاگرن ، ہنومان چلیسا ، قوالی، آ لھا رودھل ۔ تقریری مقابلے ۔جھومر ۔ گیت ۔ شعر و شاعری وغیرہ ہر سال روایتی جوش اور وقار کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔

قومی تہوار — یکجہتی کی بہترین مثال

گنور کی سب سے بڑی خوبی اس کی آپسی محبت ہے۔
دیوالی ہو یا عید، یومِ جمہوریہ ہو یا یوم آزادی ، محرم ہو یا درگا پوجا ، چھٹ ہو یا شب برات
دونوں حصّے ایک ساتھ مناتے ہیں، ایک ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں اور یوں گنور سماجی ہم آہنگی کا ایک حسین نمونہ بن کر سامنے آتا ہے۔

نتیجہ — گنور کا پچاس سالہ ارتقا

1975 سے 2025 تک گنور نے کھیل، ثقافت، تعلیم، سماج میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔
یہ سفر بتاتا ہے کہ روایت اور جدت ایک ساتھ چل سکتی ہیں،
اور ایک چھوٹا سا گاؤں بھی اپنی خودداری، محبت اور سرگرمیوں سے تاریخ میں روشن مقام بنا سکتا ہے۔

گنور کی گلیوں میں کھیلوں کی گونج، تہواروں کی رونق اور لوگوں کی باہمی محبت آج بھی اس گاؤں کا اصل اثاثہ ہے—
اور آنے والی نسلوں تک یہ ورثہ منتقل ہوتا رہے گا۔
_________________________________
14. EDUCATION تعلیم

تعلیم و تربیت کسی بھی قوم، سماج یا ملک کی ترقی کا بنیادی سرچشمہ ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے اس معیار پر ہمارا گاؤں ہمیشہ کمزور دکھائی دیتا رہا ہے۔ اگرچہ روشنی کی چند کرنیں وقتاً فوقتاً ابھرتی رہیں، مگر مجموعی تعلیمی ڈھانچہ ایک مضبوط بنیاد سے محروم رہا۔

گنّور کا مغربی حصہ :-
علم کا قدردان خطّہ

گاؤں کا مغربی حصہ ابتدا ہی سے علم و ہنر کا شیدائی رہا ہے۔ پاتھ شالہ اور اسکولوں کی سخت قلت کے باوجود یہاں کے لوگوں نے علم کو حق بھی سمجھا اور فرض بھی۔ یہی جذبہ انہیں بیرونِ شہر ، ریاست و مُلک لے گیا، جہاں انہوں نے نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ مختلف میدانوں میں اپنا مقام بنایا۔
یہ خطّہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ اعتبار سے ہمیشہ زرخیز رہا۔ اس علاقے سے پرائمری و ہائی اسکول ٹیچر، انجینئر، وکیل، سرکاری محکموں کے افسر، بڑے مندروں میں پجاری اور کامیاب تاجر پیدا ہوئے، جنہوں نے گاؤں کا نام دور دور تک روشن کیا۔

مغربی گنوَر میں تعلیم کا سلسلہ

جب باقاعدہ اسکولوں، کالجوں اور سرکاری تعلیمی اداروں کا وجود نہیں تھا، تب بھی انسانی معاشرہ تعلیم سے غافل نہیں تھا۔ علم کی منتقلی کا عمل کبھی رکا نہیں، بلکہ حالات کے مطابق اس کی شکلیں بدلتی رہیں۔ مغربی گنوَر کی تاریخ بھی اسی فکری تسلسل کی آئینہ دار ہے، جہاں تعلیم نے مذہبی، سماجی اور ثقافتی بنیادوں پر اپنی جگہ بنائے رکھی۔

قدیم دور میں گھریلو تعلیم کا رواج

مغربی گنوَر میں، جہاں ہندو آبادی اکثریت میں رہی، تعلیم کا آغاز گھروں سے ہوا۔ اس دور میں تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ دھرم، سنسکار اور سماجی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ بزرگ، پنڈت اور پڑھے لکھے افراد اپنے گھروں میں بچوں کو پڑھاتے تھے۔
یہ تعلیم زیادہ تر:

سنسکرت کے بنیادی اسباق

مذہبی کہانیاں (رامائن، مہابھارت)

اخلاقی تعلیم

گنتی اور حساب
پر مشتمل ہوتی تھی۔

نجی پاٹھ شالاؤں کا قیام

وقت کے ساتھ جب آبادی میں اضافہ ہوا اور تعلیم کی ضرورت مزید محسوس کی گئی تو نجی پاٹھ شالاؤں کا آغاز ہوا۔ یہ پاٹھ شالائیں کسی باقاعدہ عمارت تک محدود نہ تھیں، بلکہ:

کسی پنڈت کے آنگن

مندر کے احاطے

یا کسی بڑے درخت کے نیچے
قائم کی جاتی تھیں۔

ان پاٹھ شالاؤں میں تعلیم کا مقصد صرف کتابی علم نہیں تھا، بلکہ بچوں کی شخصیت سازی، تہذیب اور دھارمک آداب سکھانا بھی شامل تھا۔

مٹھ اور مندر بطور تعلیمی مراکز

مغربی گنوَر میں موجود مٹھ اور مندر صرف عبادت گاہیں نہیں تھے بلکہ علمی مراکز بھی سمجھے جاتے تھے۔ یہاں:

وید، اپنشد اور شاستر کی تعلیم دی جاتی

مذہبی مباحث اور شاسترارتھ ہوتے

نوجوانوں کو دھرم، سماج اور روایت سے جوڑا جاتا

ان اداروں نے اس دور میں تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

آبادی اور سماجی ساخت کا اثر

چونکہ مغربی گنوَر کی آبادی زیادہ تر ہندو مذہب سے وابستہ تھی، اس لیے تعلیم کا رنگ بھی مذہبی اور تہذیبی نوعیت کا رہا۔ مختلف ذاتوں اور برادریوں میں تعلیم کی سطح مختلف تھی، تاہم مجموعی طور پر:

تعلیم کو عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا

عالم اور پنڈت کو سماج میں اعلیٰ مقام حاصل تھا

علم کو نسل در نسل منتقل کرنا باعثِ فخر سمجھا جاتا

جدید دور کی طرف پیش قدمی

بعد کے ادوار میں، جب برطانوی دور اور پھر سرکاری نظامِ تعلیم قائم ہوا، تو مغربی گنوَر کے لوگوں نے ان نئے اداروں کو بھی قبول کیا۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ جدید اسکولوں کی بنیاد اسی قدیم گھریلو اور مذہبی تعلیمی روایت پر رکھی گئی۔

نتیجہ

مغربی گنوَر میں تعلیم کا سلسلہ کسی اچانک انقلاب کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل فکری اور سماجی ارتقا کی داستان ہے۔ ہندو مذہب، گھریلو تعلیم، پاٹھ شالاؤں اور مٹھوں نے مل کر اس خطے میں علم کی شمع کو روشن رکھا۔
یہی وجہ ہے کہ رسمی اسکول قائم ہونے سے پہلے بھی مغربی گنوَر علمی شعور سے خالی نہیں تھا، بلکہ اپنی روایتی دانش کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔

فنون :-
دستکاری سے مصوری تک

مغربی گنوَر میں میتھلی تہذیب کا جمالیاتی ورثہ

مغربی گنوَر، ضلع مدھوبنی (بہار) کا وہ خطہ ہے جہاں میتھلی تہذیب کی جڑیں نہایت گہری اور مضبوط رہی ہیں۔ یہ علاقہ صرف تعلیم، مذہب اور سماجی اقدار ہی کے لیے معروف نہیں بلکہ فنونِ لطیفہ، دستکاری اور جمالیاتی ذوق کے اعتبار سے بھی اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہاں کے فنون صدیوں پر محیط روایت، فطرت سے قربت اور روزمرہ زندگی کے تجربات سے جنم لیتے ہیں۔

میتھلی تہذیب اور فنون کی بنیاد

میتھلی تہذیب میں فن محض تفریح یا زیبائش کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ گھروں کی دیواریں ہوں، شادی بیاہ کی رسومات، مذہبی تہوار یا روزمرہ استعمال کی اشیاء—ہر جگہ فن کی جھلک نظر آتی ہے۔ مغربی گنوَر کے باشندے فطری طور پر فن دوست رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں دستکاری سے لے کر مصوری تک فنون کی ایک زرخیز روایت قائم رہی۔

مصوری اور پینٹنگ

مغربی گنوَر کی پہچان بننے والی میتھلا (مدھوبنی) مصوری نے یہاں کے فن کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ یہ مصوری قدرتی رنگوں، سادہ مگر علامتی اشکال، دیوی دیوتاؤں، فطرت اور سماجی مناظر پر مشتمل ہوتی ہے۔ خواتین بالخصوص گھروں کی دیواروں اور آنگنوں میں یہ پینٹنگز بناتی رہی ہیں، جو نہ صرف فن کا اظہار تھیں بلکہ مذہبی عقیدت اور سماجی روایت کی علامت بھی۔

مجسمہ سازی اور مٹی کے برتن

مغربی گنوَر میں مٹی سے جڑی ہوئی فنکاری کی ایک قدیم روایت پائی جاتی ہے۔ دیہات میں مٹی کے برتن، دیا، کھلونوں اور مذہبی علامات کی تیاری عام رہی ہے۔ کمہاروں کے ہاتھوں بنے ہوئے یہ برتن سادگی، مضبوطی اور فطری حسن کا بہترین نمونہ ہیں۔ مجسمہ سازی میں بھی دیوی دیوتاؤں، جانوروں اور دیہی زندگی کے مناظر نمایاں ہوتے ہیں۔

دستکاری اور کھلونے

یہاں کی دستکاری میتھلی تہذیب کی عملی ذہانت کی عکاس ہے۔ بانس، لکڑی، مٹی اور کپڑے سے بنی ہوئی اشیاء—جیسے ٹوکریاں، کھلونے، آرائشی سامان—گھریلو ضرورت کے ساتھ ساتھ ثقافتی شناخت بھی فراہم کرتی ہیں۔ بچوں کے کھلونے صرف کھیل کا ذریعہ نہیں بلکہ تخلیقی تربیت کا حصہ رہے ہیں۔

سماجی زندگی میں فنون کا کردار

مغربی گنوَر میں فنون محض فنکاروں تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ سماجی زندگی میں رچ بس گئے۔ تہواروں، شادیوں اور مذہبی تقریبات میں فنکاری کا استعمال اجتماعی ذوق کو جِلا بخشتا ہے۔ اس سے نہ صرف جمالیاتی حس پروان چڑھتی ہے بلکہ نئی نسل کو اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑے رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

نتیجہ

مغربی گنوَر کا فنونِ لطیفہ سے تعلق میتھلی تہذیب کی روح کا عکاس ہے۔ دستکاری سے لے کر مصوری تک، یہ تمام فنون اس خطے کی تاریخی، سماجی اور ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر ان روایتی فنون کی سرپرستی اور دستاویزی شکل میں حفاظت کی جائے تو مغربی گنوَر کا یہ جمالیاتی سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی باعثِ فخر بن سکتا ہے۔

مشرقی حصہ :-
تعلیم کی پسماندگی، ایک مشترکہ المیہ

اس کے برعکس، گاؤں کا مشرقی حصہ تعلیمی طور پر ہمیشہ پیچھے رہا۔ یہاں مسلمان اور غیر مسلم دونوں آباد ہیں، اور دونوں کی تعلیمی حالت تقریباً یکساں کمزور رہی۔
اس خطّے میں صرف ایک سرکاری پرائمری اسکول ہے، جو بچوں کی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش تو کرتا ہے ، مگر بڑھتی ہوئی آبادی اور سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ ناکافی ثابت ہوا۔

گورنمنٹ پرائمری اسکول:-

گنو ر میں سب سے پہلا بنیادی و پرائمری اسکول کی بُنیاد 1969 میں پڑی ۔
اساتذہ کی کمی ۔ انفرااسٹرکچر کی عدم دستیابی
کی وجہ سے یہ کامیاب نہ ہو سکا ۔ فل حال نیتا جی کی مداخلت سے ترقّی کی طرف گامزن ہے

آنگن باری:-
گنور میں آنگن باری زریعہ تعلیم نے بہت مدد کی ہے ۔ اب چھوٹے چھوٹے بچّے اس سے فیضیاب ہو رہے ہیں ۔ جہاں بچوں کو درس کے ساتھ ساتھ غذائی اجناس و متوازن غذا بھی فراہم کی جاتی ہے ۔

مکتب ندائے اسلام :-
ایک علمی چراغ

مسلم آبادی کے لیے محض ایک مکتب تھا—ندائے اسلام—جہاں عربی، فارسی اور اردو کی بنیادی تعلیم دی جاتی تھی۔ ابتدا میں یہ مکتب صرف لڑکوں تک محدود تھا؛ بعد میں لڑکیاں بھی داخل ہونے لگیں۔
مکتب کی اپنی کوئی مستقل عمارت نہ تھی: کبھی نیم کے درخت کے نیچے، کبھی خلیفہ صاحب کے گھر میں، کبھی ریحانہ کی گاچھی میں، یعنی علم کی روشنی مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتی رہی۔
بالآخر 1980 کے بعد مکتب مستقل عمارت میں قائم ہوا۔

مکتب کے اساتذہ میں
منشی انوارالحق، مولوی محمد جُنید، مولوی مطیع الرحمن، قاری داؤد، حافظ ممتاز، حافظ محمد عمر فاروق
اور دیگر حفاظ کرام شامل رہے، مگر منشی انوارالحق صاحب کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ انہی کی بدولت مکتب مدرسہ میں تبدیل ہوا ۔

عصری علوم :-
اب بھی سخت ضرورت

مشرقی حصے میں عصری تعلیم کے باضابطہ انتظام کی کمی 1975 میں بھی تھی اور 2025 میں بھی ہے۔
اگرچہ مکتب نے دینی تعلیم کا چراغ روشن رکھا اور اسے اللہ کی خاص دین ہی کہا جائے گا کہ آج گاؤں کے تقریباً تیس طلبا حافظِ قرآن ہیں۔
ان میں
حافظ محمد سلیم، حافظ محمد عزیر (بھولا)، حافظ ممتاز، حافظ محمد عمر فاروق، حافظ اعظم الباری، حافظ حسان
اور دیگر کئی نام قابلِ فخر ہیں۔

گاؤں سے مفتی محمد شفیع اللہ قاسمی، مفتی سلطان منیری، مولانا محمد حسام الدین قاسمی نے ملک و بیرونِ ملک میں علم و دین کی سرخرویاں حاصل کیں۔

تعلیمِ نسواں :-
ایک تشویشناک کمی

آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کوئی مضبوط نظام موجود نہیں۔ تعلیمِ نسواں کی کمزوری نئی نسل کی فکری و اخلاقی آبیاری میں رکاوٹ بن چکی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جو فوری توجہ کا مستحق ہے۔

تعلیمی سفر :-

1990 کے بعد
نئی راہیں، نئے امکانات

1990 کے بعد گاؤں میں اسکولی تعلیم نے ایک نمایاں موڑ لیا۔ یہاں تعلیمی شعور تیزی سے بڑھا۔
لڑکے اور لڑکیاں پرسونی، بجراہا، کھنگریٹھا، سمری اور بیرونِ ریاست جا کر تعلیم حاصل کرنے لگے۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ گاؤں میں میٹرک، انٹر، گریجویٹ، ماسٹر ڈگری ہولڈرز، انجینئر، ٹیچر، عالم، فاضل، مفتی، حافظ اور قاری سب موجود ہیں۔

لیکن ڈاکٹر، وکیل اور حکیم کی شدید کمی آج بھی محسوس ہوتی ہے۔
اس خلا کو پُر کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

++++++++++++++++++++++++++++++

Arts / Creative Activities
(فنون)

فن و ہنر میں بھی گاؤں کی روایت نمایاں ہے۔ دستکاری، کپڑے پر نقش و نگار، گھاس پھوس سے ڈلیا بنانا، روئی سے دھاگہ کاتنا، دردوزی—یہ سب وہ ہنر ہیں جو مرد و عورت دونوں اپنے اپنے دائرے میں کرتے رہے۔
یہ ہنر نہ صرف معاشی سہارا تھے بلکہ ثقافتی شناخت بھی۔

نتیجہ

1975 سے 2025 تک پچاس سالہ تعلیمی و فنی تاریخ بتاتی ہے کہ گنّور میں علم کی روشنی مکمل طور پر کبھی بجھی نہیں—بس کمزور پڑتی رہی۔
مغربی حصہ اپنی جستجو سے آگے بڑھ گیا، جبکہ مشرقی حصہ بنیادی تعلیمی ڈھانچے کی کمی سے اب تک جوجھ رہا ہے۔
اگر دونوں حصّے یکساں حکمتِ عملی اور مضبوط تعلیمی منصوبہ بندی اختیار کریں تو گاؤں کا مستقبل یقیناً زیادہ روشن، باوقار اور ترقی یافتہ ہوسکتا ہے۔

__________________________________
15. Sports & Athletics
(کھیل کود)
گنور ایک چھوٹی سی بستی ضرور ہے، مگر اس کے سینوں میں محفوظ یادیں، روایات اور سرگرمیاں کسی بھی بڑے شہر سے کم نہیں۔ 1975 سے 2025 تک کا پچاس سالہ سفر گنور کے سماجی، ثقافتی اور کھیلوں کے مزاج کا آئینہ ہے—ایسا آئینہ جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلی، توانائی، اتحاد، جوش اور شعور کے رنگ واضح ہوتے چلے گئے۔

ابتدائی دور کے کھیل — طاقت، محبت اور سادگی کا زمانہ

1975 کے آس پاس گنور میں کھیل صرف کھیل نہ تھے؛ یہ گاؤں کی دھڑکن تھے۔
پہلوانی، راجا کبڈی، کبڈی، ٹال گلی، گولی، گرکنّا، ہس دھپّا، چوری چھپّی یہ سب کھیل لڑکے کھیلا کرتے تھے ۔ جبکہ
سنگھیا، گوٹی گوٹی، کوت کوت، اٹھی بیٹھی جیسے کھیل لڑکیاں کھیلتی تھیں ۔ اور یہی کھیل
سماجی زندگی کا لازمی حصہ تھے۔
یہ کھیل جسمانی طاقت، چستی، حاضر دماغی اور باہمی محبت کا مظہر تھے۔ بچے، نوجوان، بڑے—سب ہی ان کھیلوں میں شریک ہوکر گاؤں میں توانائی، ملنساری اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے۔

بزرگوں کی محفلوں میں تاش کا خاص رواج تھا۔ یہ کھیل بسا اوقات جوا بن جاتا، لیکن یہ بھی گاؤں کے معاشرتی طرزِ زندگی کی ایک حقیقت تھی، جس میں تفریح بھی تھی اور وقت گزاری کا رنگ بھی۔

شہری اثرات :-
ریڈیو سے اُبھرتی کھیلوں کی نئی دنیا

اسی زمانے میں شہروں میں فٹبال اور کرکٹ کا چرچا بڑھ رہا تھا۔ شہر سے لوٹنے والے لوگ ریڈیو پر کرکٹ اور فٹبال کی لائیو کمنٹری سنتے اور پھر یہ سحر انگیز آوازیں گنور تک پہنچتیں۔
اسی کے ساتھ کرکٹ کی خوشبو گنور کے آنگن، چوپال اور گلیوں میں رچنے لگی۔
یوں ٹال گلی، گولی اور پہلوانی کے بیچ ایک نیا دور خاموشی سے جنم لینے لگا۔

تعلیم اور کرکٹ :-
میدانوں سے اُبھرتی نئی شناخت

گنور کے بچے جب تعلیم کے لیے سمری، پرسونی اور کھنگریٹھا کے اسکولوں کا رخ کرنے لگے، تو اُن کے سامنے نئے کھیلوں کی دنیا کھل گئی۔
وہاں کرکٹ اور فٹبال کے میدان تھے مگر کرکٹ کی جادوگری نے نوجوانوں کے دلوں پر ایسی سلطنت قائم کی کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ کھیل گنور کے نوجوانوں کی شناخت بننے لگا۔

یہی ماحول آگے چل کر گنور کی اپنی کرکٹ ٹیموں کے قیام کا سبب بنا۔

گنور کے مغربی اور مشرقی دونوں حصّوں میں بے شمار باصلاحیت نوجوان اُبھر کر سامنے آئے جنہوں نے نہ صرف گاؤں، بلکہ پورے حلقے میں گنور کا نام بلند کیا۔

مغربی حصے کے درخشاں نام

بجرنگ بلی اسپورٹنگ کلب کے نمائندہ کھلاڑی:
انیل کمار جھا، سنجے کمار جھا، للیت کمار جھا، متھلیش کمار جھا، برج کانت، رج کانت، بھرت جھا، امیش، سبھاش جھا وغیرہ۔ وغیرہ

مشرقی حصے کے تابناک سپوت

الفتح اسپورٹنگ کلب کے فخرِ گنور:
محمد عقیل احمد، سوشیل ٹھاکر، سروج کمار، منوج کمار، نریش کمار، انیل کمار، محمد اکرم علی، محمد عمر فاروق، محمد مظفر، محمد غضنفر، محمد اکرم ابنِ عبدالرزاق، محمد شبلی، محمد نوشاد عثمانی، محمد تفسیر، محمد ظفر، محمد انتخاب عرف منا، محمد آفتاب نوشاد، محمد عارف چنا، محمد اعظم باری، دلیپ کمار، محمد رحمت عالم، محمد عرفان، محمد کالے، زوہا، شمس الضحی، محمد کالے وغیرہ۔

دونوں حصوں کے بہترین نوجوانوں کو ملاکر "گنور کرکٹ ایسوسی ایشن” تشکیل دی جاتی تھی۔
اس ٹیم کو بہترین کارکردگی ، یکجہتی اور انضباط کے سبب شکست دینا انتہائی مشکل کام تھا ۔

گنور کے کئی نوجوانوں نے ضلع اور بین الاضلاعی سطح پر بھی کرکٹ کھیل کر گاؤں کی شان میں اضافہ کیا۔
——————————————-

16. Religious Sites / مذہبی مقامات/ مراکز
مذہبی مقدس مقامات اور تہذیبی ساخت

(1975 – 2025)

(الف) مغربی حصہ
مرلیا چوک اور کالی استھان کا تقدّس

گنور کے مغربی حصّے میں برہمنوں کی صدیوں پرانی آبادی نے ہمیشہ اس خطے کی مذہبی شناخت کو نمایاں رکھا ہے۔ مرلیا چوک اپنی خوبصورت عبادت گاہوں، پجاریوں کی علمی روایت، اور سخت مذہبی ماحول کے لیے دور دور تک معروف ہے۔
یہاں کے لوگ مذہبی تعلیم اور پوجا پاٹھ کے فن میں اس قدر ممتاز رہے ہیں کہ وہ ملک و بیرونِ ملک میں بھی پجاری اور مذہبی رہنما کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔

مغربی حصّے کے انہی مقدس اور محترم مقامات میں کالی استھان سب سے نمایاں اور باوقار مقام ہے۔
یہ مندر نہ صرف گاؤں کے ہندو معاشرے کی روحانی زندگی کا مرکز ہے بلکہ گنور کی تہذیبی تاریخ میں بھی اس کی حیثیت ستون کی مانند ہے۔

کالی استھان کی اہمیت و وقار:

یہ گنور کے قدیم ترین مذہبی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
درگا پوجا، کالی پوجا، اور مختلف موسمی رسومات یہاں باقاعدگی سے ادا کی جاتی رہی ہیں۔
تہواروں کے موقع پر گاؤں کے اندر اور باہر سے عقیدت مند یہاں حاضر ہوتے ہیں۔
پجاریوں اور مذہبی پیشواؤں کی کئی نسلیں یہاں پابندی سے اپنے فرائض انجام دیتی رہی ہیں۔
اس مقام نے مرلیا چوک اور پورے مغربی حصّے کی روحانی فضا کو ہمیشہ مضبوط کیا ہے۔

اسی وجہ سے مغربی علاقہ مذہبی لحاظ سے ہمیشہ مضبوط، مرتب، اور اپنے عقائد و روایات کا پاسدار رہا۔

(ب) مشرقی حصہ
پچھڑی برادری کی مذہبی روایت

گاؤں کے مشرقی حصّے میں پچھڑی ذاتوں کا رہائشی غلبہ ہے۔ یہاں بڑے مندر تعمیر نہ ہو سکے، البتہ چھوٹے چھوٹے ذاتی مندر مختلف گھروں اور احاطوں میں موجود رہے۔

