مضامین و مقالات

وندے ماترم: تاریخ، ترویج، تنازعہ

از: ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

سات نومبر 2025 کو دلی کے اندراگاندھی اسٹیڈیم میں وزیراعظم نر یندرمودی نے ملک کے قومی گیت (قومی ترانہ نہیں) کی ڈیڑ سو سالہ تقریبات کا افتتاح کرتے ہوئے اسے ملک میں جنگ آزادی کی تاریخ اورحب الوطنی کے اظہار کا موثر ترین گیت قرار دیا۔اورا س سلسلے میں لمبی گفتگو کی۔ یہ ڈیڑھ سو سال کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ سرکاری سطح پراس گیت کی یادگار منائی جا رہی ہے۔ قومی سطح پر 14 نومبر تک اس سلسلے میں ملک گیر سطح پر بہت سے پروگرام منعقد ہوں گے۔ نیز پورے سال اس یادگار کو منایا جاتا رہے گا۔ حکومت ہند نے اس تعلق سےکچھ مخصوص ویب سائٹ بھی تیار کیے ہیں جن پر اس کے تاریخی منظر نامے پر بہت سا مواد اکٹھا کیا گیا ہے، اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔لیکن حکومت کی کسی بھی سوشل سائٹ پر اس سے متعلق تنازع کے سلسلے میں کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ البتہ قومی میڈیا میں بہت کچھ کہا گیا ہے اور آئندہ دنوں بھی بہت کچھ کہا جاتا رہے گا۔ ہر چند کہ ملک کی ہمہ جہت ترقی اور بہبود کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک کے اقتصادی، تنظیمی مستقبل سے بھی اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے، لیکن ایک سیاسی بیانیہ قائم کر کے ملک میں نظریاتی تبدیلی پیدا کرنے کی دانستہ کوشش ضرور کی جا رہی ہے۔ اس بحث کے بے وقت اور غیر ضروری ہونے کی وجہ سے گو کہ اس بحث کواہمیت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے پھر بھی چونکہ خود ملک کے وزیراعظم نے یہ بحث چھیڑی ہے اس لیے اس میں حصہ لینا مجبوری ہو جاتا ہے۔
وندے ماترم کے نام سے ایک طویل نظم سنسکرت زبان میں 1876 میں بکنگھم چندر چٹرجی (1838-1894) لکھی تھی۔ یہ نظم ایک معروف بنگالی ناول’’ آنند مٹھ‘‘ ( تاریخ اشاعت 1882) کے آخری صفحات میں ناول کے لب لباب کے طور پر شائع ہوئی تھی۔ اصل تنازعہ وندے ماترم پر نہیں بلکہ آنند مٹھ کے مشمولات پر پیدا ہوا تھا ۔یہ ملک کی بیشتر زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا تھا۔ 1923 میں اردو زبان میں گوکل چند نارنگ نے اس کا ترجمہ کیا۔ اور چودھری شو ناتھو نے پرکاشن مندر پوسٹ چھرہ، ضلع میرٹھ سے اسے شائع کیا تھا ۔جو آج بھی معروف اردو ویب سائٹ’’ ریختہ ‘‘پر موجود ہے۔ اس پر ایک بلیک اینڈ وہائٹ ہندی فلم بھی 1952 میں بن چکی ہے۔ ناول کا مرکزی مضمون دراصل 1770 کے سنیاسی تحریک کے پس منظر میں ایک ہندو جوڑے کی جدوجہد سے وابستہ ہے۔ سنیاسی تحریک دراصل ہندو سادھوؤں اور زمینداروں کی تحریک تھی جو انگریزوں کے ظالمانہ ٹیکس نظام کے خلاف اٹھی تھی جس کے نتیجے میں سادھوؤں کو زمینداروں سے ملنے والی سالانہ دکشنا بند ہو گئی تھی۔ یہ تحریک 1763 سے 1800 تک بہار اور بنگال میں سرگرم تھی جسے بالآخر انگریزوں نے کچل ڈالا تھا۔ بی سی چٹرجی نے اس تحریک کے تناظر میں آنند مٹھ میں جو کچھ لکھا وہ دراصل مسلم عہد حکومت کے خلاف تھا۔ اور مسلمانوں سے انگریزوں کی مدد سے اقتدار چھیننے کی ایک ترغیب تھا۔ جس میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کو حملہ آوراور غیر ملکی قرار دیا گیا۔ ناول کے کئی اقتباسات میں مسلمانوں، مسجد و درگاہ وغیرہ کو قابل نفرت قرار دیا گیا ۔