
مجلس کے پانچ ممبران کسی وقت بہار میں بادشاہ گر کا رول بھی انجام دے سکتے ہیں۔
انپی راے سے نوازیں۔
اویسی: شبہات سے توقعات تک
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
بہار اسمبلی نتائج کے بعد آل انڈیا مسلم مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب پر سیاسی تنقید کا طوفان امنڈ پڑا ۔ایک طرف تمام سیکولر سیاسی جماعتوں نے ان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے بہار میں پانچ سیٹوں پر ان کی فتح کو آڑے ہاتھوں لیا اور اپنی شرمناک شکست کے عوامل میں سے ایک ان کو بھی شریک کر لیا ،وہیں دوسری جانب مسلم دانشوران اور عوام کے ایک طبقے نے بھی ان کی سیاست کو مسلم ووٹ کی تقسیم کا ذمہ دار قرار دیا ۔ سیکولر سیاسی پارٹیوں کی بے چینی کی وجہ تو صاف ظاہر ہے کہ ان پارٹیوں کی ساری طاقت ہی مسلم ووٹ پر منحصر ہے۔ ایسے میں مسلم ووٹوں کی دعویدار کوئی بھی سیاسی طاقت مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو سارا نقصان سیکولر پارٹیوں کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ نیز کانگریس ، سماجوادی پارٹی راشٹریہ جنتا دل ،ترنمول کانگریس ،ڈی۔ ایم ۔کے وغیرہ جیسی پارٹیوں کے لیے اقتدار میں آنے کی رہی سہی گنجائش بھی ختم ہو جائے گی ، ان پارٹیوں کا وجود بھی بتدریج سمٹ جائے گا ۔ملک کی سیاست میں بھی ایک بڑا خلا پیدا ہو جائے گا ۔لیکن مسلم ووٹ کی اس اہمیت کو سمجھنے کے باوجود یہ پارٹیاں خود اپنے اندرونی نظام میں اور اقتدار میں بھی انہیں کوئی قرار واقعی متناسب شراکت داری دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ خود مسلمان بھی ان پارٹیوں کی اس حرکت سے سخت نالاں ہیں ،لیکن بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کی خواہش کے مدنظر بدل نخواستہ ان پارٹیوں کو ہی ووٹ دینے پر مجبور ہیں۔ ایک اضطراب کے عالم میں کوئی دیگر مضبوط سیکولر متبادل تلاش کرنا چاہتے ہیں جو سر دست موجود نہیں ہے۔ ایسے میں بی جے پی اپنی حکومتوں میں مسلمانوں کو مختلف ظالمانہ طریقوں سے نشانہ بنا کر خوفزدہ رکھتی ہے تو سیکولر پارٹیاں اسی ظلم سے نجات کا خواب دکھا کر خوفزدہ د رکھتی ہیں ۔گویا ہر جانب سے مسلمانوں کو خوفزدہ ہی رکھا جا رہا ہے۔ خوف کے اس ماحول سے باہر نکال کے ایک مثبت سمت دینے والا کوئی بھی متبادل ان سیکولر جماعتوں کے لیے تو سم قاتل کا درجہ رکھتا ہے۔
رہی بات مسلم دانشور ا ن اور ان سے متاثر عوام کی، تو ان میں سے کچھ تو وہی ہیں جو یا تو ان سےبراہ راست وابستہ ہیں یا ان سے ذاتی منفعت حاصل کرتے رہتے ہیں۔ ان جماعتوں کی ایما پر مسلمانوں کو ڈراتے رہتے ہیں ۔کچھ واقعی مخلص ہیں اور ایک منصفانہ ، سیکولر حصہ داری کے ذریعے سماج میں ایک باوقار مقام چاہتے ہیں ۔مگر یہ طبقہ زمینی حقائق سے واقف نہیں ہے محض سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوتا ہے۔ شش و پنج کی اس صورتحال میں کسی مثبت نتیجے تک پہنچنے کے لیے ایک زمینی انتخابی تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے اس کا کوئی بھی تکنیکی ،ماہرانہ انتظام مسلم اداروں اور تنظیموں کے پاس نہیں ہے ۔دوسروں کی تجزیے پر ہی اکتفاکر کے ہم اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں جو عموما غیر حقیقی ہوتی ہے ۔