برہم استھان
اس پورے حصے کا واحد مذہبی مقام برہم استھان تھا اور آج بھی ہے جہاں ہندو عقیدت مند جمع ہوکر رسومات ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ گھروں میں کرتن بھجن کا سلسلہ سال بھر جاری رکھتے ہیں۔

گاؤں کے ہندو بھائی دسہرہ، جنم اشٹمی، دیوالی، چھٹھ پوجا جیسے بڑے تہوار انتہائی جذبے، جوش اور اجتماعی محبت کے ساتھ مناتے ہیں۔
میلے، پوجا پاٹھ اور تہواروں کے سلسلے میں لوگ مرلیا چوک بجراہا، سمری، اور کپلیشور استھان کا رخ بھی کرتے رہے ہیں۔

۲۔ مسلمانوں کے مذہبی مراکز :-
سادگی، استقامت اور وحدت

(الف) پہلی مسجد — قدیم مرکزِ عبادت

مسلمانوں نے اپنے گاؤں میں ایک قدیم مسجد تعمیر کی تھی جو ابتدا سے آباد ہے۔ اگرچہ اس کی تعمیر کا صحیح سال اور بانی کا نام تاریخ میں محفوظ نہیں، مگر یہ مسجد ہمیشہ پنجگانہ نمازوں، جمعہ اور عیدین کا مرکزی مقام رہی ہے۔

گاؤں میں قرآن خوانی اور میلاد النبی ﷺ کے اجتماعات مستقل طور پر ہوتے رہے۔
عرس کا سلسلہ کبھی رائج نہ ہوا کیونکہ یہاں دیوبندی اور اہلِ حدیث مسلک کا غلبہ رہا ہے۔
رمضان، عیدالفطر، عیدالاضحٰی اور محرم الحرام پورے احترام اور محبت سے منائے جاتے ہیں۔

(ب) دوسری مسجد :-
چھوٹی مسجد (بعد از 2000)

2000 کے بعد مولانا محمد جنید صاحب نے دوسری مسجد کی بنیاد رکھی جو آج ’چھوٹی مسجد‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ مسجد ابھی بھی زیر تعمیر ہے ۔

(ج) عیدگاہ :-
اجتماعی مذہبی مرکز

1985–1990 کے درمیان گاؤں میں عیدگاہ کی بنیاد رکھی گئی۔ ایک لمبے عرصہ تک بے توجہی کا شکار رہا ۔
اب اس کی دیکھ بھال اور آبیاری کا عظیم کام 2025 سے مسلسل حسن جمال کے ساتھ انجام پا رہا ہے اور آج بھی یہ عظیم خدمت جاری ہے۔ خوبصورتی ، حُسن و جمال میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔

۳۔ تعلیم گاہ :-

(الف) مکتب کی ابتدا

گاؤں میں پہلے مکتب کے لیے کوئی مستقل عمارت نہ تھی۔ موسم اور سہولت کے اعتبار سے یہ مختلف گھروں اور محلّوں میں چلتا رہا۔
پھر جناب انصار صاحب کی کوششوں سے مکتب کے لیے مستقل زمین حاصل ہوئی اور بنیاد رکھی گئی۔
تاہم مالی وسائل کی کمی، عدم توجہی، اور انتظامی کمزوریوں کے سبب وہ عالیشان عمارت نہ بن سکی جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔

(ب) انتظامیہ کے ادوار

1. دورِ انصار صاحب

مکتب کو مستقل زمین دلانا

مکتب سے مدرسہ میں تبدیلی کی بنیاد رکھنا

2. دورِ عبدالباری صاحب

انتظامی استحکام

نصاب میں بہتری اور عملی تبدیلیاں

3. دورِ محمد بشیر صاحب

مسلسل محنت کے ساتھ ادارے کی ترقی

سالانہ اجلاس کا آغاز

عوامی رائے کا احترام

قومی تہوار منانے کی روایت

تاہم ان تینوں انتظامی سربراہوں کا نہ عالم ہونا، نہ فاضل ہونا، نہ مستقل سکونت پذیر ہونا —
ادارے کی مضبوط علمی قیادت میں ہمیشہ رکاوٹ بنتا رہا۔
اس دور میں گاؤں میں کوئی مستند عالم یا مفتی موجود بھی نہ تھا۔

(ج) موجودہ دور :-
مفتی محمد شفیع اللہ صاحب کی قیادت

فی الحال مدرسہ کی باگ ڈور مفتی محمد شفیع اللہ قاسمی صاحب کے ہاتھ میں ہے۔
وہ اپنی دینی بصیرت، نظم و ضبط، قومیت کے جذبے اور نظریاتی استحکام کے ساتھ مدرسہ کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔

(د) رجسٹریشن و بینک اکاؤنٹ — ادھورا کام

تحقیقی حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ کا نجی بینک اکاؤنٹ اور سرکاری رجسٹریشن ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے۔
پہلے عہدے داروں نے کوشش کی مگر عوامی تعاون کی کمی کے سبب یہ کام پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔
یہ معاملہ آج بھی توجہ طلب ہے۔

۴۔ مؤذن
عبادت کے خاموش خدمت گار

جامع مسجد کے مؤذن:

جناب نتھنی صاحب ، جناب محمد موسیٰ صاحب
جناب خدا بخش صاحب ، جناب عبدالکلام صاحب ، جناب محمد ضابر صاحب و دیگر صاحبان ۔

نئی مسجد کے مؤذن:

جناب محمد مستقیم صاحب ، جناب محمد اکرم صاحب ، و دیگر صاحبان

ان حضرات نے بلا معاوضہ، خلوصِ دل اور خدمت کے جذبے کے ساتھ اذان اور دیگر مقدس فرائض انجام دیے۔

۵۔ ائمہ کرام
روحانی قیادت کی تاریخ

گاؤں میں امامت کے شرف سے جن حضرات نے اپنے ادوار میں مسجدوں کی خدمت کی اُن میں
مولوی ابراہیم صاحب ، مولوی محمد جنید صاحب ، حافظ محمد عزیر (بھولا صاحب)
حافظ حسان صاحب ، مولانا حسام الدین قاسمی صاحب ،مفتی شفیع اللہ قاسمی صاحب و دِیگر

نماز تراویح کے ممتاز حفاظ کرام و آئمہ کرام
حافظ محمد ممتاز (خوبصورت آواز)
حافظ محمد عمر فاروق (بہترین حافظہ)
حافظ اعظم الباری ، حافظ حسان و دیگر نوجوان حفاظ کرام

گنور کے حفاظ کی قراءت اپنی اعلیٰ کیفیت، صوت اور ادائیگی کی وجہ سے ملک و بیرونِ ملک تک شہرت رکھتی ہے۔

اختتامی جائزہ :-
گنور کا 50 سالہ تہذیبی سفر

1975 سے 2025 تک گنور کا مذہبی و تعلیمی سفر محض تاریخ نہیں،
بلکہ عقیدت، روایت، کمیوں، کوششوں اور اُمیدوں کی داستان ہے۔
مغربی حصے میں کالی استھان اور مرلیا چوک نے ہندو سماج کی مذہبی بنیادوں کو مضبوط رکھا۔
مشرقی حصے نے اپنی سادگی اور روایت کو برقرار رکھا۔

مسلمانوں نے سادگی، اخلاص، اور وحدت کے ساتھ اپنے دینی مراکز کو آباد رکھا۔
مدرسہ نے کئی نشیب و فراز دیکھے مگر سفر آج بھی جاری ہے۔
یہ جائزہ گنور کے ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک فکری ربط پیدا کرتا ہے —
اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا چراغ ثابت ہوتا ہے۔
——————————————-

 

۔

۔
[22/02, 10:34 am] Akram Chacha Kolkata: 17. Cultural Fabric (تہذیبی ساخت)

تہذیب کسی خطۂ ارضی کی صرف ثقافتی پہچان نہیں بلکہ اس کے اجتماعی شعور، تاریخی تسلسل، مذہبی رجحانات، سماجی تنظیم اور اخلاقی اقدار کا مجموعی اظہار ہوتی ہے۔ دیہی سماج میں تہذیب اپنی فطری اور غیر مصنوعی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے، جہاں انسانی رشتے، روایت، اور روزمرہ عمل ایک دوسرے میں پیوست ہو کر تہذیبی شناخت کو قائم رکھتے ہیں۔

گنور، ضلع مدھوبنی (بہار) کے سب ڈویژن بسفی میں واقع، ایک ایسا ہی گاؤں ہے جو اپنی تہذیبی ساخت میں نہایت معنویت رکھتا ہے۔ اس کی انفرادیت اس امر میں ہے کہ یہ گاؤں تہذیبی اعتبار سے دو واضح مگر باہم مربوط حصّوں—مشرقی (مسلمان اکثریتی) اور مغربی (برہمن اور دیگر ذاتوں پر مشتمل)—پر مشتمل ہے۔ گنور کی تہذیب کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ان دونوں حصّوں کا متوازن، غیر جانب دار اور تحقیقی مطالعہ ناگزیر ہے۔

1۔ تہذیب کا نظری و علمی پس منظر

علمِ عمرانیات اور بشریات کے مطابق تہذیب اُن اقدار، روایات اور اداروں کا مجموعہ ہے جو کسی سماج کے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس میں مذہب، زبان، معاشرت، معیشت، رسوم و رواج اور اخلاقی ضابطے شامل ہوتے ہیں۔

گنور کی تہذیبی ساخت انہی عناصر کے باہمی تعامل سے وجود میں آئی ہے، جہاں اسلامی تہذیبی روایت اور قدیم میتھلائی-ہندستانی تہذیب ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔

2۔ تاریخی تناظر اور میتھلائی اثرات

گنور میتھلا کے قدیم تہذیبی خطے کا حصہ رہا ہے۔ میتھلا صدیوں سے علم، فلسفہ، مذہب اور تہذیبی نظم کے لیے معروف رہا ہے۔ اس خطے کی خصوصیات—علمی وقار، سماجی ضبط، اور روایتی سنجیدگی—گنور کی تہذیب میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہیں۔

اسلامی عہد میں جب یہاں مسلم آبادی مستحکم ہوئی تو مقامی روایت اور اسلامی اخلاقیات کے امتزاج سے ایک نئی مگر متوازن تہذیبی صورت سامنے آئی، جس نے گاؤں کے سماجی توازن کو برقرار رکھا۔

3۔ مشرقی گنور: مسلمان معاشرہ اور تہذیبی ساخت

مشرقی گنور میں مسلم آبادی اکثریت میں ہے، اور اس حصّے کی تہذیب کا مرکزی محور مذہب، تعلیم اور اخلاقی نظم ہے۔

(الف) مذہبی ادارے اور کردار سازی

مساجد، مدارس اور دینی مکاتب مشرقی گنور کی تہذیبی زندگی کا مرکز ہیں۔ یہ ادارے صرف عبادت یا تعلیم تک محدود نہیں بلکہ سماجی نظم، اخلاقی تربیت اور اجتماعی شعور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

(ب) سماجی اقدار

سادگی اور اعتدال

بزرگوں کا احترام

اجتماعی فیصلوں کی روایت

مذہبی مواقع پر تعاون اور اخوت

یہ اقدار مشرقی گنور کی تہذیبی شناخت کو مضبوط کرتی ہیں۔

(ج) زبان اور اظہار

اردو یہاں تہذیبی زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ مذہبی خطبات، تعلیمی سرگرمیاں اور سماجی گفتگو میں شائستگی اور فصاحت نمایاں ہے۔

4۔ مغربی گنور: برہمن اور دیگر ذاتوں کی تہذیبی ساخت

گنور کے مغربی حصّے میں برہمن، کایستھ، یادو، کمہار، نائی، تیلّی اور دیگر ذاتیں آباد ہیں۔ یہ حصّہ گنور کی تہذیبی شناخت کا اتنا ہی اہم جز ہے جتنا مشرقی حصّہ۔

(الف) برہمن سماج اور علمی روایت

برہمن طبقہ صدیوں سے گنور میں مذہبی، علمی اور سماجی نظم کا امین رہا ہے۔ سنسکرتی روایت، میتھلائی ثقافت اور دھرم شاستری اصول اس طبقے کی تہذیبی بنیاد ہیں۔

علم اور شاستر کا احترام

مذہبی رسومات میں ضبط و ترتیب

سماجی فیصلوں میں وقار اور سنجیدگی

یہ عناصر گنور کی مجموعی تہذیب میں فکری استحکام پیدا کرتے ہیں۔

(ب) مذہبی رسومات اور تہوار

مغربی گنور میں مذہبی زندگی مندروں، گھریلو پوجا گھروں اور سنسکاروں کے گرد گھومتی ہے۔ دیوالی، چھٹھ، ہولی اور دیگر تہوار تہذیبی تسلسل اور خاندانی ربط کا ذریعہ بنتے ہیں۔

(ج) دیگر ذاتیں اور عملی تہذیب

دیگر ذاتیں—جیسے یادو، کمہار، نائی اور لوہار—گنور کی تہذیب کو عملی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ ان کی تہذیب محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور خاندانی روایت پر قائم ہے۔

5۔ خاندانی نظام: مشرق و مغرب کا مشترکہ وصف

گنور کے دونوں حصّوں میں خاندانی نظام مضبوط اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

مشترکہ خاندان

بزرگوں کی فیصلہ کن حیثیت

شادی بیاہ میں روایت اور سماجی وقار

یہ عناصر گنور کی تہذیب کو داخلی استحکام عطا کرتے ہیں۔

6۔ معاشی طرزِ حیات اور اخلاقی قدریں

زراعت، مویشی پروری، محدود تجارت اور خدمات گنور کی معیشت کی بنیاد ہیں۔ مشرق و مغرب دونوں حصّوں میں محنت، دیانت اور قناعت کو اخلاقی قدر سمجھا جاتا ہے۔

7۔ مشرق و مغرب کی تہذیبی ہم آہنگی

اگرچہ مذہبی اور سماجی ڈھانچے مختلف ہیں، مگر روزمرہ زندگی میں دونوں حصّوں کے درمیان:

باہمی انحصار

سماجی میل جول

دیہی مسائل میں اشتراک

واضح نظر آتا ہے۔ یہی ہم آہنگی گنور کو تہذیبی تصادم سے محفوظ رکھتی ہے۔

8۔ جدید اثرات اور تہذیبی چیلنجز

تعلیم، ذرائع ابلاغ اور نقل مکانی نے گنور کی تہذیب کو متاثر کیا ہے، مگر خاندانی نظام، مذہبی وابستگی اور روایتی اقدار نے تہذیبی شناخت کو برقرار رکھا ہے۔

نتیجہ

گنور کی تہذیبی ساخت ایک متوازن، کثیر جہتی اور زندہ نظام ہے۔ مشرقی حصّے کی اسلامی تہذیب اور مغربی حصّے کی میتھلائی-برہمنی روایت مل کر ایک ایسی اجتماعی شناخت تشکیل دیتی ہیں جو نہ منقسم ہے اور نہ یک رنگ، بلکہ ہم آہنگ تنوع کی اعلیٰ مثال ہے۔ تحقیقی اعتبار سے گنور ایک ایسا گاؤں ہے جو دیہی ہندوستان کی تہذیبی روح کو پوری معنویت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

۔
[22/02, 10:36 am] Akram Chacha Kolkata: 18. Popular & Historical Places
(مشہور مقامات)

گنور کے ناقابلِ فراموش مقامات
(1975 – 2025)

تاریخی، سماجی اور ثقافتی مطالعہ

گنور ایک ایسا گاؤں ہے جس کی مٹی میں یادوں کی خوشبو، روایتوں کی گرمی، اور تہذیب کی مضبوط جڑیں پیوست ہیں۔ 1975 سے 2025 تک کے پچاس برسوں کا سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ گنور صرف مکانوں، راستوں اور کھیتوں کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ، جاگتی، سانس لیتی تہذیب ہے۔ اس نیم شہری اور نیم دیہی ماحول نے وقت کے ساتھ اپنے اندر ایسے ایسے مقامات کو محفوظ رکھا جو آج بھی گاؤں کی اجتماعی شناخت کا درجہ رکھتے ہیں۔
ان مقامات میں مذہبی رنگ بھی ہے، سماجی تہذیب بھی، بازار کی رونق بھی، بزرگوں کا وقار بھی اور بچپن کی شرارتوں کی خوشبو بھی—سب کچھ ایک ساتھ۔

ذیل میں گنور کے چند ناقابلِ فراموش مقامات کا تفصیلی، تحقیقی و ادبی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

1. مغربی حصہ اور کالی استھان کا تاریخی چوراہا

گنور کا مغربی حصہ صدیوں سے مذہبی، تجارتی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ کالی استھان مندر کا چوراہا یہاں کی سب سے پہچانی جانے والی علامت ہے۔
یہ چوراہا تین اہم راستوں کے ملاپ سے بنتا ہے، اور انہی راستوں پر گنور کے آدھے سے زیادہ قصے اور یادیں بکھری پڑی ہیں۔ یہ چوراہا بجراہا کو گاؤں سے جوڑتا ہے ۔

1975–2025 کا جائزہ:

ہر سوموار اور جمعہ کو یہاں روایتی ہاٹ لگتا ہے، جو وقت کے ساتھ چھوٹا ہوتے ہوئے بھی اپنی روح برقرار رکھے ہوئے ہے۔

برسوں سے یہ جگہ بیرونی تجارتی سرگرمیوں کا دروازہ رہی، کیوں کہ پرسونی سے آنے والی ہر بس کا پہلا اسٹاپ یہی رہا ہے۔

بڑھتی آبادی اور ٹریفک نے آج اسے ایک مصروف، مگر پھر بھی تہذیبی طور پر باوقار چوراہے میں بدل دیا ہے۔

یہ چوراہا صرف بازار نہیں—یہ گنور کی دھڑکن ہے، جہاں صبح سے شام تک لوگوں کا آنا جانا گاؤں کے زندہ ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔

2. پل اور سبحانی چوک — گاؤں کی نبض

گنور کی قدیم تاریخ میں لکڑی کا پل خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 1975 کے آس پاس یہ پل اب بھی اپنی اصل حالت میں موجود تھا، مگر 80 کی دہائی میں آہستہ آہستہ مضبوط تعمیرات نے اس کی جگہ لے لی۔

اہم نکات:

کبھی یہاں ہفتہ واری بازار لگا کرتا تھا۔

ایک وقت میں خواتین کی عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے اس راستے کو عارضی طور پر بند بھی کر دیا گیا — یہ ایک سماجی اصلاحاتی قدم بھی تھا۔

سبحانی چوک سے آج بھی گاؤں کے ہر حصے کے لیے چھوٹی سواری آسانی سے ملتی ہے۔

دکانوں، کھوکھوں اور چھوٹے ہوٹلوں کی موجودگی اسے فجر سے عشاء تک متحرک رکھتی ہے۔

سبحانی چوک گنور کا اصل شہری اعصاب ہے—ایک ایسا چوک جو نہ سویا ہے، نہ کسی دن خاموش ہوا۔

3. بھلسری کا پیڑ — گنور کی سب سے پرانی علامت

دو بڑے پوکھروں کے بیچ واقع یہ گھنا، تناور درخت گنور کی زندہ تاریخ ہے۔ اس کے سائے میں کئی نسلوں نے بچپن گزارا، بوڑھوں نے وقت گزارا، اور سماج نے فیصلے کیے۔

اس کے ساتھ ہی چمیلی کا ایک خوشبودار درخت ہے جو موسمِ بہار میں پورے علاقے کو اپنی خوشبو سے بھر دیتا ہے۔
اسی مقام پر ایک قدیم عمارت بھی موجود رہی جہاں: شادی بیاہ، پنچایتیں ،نسماجی فیصلے ، گاؤں کی بیٹھک ، اعلان ۔ کبھی کبھی کبڈی کے بڑے بڑے مقابلے ۔ محرم کے دوران تعزیہ اور لاٹھی کا فن ۔ ابتدائی زمانوں میں ہوا کرتی تھیں

یہ مقام گنور کے سماجی شعور، باہمی تعلق اور روایتی عدالتی نظام کی جیتی جاگتی مثال ہے۔

4. کرسی بھیڑ — ہوا محل کا قدرتی عجوبہ

یہ جگہ بچوں اور نوجوانوں کی تفریح گاہ رہی ہے۔
دھارا پر کی تیز پوربی ہوا اسے ہمیشہ سے منفرد بناتی رہی ہے۔
یہاں بیٹھ کر گاؤں کے بچے اپنی پہلی ہوا محسوس کرتے، بزرگ گفتگو کرتے، اور لڑکے کرکٹ یا بیٹھک جماتے تھے۔

کرسی بھیڑ گنور کی فطری خوشگواری کا آئینہ ہے—ایک ایسی جگہ جہاں ہوا بھی گھنٹوں باتیں کرتی محسوس ہوتی ہے۔

5. املی تلے — گنور کا پہلا کرکٹ میدان

مغربی و شمالی حصے میں واقع یہ فلک بوس املی کا درخت گنور کے نوجوانوں کی کھیلوں کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

1975–2000 کے درمیان یہ گنور کا پہلا اور سب سے بڑا کرکٹ میدان تھا۔
یہاں ہونے والے مقابلے پورے گاؤں کے لیے جشن بن جاتے تھے۔
بچوں سے لے کر بڑوں تک ہر کوئی اس میدان سے وابستہ کسی نہ کسی یاد کو آج بھی سینے میں محفوظ رکھتا ہے۔

6. لیٹریا کی گاچھی — خوف و وہم کی سرزمین

گاؤں کے مشرقی اور جنوبی آخری سرے پر واقع یہ مقام گنور کے روایتی ڈراؤنے قصوں کی علامت ہے۔

یہاں آسیب و بھوت پریت کا خوف مشہور تھا۔

گھنا جنگلی ماحول، خاموشی، اور ویرانی نے اسے دن میں بھی خوفناک بنایا ہوا تھا۔

80 اور 90 کی دہائی میں اس جگہ کے حوالے سے کئی قصے گاؤں کی محفلوں کا حصہ رہے۔

یہ مقام گنور کی لوک کہانیوں اور دیہی تخیل کا روشن—یا شاید تاریک—عکس ہے۔

7. ننہا
دلدل زمین

وسطِ جنوبی حصے کے یہ کھیت گنور کی زرعی تاریخ کا بنیادی حصہ ہیں۔
1975 سے 2000 تک یہاں دھان، گیہوں، مکّا، مسور اور تلہنی فصلیں خوب ہوتی تھیں۔
یہی وہ زمین تھی جہاں بچوں نے پیڑھی در پیڑھی دھان کے کھیتوں میں کھیلتے، پانی کے دھاروں پر دوڑتے اور کھیتوں کی حد بندیوں پر چلتے ہوئے اپنا بچپن تراشا۔

یہ کھیت گنور کی معاشی خود کفالت اور مٹی سے جڑی محبت کی علامت ہیں۔ سالوں بھر یا زیادہ تر پانی بھرے رہنے کی وجہ سے یہ جگہ دلدل میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔

اختتامیہ

1975 سے 2025 تک کے پچاس برسوں میں گنور نے جتنی تبدیلیاں دیکھی ہیں، اتنا ہی اپنی جڑوں سے جڑا بھی رہا ہے۔
کالی استھان کا چوراہا ہو یا بھلسری کا پیڑ، املی تلے کا میدان ہو یا لیٹریا کی گاچھی—یہ سب گنور کے وجود کا حصہ ہیں۔
ان میں سے ہر جگہ گاؤں کی اجتماعی یادداشت، تکلیفیں، خوشیاں، بازار، کھیل، عبادت اور سماجی اقدار ایک ساتھ چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یہ مقامات ایسے ہی نہیں—یہ گنور کی تہذیبی روح ہیں۔
اور روح کبھی فراموش نہیں ہوتی۔

حاجی علی اور دھارا پر
مشرقی گنور کے نمایاں مقاما ت

مشرقی گنور اپنی زرخیزی، خاموشی اور بتدریج بڑھتی آبادی کے سبب ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اس علاقے کے دو مقامات—حاجی علی اور دھارا پر—نہ صرف جغرافیائی طور پر اہم ہیں بلکہ گاؤں کی سماجی، معاشی اور تمدنی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

