مضامین و مقالات

سلام کے نام پر یہ کس کے مجاہد ہیں

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

آسٹریلیائی شہر سٹڈنی کے مشرق میں واقع مشہور بونڈی بیچ پر 14 دسمبر 2025 کو بدنام زمانہ داعش’’ دولت اسلامی فی عراق والشام‘‘ کے دو مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک درجن سے زائد بے قصور افراد کو قتل کر دیا اور تقریبا دو درجن کو شدید زخمی کر دیا ۔تمام متاثرین سمندر کے کنارے یہودی تہوار ’’ہانوکا ‘‘منانے کے لیے اکٹھا ہوئے تھے۔ چنانچہ یہ سبھی یہودی تھے ۔اس انسانیت سوز واقع کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ساتھ ہی اس موقع پر کمال جرات کا مظاہرہ کرنے والے شامی مہاجر احمد الاحمد کی بہادری کا بھی چرچا رہا ۔ احمد نے بڑی جواں مردی کے ساتھ بندو ق برداروں کے ہاتھ سے بندوق چھین کر سینکڑوں دیگر لوگوں کی جان بچائی۔ اس سے قبل گزشتہ برس پہلگام حملے میں بھی یہ دیکھنے کو ملا تھا کہ حملہ آور بھی مسلمان تھے اور بچانے والے بھی مسلمان تھے گویا مسلمانوں میں دو قسم کے عناصر ایک ساتھ منظر عام پر آئے ،اسلاموفوبیا کی 40 سالہ تاریخ میں اتنے واضح طور پر یہ دونوں تصورات ایک ساتھ پہلی بار سامنے آئے ہیں۔ قاتل ساجد اکرم)50 (اور اس کا بیٹا نوید اکرم) 24 (پر 59 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ساجد کو موقع پر ہی آسٹریلیائی پولیس نے ڈھیر کر دیا ،جبکہ نوید کو زخمی حالت میں ہسپتال میں رکھا گیا تھا جو اب ہوش میں ا ٓچکا ہے اور پولیس اس سے مزید تفتیش کر رہی ہے ۔ابتدائی تفتیش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں آئی ایس آئی ایس یعنی داعش سے متاثر تھے ۔اس وجہ سے اس دردناک واقعے نے جہاں ایک مرتبہ پھر اسلاموفوبیا پر نئے سرے سے بحث چھیڑ دی وہیں صیہونی تنازعہ کو بھی اس واقعے کا منظر پس منظر قرار دیا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا دنیا کے جنوب مشرقی حصے میں واقع سب سے چھوٹا اور ساتواں براعظم ہے اس کی آبادی محض پونے تین کروڑ ہے۔ چاروں طرف سمندر سے گھرے اس ملک کا رقبہ بہت زیادہ ہے، اس لیے دنیا بھر کے لوگ وہاں جا کر آباد ہوتے ہیں اسی لئے وہاں بہت سے مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والے لوگ امن سےرہتے ہیں ،اس ملک کی حکومت بھی اپنے ہاں مزید ابٓادی بڑھانا چاہتی ہے ، مذہبی اعتبار سے زیادہ تر عیسائی ہیں ، لیکن گزشتہ 50 سال میں وہاں اسلام بھی تیزی سے پھیلا ہے جس کے نتیجے میں وہاں مسلم دوسرے نمبر پر تقریبا 18 لاکھ ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک سے وہاں آکر بسے ہیں ،خصوصا 2011 میں بہار عرب کے بعد سے شامی مہاجرین وہاں بڑی تعداد میں بسے ہیں ۔یہاں یہودیوں کی ابٓادی بھی سوا لاکھ کے قریب ہے جو اسرائیل کے باہر دنیا کی تیسری سب سے بڑی یہودی آبادی ہے۔قابل غور ہے کہ آسٹریلیائی حکومت نے گزشتہ دنوں فلسطین کو بلا تاخیر ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا اور فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم کو روکنے کی حمایت کی تھی ۔گذشتہ دو سال سے یورپی ممالک کی جانب سے بھی یہ مطالبہ شدت اختیار کرتا رہا ہے۔ ان ممالک کے عوام بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر آکر اپنی حکومتوں کو مجبور کرتے رہے ہیں کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ سرکاری طور پر کریں۔ اقوام متحدہ بھی اب اس مطالبے کو لے کر سخت دباؤ میں ہے ۔ادھر عالمی عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دے دیا ہے جس کے تحت ایسے ممالک جو پہلے ان کے دوست تھے اب وہاں بھی ان کا جانا آنا مشکل ہو گیا ہے ،جنگی مجرم کی حیثیت سے کسی بھی ملک کی حکومت انہیں اپنی سرزمین پر گرفتار کر سکتی ہے ۔خود اسرائیلی بھی سات اکتوبر 2023 کے بعد دنیا کے نقشے پر تنہا ہوتا جا رہا ہے جس سے اس کو اقتصادی اور سفارتی دونوں سطح پر نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، اس پس منظر میں مذکورہ حملے میں بے گناہ یہودیوں کے قتل نے ذاتی طور پر نتن یاہو اور قومی سطح پر اسرائیل کے ہاتھوں میں بہت سے جواز تھما دیے ہیں، اور اب وہ ساری دنیا میں یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ سات اکتوبر کے بعد یہود دشمنی کے واقعات میں عالمی سطح پر تیزی سے اضافہ ہوا ہے حالانکہ دنیا کے کئی اداروں نے اس دعوے کی تردید کی ہے کیونکہ اسرائیل جسے یہود دشمنی کہہ رہا ہے وہ دراصل اسرائیلی مظالم کے خلاف عوامی رد عمل ہے ۔