غور سے دیکھیے تو اس میں کیا غلط ہے کہ مجلس کے پانچ نمائندے ایک آزادمسلم آواز کی حیثیت سے بہار اسمبلی میں موجود ہوں، بہرحال تقریبا دو فیصد ووٹ ان کے پاس بھی موجود ہے ،جبکہ این ڈی اے میں شامل کشواہا اور مانجھی جیسے لیڈروں کے پاس اس سے کم ووٹ ہونے کے باوجود بھی حکومت میں دو وزیر حاصل ہو گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی کو امید سے پانچ سیٹیں کم ملی ہیں، جس کی وجہ سے وہ نتیش کمار کے رحم و کرم پر ہے۔آج اگر نتیش کمار پلٹی مارنا چاہیں تو مہاگٹھ بندھن اور مجلس کے ساتھ مل کر آرام سے بی جے پی حکومت کو گرا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر بی جے پی اور مجلس کے مابین کوئی رسمی یا غیر رسمی مفاہمت ہو جاتی ہے تو نتیش کے بغیر بھی وہ اپنی حکومت جاری رکھ سکتی ہے۔ مجلس کی اس طاقت کو کنکھیوں سے ہر دو جانب سے دیکھا جا رہا ہے گو کہ زبان سے اس کا اعتراف کوئی بھی نہیں کر رہا ۔خود اویسی کو بھی اس کا بخوبی احساس ہے، اسی لیے انہوں نے نتائج آنے کے بعد دو مرتبہ مبہم اشاروں میں یہ بات کہی بھی ہے کہ وہ این ڈی اے کی حکومت کو اخلاقی بنیادوں پرمشروط حمایت دے سکتے ہیں بشرطیکہ حکومت سیمانچل کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں رکھے۔
واضح رہے کہ 1939 میں مغربی بنگال، سندھ اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا مخلوط صوبائی سرکاریں چلا چکی ہیں۔ اس وقت خودساور کر ہندو مہاسبھا کےصدر تھے اور شیاما پرساد مکرجی بنگال کی وزارت میں چودھری فضل الحق کے ساتھ شریک تھے۔ بعد ازآں یہی شیاما پرساد مکرجی آزادی کے بعد جواہر لال نہرو کی وزارت میں بھی وزیر صنعت تھے۔گویا آزادی سے پہلے بھی اور بعد میں بھی مسلم لیگ اور کانگریس دونوں ہی ہندو مہاسبھا کو اچھوت نہیں سمجھتے تھے۔ بی جے پی کی موجودہ قیادت جب بار بار ۸۰۔۲۰کی بات کرتی ہے تو اس کا ایک مطلب اسی جانب اشارہ بھی ہوتا ہے ۔ آزادی کے بعد بھی 2012 میں ناگپور اور ممبئی میونسپل کارپوریشن پر قبضہ کرنے کے لیے بھی بی جے پی نے باضابطہ مسلم لیگی ممبران کی مدد حاصل کی تھی۔ یہی کوشش ۲۰۱۸ میں بنگلور میونسپل کارپوریشن میں بھی کی گئی تھی۔
موجودہ حالات مستقبل میں ایک بڑے سیاسی خلا کی جانب اشارہ کر رہے ہیں ۔بی جے پی کے سوا ملک میں کوئی بھی قابل ذکر قومی سیاسی متبادل موجود نہیں ہے جو اصولی اورنظریات پر مبنی زمینی سیاست کرتا ہو۔ برادری کےکنبوں پر مبنی یا پھر صوبائی جذبات کی سیاست کی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے اس بے اصولی سیاست کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ جلدیا بدیر یہ برادریاں خود پر حاکم ان کنبوں کے دام فریب سے باہر آجائیں گی اور کسی نئے متبادل کی متلاشی ہوںگی جو اگر نہیں ملا تو مجبورا اسی بے دلی کے ساتھ بی جے پی کی طرف پلٹیں گی جس طرح آج مسلمان بے دلی کے ساتھ سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ ایسا ابھی سے ہو بھی رہا ہے ۔یو پی بہار کا یادو بی جے پی کی طرف بتدریج شفٹ ہو رہا ہے، بنگال کا ایک بڑا ووٹ بھی ادھر جا چکا ہے ۔ادھر قبائلی قیادت بھی منظم ہونے لگی ہے تریپورہ ،ا ٓسام گجرات، اڑیسہ،راجستھان ،مدھیہ پردیش میں قبائلی پارٹیاں کھڑی ہو چکی ہیں ان میں سے اکثر بی جے پی کے ساتھ ہیں ،ان کی قیادتیں بھی اگر کنبہ پروررہیں تو یہ سب بھی بغیر قیادت کے بی جے پی کی طرف ہی چلے جائیں گے۔
بی جے پی بھی اس سیاسی صورتحال کو بخوبی سمجھتی ہے بلکہ اکثر مقامات پر یہ صورتحال خود اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ملک میں اقلییں ،پسماندہ طبقات ،قبائلیوں کی مشترکہ تعداد نصف سے زیادہ ہے۔ مستقبل میں سامنے آنے والےمذکورہ سیاسی خلا کو ان طبقات کی مشترکہ قیادت کے ذریعے ہی پر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیےقیادت کو ابھی سے کھڑا کرنا پڑے گا ۔بلا شبہ اسد الدین اویسی ایک ذہین ،زیرک ،تعلیم یافتہ ،دور اندیش ہیں اورضروری وسائل رکھتے ہیں۔ ملک کے چند قابل قبل سیاسی اذہان میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ ان کی سیاسی صلاحیتوں اور سوجھ بوجھ کے معترف خود ان کے مخالفین بھی ہیں، اس تمام صورتحال کو یقینا وہ بھی سمجھتے ہوں گے ۔