حاجی علی :-
ابھرتی ہوئی آبادی کا مرکز

مشرقی گنور کے شمال مشرق میں واقع وہ راستہ جو کروار کی جانب جاتا ہے، طویل عرصے تک سنسان اور غیر آباد تھا۔ 1990 سے پہلے یہاں کوئی گھر نہیں تھا، نہ بستی اور نہ آبادی۔ مگر 1990 کے بعد تبدیلی کا سلسلہ شروع ہوا:

لوگوں نے سڑک سے متصل اپنی زمینوں پر گھر بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے یہاں باقاعدہ بستی قائم ہوگئی۔
آج یہ حصہ مشرقی گنور کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کثیر آبادی میں شامل ہے۔
اسی نئے وجود پذیر محلے کو وقت کے ساتھ "حاجی علی” کے نام سے پکارا جانے لگا، اور اب یہ نام مکمل طور پر رائج و معروف ہو چکا ہے۔

اہمیت:

یہ مشرقی گنور کی نئی رہائشی توسیع ہے۔
بہترین سڑک کنیکشن ہونے کی وجہ سے آمدورفت آسان ہے۔
مستقبل میں یہ حصہ مشرقی گنور کا نیم شہری محلہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دھارا پر :-
مشرقی گنور کی زرعی راجدھانی

گاؤں کے انتہائی مشرق میں پھیلا ہوا یہ قدیم علاقہ اپنی زرخیز مٹی، گھنے درختوں، وسیع کھیتوں اور پرانے قلم باغ کے باعث گنور کی معاشی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔

خصوصیات:
یہاں مختلف قسم کے پرانے اور نئے درخت پائے جاتے ہیں۔
قلم باغ اس کی تاریخی پہچان ہے، جو باغبانی کی روایت کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
وسیع کھیت کھلیان اس حصے کو ایک مکمل زرعی خطہ بناتے ہیں۔
اسی لیے دھارا پر کو "مشرقی گنور کی زرعی راجدھانی” کہا جاتا ہے۔

اہمیت اور افادیت:
گنور کی زرعی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ اسی علاقے سے آتا ہے۔
دھان، گیہوں، سبزیاں اور کئی موسمی فصلیں یہاں وافر مقدار میں اگتی ہیں۔
یہاں کی زمین نہ صرف مقامی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ گاؤں کے متعدد گھرانوں کی معاشی بنیاد بھی ہے۔

اختتامی تاثر
حاجی علی جہاں مشرقی گنور کی بڑھتی آبادی اور جدید رہائشی نقشے کی نمائندگی کرتا ہے، وہیں دھارا پر اس علاقے کی قدیم زرعی عظمت اور معاشی طاقت کا استعارہ ہے۔
ایک مقام سماجی ترقی کا پتا دیتا ہے اور دوسرا معاشی استحکام کا۔
یہ دونوں جگہیں مل کر اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ مشرقی گنور نہ صرف ماضی کی روایات کا امین ہے بلکہ نئے دور کی تبدیلیوں سے بھی ہم آہنگ ہے
[22/02, 10:38 am] Akram Chacha Kolkata: 19. Social Conditions
(سماجی حالات)
سماجی حالات (1975–2025):

گنور، جو تاریخ کے طویل سفر میں کئی تہذیبی اثرات کا مرکز رہا ہے، اپنی جغرافیائی تقسیم، آبادی کے تنوع، اور مذہبی و سماجی کشمکش کے سبب ایک منفرد معاشرتی نقشہ پیش کرتا ہے۔ 1975 سے 2025 تک کے پچاس برسوں میں یہاں کے سماجی حالات نے نمایاں تبدیلیاں دیکھی ہیں، مگر اس تبدیلی کے باوجود کچھ قدریں قائم بھی رہیں، اور کچھ تضادات سائے کی طرح موجود رہے۔

مغربی حصہ — سماجی ہم آہنگی اور ترقی کی مثال

گنور کا مغربی حصہ، جہاں برہمن اور دوسرے غیر مسلم طبقات کی اکثریت ہے، 1975 سے ہی ایک منظم اور ہم آہنگ معاشرتی ڈھانچے کا حامل رہا ہے۔
یہاں کی سماجی فضاء پر مذہبی اثر ضرور رہا، مگر مذہب نے انہیں تقسیم کرنے کے بجائے ایک مضبوط سماجی رشتے میں پروئے رکھا۔

ہم آہنگی، اتحاد اور باہمی ربط

مغربی حصے میں ہمیشہ سے ہی سماجی ہم آہنگی ۔ مضبوط باہمی تعاون ۔ فلاحی سرگرمیوں کا جذبہ ۔ اور غریب پروری کی روایت
چلی آتی ہے

ان کے یہاں سماجی خدمت کوئی موقعے کی بات نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ کسی کے گھر شادی ہو، کسی کے یہاں موت کا صدمہ ہو، مذہبی یا ثقافتی تہوار ہوں یا سیاسی مشورے—سب میں ایک مضبوط اتحاد جھلکتا ہے۔

صفائی ستھرائی اور ماحولیات کا شعور

1975 کے مقابلے آج 2025 میں مغربی حصہ کہیں زیادہ صاف، کشادہ اور ترقی یافتہ دکھائی دیتا ہے۔سڑکیں ہموار ہیں ۔ گلیاں کھلی ہوئی ہیں ۔
مکانوں کا معیار بہتر ہے ۔ ماحول صحت مند ہے ۔
اور صفائی خصوصی اہتمام کے ساتھ برقرار رکھی جاتی ہے۔
یہ سب مجموعی شعور اور منظم سماجی تربیت کا نتیجہ ہے۔

مشرقی حصہ — پسماندگی، تنوع اور تضادات کا مجموعہ

گنور کا مشرقی حصہ، جہاں مسلم اور غیر مسلم مخلوط آبادی کے ساتھ ساتھ کثیر الثقافتی ماحول بھی ہے، سماجی اعتبار سے ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ یہاں کے حالات نے 1975 سے 2025 تک کئی نشیب و فراز دیکھے، مگر مجموعی ترقی کی رفتار نسبتاً دھیمی رہی۔

اخوت و بھائی چارگی اور ہمدردی کی موجودگی ہمیشہ رہی ۔ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہونے کا جذبہ ۔ مذہبی و سماجی تقریبات میں تعاون کا جذبہ ہمیشہ اعلیٰ ترین رہا ہے ۔

مگر اس اخوت کے ساتھ ساتھ ذاتی، مذہبی اور سماجی دوریوں کی لکیریں بھی نمایاں نظر آتی ہیں۔
یہ تضاد، اس علاقے کی سماجی ساخت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

صفائی اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوری

مشرقی علاقے میں: سڑکیں تنگ ۔گلیاں غیر ہموار ۔ گندگی کا تناسب زیادہ ۔ ماحول نسبتاً غیر صحت مند نظر آتا ہے ۔
یہ صورتِ حال 1975 سے مسلسل موجود ہے، اور اگرچہ کچھ بہتری آئی ہے، مگر مجموعی ترقی کا دائرہ ابھی محدود ہے۔

سیاسی طور پر کمزور

مشرق کے لوگ: سماجی ۔مذہبی ۔ ثقافتی
ہر معاملے میں یکجا دکھتے ہیں، لیکن جب بات سیاسی اتحاد کی آتی ہے تو انتشار بہت واضح ہو جاتا ہے۔
سیاسی فیصلوں میں عدم اتفاق اور منتشر رویہ—اس علاقے کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 50 سالوں میں سیاسی نمائندگی یا اجتماعی سیاسی کامیابی کا گراف کمزور رہتا ہے۔

1975 سے 2025 تک تبدیلی کا جائزہ

پچاس برسوں کا مختصر جائزہ:

1975
آبادی کم ۔ سہولیات محدود ۔
سماجی زندگی مضبوط روایتوں پر قائم
مسائل مشترکہ مگر نفسیاتی فاصلے کم

1990–2000
پنچایتی ترقیاتی اسکیموں کا آغاز
بجلی، تعلیم، سڑکوں اور مواصلات میں غیر مساوی ترقی
مشرق اور مغرب کا فرق واضح ہونے لگا

2000–2025
مغربی حصہ: نظم، ترقی، معیارِ زندگی میں بہتری
مشرقی حصہ: آبادی بڑھنے کے ساتھ پسماندگی میں اضافہ۔ سیاسی تقسیم میں تیزی۔
مذہبی ہم آہنگی کے باوجود سماجی نفسیاتی فاصلے برقرار

گنور: ایک گوناگوں معاشرہ

گنور کے دونوں حصے ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔
ایک حصہ ترقی، اتحاد اور سماجی نظم کی مثال ہے
دوسرا حصہ تنوع، مذہبی اشتراک اور جذباتی وابستگی کی علامت
لیکن دونوں کے درمیان ترقی اور شعور کا فرق اب مزید بڑھ رہا ہے۔
اگر مشرقی حصے میں بھی سیاسی یکجہتی، صفائی کا شعور اور سماجی نظم قائم ہو جائے، تو گنور ایک مثالی بستی بن سکتی ہے۔

اختتامیہ

گنور کے سماجی حالات نصف صدی کے سفر میں مسلسل تبدیلی، روایات، تضادات اور امکانات کی کہانی ہیں۔ جہاں ایک طرف مغربی حصہ نظم و ضبط اور ترقی کی علامت ہے، وہیں مشرقی حصہ سماجی تنوع، مشترکہ زندگی اور جذباتی ہم آہنگی کا مرکز ہے۔
دونوں حصوں کے فرق کے باوجود گنور کی روح اشتراک، اخوت اور باہمی ربط میں ہی پوشیدہ ہے۔
مگر ایک بات ضرور ہے کہ آج بھی غیر مسلم فرد کِسی مسلمان کے گھر ۔ دکان میں کھانا کھانے اور چائے پینے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ جبکہ مُسلم طبقہ غیر مسلم کے گھر میں تو نہیں لیکن دکان میں بڑے شوق سے کھاتے پیتے ہیں ۔
اگر انصاف کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ تعصّب پرستی مادّی اور ذہنی طور پر ابھی بھی قائم ہے ۔

——————————————
20. Economic Conditions
(معاشی حالات )
(1975 – 2025)

گنور کی معیشت اپنی ساخت، تاریخ، سماجی تقسیم اور پیشہ ورانہ تبدیلیوں کے اعتبار سے ایک دلچسپ مطالعہ پیش کرتی ہے۔ 1975 سے 2025 کے پچاس برس گنور کے معاشی ارتقاء کے وہ اہم سال ہیں جن میں گاؤں نے زراعت سے تجارت، تجارت سے صنعت، اور صنعت سے عالمی منڈی تک کا سفر طے کیا۔
ان پچاس برسوں میں گنور نہ صرف بدلتا رہا بلکہ نئی معاشی سمتیں بھی اختیار کرتا رہا۔
ذیل میں مشرقی اور مغربی دونوں حصوں کا انفرادی اور مجموعی معاشی تجزیہ پیش ہے۔

1. مغربی حصہ
روایتی خوشحالی سے جدید معاشی استحکام تک
مغربی گنور تاریخی طور پر گاؤں کا سب سے خوشحال حصہ رہا ہے۔
یہاں کی معاشی بنیادیں مضبوط، روایتی اور منظم رہی ہیں۔

1.1 روایتی معاشی بنیادیں (1975–1990)

یہاں کے لوگ زمیندار، ساہوکار اور تاجر رہے ہیں۔
زرعی زمینوں کی ملکیت نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث معاشی استحکام پرانا ہے۔
سود پر دینا اور لینا کئی دہائیوں تک یہاں کا ایک عملی معاشی نظام رہا۔
سرکاری ملازمت میں بھی اس حصے کے بعض لوگوں نے ریاستی اور مرکزی حکومت میں خدمات انجام دیں۔ لیکن بال مزدوری سے اپنے بچوں کو نہیں بچا سکے ۔
زراعت کے ساتھ ساتھ مویشی پروری، دھان کی تجارت اور مقامی قرض کا نظام مجتمع ہو کر ایک مضبوط دیہی معیشت تشکیل دیتے رہے۔

1.2 خواتین کی معاشی کردار

یہاں کی عورتیں ہمیشہ کھیت کھلیان اور گھریلو محنت میں حصہ لیتی رہی ہیں۔
مگر معاشی مجبوریوں کے باوجود بیرون ریاست یا بیرون ملک کبھی نہیں گئیں—یہاں کا سماجی ڈھانچہ اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔

1.3 بیرون ریاست و بیرون ملک سفر کا آغاز (1990–2010)

نوجوانوں نے روزگار کے لیے بیرون ریاست (دہلی، ممبئی، پنجاب، گجرات) کا رخ کیا۔
بعض لوگ بیرون ملک گئے، جس سے گھروں میں مالی استحکام میں مزید اضافہ ہوا۔
اس دور میں پہلی بار مغربی گنور میں بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات میں اضافہ ہوا۔

1.4 جدید ترقی کی راہ (2010–2025)

نئی نسل نے ٹیکنیکل تعلیم، انڈسٹری اور تجارت میں قدم رکھا۔
کچھ افراد نے بیرون ریاست بڑی سطح پر کام شروع کیا جس نے مغربی حصے کو ایک بہت مستحکم معاشی شناخت دی۔

آج مغربی گنور جدید معاشی امکانات—چھوٹی صنعت، کنسٹرکشن، رئیل اسٹیٹ اور بیرونی تجارت—کی طرف بڑھ رہا ہے۔

2. مشرقی حصہ :-
غربت، محنت اور مسلسل جدوجہد کی داستان

مشرقی گنور کی معاشی تاریخ مغربی حصے سے یکسر مختلف رہی ہے۔
یہاں کی آبادی زیادہ تر غریب، محنتی اور زرعی نظام پر منحصر رہی۔

2.1 بنیادی معاشی ڈھانچہ (1975–1985)

یہاں کی آبادی مخلوط اور معاشی طور پر کمزور تھی۔معاش کا بنیادی ذریعہ ، زراعت ، مزدوری
مویشی پروری ، چھوٹے دستکاری کے کام ، اور کُچھ مزدور جنهوری ( بندھوا مزدوری) پر بھی کام کرتے رہیں ہیں ۔ بال مزدوری اُنکی مجبوری تھی ۔

1970 سے 1985
کولکاتا مشرقی گنور کا سب سے بڑا معاشی مرکز رہا ہے ۔ بڑی تعداد میں لوگ کولکتا میں رہ کر ٹرانسپورٹ، ہوٹل لائن، مٹیا کے کاروبار اور چھوٹے پرائیویٹ کام کرتے تھے ۔ خوانچہ ۔ پھیری ۔ کرتے تھے ۔ یہ ایک دورِ غربت بھی تھا اور جدوجہد کا زمانہ بھی

خواتین کی معاشی کردار

یہاں کی عورتیں ہمیشہ کھیت کھلیان اور گھریلو محنت میں حصہ لیتی رہی ہیں۔
مگر معاشی مجبوریوں کے باوجود بیرون ریاست یا بیرون ملک کبھی نہیں گئیں—یہاں کا سماجی ڈھانچہ اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ لیکِن مزدوری کے لئے مرلیا چوک ۔ بجرا ہا ۔ روپوهلی ۔ سمری تک ضرور گئیں اور معاشی حالت کو استحکام بخشا ۔

2.2 نئے شہروں کی طرف ہجرت (1985–2000)

1980 کے بعد بڑی تبدیلی آئی:

لوگوں نے دہلی، ممبئی، احمدآباد، سورت، پنجاب، بنارس ، ناگپور ۔ گواہاٹی ۔ اور دیگر شہروں کا رخ کرنا شروع کیا۔
اس سفر نے مشرقی حصے کی معاشی ساخت کو یکسر بدل دیا۔
ایک نیا متوسط طبقہ ابھرنے لگا۔

2.3 صنعت کاری اور چھوٹے کارخانے :-
ترقی کا آغاز

یہاں کے کئی افراد نے بیرون شہر چھوٹی صنعتیں قائم کیں۔ ان میں خصوصاً ابو بکر صاحب ، ابو زر صاحب ، محمد بشیر صاحب ،
مصطفیٰ کمال برادران صاحب ، عبدالمنان صاحب ، مصطفیٰ صاحب ، مصطفیٰ صاحب ابن محمد صابر ۔ کلیم برادران صاحب ، شاکر صاحب ، جانب سنجیر صاحب۔ جانب اسلم باری صاحب جناب محمد گلفام صاحب ۔ جناب محمد حیدر و محمد علی و دِیگر صاحبان

یہ تمام افراد دہلی اور ممبئی میں چھوٹے کارخانے، ہول سیل تجارت، ٹرانسپورٹ، پرچون و تھوک کاروبار میں کامیابی کے ساتھ نمایاں ہوئے۔
ان کی محنت نے نہ صرف اپنے گھروں بلکہ گاؤں کی مجموعی معیشت میں بھی اہم حصہ ڈالا۔

2.4 بیرون ملک ہجرت :-
معیشت کی نئی بنیاد (1990–2025)

1990 کے بعد مشرقی گنور کے نوجوان عرب ممالک (سعودی عرب، قطر، دبئی، کویت، بحرین ، عمان، متحدہ عرب امارات ) میں گئے۔ یہاں مزدوری ۔ ملازمت اختیار کی ۔
اس سفر نے مشرقی گنور کے کمزور معاشی ڈھانچے میں نیا استحکام پیدا کیا۔

آج بیرون ملک کام کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور ترسیلات نے گھروں میں خوشحالی کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ جِس کی وجہ سے درج ذیل تبدیلیاں رو نما ہوئیں ۔

مکانات کے معیار کو بہتر کیا ، تعلیم میں سرمایہ کاری بڑھائی ، زمینداری میں اضافہ کیا ،
مقامی روزگار پیدا کیا
تعلیم میں سرمایہ کاری بڑھائی ، گاؤں میں معاشی اعتماد بحال کیا

3. مجموعی جائزہ :-
گنور کی معاشی کہانی

1975 سے 2025 کے درمیان گنور کی معاشی کہانی دو بڑے دھاروں میں بٹی رہی:

مغربی حصہ :-

روایتی خوشحالی ، زرعی طاقت ، سرکاری ملازمتیں ، بیرون ملک روزگار ، جدید صنعت و تجارت کی طرف رخ، قرض و تجارت کا مضبوط نظام

مشرقی حصہ :-

غربت اور محنت ، کولکاتا میں روزگار ،
بعد میں دہلی و ممبئی ہجرت ، صنعت و تجارت میں نمایاں کامیابی ، عرب ممالک میں روزگار

اختتامی تجزیہ

گنور کی معیشت 1975 سے 2025 تک ایک مکمل ارتقائی سفر سے گزری ہے۔
یہ سفر صرف معاشی اعداد و شمار کا نہیں بلکہ پسینہ، قربانی، ہجرت، محنت اور کامیابی کی کہانی ہے۔
مغربی حصہ اپنی روایتی خوشحالی کے ساتھ جدید ترقی تک پہنچا۔
مشرقی حصہ غربت اور محنت کی مٹی سے اٹھ کر عالمی معیشت تک جا پہنچا۔

دونوں حصوں نے اپنے اپنے راستوں سے گاؤں کی معاشی بنیاد کو مضبوط کیا، اور آج گنور ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں روایات بھی محفوظ ہیں اور ترقی کے دروازے بھی کھلے ہیں۔
——————————————-

21. Political Conditions
(سیاسی حالات)
) سیاسی حالات — مغرب و مشرق کا تقابلی جائزہ (ادبی انداز میں)
مغربی گنور: ابتدا ہی سے عملی سیاست میں سنجیدہ رہا — اس کا سبب مقامی بیداری، علمی قوت اور باہمی رابطہ رہا۔ بزرگ رہنما جیسے شری بششٹ جھا، شری سنجے جھا، شری رادھے بابو، شری گنگا بابو وغیرہ نے نہ صرف سیاسی فہم دکھائی بلکہ عملی سیاست میں حصہ بھی لیا۔ ان بزرگوں کا سیاسی شعور گاؤں کے سماجی ڈھانچے میں ایک محور کی مانند رہا — لوگ اکثر ان کی راۓ پر عمل کرتے تھے اور گاؤں کے عمومی فیصلوں میں ایک مربوط رویّہ جھلکتا تھا۔ (یہ مشاہداتی نتیجہ آپ کی فراہم کردہ معلومات اور مقامی روایات پر مبنی تجزیہ ہے۔)

مشرقی گنور: اس طرف طویل عرصہ تک عملی سیاست کم رہی — اسکی جڑیں تعلیمی اور سماجی کم بُنیادی میں تھیں۔ لوگ مذہبی، قبائلی یا مقامی رسم و رواج کے دائرے میں زیادہ ملوث رہے اور بڑے پیمانے پر سیاسی شمولیت کم رہی۔ مگر نئے دور میں تبدیلیاں واضح ہیں — نئی نسل، خاص طور پر جناب رحمت عالم (عرف چنا بابو) جیسے افراد نے عملی اور لائق قیادت دکھائی، جس کی بدولت گاؤں کے انفراسٹرکچر اور شناخت میں واضح بہتری نظر آتی ہے۔ (مقامی معلومات/شہادت کی بنیاد پر خلاصہ۔)

تاریخی رفتار — 1975 تا 2025 کا خاکہ (مُنتظم انداز میں)
1975–1990: روایتی طاقتیں اور بزرگوں کی قیادت — ووٹنگ اکثر سماجی مفاہمت یا بزرگوں کے اشارے کے مطابق۔ سیاسی بیداری عام سطح پر محدود۔
1990–2005: تعلیمی شرح میں بتدریج بہتری اور نقل مکانی کے باعث شہری رابطے بڑھے — نوجوانوں میں شعور اور سیاسی دلچسپی نے جگہ بنانی شروع کی۔
2005–2015: موبائل فون اور میڈیا کا دخل — سیاسی اطلاعات تک رسائی بڑھی؛ انتخابات میں فردی فیصلہ سازی کا آغاز۔
2015–2025: واضح سیاسی بیداری — گاؤں کی رائے دہندگی میں خودمختاری بڑھی، مقامی لیڈرز (مثلاً چنا بابو) کی قیادت نے ترقّیاتی پہلوؤں کو فروغ دیا۔ (مقامی آبادی و خواندگی کے حوالوں کے لیے مردم شماری اور دیگر جغرافیائی حوالہ جات مفید رہے۔

——————————————–
22. Religious Conditions
(مذہبی حالات )

(1975 – 2025)

ایک تحقیقی، تاریخی اور سماجی مطالعہ

گنور ایک ایسا گاؤں ہے جس میں مذہبی رواداری، مشترکہ تہذیبی وراثت، اور سماجی ہم آہنگی کی فضا ہمیشہ غالب رہی ہے۔ 1975 سے لے کر 2025 تک کے پچاس سالوں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کے مذہبی حالات میں استحکام، شرافت اور باہمی احترام ہمیشہ نمایاں رہا ہے، چاہے زمانہ بدلا ہو، آبادی میں اضافہ ہوا ہو یا فکری اثرات میں تنوّع پیدا ہوا ہو۔

مشرقی و مغربی حصّوں کی مذہبی ساخت

گنور کی مذہبی آبادی جغرافیائی طور پر دو حصوں میں بٹی ہوئی دیکھی جاتی ہے، مگر اس تقسیم نے کبھی سماجی ہم آہنگی میں رخنہ نہیں ڈالا۔

1. مغربی حصہ: مرلیا چوک ( برہمن آبادی )

مغربی طرف واقع مرلیا چوک عرصۂ دراز سے برہمنوں کا مرکزی علاقہ رہا ہے۔
یہاں برہمنوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔
بیشتر گھرانوں میں پنڈت، اور برہمن ویدک روایت کے حامل ملتے ہیں۔
مذہبی سرگرمیوں کا انداز مہذب، منظم اور روایتی ہے۔
مختلف دیوی دیوتاؤں کی پوجا، سالانہ یگیہ، ہون، کیرتن اور تہوار پوری عقیدت کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔
اختلافات اور فرقہ وارانہ جھگڑے نہ ہونے کے برابر ہیں۔
وہ اپنے مذہب کی تبلیغ شائستہ، باوقار اور غیر جارحانہ انداز میں کرتے ہیں۔
یہاں چونکہ مسلم آبادی ناممکن ہے، اس لیے اونچ نیچ کا وہ مسئلہ کبھی پیدا نہیں ہوا، جو مخلوط محلّوں میں کبھی کبھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کُچھ دقیانوسی خیالات ۔ تصورات سے اب یہ آگے نکل آئے ہیں ۔ دھیرے دھیرے توہم پرستی ختم ہو رہی ہے ۔