ادھر داعش جیسی تنظیموں کی پشت پر کار فرما عوامل کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عراق میں 2003 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذریعے صدام حسین کی حکومت کے بعد پیدا ہوئے سیاسی عدم استحکام اور خانہ جنگی کے نتیجے میں بہت سے مسلح گروہ پیدا ہو گئے تھے ان میں سے ایک داعش تھا جو مختلف اوقات میں مختلف ناموں سے تشدد بپا کرتا رہا ،پہلے ابو عمر بغدادی کی قیادت میں سرگرم رہا ،لیکن 2014 میں ابوبکر بغدادی کے قیادت سنبھالنے کے بعد باقاعدہ خلافت کے اعلان نےساری دنیا کو حیران کر اور مضطرب کر دیا ،ابتدا عوامی طور پر مسلمانوں میں خلافت کے نام پر ان سے کچھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا گیا ،لیکن دنیا کی تقریبا تمام مسلم حکومتوں ،معتبر عالمی مسلم تنظیموں ،اداروں نے خلافت کے اس اعلان کو مطلقا خارج کر دیا ۔ان کی ظالمانہ حرکتوں نے مسلم عوام پر بھی جلد ہی یہ ظاہر کر دیا کہ یہ گروپ اسلام کا ہمدرد نہیں بلکہ دشمن ہے ۔2011 کی بہار عرب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بغدادی نے عراق اور اس سے ملحق کچھ شامی علاقوں پر قبضہ کر لیا ،لیکن دو سال کے عرصے میں ہی ان کو وہ علاقے خالی کرنے پڑے، اس دوران ان لوگوں نے بڑے پیمانے پر عراقی تیل کو لوٹا، اس تیل کے خریداروں میں دنیا کے تمام بڑے بڑے ممالک شریک تھے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ آئی اور تیل کا بازار آج تک مستحکم نہیں ہو سکا ۔وہیں دوسری جانب عراق اور شام میں اسلامی آثار پر حملے کرکےان کو برباد کیا، اسلامی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کی گئی، ان دونوں ممالک کے میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کو چوری کرکےغیر ممالک کو بیچ دیا گیا،مقامی عوام کا بھی زبردست قتل عام کیا گیا۔ دنیا کے متعدد تھنک ٹینک اپنی تحقیقات میں بتاتے ہیں کہ یہ دنیا کی سب سے مالدار دہشت گرد تنظیم ہے جس کے پاس 2014 سے 2016 تک تقریبا دو بلین ڈالر کا سرمایہ تھا۔ا ن کے ہتھیار یورپ ،چین اور روسی ساخت کے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ ہتھیار عراق کے اسلحہ خانوں سے چرائے تھے، لیکن قابل غور یہ ہے کہ صدام حسین کے فورا بعد وہاں امریکہ اور اس کے حلیفوں کی حمایت والی سرکار قائم ہوئی تھی تو پھر ہتھیاروں کی یہ چوری کیسے ممکن ہوئی؟ داعش اصل میں کرائے کی فوج کی طرح کام کرتی ہے،جس میں اس زمانے میں تقریبا 30 ہزار جنگجو شامل تھے جن میں اکثر عراق کے سابق فوجی اور پولیس اہلکار شامل تھے ۔جنگجوؤں کے علاوہ دیگر کاموں کے لیے بھی تقریبا ایک لاکھ لوگ ان کے ساتھ تھے، جن کے اخراجات و ماہانہ تنخواہ کے لیے سرمایہ لوٹ مار، ڈاکہ زنی ا،تیل کی چوری کے علاوہ نقد آمدنی بھی شامل تھی ۔ دو سال میں تقریبا 60 ملین ڈالر ایک امریکی کمپنی سے ان کو ملنے کے ثبوت موجود ہیں، مگر حیرت یہ ہے کہ ان سرمایہ کاروں کی شناخت ہو جانے اور امریکہ میں ان پر مقدمہ چلنے کے باوجود کسی کو بھی آج تک کوئی سزا نہیں ملی۔ کہا جاتا ہے کہ داعش کے لڑاکوں کی تعداد اب گھٹ کر محض 10 ہزار رہ گئی ہے جن میں سے اکثر آج کل افریقی ممالک میں سرگرم ہیں ۔سوڈان کی خانہ جنگی میں یہی لوگ ملوث ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ ساری دنیا جو اس قزاق تنظیم کو متفقہ طور پر دہشت گرد تسلیم کر چکی ہے ،گزشتہ 11 سال میں ان مٹھی بھر مسلح لوگوں کو ختم کیوں نہیں کر سکیں، جو طاقتیں دو سال کے عرصے میں غزہ میں ایک لاکھ لوگوں کو شہید اور دو لاکھ سے زائد کو زخمی کر کے پورے غزہ کو ریت کے ڈھیر میں تبدیل کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیںوہ ان مٹھی بھر لوگوں کو ختم کیوں نہیں کر پا رہیں۔