غالبا اسی لیے ان کی پارٹی کا نعرہ جے بھیم، جے میم ہے۔ 2020 کے بہار اسمبلی انتخابات میں بھی اسی لیے وہ پی ایس پی کے ساتھ مل کر انتخاب لڑے تھے اور اس بار بھی وہ ساتھ تھے ۔سننے میں ا ٓرہا ہے کہ اتر پردیش میں آئندہ ہونے والے انتخابات میں بھی اس قسم کا کوئی اتحاد متوقع ہے۔ دلت مسلم ووٹ کی متحدہ طاقت اور اہمیت سے کسی کو کوئی انکار نہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ دلتوں نے شمالی اور جنوبی ہند میں الگ الگ اپنی سیاسی شناخت اور طاقت قائم کر لی ہے، جبکہ مسلمان کسی قیادت یا جماعت کے بغیر ہجوم کی طرح ان کے پیچھےچل پڑا ،اسی لیے دلت قیادت نے بھی دوسری دیگر جماعتوں کی طرح مسلمانوں کو محض ووٹ بینک سمجھ کر استعمال تو کیا مگر کوئی باوقارنمائندگی کبھی نہیں دی ۔نتیجے بھی شمالی ہند خصوصا اتر پردیش میں یہ تجربہ ناکام ہو گیا سیاسی مفکرین کا ماننا ہے کہ یہ تجربہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے کہ جب دونوں سماج اپنی اپنی جماعت اور اپنی قیادت کے ذریعے میز پر بیٹھ کر اتحاد کا فارمولہ اور اقتدار میں شراکت کے اصول طے کریں ۔اور پھر ان اصولوں کے ساتھ متحد ہوں۔ اویسی غالبا اسی راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تجربہ اگر کامیاب ہوتا ہے تو دیگر مذہبی ،سماجی قبائلی اور پسماندہ طبقات بھی یکے بعد دیگرے اس میں شامل ہو سکتے ہیں، نہیں بھی ہوں تو سب کے پاس قومی سطح پر ایک متبادل تو ہوگا ہی ۔ خودبی جے پی کے پاس بھی مجبورا اس متبادل کو مرکزی اور سیاسی سطح پر زیر غور رکھنا پڑے گا ۔
اویسی صاحب کی تمام صلاحیتوں کے باوجود مسئلہ یہ ہے یہ خود ان کی پارٹی کسی داخلی جمہوریت سے عاری ایک داد الہی پارٹی ہے۔ تلنگانہ میں چھوٹا بھائی اور مرکز میں بڑا بھائی۔ یہ کنبہ پروری خود ان کے مستقبل کے لیے سخت مضر ہے ۔وہ اگر حقیقت میں مسلمانوں کے بلکہ ملک بھرکے محروم طبقات کے قائد بننا چاہتے ہیں تو اس کا موقع بھی ہے ،ان کی صلاحیت بھی ہے ،ان کا حق بھی ہے نیز یہ ملک کی ضرورت بھی ہے ۔لیکن داخلی جمہوریت اختیار کیے بغیر یہ ممکن نہیں ہے ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ملک گیر پیمانےپر ان کو ریاستی اور ضلعی سیاسی سطح پر موجود سیاسی اذہان کو اپنے ساتھ جو ڑناچاہیے ۔خود امت میں اور مذکورہ محروم طبقات میں اس قسم کے باصلاحیت سیاسی لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے ۔اس قیادت کے ذریعے زمینی سطح پر پارٹی کو منظم کیے بغیر وہ ملک گیر قیادت کا تصور نہیں کر سکتے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ملی اور ملکی مسائل پر محض ان کے بیانات کافی نہیں ہیں، بلکہ مختلف معاملات پر سڑک پر ایک منظم تحریک کی بھی ضرورت ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ تمام محروم طبقات کی جماعتوں اور قیادتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جانا چاہئیے اور تمام زمینی تحریکات میں ان قائدین کو شریک کیا جانا چاہئیے۔یہ سب باتیں یقینا اویسی صاحب بھی جانتے ہوں گے لیکن اس پر عمل آوری کے لیے ان کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں یہ تو وہ خود ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔بہرحال یہ حکمت عملی ملک کو حقیقی معنوں میں ایک سیکولر جمہوری متبادل بھی فراہم کر سکتی ہے اور قومی سطح پر ایک قابل، معاملہ فہم قائد بھی۔ کیونکہ مسلمانوں میں تو سر دست ایسی کوئی دوسری سیاسی شخصیت موجود نہیں ہے۔ لہذا اگر اویسی صاحب جرات مند،جمہوری قائد کی حیثیت میں سامنے آتے ہیں تو ان کی قیادت کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی صورت میں بی جے پی کو حریف بھی مل سکتا اور حلیف بھی۔