2. مشرقی حصہ:
مسلم اکثریت اور غیر برہمن غیر مسلم کا علاقہ

گنور کی مسلم آبادی پوری طرح سے یہیں آباد ہے ۔ اور مرکز بھی ہے۔ لیکِن اُنکے ساتھ غیر مسلم بھی خاص کر پاسوان ۔ داس ۔ بڑھئی ۔ چمار ۔ دوساد ۔ لوہار ۔ آباد ہیں ۔ یہ لوگ ملکر مخلوط آبادی کی تشکیلِ کرتے ہیں ۔

غیر مسلم آبادی:-
مذہبی سرگرمیوں کا انداز غیر مہذب، غیر منظم لیکِن روایتی ہے۔
مختلف دیوی دیوتاؤں کی پوجا، سالانہ یگیہ، ہون، کیرتن اور تہوار پوری عقیدت کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔
آپسی اختلافات اور ذاتی کے جھگڑے ہوتے رہتے ہیں کے ۔ لیکِن شدّت اختیار نہیں کرتے ہیں ۔ فرقہ وارانہ تشدد کی بہت کم مثال دیکھنے کو ملتی ہے ۔
ذات برادری کی اونچ نیچ صاف صاف دکھتی ہے ۔
اپنے مذہب کی تبلیغ شائستہ، عام اور غیر جارحانہ انداز میں کرتے ہیں۔

توہم پرستی ۔ دقیانوس خیالات کا غلبہ تو ابھی بھی ہے ۔ لیکِن بہت کم ہو گیا ہے ۔

مُسلم آبادی:-

صدیوں سے فقط سنی مسلم آبادی آباد ہے۔

دیوبندی فکر کے علما و فضلا کی علمی روایت نمایاں رہی۔
بعد کے برسوں میں اہل حدیث فکر کے کچھ گھرانے بھی بسے، مگر مجموعی طور پر دونوں کے درمیان اتحاد و مفاہمت رہی۔

1975 سے تقریباً 2010 تک اہلسنت دیوبندی اور اہل حدیث کے درمیان کسی قسم کا مسلکی تنازع نہیں دیکھا گیا۔

نماز، جنازہ، میل جول اور معاشرت کے تمام معاملات مل جل کر انجام پاتے رہے۔

گزشتہ دس برسوں میں (تقریباً 2015 کے بعد) فکری اختلافات کسی قدر ذہنی سطح پر بڑھے، مگر:
یہ اختلاف سماجی تقسیم میں نہیں بدلے۔
نہ کوئی بد نظمی پیدا ہوئی، نہ محلے اور خاندان الگ ہوئے۔
اسی ماحول میں ایک دو فرد بریلوی فکر سے بھی جُڑے، مگر وہ عددی اعتبار سے بہت کم اور سماجی کردار کے لحاظ سے حاشیے پر رہے۔

مسلم معاشرہ اور مذہبی ہم آہنگی

گنور کے مسلمانوں کی مذہبی بنیاد ہمیشہ سادگی، تقویٰ اور تعلیم سے جڑی رہی ہے۔
یہاں:
شرعی مسائل میں سخت اختلافات یا فرقہ وارانہ تنازع کی مثال نہیں ملتی۔

گاؤں کے لوگ دین کو اختلاف سے بڑھ کر عبادت اور اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ سمجھتے رہے ہیں۔

1975 سے لے کر آج تک مساجد میں مشترکہ نمازیں عام روایت رہی ہیں۔

تبلیغی جماعت کا آغاز اور اثرات
(1990 – 2025)

ابتدائی دور: 1990 – 2000

تقریباً 1990 کے آس پاس گنور میں تبلیغی جماعت کی باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔
شروع میں چند نوجوان اس دعوت سے وابستہ ہوئے، پھر یہ دائرہ وسیع ہوتا گیا۔

نمایاں کارکنان میں:

محمد نسیم ابنِ محمد مطیع الرحمن ۔ محمد نظام ابنِ محمد طیب ۔ محمد زبیر برادرِ محمد الیاس دکاندار ۔ محمد اکرم ابن عبدالرزاق و دیگر
اور نئی نسل کے کئی طلبہ و نوجوان شامل رہے۔

تبلیغی جماعت نے:

پنج وقتہ نماز، دینی تعلیم ، اصلاحِ معاشرہ ، اخلاقی تربیت ۔ دینی اُمور کی صحیح ادائیگی
جیسے شعبوں میں مسلم معاشرے کو نئی سمت دی۔

2000 – 2025:
مضبوطی اور پھیلاؤ

جماعت کے مقامی حلقے فعال ہوئے۔
سہ روزہ، چلہ اور اجتماعات باقاعدگی سے ہونے لگے۔
نوجوانوں میں دینی بیداری بڑھی۔
گھروں میں تعلیمِ قرآن اور دینی ماحول میں اضافہ ہوا۔
تبلیغی جماعت کا یہ پچیس سالہ سفر گنور کے مذہبی تشخص کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔

لیکِن :- مذہبی تعلیم( نسواں ) بالکل ناقص ۔ ہے عمل ۔ غیر فعال ۔ ناقابل برداشت ہے ۔
اس پر سختی اور پابندی سے کام کر نے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ پستی مقدر بن سکتی ہے ۔

مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی

(1975 – 2025)

چاہے برہمن آبادی ہو یا مسلم آبادی—گنور کی ایک نمایاں پہچان اس کی مذہبی رواداری رہی ہے۔
یہاں کبھی کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔
ذات برادری کے معاملات رہے ضرور، مگر ہنگامہ آرائی یا تشدد کی مثال نہیں ملتی۔
دونوں مذہبی طبقات نے اپنی اپنی سرحدوں کا احترام کرتے ہوئے امن، بھائی چارے اور تہذیبی وقار کو قائم رکھا۔
تہوار، شادی بیاہ، گاؤں کے مشترکہ مسائل اور باہمی تعاون کے مواقع نے اس بھائی چارے کو مزید مضبوط کیا۔

مجموعی تجزیہ

1975 سے 2025 تک گنور کا مذہبی ماحول:

پُرامن ۔ متوازن۔ مذہبی حدود کا احترام کرنے والا۔
مسلکی اختلافات سے بالا اور اجتماعی تعاون پر مبنی رہا ہے
یہ تاریخ گواہ ہے کہ گنور نے کبھی مذہب کو اختلاف اور ٹکراؤ کا ذریعہ نہیں بننے دیا، بلکہ اسے اخلاق، کردار اور معاشرتی ترقی کی بنیاد سمجھا۔

——————————————-

23. Medical & Health Conditions
(طبّی حالات)

حقیقت، مشکلات اور ادبی احتجاج

مشاہداتی تجربات کے مطابق گنور میں آج تک کوئی مستقل طبی سہولت یا پرائمری ہیلتھ سنٹر دستیاب نہیں — نتیجہ یہ ہوا کہ چھوٹی بڑی بیماری کے لئے لوگوں کو سمری، دھجوا، مدھوبنی، دربھنگہ، پٹنہ، دہلی، ممبئی، کولکتہ، بنگلور تک کے سفر پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ یہ ایک سخت سماجی-صحت کا بحران ہے: دور دراز کا علاج، علاج میں تاخیر، اخراجات اور جان و مال کا خطرہ — سب ایک سنگین کیفیت کی تصویر بناتے ہیں۔ (یہ مشاہداتی بیان آپ کی طرف سے فراہم کردہ حقائق پر مبنی ہے۔)

موجودہ اعداد و شمار اور سماجی منظرنامہ: خواندگی، آبادی اور انفراسٹرکچر جیسے اشارے ہمیں بتاتے ہیں کہ گاؤں میں انسانی سرمایے کی بنیاد موجود ہے — یعنی اگر مناسب صحت و تعلیم کی خدمات پہنچائی جائیں تو بہتری ممکن ہے۔

۳) تحقیقی اور عملی سفارشات (قابل عمل، مختصر اور واضح)
الف) طبی بنیادی ڈھانچہ: ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر (PHC) یا کم از کم ایک موبائل کلینک کا قیام فوری ضرورت ہے — ابتدائی خدمات: وبائی کنٹرول، ماں و بچّہ کی نگہداشت، ویکسینیشن، بنیادی ٹیسٹنگ اور ایمرجنسی ریفرل۔
ب) کمیونٹی ہیلتھ ورکرز: مقامی خواتین/مرد کو ASHA یا equivalent کمیونٹی ہیلتھ ورک کے طور پر تربیت دینا — گھر گھر صحت کی نگرانی، ابتدائی علاج اور حوالہ جات۔
ج) تعلیم اور سیاسی شعور: نوجوانوں کیلئے شہری و سیاسی سکولنگ — انتخابات، ووٹنگ کے حقوق، اور شفافیت کے حوالوں پر ورکشاپس؛ اس سے فردِ رائے مضبوط ہوگا۔
د) لیڈرشپ اور شمولیت: مقامی قابل قیادت (مثلاً چنا بابو جیسی شخصیات) کو شراکت دار بنا کر عوامی منصوبوں کی نگرانی — مقامی خودانتظامی مضبوط بنے گی۔
ہ) فنڈنگ و شراکت: ضلع/ریاستی صحت پروگرام، غیر سرکاری تنظیمیں، اور مقامی مخیر حضرات کو شامل کرکے فنڈ رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے — شروع میں چھوٹے پائلٹ منصوبے کامیابی کی کنجی ہوں گے۔

۴) اختتامی کلمات — ادبی رنگ میں ایک پکار
گنور کی کہانی محض اعداد و شمار نہیں، یہ انسانی عزم، علمی روایات اور نئے خوابوں کا ملاپ ہے۔ جہاں مغربی حصّے نے عملی سیاست کے ذریعے راہ دکھائی، وہاں مشرقی حصّہ اب اپنی تعلیم و شمولیت سے قدم آگے بڑھا رہا ہے۔ طبی سہولتوں کی عدم موجودگی ایک چِٹّی جیسی ہے جو کہ ہمیں عمل کی طرف بلا رہی ہے — اگر یہی آبادی، یہی شعور اور یہی قائدانہ صلاحیت مل کر صحت و تعلیم کے لیے جُٹ جائیں تو 1975 سے 2025 کے اس سفر کو 2025 کے بعد تعمیر و تابکاری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
[22/02, 10:39 am] Akram Chacha Kolkata: 24. Dress / Clothing
(پوشاک)

مدھوبنی ضلع کا خطہ ثقافتی رنگا رنگی، مذہبی تنوع، دیہی سادگی اور روایت و جدیدیت کے امتزاج کا منفرد مرکز ہے۔ گنور اسی خطے کا ایک نمائندہ گاؤں ہے، جہاں مشرقی اور مغربی حصوں کی زندگی میں ظاہری تفریق کے باوجود ایک مشترکہ تہذیبی ربط ہمیشہ قائم رہا۔
1975 سے 2025 تک کے پچاس برسوں میں گنور میں پوشاک، خوراک، رہن سہن اور رسم و رواج کے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آئیں۔

 

۱۔ پوشاک :-
روایت سے جدیدیت تک

1. مغربی حصہ — روایت اور جدیدیت کا ملاپ

مغربی گنور کے مردوں کی روایتی پوشاک میں دھوتی–کرتا ، پگڑی ، لنگی اور گمچھا ، گنجی ۔ ہاف پنٹ ۔ لنگوٹ ، وقت نے ساتھ دیا تو پینٹ شرٹ بھی عام ہوئی ،
جنیو (یگیوپویت) شامل تھے ۔

جبکہ عورتیں ساری–بلاؤز، فراک، شلوار قمیض استعمال کیا کرتی تھیں:

یہی ملبوسات مدھوبنی کے دیہی علاقوں میں بھی عام تھے، جہاں موسم، مذہب اور پیشے نے لباس کی ساخت کو متاثر کیا۔

2. مشرقی حصہ :-
دیہی سادگی کا عکس

مشرقی حصے کے مردوں میں پنجابی کرتا ، لنگی و گمچھا ، پگڑی اور ٹوپی ، گنجی ۔ لنگوٹ ۔ قمیض ، بعد کے برسوں میں پینٹ شرٹ کی مقبولیت عام ہوئی ۔

عورتوں کی پوشاک میں ساری–جمپر (دیہی شمالی بہار کی نمایاں پہچان ) شلوار قمیض ، دوپٹہ ۔ برقع ۔ شال سکارف وغیرہ شامل تھے:
——————————————–

25. Food / Cuisine
(خوراک)

زراعت اور مقامی وسائل سے جڑی ہوئی زندگی

گنور کی غذائی عادات کا براہ راست تعلق اس کی زرخیز زمین اور دیہی پیشے سے ہے۔

مشترکہ خوراک
مشرقی اور مغربی دونوں حصوں کے لوگ درج ذیل غذا استعمال کرتے رہے ، چاول ، گندم (آٹا) ،
دودھ و دہی ، مچھلی، چکن، انڈہ ، گھریلو سبزیاں اور پھل

کچھ گھرانے سبزی خور رہے خاص کر مغربی حصہ ، لیکن بیشتر لوگ غیر سبزی خور خوراک استعمال کرتے تھے — یہ بہار کے دیہی علاقوں کا عمومی چلن تھا۔

عورتوں کی غذائی عادات

عورتیں روزمرہ کے کام اور کھیتوں کی مشقت کی وجہ سے زیادہ تر سادہ مگر توانائی بخش غذا استعمال کرتی تھیں۔

——————————————–

26. Lifestyle & Living Standards / Language ( رہن سہن اور زبان )

رہن سہن اور رسم و رواج

رہن سہن کا انداز دونوں حصوں میں سادہ، پاکیزہ اور کم دکھاوے والا تھا۔
سادگی، شائستگی اور وقار گنور کے معاشرتی مزاج کی بنیادی خصوصیات تھیں
مذہبی تنوع اور مشترکہ تہذیبی وراثت

مدھوبنی اور اس کے اطراف کا علاقہ صدیوں سے مخلوط مذہبی آبادی، دیوی دیوتاؤں کی پوجا، اور توہم پرستی کے اثرات کا حامل رہا ہے۔ گنور بھی اسی ترتیب کا حصہ تھا۔

1. مغربی حصہ
قدیم ہندو روایات کی جھلک

1975 سے 2025 تک مغربی حصہ میں:

سورج، چاند، آگ، پانی اور مختلف دیوی دیوتاؤں کی پوجا کا رواج تھا۔
توہم پرستی (بدشگونی، اشوب، جنتر منتر) عام تھی۔
مردوں کو جلانے کی رسم تھی اور آج بھی قائم ہے ۔ اس پچاس سال میں ستی پرتھا نہیں دیکھی گئی ۔ لیکن کوئی مستقل شمشان گھاٹ آج تک تعمیر نہیں ہو سکا۔
اس لیے مردے کسی باغیچے یا دور دراز مقام پر جلائے جاتے رہے۔
یہ مدھوبنی کے کئی گاؤں میں عین اسی طرح رائج تھا۔

2. مشرقی حصہ :-
مخلوط مذہباں کا عکس

مشرقی حصے میں بھی ایک طبقہ دیوی دیوتاؤں کی پوجا اور توہم پرستی پر قائم تھا،
لیکن یہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے مذہبی روایت واضح طور پر قائم رکھی:

صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت ، بدعات اور توہمات سے دوری ، مردوں کو قبرستان میں دفن کرنے کی روایت ، دو بہتر اور منظم قبرستانوں کا قیام

3. مشترکہ رسم و رواج
علم کی کمی کا نتیجہ

گنور میں کئی رسوم مشترک پائے گئے:

شادی بیاہ کے بعض طریقے
موسم، کھیتی باڑی سے متعلق توہمات
بیماریوں، جنات، بدروحوں سے متعلق عقائد۔
یہ مشترکہ رسوم علم و تعلیم کی کمی کے سبب برقرار رہے، مگر مذہبی اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور ہم آہنگی کبھی ختم نہیں ہوئی۔

مدھوبنی کی شناخت "مشترکہ تہذیب” گنور میں بخوبی جلوہ گر تھی۔

۴۔ 1975–2025 کا ارتقائی جائزہ :-
تبدیلی کی راہ

1. تعلیم کے اضافے نے رسوم بدلیں
توہم پرستی کم ہوئی۔
مذہبی شعور بڑھا۔
جدید لباس اور بہتر خوراک عام ہوئی۔

2. بیرون ملک اور بڑے شہروں کی ہجرت نے رہن سہن تبدیل کیا
پینٹ شرٹ، سالوار سوٹ، جدید فیشن
بہتر طرزِ رہائش
گھروں میں صفائی، تعمیراتی معیار، بیت الخلا، کچن — سب میں بہتری

3. صحت و صفائی کے شعور میں اضافہ
پرانی عادات کم ہوئیں
بچے تعلیم یافتہ ہوئے
عورتوں کی صحت پر توجہ ہوئی

5۔ نتیجہ
گنور کی تہذیب ایک آئینہ

1975 سے 2025 کی نصف صدی میں گنور کے پوشاک، خوراک اور رسم و رواج نے واضح تبدیلیوں کا سفر طے کیا:

مغربی حصہ روایتی مگر خوشحال
مشرقی حصہ سادہ مگر جدوجہد پسند
دونوں میں مذہبی تنوع مگر سماجی احترام
خوراک اور لباس میں ترقی
رسوم میں ارتقاء
رہن سہن میں بہتری

یہ سب مل کر گنور کی اس تہذیب کا نقشہ بناتے ہیں جو مدھوبنی کی مجموعی شناخت—سادگی، وقار، رواداری اور مشترکہ تہذیب—کا حقیقی عکس ہے۔

Language زبان

تجزیہ اور تقابلی جائزہ

زبان کسی بھی تہذیب کی فکری روح اور سماجی ربط کا سب سے مضبوط وسیلہ ہوتی ہے۔ گنور کی تہذیبی ساخت میں زبان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہی عنصر مشرقی و مغربی حصّوں کے درمیان امتیاز بھی پیدا کرتا ہے اور باہمی ربط بھی قائم رکھتا ہے۔ گنور کی لسانی صورتِ حال کو اگر تحقیقی اور تقابلی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ ایک کثیر لسانی مگر مربوط نظام کی شکل میں سامنے آتی ہے۔

(الف) مشرقی گنور کی زبان: ہندی اور اردو

مشرقی گنور میں مسلم آبادی کی اکثریت پائی جاتی ہے، اس لیے یہاں لسانی اظہار میں اردو اور ہندی دونوں مستعمل ہیں۔ اردو بالخصوص مذہبی، تعلیمی اور تہذیبی زبان کے طور پر رائج رہی ہے۔

مذہبی خطبات، دروس اور مدارس میں اردو

سماجی گفتگو میں ہندی-اردو کا امتزاج

تحریری اظہار میں شائستہ اور مہذب اسلوب

اردو نے مشرقی گنور کی تہذیب کو فکری گہرائی، ادبی ذوق اور اخلاقی لطافت عطا کی، جبکہ ہندی نے عوامی سطح پر رابطے کو آسان بنایا۔

(ب) مغربی گنور کی زبان: ہندی، میتھلی اور سنسکرت

مغربی گنور میں لسانی روایت قدیم میتھلائی تہذیب سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں روزمرہ گفتگو میں میتھلی اور ہندی رائج ہیں، جبکہ سنسکرت مذہبی اور رسمی سطح پر احترام کی زبان سمجھی جاتی ہے۔

گھریلو اور دیہی گفتگو میں میتھلی

تعلیمی اور سماجی معاملات میں ہندی

مذہبی رسومات، منتر اور سنسکار میں سنسکرت

یہ لسانی تنوع مغربی گنور کی تہذیب میں روایت پسندی، علمی تسلسل اور مذہبی وقار کی علامت ہے۔

(ج) مشترکہ رابطے کی زبان: ہندی

مشرق و مغرب کے درمیان باہمی رابطے، تجارت، روزمرہ لین دین اور سماجی معاملات میں ہندی مشترکہ زبان کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ ہندی نے گنور میں لسانی پل (Linguistic Bridge) کا کردار ادا کیا ہے، جس کی بدولت مختلف تہذیبی اور مذہبی گروہ ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔

 

(د) دفتری اور تعلیمی زبان: ہندی اور انگریزی

سرکاری، دفتری اور عدالتی معاملات میں ہندی بنیادی زبان ہے، جبکہ جدید تعلیمی نظام، اعلیٰ تعلیم اور سرکاری دستاویزات میں انگریزی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

اسکول و کالج میں ہندی و انگریزی

سرکاری دفاتر میں ہندی

اعلیٰ سطحی تحریری و تکنیکی امور میں انگریزی

یہ صورتِ حال گنور کی تہذیب کو جدید ریاستی نظام سے جوڑتی ہے۔

(ہ) تقابلی لسانی جائزہ

پہلو مشرقی گنور مغربی گنور مشترکہ سطح

روزمرہ زبان ہندی، اردو ہندی، میتھلی ہندی
مذہبی زبان اردو، عربی اثرات سنسکرت —
ادبی و تہذیبی زبان اردو میتھلی، سنسکرت ہندی
دفتری زبان ہندی، انگریزی ہندی، انگریزی ہندی، انگریزی

(و) لسانی ہم آہنگی اور تہذیبی معنی

گنور کی لسانی صورتِ حال کسی تصادم کی نہیں بلکہ ہم آہنگ تنوع کی مثال ہے۔ زبانیں یہاں شناخت کا ذریعہ ضرور ہیں، مگر تقسیم کا سبب نہیں۔ ہر زبان اپنے اپنے تہذیبی دائرے میں احترام کے ساتھ مستعمل ہے، اور یہی باہمی احترام گنور کی تہذیب کو مضبوط بناتا ہے۔

نتیجہ

لسانی اعتبار سے گنور ایک ایسا گاؤں ہے جہاں زبانیں تہذیبی دیوار نہیں بلکہ پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ مشرقی حصّے کی اردو-ہندی روایت، مغربی حصّے کی میتھلی-سنسکرت تہذیب، اور مشترکہ ہندی و دفتری انگریزی—یہ سب مل کر گنور کو ایک متوازن، مربوط اور کثیر لسانی تہذیبی اکائی بناتے ہیں۔
[22/02, 10:41 am] Akram Chacha Kolkata: 27. Important Personalities

(اہم شخصیات)گنور کی اہم شخصیات
(1975 – 2025)

گنور کی پچاس سالہ تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت پوری قوت کے ساتھ اُبھرتی ہے کہ اس گاؤں کی ترقی، شناخت، سماجی ہم آہنگی اور تہذیبی ارتقا کے پیچھے چند ایسی شخصیات کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے جنہوں نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں خدمات، قربانی، قیادت اور اخلاقی اثرات چھوڑے۔ ان میں بعض مذہبی رہنما تھے، کچھ تعلیم کے فروغ دینے والے، چند سماجی اصلاح کے داعی، جبکہ کچھ معاشی و سیاسی استحکام کے ستون۔

یہ مضمون گنور کے مغربی اور مشرقی دونوں حصّوں کی ایسی نمایاں شخصیات کا تحقیقی جائزہ ہے جنہوں نے 1975 سے 2025 تک کے پچاس برسوں میں گاؤں کے ماضی، حال اور مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑے۔

مغربی گنور کی اہم شخصیات

مغربی حصہ ابتدا سے ہی تعلیم، زمینداری، سماجی اثر و رسوخ اور معاشی مضبوطی کا مرکز رہا ہے۔ اس حصّے کی بڑی اور بااثر شخصیات نے گاؤں کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

1. شری ببوان جھا

علم، قیادت اور سماجی توازن کا معتبر ستون

شری ببوان جھا گنور کے سماجی ڈھانچے میں ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔ گاؤں کے سماجی نظم و ضبط، پنچایتی فیصلوں اور مختلف طبقات کے درمیان مفاہمت قائم رکھنے میں ان کا کردار نہایت مؤثر اور دور رس رہا۔ ان کی قیادت میں اختلافات گفت و شنید سے حل ہوتے اور گاؤں کی یکجہتی کو تقویت ملتی تھی۔

وہ سمری سرکاری ہائی اسکول میں بحیثیت اُستاد خدمات انجام دیتے رہے۔ علمِ ریاضی اور ہندی زبان پر انہیں غیر معمولی عبور حاصل تھا، جس کے باعث وہ طلبہ ہی نہیں بلکہ اساتذہ کے حلقے میں بھی قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر ان کی توجہ انہیں ایک مثالی معلم بناتی تھی۔