س طرح دیکھا جائے تو یہ ناول ملک کی پہلی فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی کتاب تھی، جبکہ کتاب کا مصنف اس زمانے کے انگریزی اسکول سے تعلیم یافتہ ایک اسکالر تھا جو خود تا عمر انگریزی حکومت کے مختلف اعلی عہدوں پر فائز رہا۔ وہ ایک مصنف اور صحافی بھی تھا جو’’ بنگا درشن نامی ‘‘بنگالی اخبار سے وابستہ رہا۔ اس ناول میں ہی پہلی مرتبہ بھارت ماتا کا تصور اجاگر ہوتا ہے اور بھارت ماتا کی ایک خیالی تصویر جو مورتی کی صورت میں پیش کی گئی تھی جو آج بھی رائج ہے ۔آنند مٹھ ناول میں پیش کی گئی کہانی کا اختصار دراصل وندے ماترم نظم میں ہے، جس میں بھارت کو بحیثیت ماتا وندنا کا مستحق قرار دیتے ہوئے اس کے آگے کے بندوں میں درگا نامی دیوی کی پوجا اور ان کے دکھائے گئے راستے کو اختیار کرنے کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے۔

اس زمانے میں اس قسم کا فرقہ وارانہ لٹریچر عوام کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کی جانب سے اس ناول اور اس نظم کی شدید مخالفت ہوئی۔ 1896 میں کانگریس کے کلکتہ سیشن میں پہلی بار رابندر ناتھ ٹیگورنےاس پوری نظم کو عوامی طور پر گایا تھا۔ تبھی سے اس کی شدید مخالفت شروع ہو گئی تھی اور مسلمانوں میں مذہبی عقائد کے منافی ہونے کی وجہ سے اس کو مسترد کر دیا گیا تھا ۔بالآخر 1937 میں خود رابندر ناتھ ٹیگور اور گاندھی جی کے مشورے سے اس کے ابتدائی دو بند گائے جانے کی سفارش کرتے ہوئے بقیہ بند نہ گائے جانے کی سفارش کی گئی۔ خود رابندر ناتھ ٹیگور جی کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ’’ ملک کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے میں نظم کے اگلے بند مذہبی اعتبار سے نامناسب ہیں۔ اور دیگر طبقات کے عقائد کو مجروح کرتے ہیں جو متحدہ بھارت کی تشکیل میں سد راہ بن سکتے ہیں‘‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس زمانے میں یہ ناول لکھا گیا اسی زمانے میں ملک میں ہندوتوا کی سیاسی تحریک کا آغاز بھی ہو رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کی تاریخ میں’’ ہندوتوا ‘‘کا لفظ سب سے پہلے ساورکر نے 1923 میں اپنی کتاب ’’ہندوتوا ‘‘کے ذریعے استعمال کیا تھا، جبکہ در حقیقت چندرناتھ باسو (1844-1909)میں بنگالی زبان میں سب سے پہلے یہ لفظ اپنی کتاب’’ ہندوتوا :ہندو را پراکرت اتہاس‘‘میں استعمال کیا تھا۔ ہر چند اس کتاب کا ترجمہ نہیں ہو سکا لیکن اب حال ہی میں اس کے کچھ اقتباسات انگریزی زبان میں باسو کے ہندوتوا تصور کے تعلق سے چھپی ایک کتاب میں شائع ہوئے ہیں ۔باسو بھی دراصل چٹرجی کے ہی شاگرد تھے۔ اور ان کی تمام تحریریں اور تقریریں چٹرجی کے اخبار بنگا درشن میں ہی چھپتی تھیں۔ باسو خود بھی ایک اچھے انگریزی داں رہے ہیں اور یہ کہ تمام عمر انگریزی حکومت کے اعلی عہدوں پر فائز رہے۔ لیکن چٹرجی کے کہنے پر ان کی زیادہ تر تحریریں بنگالی زبان میں ہی لکھی گئی ہیں ۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آنند مٹھ جیسے ناول اور وندے ماترم جیسے گیت دراصل ملک کی مجموعی جدوجہد آزادی سے متعلق نہیں تھے ۔بلکہ ایک ہندو حکمرانی کے احیاکی ابتدائی کوشش تھی، جسے آزادی سے قبل بھی ہندوتووادی تنظیموں کی حمایت حاصل رہی اور آزادی کے بعد بھی س میں شدت آئی۔ اور اب جب اسی نظریے کی حامل سیاسی جماعت کو ملک کا اقتدار بھی حاصل ہو گیا ہے تو اس کی ترویج کی مزید کوشش کی جا رہی ہے۔ وندے ماترم کی حمایت و مخالفت دراصل کسی مذہبی عقیدے سے زیادہ ایک سیاسی نظریے کا معاملہ ہے۔ دھرم کے اعتبار سے ہندوسناتن دھرم ہمیشہ سے ہی ملک کا غالب مذہب رہا ہے۔ آج بھی ہے اور اسی لیے اس کا احترام بھی ہمیشہ رہا ہے اور آج بھی ہے ۔لیکن ہندوتوا دراصل ہندو سناتن دھرم کے علی الرغم ایک سیاسی نظریے کے ساتھ سامنے آیا تھا جو ملک میں ہندو حکمرانی کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے کھڑا کیا گیا۔ اور ملک کے تمام دیگر طبقات کو اس نظریے میں ضم کر دینے کی خواہش رکھتا ہے ۔گذشتہ دنوں سنگھ سرچالک موہن بھاگوت کا بیان کہ’’ غیر ہندو آر ایس ایس شاخہ میں شریک نہیں ہو سکتے،‘‘اسی نظریے کا مظہر ہے۔ حالانکہ ڈیڑھ سو سالہ یہ تحریک جو گزشتہ سو سال سے سنگھ کی قیادت میں چل رہی ہے آج تک اس ملک کے تمام سناتنی ہندوؤں کو اپنی طرف راغب کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ بھارت میں 100 کروڑ سے زائد ہندو ابٓادی ہے، جو ہندو سناتن دھرم کی پیروکار ہے اس نے آج تک اس نظریے کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔( 2024 کے انتخابات میں بی جے پی کو 100 کروڑ میں سے محض 22 کروڑ ووٹ حاصل ہوئے)۔
ملک کی بیشتر مذہبی اکائیاں مثلا مسلمان، عیسائی ۔پارسی وغیرہ وطنیت کے عقیدے کو ماننے کے باوجود وطن کو کسی دیوی یا دیوتا کا درجہ نہیں دے سکتے ۔حب الوطنی کا یہ پیمانہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جس ملک میں ہم پیدا ہوئے ہیں اور جس سرزمین سے ہماری شناخت وابستہ ہے اس کی لازما پوجا بھی کی جائے ۔دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرنا ایک مذہبی عقیدے سے وابستہ ہے۔ اس عقیدے کو ماننے والوں کی بہت بڑی تعداد ہے، جو اکثریت میں ہے اس لیے ان کے لیے اس عقیدے کو ماننا اور اس پر عمل کرنا کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے ۔ان کو اپنے عقیدے کے مطابق ایسا کرنا بھی چاہیے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہے ۔لیکن ملک کے تمام باشندے اپنے عقائد کو ترک کر کے اس عقیدے کو مان لیں،بھی ضروری نہیں ہے۔ اس لیے آزادی سے قبل ہی نصف صدی کی شدید ترین بحث کے بعد یہ طے پاگیا تھا کہ یہ نظم ملک کا قومی ترانہ نہیں بن سکتی۔ بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کے ابتدائی دو بند کوہی قومی گیت قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس کا پڑھنا سب کے لیے لازمی نہیں ہے ۔ویسے بھی ساری دنیا میں حب الوطنی کے جذبے کو دستوری طور پر مذہبی قیود کا پابند نہیں کیا گیا ہے۔ مگر ہمارے ملک کے چند تنگ نظر لوگ اس پر ہمیشہ اصرار کرتے رہے ہیں۔ ملک کے بیشتر عوام کے لیے بھارت جنت نشاں دیار وطن ہے مادر وطن نہیں ،ہوم لینڈ ہے مدر لینڈ نہیں ،جنم بھومی ہے ماتر بھومی نہیں ۔اس لیے ملک کے قومی ترانے جن من گن پر ملک میں ہندوتووادیوں کو چھوڑ کر کسی بھی دیگر طبقے کو کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا ۔آر ایس ایس نے تنظیمی طور پر آزادی کے 52 سال بعد قومی ترانے اور قومی جھنڈے کو اپنایا ہے۔ اس تاریخی تناظر میں ڈیڑھ سو سال پرانی اس بحث کو دوبارہ زندہ کرنا ایک غیر ضروری عمل ہے جو ملک کے تمام طبقات کے مابین علیحدگی پسندی کے رجحان کو مہمیز دینے کے مترادف ہے۔ملک کے سواد اعظم کو اس قسم کی بحث سے اجتناب برتنا چاہئیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button