ہر ایک تشدد اور قتل کی تحقیقات میں سب سے اہم سوال اس کے محرک اورمستفیذ ین کی شناخت کا ہوتا ہے۔ غور سے دیکھا جانا چاہیے کہ بوندی بیج پر حملے سے اسلام یا مسلمانوں کو کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ اور اگر اسلام کو نہیں تو پھرکسے ہو رہا ہے؟ سچ یہ ہے کہ القاعدہ ہو یا داعش یا ان جیسے ناموں والی دیگر متشدد تنظیمیں ،انہوں نے ہر اعتبارسے عالمی سطح پر اسلام کو بھی بدنام کیا اور مسلمانوں کو بھی حاشیے پر لا کھڑا کیا نیز مغربی طاقتوں کے اسلام مخالف پروپیگنڈے کو تقویت بخشی ہے۔

بوندی بیچ حملےکے فورا بعد جہاں ایک بار پھر مسلمانوں کو مدافعانہ رخ اختیار کرنا پڑا وہیں مغربی میڈیا میں اسرائیل کی حمایت میں مضامین کا طوفان امنڈ آیا۔ اس حملے کو براہ راست اسرائیل۔ فلسطین قضیے سے جوڑ دیا گیا ۔ابھی چند ماہ قبل ہی اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے آسٹریلیائی ہم منصب اینتھونی البانیز کو خط لکھ کے ان کی فلسطینی پالیسی پر شدید تنقید کی تھی ،اسی طرح دیگر یورپی ممالک فرانس ،کناڈا ،جرمنی ،برطانیہ وغیرہ جیسے ملک جو فلسطینی ریاست کے فوری قیام کا شدت سے مطالبہ کر رہے ہیں ان پر بھی تنقید کی تھی ۔عالمی مبصرین کی رائے ہے کہ آسٹریلیا کے بعد ان یورپی ممالک کو بھی اپنی خیر منانی چاہیے ،کیونکہ اسرائیلی لابی اس واقعے کو یہودی مخالف تشدد کی عالمی لہر سے تعبیر کر رہی ہے ، اس پردے میں دراصل ریاستی سطح پر اسرائیلی مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوشش اور اندرون ملک بدعنوانی کا مقدمہ جھیل رہے ،عالمی سطح پر جنگی مجرم قرار دیئے جانے کی اپنی فضیحت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ایک درجن مظلوموں کے خون ناحق کو اپنے جرائم کی پردہ پوشی کے لیے استعمال کرنا بجائے خود ایک غیر انسانی حرکت ہے ۔بہرحال مسلمانوں کو بھی بلا تردد یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ داعش اور ان جیسی دیگر تنظیموں کے قیام کا مقصد اسلام دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔ جسے اسلامو فوبیا کےفروغ کے لیے ایک موثر تیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ انہیں غذا کون فراہم کررہاہے ،آج ربع صدی بعد اس حمام میں سبھی برہنہ ہو چکے ہیں۔ خود کو مجاہد کہنے والے یہ سفاک بہروپئے دراصل غیر اسلام کی کٹھپتلیاں ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button