شری ببوان جھا کی شخصیت متانت، بردباری اور دوراندیشی کی عملی تصویر تھی۔ یہی اوصاف انہیں مشرقی اور مغربی گنور دونوں حصّوں میں یکساں طور پر معروف اور مقبول بناتے تھے۔ وہ علم و عمل کا ایسا امتزاج تھے جس نے گنور کی سماجی اور تعلیمی تاریخ میں ایک روشن باب رقم کیا۔
——————————————-
2. شری شیو چندر جھا

علم، خطابت اور ثقافتی قیادت کا نمایاں حوالہ

شری شیو چندر جھا علومِ روایتی، اساطیری تاریخ اور قدیم رسوم و رواج کے مستند ماہر مانے جاتے تھے۔ مغربی گنور کی ثقافتی شناخت کے قیام اور استحکام میں ان کا وجود ایک بانی حیثیت رکھتا ہے، جہاں روایت اور سماجی شعور ان کی رہنمائی سے ایک مضبوط صورت اختیار کرتا رہا۔

وہ مذہبی تقریبات کی قیادت میں پیش پیش رہتے اور سماجی مجالس میں ان کی موجودگی خود ایک علامت سمجھی جاتی تھی۔ بحیثیت مقرّر ان کا انداز جاندار، پُراثر اور بعض اوقات جارحانہ ہوتا تھا، جو سامعین کو نہ صرف متوجہ رکھتا بلکہ فکری طور پر جھنجھوڑ بھی دیتا تھا۔

کھاد ی بھنڈار میں ملازمت کے باوجود ان کی اصل شناخت علم، قیادت اور سماجی توازن کے معتبر ستون کی تھی۔ انہوں نے گفتار و کردار کے ذریعے گنور کی تہذیبی روح کو آواز دی اور ایک ایسی روایت چھوڑ گئے جو آج بھی یاد کی جاتی ہے۔
——————————————–

3. شری گووند جھا

دیہی معیشت کے معمار

شری گووند جھا گاؤں کی معاشی اور سماجی زندگی میں ایک باوقار اور مؤثر شخصیت تھے۔ وہ زمینداری نظام کے ذمہ دار نمائندہ تھے اور کھیتی باڑی، آبپاشی، فصلوں کی منصوبہ بندی اور زمین کے نظم و نسق میں گہری سمجھ رکھتے تھے۔ ان کی عملی بصیرت نے گاؤں کی اقتصادی حالت کو استحکام بخشا۔

سماجی سطح پر وہ سرگرم سماجی کارکن تھے اور علم و سیاست میں بامعنی دلچسپی رکھتے تھے۔ ساہوکار اور تاجر ہونے کے باوجود ان کی پہچان دیانت داری، انصاف اور اعتماد تھی، جس کی وجہ سے گاؤں میں انہیں بلند مقام حاصل ہوا۔

شری گووند جھا نوجوانوں کو محنت، ایمانداری اور مسلسل جدوجہد کا درس دیتے تھے۔ ان کی شخصیت عمل اور اصول کی ہم آہنگ مثال تھی، اور ان کا نام آج بھی گاؤں میں وقار، استحکام اور رہنمائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
——————————————-

4. شری رادھے بابو وکیل صاحب

شری رادھے بابو وکیل صاحب گاؤں کی اُن ہمہ جہت شخصیات میں شمار ہوتے تھے جو تعلیمی، مذہبی، سیاسی، قانونی اور سماجی ہر سطح پر فعال کردار ادا کرتی تھیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو جدید تعلیم کی طرف راغب کیا اور انہیں شعور، قانون پسندی اور ذمہ داری کا راستہ دکھایا۔ پنچایت کے پیچیدہ مسائل کے حل میں ان کی بصیرت، معاملہ فہمی اور انصاف پسندی گاؤں کے لیے نعمت ثابت ہوئی۔

وہ ایک معتبر اور حق گو وکیل کے طور پر مشہور تھے۔ قانونی مشورے کے لیے ان کی طرف رجوع کیا جاتا، کیونکہ وہ قانون کو محض پیشہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ سماج میں ان کی مضبوط پکڑ تھی اور ہندو و مسلم دونوں طبقوں میں انہیں یکساں وقار اور احترام حاصل تھا۔

شری رادھے بابو وکیل صاحب کی شخصیت سماجی ہم آہنگی، انصاف اور تعلیم کے فروغ کی روشن مثال تھی، اور گاؤں کی اجتماعی زندگی میں ان کا کردار دیرپا اثرات کا حامل رہا۔
——————————————–
5. شری سنجے کمار مشرا

شری سنجے کمار مشرا صاحب شری رادھے بابو وکیل صاحب کے فرزند ہیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور قانونی میدان میں سرگرم و متحرک کردار رکھتے ہیں۔ پنچایتی نظام کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے وہ مکھیا جیسے اہم عہدے پر فائز رہے، جہاں انہوں نے انتظامی ذمہ داریاں انجام دیں۔

نوجوان ہونے کے باوجود وہ ایک اچھے اور قابلِ اعتماد وکیل سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی شناخت سادگی، قانونی فہم اور عوامی معاملات میں دلچسپی کے باعث قائم ہے، اور گاؤں کی سماجی و انتظامی زندگی میں ان کی موجودگی محسوس کی جاتی ہے۔

——————————————–

6. شری اُدے جی

شری اُدے جی گاؤں کی نوجوان اور متحرک شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ خدمتِ خلق ان کی پہچان ہے اور وہ ہر مرحلے پر سماج کے ساتھ جڑے رہے ہیں۔ عملی زندگی کا آغاز انہوں نے تجارت سے کیا، بعد ازاں کھیتی باڑی کو اختیار کیا، اور پھر گاؤں کے ہیڈ پوسٹ ماسٹر کی حیثیت سے ذمہ دارانہ خدمات انجام دیں۔

وہ نہایت فعال انسان ہیں اور سیاسی، سماجی اور مذہبی میدانوں میں یکساں دلچسپی اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ عوام سے قربت، کام میں لگن اور خدمت کا جذبہ شری اُدے جی کو گاؤں میں ایک قابلِ اعتماد اور مؤثر کردار بناتا ہے۔

——————————————–
7. شری کالی کانت جی

شری کالی کانت جی گاؤں کی نوجوان، فعال اور پھرتیلی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے تجارت اور زراعت دونوں میدانوں میں عملی تجربہ حاصل کیا، جس سے انہیں معاشی معاملات کی بہتر سمجھ پیدا ہوئی۔ ان کی سماجی سوجھ بوجھ انہیں عوام سے جوڑے رکھتی ہے، جبکہ سیاسی فہم حالات کو سمجھنے اور بروقت رائے دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

مذہبی امور میں بھی وہ دلچسپی اور صلاحیت رکھتے ہیں، اور ایک اچھے مقرّر کے طور پر ان کی گفتگو اثر رکھتی ہے۔ توانائی، سرگرمی اور ہمہ جہت شعور شری کالی کانت جی کی شخصیت کو نمایاں بناتے ہیں، اور گاؤں کی اجتماعی زندگی میں ان کی موجودگی مثبت کردار ادا کرتی ہے۔

——————————————-

مشرقی گنور کی اہم شخصیات

مشرقی حصہ تاریخی طور پر پسماندہ، محنت کش اور زرعی معیشت پر منحصر رہا، مگر یہاں کے چند افراد نے علم، دین، تجارت، سماجی خدمت اور ایمانداری کے ذریعے پورے گاؤں کو روشنی دی۔

1. جناب خلیفہ صاحب

جناب خلیفہ صاحب مشرقی گنور کے روحانی اور اخلاقی رہنما تھے، جو قرآن و سنت کے علمبردار اور اصلاحِ معاشرہ کے حقیقی داعی تھے۔ وہ اپنے حلقۂ اثر میں دینی تعلیم، کردار کی اصلاح اور سماجی انصاف کے اصولوں کا پرچار کرتے اور لوگوں کو نیکی، ایمانداری اور عدل کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتے۔ مسلمانوں کے لیے ان کی شخصیت بصیرت، راست روی اور اصول پسندی کی علامت تھی۔

پنچایت اور فیصلہ سازی میں ان کی مہارت بے مثال تھی، اور دور دراز سے لوگ ان کے فیصلے کروانے آتے تھے۔ زمینداری کے انتظام میں بھی وہ ماہر تھے اور بندھوا مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرتے۔ گھڑسواری میں ان کی مہارت اور سیاسی و سماجی علم نے انہیں گاؤں کی مضبوط اور رعب دار شخصیت بنا دیا۔

جناب خلیفہ صاحب کی زندگی خدمتِ خلق، علمی بصیرت اور عملی رہنمائی کا روشن نمونہ تھی۔ ان کی شخصیت میں علم، طاقت، حکمت اور انسان دوستی کا حسین امتزاج نظر آتا تھا، جس کی وجہ سے گاؤں کے ہر طبقے میں انہیں گہرا احترام حاصل تھا، اور ان کا اثر آج بھی گاؤں کے ماحول اور لوگوں کے دلوں میں محسوس کیا جاتا ہے۔

——————————————-

2 . جناب محمد ہیرا صاحب

جناب محمد ہیرا صاحب گاؤں کی ذہین اور فہمیدہ شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ سیاسی اور سماجی معاملات میں گہری سمجھ رکھتے اور گاؤں کی زمین و زراعت کے امور میں بھی ماہر تھے۔ پیدل سفر میں وہ گاؤں کے سب سے زیادہ ماہر سمجھے جاتے، اور صبح سویرے اٹھنے اور وقت کی پابندی کے قائل تھے۔

اگرچہ وہ وکیل نہیں تھے، لیکن قانونی معاملات میں ان کی فہم و فراست کی وجہ سے وکیلوں سے مسلسل رابطہ رہتا اور لوگ ان سے مشورہ حاصل کرتے تھے۔ ان کی بصیرت، عملی علم اور گاؤں کی زندگی میں سرگرمی نے انہیں ایک معتبر اور قابلِ اعتماد شخصیت بنا دیا، جس کا اثر سماجی اور اقتصادی دونوں سطحوں پر محسوس کیا جاتا تھا۔

——————————————–
3. جناب لال محمد خان صاحب

جناب لال محمد خان صاحب گاؤں کی اُن ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے تھے جو سماجی وقار، مضبوط قیادت اور اتحاد کی روشن علامت سمجھی جاتی تھیں۔ انہوں نے گاؤں کے اندر مختلف طبقات کے درمیان امن، احترام اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا، جس کی وجہ سے سماجی زندگی میں توازن اور ہم آہنگی قائم رہی۔ بڑے پنچایتی فیصلوں میں ان کی رائے کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور اسے وزن و وقار حاصل ہوتا تھا۔

ان کی پہچان صرف گاؤں تک محدود نہیں تھی بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی ان کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا تھا۔ سیاسی امور میں ان کی گہری سمجھ اور حالات کو پرکھنے کی صلاحیت انہیں ایک مؤثر رہنما بناتی تھی۔ سماجی وقار ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا، جو ان کے رویّے، گفتگو اور فیصلوں میں نمایاں نظر آتا تھا۔

لمبی مسافتیں سائیکل پر طے کرنے کا ان کا انوکھا انداز ان کی جسمانی قوت، عزم اور خود اعتمادی کی علامت تھا۔ وہ نوجوانوں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے تھے اور اپنی پھرتی، حوصلے اور استقلال سے جوانوں کو کڑی ٹکر دیتے تھے۔ یوں جناب لال محمد خان صاحب ایک ایسے ہمہ جہت انسان تھے جن کی شخصیت نے گاؤں کو قیادت، اتحاد اور وقار کا عملی مفہوم عطا کیا، اور جن کی یاد آج بھی احترام کے ساتھ زندہ ہے۔

——————————————

4. محمد صلاح الدین صاحب

محمد صلاح الدین صاحب ایک باوقار، تعلیم یافتہ اور دور اندیش انسان کی حیثیت سے گاؤں میں پہچانے جاتے تھے۔ ان کی شخصیت میں علم، سنجیدگی اور اعتدال کا حسین امتزاج تھا، جو ان کے قول و عمل دونوں میں نمایاں نظر آتا تھا۔ انہوں نے گاؤں کے تعلیمی ماحول کی تشکیل و ترقی میں نہایت مثبت اور دیرپا کردار ادا کیا۔

طلبہ کی رہنمائی ان کی زندگی کا خاص مشن تھی۔ وہ تعلیم کو محض نصابی کامیابی تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ مثبت طرزِ فکر، اخلاقی تربیت اور جدید ذہنیت کو اس کا لازمی جز قرار دیتے تھے۔ ان کی گفتگو اور رہنمائی نے کئی نوجوانوں کو سمت، حوصلہ اور اعتماد عطا کیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

وہ گاؤں کے مدرسہ کے سیکرٹری کی حیثیت سے بھی نہایت ذمہ داری اور اخلاص کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ نظم و نسق، تعلیمی معیار اور ادارہ جاتی وقار کے تحفظ میں ان کی بصیرت قابلِ تقلید تھی۔ انہی کی محنت، رہنمائی اور فکری سمت کا نتیجہ تھا کہ ان کی شاخ سے وابستہ زیادہ تر افراد تعلیم یافتہ، مہذب اور سماجی شعور سے آراستہ نظر آتے ہیں۔

محمد صلاح الدین صاحب کی شخصیت علم دوستی، فکری توازن اور تعلیمی قیادت کی روشن مثال تھی۔ انہوں نے گاؤں کو یہ پیغام دیا کہ تعلیم ہی وہ مضبوط بنیاد ہے جس پر کردار، تہذیب اور مستقبل کی تعمیر ممکن ہے، اور اسی پیغام نے انہیں گاؤں کی تاریخ میں ایک باعزت اور قابلِ فخر مقام عطا کیا۔

——————————————-

5. جانب بھولا صاحب

جناب بھولا صاحب گاؤں کی اُن باوقار اور بااعتماد شخصیات میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے سرکاری خدمت، سماجی شعور اور اخلاقی اقدار کو یکجا کر کے ایک مثالی زندگی پیش کی۔ انہوں نے انکم ٹیکس محکمہ میں اپنی خدمات انجام دیں اور دیانت داری، اصول پسندی اور ذمہ داری کے ساتھ فرائض ادا کر کے ایک صاف ستھری سرکاری شناخت قائم کی۔

وہ نیک سیرت، شریف اور تعلیم یافتہ انسان تھے۔ سماجی اور سیاسی معاملات میں گہرا فہم رکھتے تھے، جب کہ اقتصادی حکمت ان کی سوچ کا مضبوط پہلو تھی۔ وہ مالی نظم و ضبط، محنت کی قدر اور حلال کمائی کے قائل تھے، اور مذہبی امور میں پابندی کو اپنی شخصیت کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔ علم سے محبت ان کی فطرت میں شامل تھی؛ وہ ہمیشہ علم کے حامی اور جہالت کے مخالف رہے۔

غریبوں اور کمزور طبقات کے لیے ان کا دل نرم تھا۔ ضرورت مندوں کی مدد، رہنمائی اور حوصلہ افزائی میں وہ پیش پیش رہتے، اسی وجہ سے انہیں “غریبوں کا مسیحا” کہا جاتا تھا۔ ان کی خدمت خاموش مگر اثر انگیز تھی—بغیر نمود و نمائش کے، مگر دیرپا اثر کے ساتھ۔

جناب بھولا صاحب کی زندگی اس بات کی روشن مثال تھی کہ سرکاری منصب، ذاتی وقار اور سماجی خدمت ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ باہم ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔ علم، دیانت اور انسان دوستی پر قائم ان کی شخصیت نے گاؤں کو اخلاقی استحکام اور فکری رہنمائی عطا کی، اور وہ آج بھی احترام کے ساتھ یاد کیے جاتے ہیں۔

——————————————-

6 . حافظ محمد سلیم صاحبؒ

تقویٰ، اخلاص اور قرآنی خدمت کی روشن مثال

گاؤں گنور کی دینی تاریخ میں جن شخصیات نے خاموشی کے ساتھ مگر گہرے اثرات چھوڑے، اُن میں حافظ محمد سلیم صاحبؒ کا نام نہایت احترام اور عقیدت سے لیا جاتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ شاید گاؤں کے پہلے حافظِ قرآن تھے—ایسی سعادت جس نے نہ صرف اُن کی اپنی زندگی کو منور کیا بلکہ پورے گاؤں کے دینی مزاج کو ایک نئی سمت عطا کی۔

حافظ محمد سلیم صاحبؒ کی سب سے بڑی خدمت یہ تھی کہ انہوں نے محض خود حافظ بن کر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اپنے عمل، گفتار اور اخلاص سے گاؤں کے لوگوں کو حافظِ قرآن بننے کی طرف مائل کیا۔ اُن کی ترغیب میں زبردستی نہ تھی، بلکہ ایسا روحانی اثر تھا جو دلوں میں اتر جاتا۔ کئی نوجوانوں نے قرآن سے وابستگی اور حفظ کے شوق کا آغاز انہی کے کردار سے متاثر ہو کر کیا۔

تقویٰ اور پرہیزگاری اُن کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ دنیاوی نمود و نمائش، شہرت اور ظاہری آن بان شان سے وہ ہمیشہ دور رہے، مگر وقار ایسا کہ دیکھنے والا خود بخود ادب میں جھک جاتا۔ سادہ زندگی، سادہ لباس اور صاف ستھرا رہن سہن اُن کے مزاج کا حصہ تھا—گویا ان کی پوری زندگی سنتِ نبویؐ کی عملی تصویر تھی۔

بطور سابق امامِ جامع مسجد گنور، اُن کی امامت محض نماز کی قیادت تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ ایک مربی، رہنما اور خیر خواہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے خطبات اور نصیحتوں میں تصنع نہیں، سچائی اور دردِ دل بولتا تھا۔ وہ ایک اچھے مبلغ تھے، جن کی تبلیغ زبان سے زیادہ عمل کے ذریعے ہوتی تھی۔

حافظ محمد سلیم صاحبؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت شور و ہنگامے میں نہیں، بلکہ خاموش خدمت، تقویٰ اور اخلاص میں پوشیدہ ہے۔ آج بھی گنور کی دینی فضا میں اُن کی محنت، اُن کی دعا اور اُن کے اثرات کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایسی شخصیات قوموں کا سرمایہ اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہوتی ہیں۔

——————————————–

7. منشی محمد انوار الحقؒ
علم ، سادگی اور اخلاص کا روشن استعارہ

گنور، ضلع مدھوبنی (بہار) کی علمی و تہذیبی تاریخ میں منشی محمد انوار الحقؒ کا نام ایک ایسے مردِ درویش کے طور پر محفوظ ہے جس نے علم، کردار اور خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا۔ آپ ایک متوسط مگر باوقار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں قناعت، خودداری اور عزتِ نفس کو بنیادی قدر سمجھا جاتا تھا۔

آپ عربی، فارسی اور اردو پر عبور رکھتے تھے اور خوش خط، بامعنی تحریر آپ کی شناخت تھی۔ سادگی آپ کے ظاہر و باطن کا زیور تھی—سفید لباس، فجر خیزی، وقت کی پابندی اور محنت آپ کی زندگی کے نمایاں اوصاف تھے۔

تعلیمی میدان میں آپ نے گنور کے مختلف محلّوں میں مکتب قائم کر کے بچوں کی علمی و اخلاقی تربیت کی۔ درختوں کے سائے ہوں یا گھریلو نشستیں، ہر جگہ علم کے چراغ روشن کیے۔ آپ کی ہی فکر اور مسلسل جدوجہد سے بعد میں مدرسہ صدائے اسلام جیسا منظم ادارہ وجود میں آیا، جو آج بھی آپ کے اخلاص کا زندہ ثبوت ہے۔ بحیثیت معلم آپ اصول پسند اور غیر مصالحانہ تھے، اسی لیے طلبہ میں علم کی سنجیدگی پیدا ہوئی۔

سماجی سطح پر آپ اعتماد اور امانت کی علامت تھے۔ زمین، رجسٹری اور گھریلو معاملات میں لوگ آپ کی رائے کو حرفِ آخر سمجھتے۔ سیاسی وابستگی سے دور رہتے ہوئے بھی آپ حالات پر گہری نظر رکھتے اور اعتدال و انصاف کے ساتھ رہنمائی کرتے، جس سے گاؤں میں اتحاد قائم رہتا۔

تنقید اور طعنوں کے باوجود آپ نے ہمیشہ خیرخواہی کا دامن تھامے رکھا—یہی آپ کے بلند ظرف کی دلیل ہے۔ آپ کی وفات گنور کے لیے ایک عظیم علمی و اخلاقی خسارہ ہے، مگر آپ کی خدمات اور اثرات آج بھی زندہ ہیں۔
——————————————–

8 . عبدالباری صاحب
عبدالباری بن عبد الحمید مرحوم (1940–2013) گنور، ضلع مدھوبنی، بہار کے ایک دیندار، بااخلاق اور خدمت گزار انسان تھے۔ سادہ دینی ماحول میں پرورش پائی اور مکتب و بزرگوں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ رسمی دینی سند نہ ہونے کے باوجود علم و عمل کی بنیاد پر “باعمل عالم” کے طور پر پہچانے گئے۔

برؤنی تھرمل پاور پلانٹ میں سرکاری ملازمت کے دوران ایمانداری، وقت کی پابندی اور اصول پسندی سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ مدرسہ صدائے اسلام کے سیکریٹری کی حیثیت سے نظم و ضبط، تعلیمی نظام اور شفاف امتحانی طریقہ متعارف کرایا۔

دینی و سماجی محفلوں میں نرم، حکیمانہ اور اصلاحی انداز میں رہنمائی کی۔ انصاف، سادگی اور خدمتِ خلق ان کی شخصیت کا جوہر تھا۔ 14 اکتوبر 2013 کو انتقال ہوا، مگر ان کا کردار اور خدمات آج بھی لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں
——————————————–

9 . شری ہیرا لال داس

شری ہیرا لال داس گاؤں کی اُن سادہ مگر باوقار شخصیات میں شمار ہوتے تھے جن کی پہچان شور و نمائش سے نہیں بلکہ کردار، دیانت اور اعتماد سے بنتی ہے۔ وہ بہترین معیار کے تاجر تھے، جن کا لین دین صاف، شفاف اور اصولوں پر مبنی ہوتا تھا۔ اسی دیانت داری نے انہیں عوام میں قابلِ اعتماد بنا دیا۔

کم گوئی ان کی فطرت کا حصہ تھی، مگر ان کی خاموشی میں وقار اور وزن ہوتا تھا۔ وہ کم بولتے، مگر جب بولتے تو ان کی بات میں سنجیدگی اور خیر خواہی جھلکتی تھی۔ شریف النفس ہونے کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کے احساسات اور حالات کا لحاظ رکھنے والے انسان تھے۔

اگرچہ وہ ایک عام شہری تھے، لیکن ان کے رویّے اور کردار نے انہیں غیر معمولی مقام عطا کیا۔ سماج کو متحد رکھنے کی فطری صلاحیت ان میں موجود تھی؛ وہ اختلاف کو بڑھانے کے بجائے اسے ختم کرنے پر یقین رکھتے تھے اور باہمی احترام کو فروغ دیتے تھے۔

شری ہیرا لال داس کی شخصیت اس حقیقت کی نمائندہ تھی کہ سماج کی مضبوطی کے لیے بلند عہدے نہیں بلکہ سچا کردار، دیانت اور انسان دوستی درکار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ آج بھی ایک باوقار اور معتبر انسان کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

——————————————–
10. شری پرمیشور پاسوان صاحب

پرمیشور پاسوان گاؤں کے اُن محنت کش انسانوں میں شمار ہوتے تھے جن کی زندگی خاموش جدوجہد، غیر معمولی حوصلے اور خودداری کی روشن مثال ہے۔ وہ ایک جفاکش مزدور تھے، محنت کو عبادت سمجھتے اور اپنے کام میں دیانت اور وفاداری کو ہمیشہ مقدم رکھتے تھے۔ اپنے مالک کے ساتھ ان کی وفاداری اور ذمہ داری کا رشتہ مثالی تھا۔

غربت کے باوجود انہوں نے کبھی ہاتھ پھیلانا گوارا نہ کیا۔ زندگی نے انہیں سخت آزمائش سے گزارا؛ ایک ہاتھ کٹ جانے کے بعد بھی انہوں نے محنت مزدوری ترک نہیں کی۔ یہ واقعہ ان کے حوصلے، عزم اور زندہ رہنے کی طاقت کا ثبوت تھا۔ جسمانی کمی کو انہوں نے اپنی خودداری پر غالب نہ آنے دیا۔

پرمیشور پاسوان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ عزت محنت سے ملتی ہے، اور انسان کی اصل پہچان اس کے حوصلے اور کردار سے ہوتی ہے، نہ کہ دولت یا طاقت سے۔ وہ ایک غریب مگر باوقار انسان تھے، جن کی خاموش محنت اور ثابت قدمی آج بھی احترام کے ساتھ یاد کی جاتی ہے۔
——————————————-
11. شری سیتا رام و برادران

شری سیتا رام و برادران گاؤں کے اُن ماہر معماروں میں شمار ہوتے تھے جن کی پہچان مضبوط تعمیر، دیانت داری اور اعلیٰ کاریگری سے بنتی ہے۔ وہ محنت کش مزدور تھے، مگر اپنی فنی صلاحیت اور طویل تجربے کی بنا پر کسی انجینئر سے کم نہیں سمجھے جاتے تھے۔ اینٹ، چونا اور مٹی ان کے ہاتھوں میں آ کر مضبوط اور پائیدار شکل اختیار کر لیتی تھی، اور پختہ اینٹوں سے پختہ کام ان کی شناخت بن گیا تھا۔

ایمانداری ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا بنیادی اصول تھی۔ کام میں سچائی، ناپ تول کی درستگی اور وعدے کی پابندی نے انہیں عوام میں بے حد قابلِ اعتماد بنایا۔ ان کی تعمیرات محض عمارتیں نہیں بلکہ اعتماد اور اطمینان کی بنیادیں ہوتی تھیں، جو برسوں قائم رہتیں۔

ان کی شہرت گاؤں اور اطراف تک محدود نہیں رہی، بلکہ بیرونِ ملک نیپال تک پہنچی۔ وہاں بھی ان کی کاریگری، مضبوط تعمیر اور دیانت داری کی بڑی مانگ تھی، جو ان کے فنی کمال اور پیشہ ورانہ وقار کا واضح ثبوت ہے۔

نرم گفتاری اور اونچے خیالات ان کی شخصیت کا حسین پہلو تھے۔ وہ ہر انسان سے احترام کے ساتھ پیش آتے اور اپنے اخلاق سے دل جیت لیتے۔ محنت، اخلاق اور فنی مہارت کا یہ حسین امتزاج شری سیتا رام و برادران کو ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے، اور گاؤں کی تعمیر و ترقی میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و احترام سے یاد کی جائیں گی۔
——————————————–

12. محمد یعقوب صاحب

محمد یعقوب صاحب نیک طبیعت اور شریف النفس انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں سادگی، صفائی اور وقار اس طرح رچا بسا تھا کہ جو ایک بار مل لیتا، دل میں احترام لیے لوٹتا۔ مٹھائی بنانے میں انہیں خاص مہارت حاصل تھی؛ ذائقے میں نفاست، صفائی میں اہتمام اور ہاتھ میں برکت—یہی ان کی پہچان تھی۔

خوبصورت جسم، متوازن قامت اور صاف ستھرا رہن سہن ان کی ظاہری شناخت تھا، مگر اصل خوبصورتی ان کے اخلاق میں تھی۔ گاؤں میں پہلی سائیکل لا کر انہوں نے محض ایک سواری نہیں متعارف کرائی، بلکہ وقت کی رفتار کو تیز کرنے کا ایک خاموش انقلاب برپا کیا—جس نے نئی سوچ، نئی حرکت اور خود اعتمادی کو جنم دیا۔

محمد یعقوب صاحب جیسے لوگ گاؤں کی تاریخ میں لفظوں سے زیادہ مثالوں کے ذریعے زندہ رہتے ہیں: کام کی مہارت، کردار کی شرافت اور زندگی میں صفائی—یہی ان کی سچی وراثت ہے

 

گنور کی قیادت کا مجموعی اثر (1975–2025)

ان پچاس برسوں کا تجزیہ بتاتا ہے

مغربی حصہ نے معاشی استحکام، تعلیم، زمینداری اور انتظامی اثر و رسوخ میں اہم کردار ادا کیا
مشرقی حصہ نے دینی رہنمائی، اخلاقی تربیت، محنت، ایمانداری اور عملی جدوجہد کی بنیادیں مضبوط کیں۔
دونوں حصّوں کی شخصیات نے مل کر گنور کی سماجی یکجہتی، مذہبی رواداری، معاشی ترقی اور تعلیمی بیداری کی فضا قائم کی۔

ان شخصیات کی مشترکہ خدمات نے گنور کو مدھوبنی ضلع کے اہم ترین علمی و سماجی طور پر متوازن گاؤں میں تبدیل کر دیا۔

نتیجہ

گنور کی تاریخ میں یہ تمام شخصیات روشن ستاروں کی مانند ہیں۔ ان کے بغیر گاؤں کی سماجی ساخت، تہذیبی شناخت اور ترقیاتی سفر نامکمل ہے۔ آج کا گنور انہی بزرگوں کی محنت، دانش، تدبر اور قربانیوں کا ثمر ہے۔
[22/02, 10:42 am] Akram Chacha Kolkata: 13 . حضرت مولانا محمد شفیع اللہ قاسمی صاحب
علم، قیادت اور وقار کی متوازن تصویر

حضرت مولانا محمد شفیع اللہ قاسمی صاحب ایک نو جوان مگر بالغ نظر عالمِ دین ہیں، جن کی شخصیت میں فاضلانہ وقار، افتائی بصیرت اور قرآنی ذوق نمایاں ہے۔ آپ فاضل، مفتی، قاری، مولوی اور صاحبِ قلم مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہمہ جہت استاد بھی ہیں۔ اُردُو، عربی، ہندی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر آپ کی یکساں مہارت آپ کی علمی وسعت اور فکری گہرائی کی روشن دلیل ہے۔

آپ کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ آپ بیرونِ ملک تعلیمی خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں آپ کی تدریسی صلاحیتوں اور علمی پختگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ بین الاقوامی تجربہ آپ کی سوچ میں وسعت، تدریس میں اعتدال اور قیادت میں توازن پیدا کرتا ہے۔

مدرسہ کے نئے سربراہ کی حیثیت سے آپ بہترین علمی و انتظامی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ نظم و ضبط، منصوبہ بندی، اساتذہ و طلبہ کے ساتھ مشفقانہ رویّہ اور ادارہ جاتی ترقی کا واضح وژن آپ کی قیادت کے بنیادی اوصاف ہیں۔ اپنے گاؤں میں آپ کو غیر معمولی عزت و احترام حاصل ہے، جو محض منصب کا نہیں بلکہ آپ کے اخلاق، اخلاص اور خدمتِ دین کا عملی اعتراف ہے۔

یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ کی قیادت میں یہ ادارہ علم، کردار اور سماجی رہنمائی کا ایک مضبوط اور باوقار مرکز بن کر مزید ترقی کرے گا۔
——————————————-

14. مولانا محمد حسام الدین قاسمی
نوجوانی میں علم و خدمت کا وقار

مولانا محمد حسام الدین قاسمی ایک صاحبِ کردار نوجوان عالمِ دین ہیں، جو حفظِ قرآن اور قراءت میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ بطور حافظ و قاری آپ کی آواز میں خشوع بھی ہے اور ترتیب بھی، جو سامع کے دل پر اثر چھوڑتی ہے۔

درس و تدریس سے آپ کی گہری وابستگی آپ کی علمی مہارت کا واضح ثبوت ہے۔ دینی علوم پر مضبوط گرفت، مسائل کی درست تفہیم اور سادہ مگر مؤثر اندازِ بیان—یہ وہ اوصاف ہیں جو آپ کو ایک کامیاب معلّم کے طور پر ممتاز کرتے ہیں۔

نوجوان ہونے کے باوجود آپ نے ذمہ داری، سنجیدگی اور استقامت کے ساتھ بیرونِ ریاست بھی دینی خدمات انجام دی ہیں، جہاں آپ کی علمی قابلیت اور اخلاقی وقار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ آپ آئندہ بھی علمِ دین کی خدمت میں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھاریں گے اور نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال ثابت ہوں گے۔
——————————————- 15. محمد عمر فاروق صاحب

یادداشت، نعت اور قیادت کا باوقار امتزاج

محمد عمر فاروق صاحب گاؤں کے قدیم اور ممتاز حفاظِ کرام میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یادداشت کے معاملے میں آپ کی مثال دی جاتی ہے؛ مضبوط حافظہ، غیر معمولی ترتیب، اور پُراعتماد ادائیگی نے آپ کو اس میدان میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ قرآنِ کریم کے ساتھ آپ کی ذہنی وابستگی، الفاظ کی صحت اور معانی کی نزاکت کا خیال، آپ کی علمی پختگی کا روشن ثبوت ہے۔

نعت خوانی کے باب میں آپ گاؤں کے سب سے ممتاز اور مقبول نعت خواں تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آپ کی آواز میں خلوص، دل سوزی اور ادب کا وہ حسین امتزاج پایا جاتا ہے جو سامع کے دل کو بے ساختہ چھو لیتا ہے۔ نعت کے اشعار ہوں یا درود و سلام—آپ کی ادائیگی میں عشقِ رسول ﷺ، وقار اور روحانی تاثیر نمایاں نظر آتی ہے۔

آپ ایک کامیاب اور بااثر مقرّر بھی ہیں۔ موضوع پر مضبوط گرفت، دلائل میں توازن، اندازِ بیان میں روانی اور سامعین سے براہِ راست ذہنی و قلبی ربط قائم رکھنے کی صلاحیت آپ کی تقریر کو محض خطاب نہیں بلکہ ایک فکری رہنمائی بنا دیتی ہے۔ اسی طرح آپ ایک بہترین نقیبِ اجلاس بھی ہیں—نظامِ مجلس، وقت کی پابندی، باوقار اعلان اور سامعین کا احترام آپ کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔

شمال مشرقی ہند کی مختلف ریاستوں میں آپ کی شہرت آپ کی دینی، ادبی اور سماجی خدمات کا عملی اعتراف ہے۔ گاؤں کے مدرسہ میں آپ کی تدریسی خدمات قابلِ قدر رہی ہیں، جہاں آپ نے صرف نصابی علم ہی نہیں بلکہ اخلاق، شائستگی، باہمی احترام اور ذمہ داری کا شعور بھی طلبہ کے دلوں میں منتقل کیا۔ آپ کی تربیت کا انداز نرم، شفقت بھرا اور اصلاح پر مبنی رہا ہے۔

انسانی ہمدردی، نرم گفتاری اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا جذبہ آپ کی شخصیت کا اہم حصہ ہے۔ آپ اختلاف میں بھی شائستگی، اور گفتگو میں اعتدال کو ترجیح دیتے ہیں، جو آج کے دور میں ایک نادر وصف ہے۔ قومی یکجہتی اور حب الوطنی کا جذبہ آپ کے افکار اور گفتار میں واضح طور پر جھلکتا ہے—آپ مذہبی و سماجی ہم آہنگی کے قائل اور امن و اتحاد کے داعی ہیں۔

نوجوانی میں آپ ایک بہترین کرکٹ کھلاڑی بھی رہے، جس سے آپ کی ہمہ جہت شخصیت، نظم و ضبط، محنت، برداشت اور ٹیم ورک کی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔ کھیل کے میدان سے لے کر علم و قیادت کے دائرے تک، آپ نے ہمیشہ متوازن اور باوقار کردار کا عملی نمونہ پیش کیا ہے۔

یوں محمد عمر فاروق صاحب علم، فن، قیادت، اخلاق اور کھیل—ہر میدان میں وقار، توازن اور خدمت کی ایک روشن اور قابلِ تقلید مثال ہیں۔

——————————————-
16 . محمد نوشاد عثمانی

علم، قلم، قیادت اور عصرِ حاضر کا باوقار چہرہ

محمد نوشاد عثمانی ایک ہمہ جہت، باصلاحیت اور باوقار شخصیت کا نام ہے، جن کی پہچان محض ایک میدان تک محدود نہیں بلکہ علم، ادب، صحافت، تحقیق اور سماجی قیادت—سبھی دائروں میں نمایاں طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ ان کی زندگی مقصدیت، فکری سنجیدگی اور خدمتِ خلق کے جذبے سے عبارت ہے۔

تعلیم و علم کے میدان میں محمد نوشاد عثمانی نے گہرائی، وسعت اور تحقیق کو اپنا شعار بنایا۔ دینی و عصری علوم کے امتزاج نے ان کی فکر کو متوازن اور ہم عصر بنایا۔ اردو زبان پر ان کی مضبوط گرفت، ادبی ذوق، اسلوب کی شائستگی اور مضمون میں ربط—انہیں ایک سنجیدہ اور معتبر قلم کار بناتا ہے۔ ان کی تحریروں میں محض الفاظ نہیں، بلکہ تاریخ، سماج اور سچائی کی گواہی بولتی ہے۔

صحافت کے میدان میں 2010ء میں دہلی سے عملی سفر کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے اپنی محنت، جرأت اور پیشہ ورانہ دیانت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ قومی سطح کے میڈیا ادارے میں چیف ایڈیٹر اور ایگزیکیٹو آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ان کی صلاحیتوں کا واضح اعتراف ہے۔ لائیو نیوز پریزنٹیشن، حالات پر گہری نظر اور درست پیش گوئی—یہ اوصاف انہیں صحافتی دنیا میں ممتاز کرتے ہیں۔ ان کی صحافت سنسنی نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنی۔

تصنیف و تالیف میں محمد نوشاد عثمانی کا انداز تحقیقی، متوازن اور فکری ہے۔ وہ محض واقعات نہیں لکھتے بلکہ پس منظر، اسباب اور نتائج کو جوڑ کر قاری کے سامنے ایک مکمل تصویر رکھتے ہیں۔ گاؤں، تہذیب، تاریخ اور سماجی ساخت پر ان کی تحریریں ایک دستاویزی حیثیت رکھتی ہیں، جو آئندہ نسلوں کے لیے فکری سرمایہ ہیں۔

سماجی سطح پر وہ ایک ذمہ دار، درد مند اور بیدار مغز رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ مقامی تاریخ، تہذیبی شناخت اور اجتماعی شعور کو محفوظ کرنے کا جذبہ ان کے کام میں نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت نے نہ صرف اپنے گاؤں بلکہ وسیع تر حلقوں میں احترام اور اعتماد حاصل کیا۔

ان علمی، صحافتی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں 2024ء میں انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی محنت اور فکر کو علمی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

محمد نوشاد عثمانی دراصل اس نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو روایت سے جڑی رہ کر جدید تقاضوں کو سمجھتی ہے؛ جو قلم کو امانت اور علم کو ذمہ داری سمجھتی ہے؛ اور جو اپنی شناخت کو ذاتی شہرت نہیں بلکہ اجتماعی ورثہ بنانا چاہتی ہے۔ ایسی شخصیات وقت کا سرمایہ اور سماج کی امید ہوتی ہیں۔
——————————————
17. محمد حسان سلفی
علم، خدمت اور وقار کی روشن نوجوان مثال

محمد حسان سلفی ایک ایسے پڑھے لکھے، باوقار اور سنجیدہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کی علمی روایت اور اخلاقی تہذیب ان کی شخصیت میں نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ علم سے ان کی وابستگی محض رسمی نہیں؛ وہ حافظ و قاری ہیں اور دینی بصیرت کے ساتھ عصری علوم میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ڈاکٹریت کی تعلیم نے ان کی فکری وسعت اور علمی شناخت کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

وہ ایک فعال سماجی خدمتگار اور دردمند دل رکھنے والے ہمدرد انسان ہیں، جن کا رابطہ عام لوگوں کے مسائل سے محض گفتاری نہیں بلکہ عملی سطح پر قائم ہے۔ دینی کاموں سے ان کی گہری وابستگی ہے؛ دعوت، اصلاح اور خدمتِ دین کے میدان میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ متحرک رہتے ہیں۔ سماجی خدمت اور دینی ذمے داری کو وہ باہم مربوط سمجھتے ہیں اور دونوں کو اعتدال کے ساتھ نبھاتے ہیں۔

سیاسی شعور و سماجی فہم کے حامل ہونے کے باوجود ان کا طرزِ فکر توازن، برداشت اور اجتماعی بھلائی پر قائم ہے۔ نوجوان ہونے کے باوجود ذمہ داری، سنجیدگی اور ضبط ان کے مزاج کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

بطور سرکاری ملازم وہ دیانت، نظم و ضبط اور عوامی خدمت کے تقاضوں کو وقار اور احساسِ جواب دہی کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ اخلاقی شائستگی، علمی وقار، سماجی خدمت اور دینی وابستگی نے محمد حسان سلفی کو معاشرے میں عزت و اعتماد کا مقام عطا کیا ہے—اور یہی احترام ان کی اصل شناخت اور سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
——————————————-
18. محمد بشیر

بصیرت، تجارت اور سماجی قیادت کی متحرک علامت

محمد بشیر ایک ایسی شخصیت ہیں جو رسمی اسناد کے بغیر بھی علم، فہم اور تجربے کی بنیاد پر اپنی مضبوط شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ وہ اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ اصل علم محض ڈگریوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ مشاہدہ، مطالعہ اور مسلسل عملی جدوجہد سے انسان فکری بلندی حاصل کرتا ہے۔

سماجی اور سیاسی شعور کے اعتبار سے محمد بشیر کا شمار گنور کے باشعور اور متحرک کارکنوں میں ہوتا ہے۔ حالات کا گہرا ادراک، مسائل کی جڑ تک پہنچنے کی صلاحیت اور عملی حل پیش کرنے کا حوصلہ ان کی گفتگو اور فیصلوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ محض تبصرہ کرنے والے نہیں بلکہ زمینی سطح پر کام کرنے والے انسان ہیں۔

تجارت کے میدان میں آپ ایک بڑے اور کامیاب تاجر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ابتدا میں بطور کارخانہ دار آپ نے محنت، نظم و ضبط اور دیانت کے ساتھ اپنی بنیاد مضبوط کی، پھر وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے تجارت کو فروغ دیا۔ یہ تبدیلی آپ کی دور اندیشی، جدید فہم اور ارتقائی سوچ کا واضح ثبوت ہے۔

تعلیمی و دینی خدمات کے ضمن میں گنور کے مدرسہ کے سابق سیکریٹری کی حیثیت سے آپ کی انتظامی صلاحیتیں نمایاں رہیں۔ ادارہ جاتی نظم، وسائل کا درست استعمال، شفافیت اور ذمہ دارانہ فیصلے آپ کی کارکردگی کی شناخت بنے۔ آپ نے انتظام کو محض عہدہ نہیں بلکہ خدمت سمجھ کر نبھایا۔

شخصی پہچان کے حوالے سے محمد بشیر ایک واضح، مضبوط اور باوقار تشخص رکھتے ہیں۔ گفتگو میں اعتماد، سوچ میں پختگی اور عمل میں استقامت آپ کی شخصیت کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ آرٹیکل نویسی میں بھی مہارت رکھتے ہیں—آپ کی تحریر میں تجزیہ، دلیل اور حقیقت پسندی کا امتزاج ملتا ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

مختصراً، محمد بشیر کی بصیرت غیر معمولی ہے۔ وہ علم، تجارت، سماجی خدمت اور فکری رہنمائی—ہر میدان میں ایک متوازن اور مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں، اور گنور کے سماجی و فکری منظرنامے میں ایک قابلِ احترام نام کی حیثیت رکھتے ہیں۔
——————————————-

19. مولوی محمد ابراہیم صاحب

طہارت، تقویٰ اور خاموش خدمت کی روشن مثال

مولوی محمد ابراہیم صاحب نیک سیرت، صالح اور باعمل انسان تھے۔ کم گوئی اور شائستہ گفتار آپ کی فطرت کا حصہ تھی؛ آپ زیادہ بولنے کے بجائے عمل کے ذریعے دین کی ترجمانی کرتے تھے۔ آپ کی خاموشی میں وقار، اور گفتگو میں وزن محسوس کیا جاتا تھا۔

دین کی حقیقی فہم آپ کی شخصیت کی بنیاد تھی۔ آپ عبادات کو محض رسم نہیں سمجھتے تھے بلکہ شعور، اخلاص اور درست طریقے کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ خاص طور پر طہارت کے معاملات میں آپ کی پابندی اور احتیاط بے مثال تھی۔ سردی کے شدید موسم میں بھی فجر سے قبل پوکھر میں بلا ناغہ غسل کرنا آپ کی استقامت، مضبوط ارادے اور پاکیزگیِ فکر کا عملی مظہر تھا۔

استنجا کے آداب میں آپ نہایت محتاط اور قابلِ تقلید تھے۔ صفائی، ستر پوشی، پانی کے درست استعمال اور خاموشی کے ساتھ اس فریضے کو ادا کرنا—یہ سب آپ کے نزدیک دین کی باریک سمجھ کا حصہ تھا، جو آج کے دور میں کم نظر آتا ہے۔

اگرچہ آپ سیاسی مباحث سے دُور رہتے تھے اور سیاسی علم یا وابستگی نہیں رکھتے تھے، مگر سماجی شعور اور خدمت کا جذبہ آپ میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ لوگوں کے دکھ درد کو محسوس کرنا، ضرورت کے وقت خاموشی سے مدد کرنا اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینا آپ کا طریقہ تھا۔

میلاد النبی ﷺ کی محافل میں آپ کی شرکت محض رسمی نہیں ہوتی تھی، بلکہ ادب، عقیدت اور اعتدال کے ساتھ ہوتی تھی۔ آپ ان محافل کو محبتِ رسول ﷺ کے اظہار اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے، نہ کہ نمود و نمائش کا موقع۔

مولوی محمد ابراہیم صاحب کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دین کی اصل روح سادگی، طہارت، اخلاص اور خاموش خدمت میں پوشیدہ ہے۔ وہ نہ بلند دعووں کے حامل تھے، نہ شہرت کے طالب—مگر اپنے عمل سے ایک مضبوط اور دیرپا مثال چھوڑ گئے۔
——————————————

20. مولوی محمد جنید صاحب

علم، تحقیق، سماجی بصیرت اور دینی قیادت کا روشن نمونہ

مولوی محمد جنید صاحب گاؤں کے پرانے اور معتبر علما میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے طویل عرصے تک علمِ دین کی خدمت کی اور اپنی علمی تحقیق، گہرے مطالعے اور فکری توازن کے ذریعے ایک مضبوط اور مستحکم پہچان قائم کی۔ آپ کا علمی مزاج محض تقلیدی نہیں بلکہ تحقیق، دلیل اور حوالہ پر مبنی تھا، جس میں دین کے عقائد، عبادات اور فلسفے کے پس منظر کو واضح کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

دینی فلسفے اور سماجی بصیرت کے میدان میں آپ کی گرفت غیر معمولی تھی۔ آپ نے معاشرتی مسائل کو دینی اصولوں کی روشنی میں سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی کی۔ اختلافی حالات میں اعتدال، فکری بصیرت اور عملی رہنمائی آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔

آپ نہ صرف ایک صاحبِ فکر عالم ہیں بلکہ ایک موثر اور دلکش مقرر بھی رہے ہیں۔ خطابت میں آپ کا انداز سنجیدہ، مدلّل اور اصلاح پر مبنی تھا، جو سامعین کے دلوں اور ذہنوں پر اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے امامت کی ذمہ داریاں بھی بخوبی انجام دیں—نماز کی پابندی، قرأت کی صحت، خطبے میں اعتدال اور مقتدیوں کی دینی رہنمائی آپ کی امامت کا اہم وصف تھے۔

آپ کی عملی خدمات میں نئی مسجد کا قیام ایک نمایاں کارنامہ ہے۔ یہ مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ علم، تربیت اور سماجی ہم آہنگی کا مرکز بنی، جس سے علاقے میں دینی شعور اور اخلاقی فضا کو تقویت ملی۔

مولوی محمد جنید صاحب کی مقبولیت اور اثر صرف گاؤں یا ضلع تک محدود نہیں رہا بلکہ مہاراشٹر، بہار اور اتر پردیش میں بھی آپ کے چاہنے والے اور حامی موجود ہیں۔ یہ دائرۂ اثر آپ کے اخلاص، فکری وسعت اور عملی خدمات کا عملی اعتراف ہے۔

مختصراً، مولوی محمد جنید صاحب علم، تحقیق، فلسفہ، سماجی بصیرت، خطابت اور دینی قیادت—ہر میدان میں ایک متوازن، باوقار اور قابل تقلید شخصیت ہیں، جن کی خدمات اور بصیرت آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی اور مشعلِ راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔
——————————————-
21۔ مولوی محمد موتی الرحمن صاحب

سادگی اور خدمت کی روشن مثال

مولوی محمد موتی الرحمن صاحب ایک سادہ، سلیس اور نیک سیرت شخصیت کے مالک ہیں، جن کی زندگی اخلاق، خدمت اور دینی وابستگی کے اعلیٰ معیار کی عکاس ہے۔ آپ نے طویل عرصے تک مدرسہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے، جہاں آپ نے طلبہ کو محض علم نہیں بلکہ اخلاق، نیک عادات اور دینی شعور بھی منتقل کیا۔ آپ کا اندازِ تدریس صبر و شفقت، وضاحت اور عملی مثال کے ساتھ ہوتا تھا، جو طلبہ کے دلوں اور ذہنوں پر دیرپا اثر ڈالتی تھی۔

میلاد النبی ﷺ میں آپ کی شرکت محض رسمی نہیں بلکہ عقیدت، ادب اور محبتِ رسول ﷺ کے جذبات کے ساتھ ہوتی تھی، جو آپ کی روحانی وابستگی اور سادگی کو ظاہر کرتی ہے۔

آپ کا طرزِ زندگی سادہ اور بے تکلف ہے۔ سیاسی علم یا سیاسی سرگرمیوں میں آپ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود، سماجی خدمات اور خدمتِ خلق میں آپ کی دلچسپی اور فعال کردار نمایاں ہیں۔ ضرورت مندوں کی مدد، معاشرتی ہم آہنگی اور گاؤں کے لوگوں کی فلاح کے لیے آپ کی سرگرمیاں آپ کی شخصیت کی پہچان ہیں۔

——————————————-

22. محمد طیب صاحب (ڈیلر صاحب)

سماجی شعور، عوامی خدمت اور عملی فہم کے حامل

محمد طیب صاحب گاؤں کے ایک ممتاز اور قابل احترام شخص ہیں، جو اپنی عملی صلاحیت، سماجی شعور اور عوامی خدمت کے جذبے کی بدولت سب کے لیے قابل تقلید ہیں۔ اگرچہ آپ رسمی تعلیم میں زیادہ آگے نہیں رہے، لیکن آپ کی سوجھ بوجھ، فہم اور عملی تجربہ نے ہر مشکل مسئلے کا حل آسان بنایا ہے اور آپ کو گاؤں میں ایک معتبر شخصیت کے طور پر مستحکم مقام دیا ہے۔

آپ گاؤں کے عوامی فیصلوں اور فلاح و بہبود کے امور میں ہمیشہ فعال رہے ہیں۔ ہر مسئلے میں آپ کی رائے سنجیدہ طور پر لی جاتی ہے، اور لوگوں کو آپ کی رہنمائی پر بھروسہ ہوتا ہے۔ سماج میں آپ کا یہ مقام محض شخصیت کی وجہ سے نہیں بلکہ عملی خدمت، ایمانداری اور مدد کے جذبے کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔

تجارت اور روزگار کے شعبے میں بھی آپ ایک مثالی کردار کے حامل ہیں۔ آپ نے ایک چھوٹے سے دکان دار کے طور پر آغاز کیا، لیکن اپنی محنت اور ہنر سے اسے بڑھا کر روئی دھنے کی مشین کے ذریعے عملی صنعت میں بدل دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، آپ گاؤں میں غذائی اجناس و اشیاء کے سرکاری ڈیلر بھی ہیں، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوئے بلکہ لوگوں کی ضروریات کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا ہوا۔

مختصراً، محمد طیب صاحب ایک ایسا شخص ہیں جو کم پڑھے لکھے ہونے کے باوجود فہم، عملی تجربہ اور سماجی شعور کے اعتبار سے گاؤں میں ایک قابل احترام اور مؤثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ علم و تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی عقل، محنت اور خدمت خلق بھی معاشرت میں بلند مقام دلاتی ہے۔
——————————————–
23. محمد گلفام

سماجی شعور، عملی فہم اور خدمتِ خلق کی مثال

محمد گلفام کم پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ایک فہمیدہ، مؤثر اور سماجی شعور رکھنے والے نوجوان ہیں، جن کی شخصیت گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ آپ کی سیاسی فہم اور سماجی شعور کی بدولت عوامی امور میں آپ کی رائے اہمیت کی حامل ہوتی ہے، اور لوگوں کو آپ کے تجربے اور بصیرت پر بھروسہ ہے۔

تجارت میں بھی آپ ایک کامیاب اور قابلِ اعتماد تاجر ہیں۔ آپ نے محنت، ایمانداری اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنے کاروبار کو مضبوط کیا اور علاقے کے لوگوں کو روزگار اور سہولیات فراہم کرنے میں مدد دی۔ غریبوں کے لیے آپ کی شفقت اور تعاون انہیں ایک حقیقی مسیحا اور مددگار کے طور پر دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔

محمد گلفام سماج میں ایک نوجوان محرک اور محنت کش شخصیت ہیں، جو دینی اور فلاحی کاموں میں فعال حصہ لیتے ہیں۔ میلاد، مدرسہ کے پروگرامز، اور دیگر فلاحی سرگرمیوں میں آپ کی شرکت اور تعاون نہ صرف عملی خدمت بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔

مختصراً، محمد گلفام ایک ایسی شخصیت ہیں جو سماجی شعور، سیاسی فہم، دینی وابستگی، اور خدمت خلق کے امتزاج کے ذریعے گاؤں میں ایک خاص اور مؤثر اثر چھوڑتے ہیں۔ آپ کی زندگی نوجوانوں کے لیے رہنمائی، حوصلہ اور عملی مثال کا بہترین نمونہ ہے۔

——————————————-
24. محمد کلیم و برادران

عقلمندی، کاروباری بصیرت اور سماجی ہم آہنگی کی مثال

محمد کلیم و برادران گاؤں کے کم تعلیم یافتہ مگر انتہائی عقلمند اور زیرک افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کی سوچ و فہم، عملی تجربے اور تجارتی ذہانت نے گاؤں میں کاروبار اور معیشت کے نئے مواقع پیدا کیے۔

تجارت اور صنعت کے شعبے میں آپ کی قیادت نمایاں رہی ہے۔ گاؤں کا سب سے پہلا کارخانے بیرون ریاست کا قیام آپ کی محنت، نظم و ضبط اور تعاون کی بدولت ممکن ہوا، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ متحد ہو کر کام کرنا کامیابی کی کلید ہے۔ آپ اور آپ کے بھائیوں نے ایک ٹیم کے طور پر مشترکہ کوششوں سے نہ صرف اپنا کاروبار مضبوط کیا بلکہ گاؤں کی معیشت کو بھی فروغ دیا، روزگار کے مواقع پیدا کیے اور مقامی مارکیٹ کو فعال بنایا۔

آپ سیاسی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں، مگر سماجی اور معاشرتی امور میں فعال اور مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ آپ کی تفہیم، تعاون اور تال میل گاؤں میں ایک مثالی اور قابل تقلید مثال ہے، جو یہ سکھاتی ہے کہ سمجھداری اور یکجہتی سے بڑے کام ممکن ہیں۔

مختصراً، محمد کلیم و برادران ایک ایسی شخصیت ہیں جو عقلمندی، کاروباری بصیرت، تعاون اور گاؤں کی فلاح و ترقی کے امتزاج کے ذریعے ایک روشن مثال قائم کرتے ہیں، اور نوجوان نسل کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
——————————————–

25. محمد رحمت عالم عرف چنا بابو (نیتا جی)

سیاست، سماجی خدمت، قومی یکجہتی اور نوجوان قیادت کی روشن مثال

محمد رحمت عالم عرف چنا بابو، جنہیں گاؤں میں محبت اور احترام کے ساتھ نیتا جی کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک ایسا نوجوان رہنما ہیں جن کی شخصیت علم، بصیرت، عملی قیادت اور خدمت کے جذبے کا حسین امتزاج ہے۔ پڑھا لکھا، باشعور اور ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ، آپ نے عملی زندگی میں اپنی قابلیت، حکمت اور عوامی خدمت سے لوگوں کے دل جیتے ہیں۔

آپ کی سیاسی فہم اور عوامی خدمت کی بدولت گاؤں کے اہم مسائل میں آپ کے فیصلے نہ صرف قابل اعتماد ہیں بلکہ ہر شخص کے لیے رہنمائی کا سبب ہیں۔ آپ کے نزدیک سیاست صرف اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عوام کی فلاح، انصاف اور اجتماعی ترقی کے لیے ایک عملی فریم ورک ہے۔ آپ نے گاؤں کی سیاسی، سماجی اور فلاحی باگ ڈور سنبھالی اور ہر کام میں عوام اور سماج کی بھلائی کو ترجیح دی۔

محمد رحمت عالم ایک محنت کش، خدمت گزار اور فلاحی شخصیت ہیں، جو دینی اور سماجی کاموں میں ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔ میلاد النبی ﷺ، مدرسہ کے پروگرامز اور دیگر فلاحی و تعلیمی سرگرمیوں میں آپ کی عملی شمولیت لوگوں کے دلوں میں اعتماد اور محبت پیدا کرتی ہے۔ آپ گرام کچہری کے منصف کے طور پر انصاف، ایمانداری اور غیر جانبداری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہیں۔

آپ کی شہرت اور قدر گاؤں کے دائرے سے آگے بڑھ کر دونوں قوموں میں مقبول اور محترم ہو چکی ہے۔ نوجوان نسل میں آپ کا مقام بھی منفرد ہے؛ وہ آپ کو صرف رہنما ہی نہیں بلکہ مشعل راہ، حوصلہ افزائی اور خدمت کے جذبے کا مظہر سمجھتے ہیں۔ آپ کی بصیرت اور حکمت نوجوانوں کے لیے عملی سبق اور تحریک کا سبب ہے۔

آپ کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو کھیل اور ٹیم ورک ہے۔ گاؤں کے مشہور کرکٹ کھلاڑی ہونے کے ناطے، آپ نظم و ضبط، محنت اور اتحاد کی عملی مثال پیش کرتے ہیں۔ نوجوانوں کو تعلیم، تربیت اور سماجی خدمت کی طرف راغب کرنے میں آپ ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں، اور انہیں قومی یکجہتی اور معاشرتی ہم آہنگی کا درس دیتے ہیں۔

مختصراً، محمد رحمت عالم عرف چنا بابو کی شخصیت علم، سیاست، خدمت خلق، قومی یکجہتی، دینی وابستگی، کھیل اور قیادت کے حسین امتزاج کی روشن مثال ہے۔ آپ نہ صرف گاؤں بلکہ آس پاس کے علاقوں میں بھی ایک معتبر، مؤثر اور قابلِ تقلید شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی قیادت، علم، خدمت اور قومی اتحاد کا امتزاج انسان کو عوام کے دلوں میں بلند مقام دلاتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنتا ہے۔
——————————————–
[22/02, 10:48 am] Akram Chacha Kolkata: 26. محمد منیف صاحب (پہلوان)

طاقت، مہارت اور کشتی کے فن کے بادشاہ

محمد منیف صاحب گاؤں کے ایک ممتاز اور قابل احترام پہلوان ہیں، جن کی لمبی قد و قامت اور مظبوط جسمانی ساخت انہیں ایک غیر معمولی اور متاثر کن شخصیت عطا کرتی ہے۔ آپ کی جسمانی طاقت اور مضبوطی کی بدولت آپ کو کشتی کے میدان میں ایک ناقابل تسخیر پہلوان کے طور پر جانا جاتا ہے۔

آپ کی شہرت صرف گاؤں یا ضلع تک محدود نہیں، بلکہ دُور دراز علاقوں میں بھی آپ کی پہچان ہے، جہاں لوگ آپ کی مہارت، طاقت اور داؤ پیچ کی فنکاری کے معترف ہیں۔ کشتی کے میدان میں آپ کے داؤ پیچ، حکمت عملی اور محنت کا امتزاج ہر حریف کے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے۔

محمد منیف صاحب کی پہلوانی نہ صرف جسمانی قوت بلکہ حوصلے، استقامت اور تربیت کی بدولت ہے۔ آپ نے اپنی محنت اور لگن سے یہ ثابت کیا ہے کہ مضبوط جسم کے ساتھ ساتھ فن کی باریکی اور حکمت عملی بھی ضروری ہے۔ اسی وجہ سے آپ کو گاؤں میں کشتی کے میدان کا تاج بادشاہ کہا جاتا ہے۔

مختصراً، محمد منیف صاحب ایک ایسی شخصیت ہیں جو طاقت، مہارت، استقامت اور فنکاری کے حسین امتزاج کی مثال ہیں۔ آپ کی پہلوانی، داؤ پیچ اور جسمانی قوت نوجوانوں کے لیے حوصلہ، جذبہ اور عملی رہنمائی کا بہترین نمونہ ہے۔
——————————————
27. محمد سفیل

محمد سفیل

ایمانداری، محنت اور زرعی خدمت کی روشن مثال

محمد سفیل گاؤں کے ایک معزز اور قابل احترام شخص ہیں، جو اپنی ایمانداری، محنت اور سادہ زندگی کی بدولت سب کے دلوں میں اپنی جگہ رکھتے ہیں۔ آپ ایک محنت کش کسان اور مزدور ہیں، جو دن رات جفاکش محنت کے ذریعے نہ صرف اپنی روزی روٹی کماتے ہیں بلکہ گاؤں کی زرعی ترقی، فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کی کاشت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آپ کی عملی معلومات اور تجربہ گاؤں کے دیگر کسانوں کے لیے مشعل راہ ہے، اور آپ اپنی زرعی مہارت اور زمین داری کے فن سے دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

آپ کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف ایمانداری اور بھروسہ مندی ہے۔ لوگ آپ پر مکمل اعتماد کرتے ہیں کیونکہ آپ کا قول و فعل ہمیشہ سچا اور معتبر ہوتا ہے۔ سادہ اور بے تکلف زندگی گزارنے کے باوجود، آپ نے عملی زندگی میں لائق اعتماد اور قابل احترام شخصیت کی حیثیت حاصل کی ہے۔

اگرچہ آپ رسمی تعلیم میں زیادہ آگے نہیں ہیں، لیکن آپ کی زندگی اور عمل یہ سکھاتے ہیں کہ علم کے ساتھ ساتھ محنت، عملی فہم، سچائی اور لگن بھی انسان کو معاشرت میں بلند مقام دلاتی ہے۔ آپ کی خدمات اور کردار گاؤں کے دیگر لوگوں کے لیے مثال اور رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

مختصراً، محمد سفیل ایک ایسی شخصیت ہیں جو ایمانداری، سچائی، محنت، زرعی مہارت اور سادہ زندگی کے حسین امتزاج کی روشن مثال پیش کرتے ہیں۔ آپ کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ عملی لگن، بھروسہ مندی، خدمتِ خلق اور زمین داری کے علم و تجربے سے گاؤں کی ترقی ممکن ہے۔

——————————————-
28. چوکیدار صاحب ( گرامین پولیس)

بھروسہ مند، محنت کش اور گاؤں کے محافظ

چوکیدار صاحب گاؤں کے ایک معتبر اور قابل اعتماد شخصیت ہیں، جو اپنے سخت پہرہ، مظبوط عزم اور بھروسہ مندی کی بدولت ہر کسی کے دلوں میں احترام رکھتے ہیں۔ آپ کا کام محض فرض نبھانا نہیں بلکہ گاؤں کی حفاظت، امن و امان اور عوامی بھلائی کے لیے ایک مسلسل اور قابل تقلید خدمات کا مظہر ہے۔

آپ کی کڑی نظر اور پھرتی کے باعث گاؤں میں نظم و ضبط قائم رہتا ہے۔ رات میں دو دو مرتبہ پہرہ دینا، گاؤں کے ہر پہلو پر نگاہ رکھنا اور پل پل کی خبروں سے آگاہ رہنا آپ کی ذمہ داری اور حب وطن کی علامت ہے۔

چوکیدار صاحب نہ صرف محافظِ گاؤں ہیں بلکہ غیر جانبداری کے اصول پر بھی سختی سے عمل کرتے ہیں۔ آپ کسی بھی جرم، جھگڑے یا لڑائی میں میانہ روی اور انصاف کے اصول کو مقدم رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ آپ پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔

سماجی خدمات کے معاملے میں بھی آپ ہمیشہ سرگرم ہیں۔ گاؤں کے عوام آپ کی موجودگی میں خود کو محفوظ اور مطمئن محسوس کرتے ہیں، کیونکہ آپ کے لیے ہر مسئلہ، ہر خطرہ اور ہر ناخوشگوار واقعہ اہم ہے۔

مختصراً، چوکیدار صاحب کی شخصیت محنت، بھروسہ مندی، نظم و ضبط، غیر جانبداری اور عوامی خدمت کا حسین امتزاج ہے۔ آپ کی زندگی یہ سکھاتی ہے کہ مضبوط عزم، لگن اور عوامی اعتماد گاؤں کے لیے حقیقی تحفظ اور استحکام کا ضامن ہیں۔

——————————————-

29. حافظ محمد ممتاز
علم، وقار اور خودداری کی علامت

حافظ محمد ممتاز کو اپنے عہد میں بہترین حافظِ قرآن ہونے کا شرف حاصل تھا۔ مضبوط یادداشت، سلیس قرأت، پُراثر آواز اور باوقار اندازِ تلاوت نے آپ کو ممتاز مقام عطا کیا۔ گاؤں میں امامِ تراویح کی ابتدا آپ ہی کے ذریعے ہوئی، اور مدرسہ میں بطور اُستاد آپ کی علمی سختی دراصل علم سے غیر معمولی وفاداری کی علامت تھی۔

آپ مزاجاً سخت ضرور تھے، مگر اس سختی کی جڑ میں اصول پسندی، ذمہ داری اور دینی غیرت کارفرما تھی۔ تعلیم کے معاملے میں کسی رعایت یا سمجھوتے کو آپ نے کبھی قبول نہیں کیا۔ اسی استقامت نے آپ کو اہلِ علم میں معتبر اور طلبہ میں باوقار بنا دیا۔

اعلیٰ ظرفی اور خودداری آپ کی شخصیت کے روشن پہلو تھے۔ کسی کا احسان لینا آپ کو گوارا نہ تھا۔ پاکیزہ اور باعزت معاش کے لیے آپ نے اخبار فروخت کیے، ٹیوشن پڑھائے اور مسلسل محنت کے ساتھ اپنی روزی کمائی۔ محنت کو عیب نہیں بلکہ شرف سمجھتے تھے، اور یہی سوچ آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔

آپ کی شہرت گاؤں کی سرحدوں سے نکل کر بہار سے مہاراشٹر تک پھیل گئی، مگر نام و نمود یا ستائش کبھی آپ کا مقصد نہ بنی۔ حافظ محمد ممتاز کی زندگی علم، محنت، خودداری، اصول پسندی اور اعلیٰ اخلاق کی ایسی زندہ تصویر ہے جو خاموشی سے بہت کچھ سکھا جاتی ہے۔

——————————————–

30. محمد تبریز
ایک سرگرم اور باشعور سماجی کارکن ہیں، جن کی پہچان اونچی سطح کی فکر، وسیع سماجی بصیرت اور عوامی خدمت کے جذبے سے ہوتی ہے۔ وہ محض نظری گفتگو تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

سماجی فلاح و بہبود کے مختلف کاموں میں ان کی شمولیت نمایاں رہی ہے، خصوصاً قبرستان کی گھیرا بندی اور عیدگاہ کی تزئین و حسن کاری جیسے حساس اور اجتماعی نوعیت کے کاموں میں ان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ ستائش رہا ہے۔ یہ خدمات ان کے اندر موجود سماجی ذمہ داری اور دینی و تہذیبی شعور کی عکاسی کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ وہ بیرونِ ملک روزگار کے خواہش مند افراد کی رہنمائی میں بھی سرگرم ہیں۔ ویزا، پاسپورٹ اور بیرونِ ملک ملازمت سے متعلق جامع معلومات رکھتے ہیں اور اسی میدان کو انہوں نے بطور پیشہ اختیار کر رکھا ہے، جس کے ذریعے کئی افراد کو بہتر مستقبل کی سمت راہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔

محمد تبریز جیسے افراد کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، جو ذاتی مفاد سے بلند ہو کر اجتماعی بہتری کے لیے سوچتے اور عمل کرتے ہیں۔
——————————————

31. محمد نوشاد عرف آفتاب ابن محمد مرتضٰی

ایک معزز علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں علم، تہذیب اور فکری بالیدگی وراثت میں ملی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کم عمری ہی سے علم و ادب کے میدان میں گہری دلچسپی لی اور رفتہ رفتہ اس شعبے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

علمی و ادبی ذوق کے ساتھ ساتھ وہ سماجی علوم میں بھی غیر معمولی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی گفتگو، تحریر اور عملی سرگرمیوں میں فہم و فراست، توازن اور مقصدیت صاف جھلکتی ہے، جس کی بنا پر وہ ادبی و سماجی حلقوں میں نہایت مقبول ہیں۔

وہ NGO کے نظام، منصوبہ بندی اور عملی طریقۂ کار کا زبردست علم اور صلاحیت رکھتے ہیں، اور سماجی تنظیموں کے ذریعے معاشرے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اور منظم کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کا مقصد محض تنقید نہیں بلکہ سماج کو برتری دلانا، عوام کے لیے اچھے دن لانا اور مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھنا ہے۔

ان کی فکر مثبت، تعمیری اور امید افزا ہے، جو مایوسی کے ماحول میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔ محمد نوشاد عرف آفتاب جیسے افراد اپنے علم، عمل اور اخلاص کے سبب معاشرے کے لیے روشن چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
——————————————–

32. محمد مظفر

محمد مظفر ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھنے والے ذہین ترین فرد ہیں، جن کے پاس علم کا ایک وسیع خزانہ موجود ہے۔ بچپن سے ہی انہوں نے علم کے لیے خاص دلچسپی ظاہر کی اور اپنی محنت اور لگن سے علمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ محمد مظفر نہ صرف ذاتی طور پر علم کے حامل ہیں بلکہ انہوں نے اسے سماجی بھلائی کے لیے بروئے کار لانے میں بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

نجی شعبے میں اپنی نمایاں خدمات کے علاوہ، محمد مظفر نے سماجی شعور اور علمی شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ہمیشہ معاشرت میں ہم آہنگی قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مثبت سوچ کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔

مزید برآں، محمد مظفر گاؤں کے کھیلوں، خاص طور پر کرکٹ میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ ایک بھروسہ مند کھلاڑی کے طور پر جانے جاتے ہیں، جو اپنی ٹیم کے لیے ہر مشکل موقع پر بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں۔ ان کی شرافت، محنت، اور ٹیم ورک انہیں نہ صرف گاؤں کے کرکٹ میدان میں بلکہ معاشرتی محافل میں بھی ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

 

33 . محمد غضنفر

محمد غضنفر، محمد مظفر کے بھائی، بھی اسی علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی علمی صلاحیتوں کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ دہلی میں ہائی اسکول کے استاد ہیں اور نوجوان طلباء میں علم کے فروغ کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ محمد غضنفر کی تدریسی خدمات نے طلباء میں نہ صرف علمی جذبہ پیدا کیا بلکہ انہیں اخلاقی اور سماجی شعور کی طرف بھی مائل کیا۔

محمد غضنفر کی علمی قابلیت بے حد شاندار ہے، اور وہ ہر موضوع پر گہری بصیرت رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں علم، تدریس، اور سماجی شعور کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔

مزید یہ کہ محمد غضنفر بھی گاؤں کے کرکٹ کے بااعتماد اور بھروسہ مند کھلاڑی ہیں۔ ٹیم کے ہر رکن پر ان کا اعتماد اور کھیل کے دوران ان کی حکمت عملی انہیں گاؤں کے کرکٹ میدان میں ایک ممتاز مقام دیتی ہے۔ ان کی محنت، جذبہ، اور کھیل کے لیے لگن گاؤں کے نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے۔
——————————————-
34. محمد اسلم باری
علمی، سماجی اور مذہبی خدمات کا خاکہ

محمد اسلم باری ایک مضبوط خاندانی پس منظر اور مذہبی رواداری کے حامل شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی شخصیت میں تنک مزاجی کے ساتھ ساتھ ایک تعمیری فکر بھی نمایاں ہے، جو انہیں معاشرت میں مثبت اثر ڈالنے والا اور قابل احترام فرد بناتی ہے۔ محمد اسلم باری کی بصیرت صرف ذاتی زندگی تک محدود نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی مسائل کے حوالے سے بھی گہری فہم رکھتے ہیں، جس کی بدولت وہ ہر صورتحال میں درست فیصلہ لینے اور لوگوں کی رہنمائی کرنے کے قابل ہیں۔

محمد اسلم باری فلاحی کاموں میں ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ وہ اپنے بھائیوں کے لیے مسیحا کی حیثیت رکھتے ہیں اور بہنوں کے لیے اعتماد اور سہارا فراہم کرتے ہیں، جس سے ان کی خاندانی اہمیت اور محبت واضح ہوتی ہے۔ علمی اور مذہبی اعتبار سے بھی ان کی شخصیت قابل تقلید ہے؛ وہ مسلک اہل حدیث کے معتبر مبلغ ہیں اور اپنے علاقے میں علم، فضیلت اور مذہبی خدمات کے حوالے سے معروف ہیں۔ محمد اسلم باری کی زندگی علم، عمل، اور خدمت کا حسین امتزاج ہے، جو نہ صرف خاندانی حلقے بلکہ پورے معاشرتی دائرے میں ایک روشن مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔
——————————————-

35. محمد سالم:
متحرک، سماجی خدمت گار

محمد سالم ایک نوجوان اور متحرک شخصیت کے حامل فرد ہیں، جو نہ صرف سماجی اور فلاحی کاموں میں سرگرم ہیں بلکہ گنور گروپ میں حدیث شریف بھیجنے میں سب سے بہترین اور قابل اعتماد رکن کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں مددگار اور فعال ہونے کے پہلو نمایاں ہیں، اور وہ ہمیشہ دوسروں کی رہنمائی اور معاونت کے لیے تیار رہتے ہیں۔

محمد سالم علمی لحاظ سے اپنی کوششوں میں مستقل مزاج ہیں، لیکن ان کی طاقت زیادہ تر عملی اور سماجی خدمات میں نظر آتی ہے۔ وہ نوجواں ہونے کے ناطے اپنی توانائی اور جذبے کے ذریعے اپنے خاندان، گروپ، اور معاشرت میں مثبت اثر ڈالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ محمد سالم کی شخصیت علم، عمل، اور خدمت کے حسین امتزاج کی ایک نوجوان مثال ہے، جو دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔

——————————————-

36. محمد شاکر

ایک ممتاز شہری، کامیاب تاجر اور سماجی رہنما

محمد شاکر ادھیڑ عمر کے ایک کامیاب تاجر ہیں جنہوں نے زندگی میں محنت، ایمانداری اور ثابت قدمی سے متوسط سے اعلیٰ بنایا۔ ان کی معاشی ترقی نہ صرف ان کی ذاتی محنت اور ذہانت کا نتیجہ ہے بلکہ یہ پورے علاقے کی ترقی اور سماجی فلاح میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

محمد شاکر ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں پورا خاندان نماز اور دین کے احکام کی پابندی کرتا ہے، اور یہی روحانی تربیت محمد شاکر کی زندگی میں حکمت، صبر اور اخلاق کی بنیاد بنی ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی ان کی ایمانداری اور شرافت ہے، جو انہیں کاروبار میں بھی ہر معاملے میں انصاف اور اصول پسندی پر قائم رکھتی ہے۔

ان کی شخصیت میں حکمت اور سیاسی شعور نمایاں ہے، جو انہیں نہ صرف ذاتی بلکہ سماجی اور معاشرتی فیصلوں میں درست راہ دکھاتا ہے۔ محمد شاکر سماجی فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کا بلند حوصلہ اور ہمت انہیں مشکلات کے باوجود خدمت خلق کے کاموں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹنے دیتی۔

محمد شاکر کی معاشی کامیابی نے نہ صرف ان کی زندگی بلکہ اپنے علاقے میں بھی مثبت اثر چھوڑا ہے۔ وہ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرتے ہیں، مقامی کاروبار کو فروغ دیتے ہیں اور لوگوں کو خود کفیل بننے کے لیے راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان کا سماجی شعور اور محنت انہیں اپنے معاشرے کے لیے ایک قابل قدر اثاثہ بناتا ہے۔

نتیجہ:
محمد شاکر کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی صرف دولت میں نہیں بلکہ کردار، خدمت خلق اور معاشرے کی بھلائی میں بھی ہے۔ غریب سے امیر بننے کی ان کی مثال، ایمانداری، ہمت اور سماجی فلاح میں کردار کی وجہ سے ہر کسی کے لیے مشعل راہ ہے۔ محمد شاکر ایک مثالی شہری، کامیاب تاجر اور محب وطن انسان کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

——————————————–

37. حفظنی دادی زوجہ محمد ودود صاحب: عورتوں میں علم و عمل کی روشنی

حفظنی دادی زوجہ محمد ودود صاحب ایک ایسی خاتون تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کو دین کی خدمت اور خواتین کی تربیت کے لیے وقف کر دیا۔ اگرچہ وہ عالمہ نہیں تھیں، لیکن ان کے پاس دین کی عملی اور مخصوص جانکاری موجود تھی، جسے انہوں نے نہایت ایمانداری اور خلوص کے ساتھ اپنے معاشرے میں منتقل کیا۔

وہ واحد خاتون تھیں جو عیدین کے موقع پر عورتوں کو نماز پڑھاتیں، اور اسی کے ذریعے خواتین میں عبادت کے شعور کو بڑھاتی تھیں۔ حفظنی دادی خواتین کو نماز، مسائلِ شرعی، سورہ تراویح اور دیگر دینی امور میں رہنمائی فراہم کرتی تھیں۔ ان کی تعلیم و تربیت میں صرف عبادات ہی نہیں بلکہ عورتوں کی زندگی کے دیگر پہلو بھی شامل تھے، جیسے پردہ، محرم و غیر محرم سے سلوک، اور معاشرتی آداب۔

حفظنی دادی نے خواتین میں دینی بیداری اور شعور کی نمائندگی کی۔ وہ عورتوں کے لیے ایک روشن مثال تھیں کہ کس طرح محدود علم کے باوجود عمل اور رہنمائی کے ذریعے معاشرے میں مثبت اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ ان کی کوششوں کی وجہ سے کئی خواتین نے نماز اور دینی فرائض میں دلچسپی پیدا کی اور اپنے اخلاق و کردار کو بہتر بنایا۔

اگرچہ وہ کسی بڑی علمی تعلیم کی حامل نہیں تھیں، لیکن ان کے علم کی قدروقیمت اور اثر اس سے کہیں زیادہ تھی، کیونکہ انہوں نے عملی زندگی میں خواتین کی رہنمائی کے لیے اپنا وقت اور توانائی صرف کی۔ ان کی سادگی، خلوص اور خدمتِ خلق کی محبت نے انہیں ایک محترم اور یادگار شخصیت بنا دیا۔

نتیجہ:
حفظنی دادی زوجہ محمد ودود صاحب کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم کی مقدار سے زیادہ اس کے عملی استعمال اور دوسروں کی بھلائی کے لیے اسے بروئے کار لانا اہم ہے۔ وہ عورتوں میں دینی شعور، عبادت کی پابندی اور معاشرتی اخلاق کی بیداری کی علامت تھیں، اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

——————————————–

38. انو ٹھا خاتون زوجہ محمد واعظ

اعلیٰ اخلاق اور خدمتِ خلق کی مثال

انو ٹھا خاتون زوجہ محمد واعظ اپنی اعلیٰ اور عمدہ اخلاقیات کے لیے مشہور تھیں۔ وہ کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتیں اور ہمیشہ دفاعی، متوازن اور نرم مزاج رویہ اختیار کرتی تھیں۔ خودغرضی، غرور اور تکبر ان کی زندگی سے دور تھے، اور یہی خصوصیات انہیں سماج میں ایک منفرد مقام عطا کرتی تھیں۔

انو ٹھا خاتون اپنے شوہر کے ساتھ وفادار اور فرمانبردار تھیں اور اپنے خاندان کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم اور اخلاقی تربیت میں بھرپور توجہ دی، جس کی وجہ سے ان کے خاندان کے افراد نہ صرف علم و عمل میں مضبوط ہوئے بلکہ اخلاق و کردار میں بھی نمایاں ہوئے۔

سماج میں ان کی شخصیت کی سب سے بڑی پہچان ان کی ملنساری اور محبت بھرا رویہ تھا۔ لوگ انہیں عزت اور محبت کی نظر سے “دادی” کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ خواتین ہمیشہ ان سے ملاقات کے لیے آتیں کیونکہ ان کی شخصیت میں ایک قدرتی کشش اور دوستانہ رویہ موجود تھا۔ اگرچہ ان کے پاس رسمی علم یا تعلیم کا فقدان تھا، لیکن ان کی عملی بصیرت اور محبت نے انہیں لوگوں کے لیے ایک مضبوط حامی اور رہنما بنا دیا۔

انو ٹھا خاتون کی زندگی اپنے اخلاق، عمل اور خلوص کے ذریعے ایک مثال بنی، جو ہر کسی کے لیے سبق آموز ہے کہ علم کی کمی کے باوجود اعلیٰ اخلاق، محبت اور خاندان کی تربیت معاشرے میں گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

انو ٹھا خاتون 1944 میں پیدا ہوئیں اور 09 جون 2024 کو وفات پا گئیں۔ ان کی زندگی اور کردار سماج کے لیے ایک روشن مثال اور یادگار حیثیت رکھتا ہے، جسے لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

——————————————–
39. دیوی
علم، شعور اور حوصلے کی علامت

دیوی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کی پہچان علم، تخلیق اور سماجی شعور سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک تحریک اور ایک امید کا نام ہیں، خاص طور پر ان طبقات کے لیے جو پسماندگی، محرومی اور جدوجہد کی زندگی سے گزر رہے ہیں۔

دیوی علمی مزاج رکھتی ہیں۔ علم کے ساتھ ساتھ ان میں تخلیقی صلاحیت بھی بدرجۂ اتم موجود ہے، جس کے ذریعے وہ مسائل کو سمجھنے، بیان کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا تخلیقی ذہن انہیں عام لوگوں سے ممتاز کرتا ہے اور یہی تخلیق ان کی سوچ کو وسعت اور گہرائی عطا کرتی ہے۔

سماجی شعور دیوی کی شخصیت کا نمایاں وصف ہے۔ وہ سماج کے مسائل، ناانصافیوں اور کمزوریوں کو نہ صرف محسوس کرتی ہیں بلکہ ان پر سنجیدگی سے غور بھی کرتی ہیں۔ سیاسی علم اور حالاتِ حاضرہ کی سمجھ انہیں ایک باخبر اور باشعور فرد بناتی ہے، جو جذبات کے بجائے فہم اور دلیل سے بات کرتی ہیں۔

دیوی ایک اُستانی (معلمہ) بھی ہیں، لیکن ان کی تعلیم محض نصابی نہیں بلکہ فکری اور عملی ہے۔ وہ لوگوں کو سوچنے، سوال کرنے اور اپنے حق کے لیے کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ایک محرک کا کردار ادا کرتی ہیں، جو خاص طور پر پچھڑے اور دبے ہوئے طبقات میں بیداری پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

محنت کش ہونا ان کی فطرت میں شامل ہے۔ وہ آسان راستوں کے بجائے جدوجہد اور محنت پر یقین رکھتی ہیں۔ زندگی کے چیلنجز نے انہیں کمزور کرنے کے بجائے بہادر بنایا ہے۔ ان کی بہادری شور میں نہیں بلکہ ثابت قدمی، صبر اور مسلسل کوشش میں نظر آتی ہے۔

نتیجہ:
دیوی ایک ایسی مثال ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ علم، شعور، محنت اور بہادری اگر ایک شخصیت میں جمع ہو جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ پورے سماج پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ وہ ایک استاد، ایک محرک اور ایک باوقار سماجی کردار کی حیثیت سے قابلِ احترام اور قابلِ تقلید ہیں۔

——————————————-
40. محمد مہدی جان — گنور کی سادگی اور صبر کی علامت

محمد مہدی جان گنور کے معمر اور باوقار افراد میں شمار ہوتے تھے۔ تقریباً ایک سو دس برس کی طویل عمر پانے والے محمد مہدی جان نہایت شریف، نیک دل اور سادہ طبیعت انسان تھے۔ ان کی زندگی میں کوئی بناوٹ یا چھل بل نہ تھا؛ سچائی، خاموشی اور وقار ان کی پہچان تھی۔

وہ پیشے کے اعتبار سے کسان تھے اور مٹی سے ان کا رشتہ محنت اور دیانت پر قائم تھا۔ سادہ رہن سہن، حلال کمائی اور صاف دل ان کی زندگی کا سرمایہ تھا۔ اگرچہ وہ رسمی تعلیم سے محروم تھے اور بعض لوگ انہیں جاہل کہتے تھے، مگر تجربے، فہم اور عملی دانائی میں وہ بہتوں سے آگے تھے۔

انہوں نے اپنی جوانی میں جنگِ آزادی کے حالات دیکھے اور انگریزوں کے ظلم و جبر کو قریب سے محسوس کیا۔ دیہات کی محرومیاں، کسانوں کی مشکلات اور غلامی کے دن ان کی یادوں میں محفوظ تھے۔

تقریباً ایک صدی سے زائد عمر گزار کر ان کا انتقال ہوا، مگر وہ اپنے پیچھے سادگی، صبر اور کردار کی ایک روشن مثال چھوڑ گئے۔ محمد مہدی جان جیسے لوگ تاریخ میں کم نظر آتے ہیں، مگر معاشرے کی بنیاد انہی خاموش کرداروں پر قائم ہوتی ہے۔

28. Usmani Recomendations

**عثمانی سفارشات**

(گاؤں گنور کی سماجی، سیاسی اور فلاحی تعمیرِ نو کے لیے رہنما نکات)**

1. سیاسی شعور کی مضبوطی
گاؤں کے دونوں حصّوں میں سیاسی بیداری کو مزید فروغ دیا جائے۔ نوجوانوں کے لیے سیاسی آگاہی کی تربیتی نشستیں منعقد کی جائیں تاکہ ووٹ کی اہمیت، جمہوری عمل اور سیاسی ذمہ داریوں کی بہتر سمجھ پیدا ہو سکے۔

2. علمی و ادبی مجالس کا قیام
گنور کے علمی مزاج کو مضبوط رکھنے کے لیے سالانہ علمی سیمینار، مباحثے اور ادبی نشستیں منعقد کی جائیں۔ اس سے نئی نسل میں علم دوستی اور سماجی فہم پروان چڑھے گی۔

3. طبّی سہولیات کا فوری قیام
گاؤں کے لیے کم از کم ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر کا قیام ناگزیر ہے۔ مقامی معززین، سرکاری نمائندوں اور غیر سرکاری تنظیموں سے رابطہ کر کے بنیادی صحت مراکز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

4. فوری ایمبولینس سروس کا انتظام
گاؤں میں کسی ایک مقام پر کمیونٹی ایمبولینس رکھی جائے تاکہ ایمرجنسی میں مریضوں کو مدھوبنی، دربھنگہ یا سمری تک جلد پہنچایا جا سکے۔

5. تعلیم اور جدید تربیت کا انتظام
نئی نسل کو جدید تعلیم، کمپیوٹر تربیت اور ہنر مندی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ گاؤں میں اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

6. سڑک و انفراسٹرکچر کی بہتری
دونوں حصّوں کو جوڑنے والی سڑکوں کی مرمت اور توسیع کی جائے تاکہ معاشی، تعلیمی اور سماجی رابطے آسان ہوں۔

7. سماجی رابطے اور وحدت کا فروغ
گاؤں کے مشرقی اور مغربی حصّوں کے درمیان رابطہ بڑھانے کے لیے مشترکہ پروگرام، کھیلوں کے ٹورنامنٹس، اور تہذیبی تقریبات منعقد کی جائیں تاکہ باہمی اعتماد اور سماجی ہم آہنگی میں اضافہ ہو۔

8. بزرگوں کی دانش سے فائدہ
گاؤں کے معمر اور تجربہ کار بزرگوں پر مشتمل شورائی کونسل تشکیل دی جائے تاکہ گاؤ ں کے اجتماعی فیصلے دانش مندی کے ساتھ کیے جا سکیں۔

9. نوجوان قیادت کی سرپرستی
گاؤں کی ترقی میں نوجوانوں کی دلچسپی اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے یووا رہنمائی پروگرام شروع کیے جائیں۔ اس سے مستقبل کی قیادت مضبوط اور منظم ہو گی۔

10. فلاحی و سماجی خدمات کا مستقل نظام
کمزور خاندانوں، بیواؤں، مریضوں اور غریب طلبہ کے لیے ایک کمیونٹی ویلفیئر فنڈ قائم کیا جائے تاکہ مشکل وقت میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔

——————————————-
29. Concluding Remarks
اختتامی کلمات

### اختتامیہ ###

کتاب "رکھ” دراصل وقت کی اُس راکھ میں دبے ہوئے نشانات کی تلاش ہے جہاں گاؤں، زبان، تہذیب اور انسان ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں۔ یہ اختتام اس معنی میں خاتمہ نہیں، بلکہ ایک توقف ہے—ایسا وقفہ جہاں قاری ماضی کے عکس اور حال کی ذمہ داری کے درمیان خود کو کھڑا پاتا ہے۔ اس کتاب میں گنور کی تہذیبی، لسانی اور سماجی صورتِ حال کو جس دیانت اور توازن کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ اسی احساسِ ذمہ داری کا تسلسل ہے۔

یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس مطالعے میں پیش کیے گئے بیانات، تجزیات اور نتائج دستیاب تاریخی مواد، مقامی روایت، بزرگوں کی زبانی معلومات اور مصنف کے فہم پر مبنی ہیں۔ اگر کہیں کوئی سطر، کوئی تعبیر یا کوئی تاثر کسی فرد، طبقے یا روایت کے لیے ناگوار محسوس ہو تو اسے نیت کی لغزش پر نہیں بلکہ فہم کی حد پر محمول کیا جائے۔ مصنف پیشگی طور پر ایسی تمام کوتاہیوں پر معذرت خواہ ہے اور اصلاح و تکمیل کو تحقیق کا حسن سمجھتا ہے۔

مصنف اُن تمام اہلِ گنور—مشرق اور مغرب—کا تہِ دل سے شکر گزار ہے جن کے مشاہدات، یادداشتوں اور غیر محسوس تعاون کے بغیر یہ کتاب ممکن نہ تھی۔ اساتذہ، اہلِ علم، دوستوں اور ناقدین کی رہنمائی و حوصلہ افزائی بھی اس کام کا سرمایہ رہی۔

یہ کتاب گنور کے باسیوں کے نام ہے—ان کے لیے بھی جو یادوں کے امین ہیں اور ان کے لیے بھی جو مستقبل کے وارث۔ اگر "رکھ” نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے، زبانوں کے احترام اور تہذیبی ہم آہنگی کے شعور کو مضبوط کرنے میں معمولی سا بھی حصہ ڈال سکے تو یہی اس کا حاصل ہے۔

محمد نوشاد عثمانی

——————————————-
30. Advices , Remarks & Views

** نصائح. مشورے . تبصرات . آراء **

صحافت عثمانی

محمد نوشاد عثمانی — صحافت کا روشن چہرہ اور گنور کی پہچان

سن 2010 وہ سال تھا جب دہلی کے صحافتی افق پر ایک ایسی شخصیت نے قدم رکھا جس نے نہ صرف اپنی محنت، بصیرت اور جدت طرازی سے میڈیا میں ایک منفرد مقام حاصل کیا، بلکہ اپنے آبائی علاقے گنور کا نام بھی ملک بھر میں روشن کیا۔ یہ شخصیت ہے محمد نوشاد عثمانی—ایک باوقار، سنجیدہ اور معیاری صحافی، جنہوں نے اپنے علم اور صلاحیتوں سے صحافت کو نئی جہت عطا کی۔

محمد نوشاد عثمانی نے دہلی سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور کم وقت میں اپنی قابلیت کے باعث میڈیا کے ممتاز ادارے اسٹار نیوز میں چیف ایڈیٹر اور ایگزیکیٹیو آفیسر کے منصب تک پہنچے۔ یہ عہدہ ان کی مہارت اور پیشہ ورانہ عملداری کا واضح اعتراف تھا۔ خبر کی نزاکت کو سمجھنا، اس کی تہہ تک پہنچنا اور اسے مؤثر انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنا—یہ وہ خصوصیات ہیں جنہوں نے انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کیا۔

لائیو نیوز — اعتماد اور جرأت کا عملی نمونہ

لائیو نشریات کسی بھی صحافی کی اصل آزمائش ہوتی ہے، جہاں لمحوں میں فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔
محمد نوشاد عثمانی نے براہِ راست خبریں پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ مضبوط اعصاب، فکرانگیز انداز اور اعلیٰ لہجے کے مالک ہیں۔
ان کی پیشکش نے ناظرین کو حیران بھی کیا اور متاثر بھی۔

انٹرویوز — تحقیق اور فہم کا آئینہ

انہوں نے مختلف موضوعات پر بے شمار انٹرویوز کیے، جو نہ صرف نشر ہوئے بلکہ کئی حلقوں میں حوالہ بنے۔
ان کے سوالات میں سنجیدگی، موضوع فہمی اور تحقیق کا شائبہ نمایاں رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے پروگرام ہمیشہ معلوماتی اور فکری طور پر مضبوط رہے۔

علمی بصیرت — ہندوستانی مسائل پر گہری نظر

ہندستان کے سماجی، سیاسی، معاشی اور عوامی مسائل پر ان کی نگاہ نہایت باریک اور گہری ہے۔
عالمی حالات اور ملکی پالیسیوں کا اثر کیسے پڑتا ہے، اس پر ان کی گرفت پختہ ہے۔
ان کی تحریریں اور رپورٹنگ علمی ٹھہراؤ اور فہم کی گہرائی رکھتی ہیں—جو انہیں ایک باوقار تجزیہ کار بناتی ہیں۔

پروڈکشن — مہارت اور پیشہ ورانہ کمال

پروڈکشن کے میدان میں بھی وہ اپنی مثال آپ ہیں۔
ان کے تیار کردہ پروگراموں میں معیار، ترتیب، آواز، بیک گراؤنڈ، فوٹیج کا انتخاب اور مواد کی پیشکش—سب میں اعلیٰ مہارت جھلکتی ہے۔
اسی وجہ سے انہیں بہترین پروڈیوسر کے طور پر بھی سراہا جاتا ہے۔

گنور کا نام فخر سے بلند کیا

محمد نوشاد عثمانی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کامیابیوں میں اپنے علاقے گنور کو ہمیشہ ساتھ رکھا۔
دہلی جیسے بڑے میڈیا مرکز میں نمایاں مقام حاصل کر کے انہوں نے ثابت کیا کہ گنور کی علمی مٹی ہمیشہ باصلاحیت افراد کو جنم دیتی ہے۔
ان کی کامیابیاں نہ صرف ان کی ذاتی شان ہیں بلکہ گنور کے ہر باشندے کے لیے باعثِ فخر حقیقت ہے۔

اعزازی ڈاکٹریٹ — خدمات کا باضابطہ اعتراف

سال 2024 میں انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔
یہ اعزاز اُن کی علمی کاوشوں، صحافتی خدمات، فکری بالغ نظری اور مسلسل جدوجہد کا پختہ ثبوت ہے۔
ایسا اعزاز ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتا—یہ صرف ان ہی باصلاحیت لوگوں کو ملتا ہے جو اپنی محنت اور خدمت سے معاشرے کو کچھ لوٹاتے ہیں۔

اختتامیہ

محمد نوشاد عثمانی کی شخصیت معلومات، تجربہ، صلاحیت اور اعلیٰ پیشہ ورانہ اخلاق کا حسین مجموعہ ہے۔
انہوں نے صحافت میں وہ معیار مقرر کیے جو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
ان کا سفر ایک ایسی مثال ہے جو ثابت کرتی ہے کہ اگر انسان میں محنت، لگن، علم اور سچائی ہو تو وہ کہیں سے بھی اٹھ کر پورے ملک میں اپنی پہچان چھوڑ سکتا ہے۔

محمد رہبر

——————————————-

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button