
مسلمان کب ہو ش کے ناخن لیں گے؟
سہیل انجم
کانپور کی ایک تنگ سی گلی میں آویزاں ”آئی لو محمد“ کے ایک بینر سے پیدا ہونے والا تنازع سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ اتحاد ملت کونسل کے صدر مولانا توقیر رضا خاں گرفتار ہو چکے ہیں۔ اب ان کے اعزاءو اقربا کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہے۔ مذکورہ پوسٹر کے ساتھ مظاہرہ کرنے والے متعدد مسلمانوں کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تادم تحریر کسی ایک بھی گرفتار مسلمان کی رہائی عمل نہیں آئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو زیاہ دنوں تک جیل میں رہنا پڑے گا۔ بریلی میں گزشتہ جمعے کو اکٹھا ہونے والے مسلمانوں پر جس طرح پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور جس طرح ان کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں وہ افسوسناک ہے۔ لیکن اگر مظاہرین میں سے کسی نے گولیاں چلائی ہیں جیسا کہ میڈیا رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے اور جو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں وہ ان گولیوں سے ہی ہوئے ہیں تو یہ بھی اتنا ہی افسوسناک ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اس قسم کے جذباتی اجتماعات کے منتظر ہوتے ہیں۔ وہ ایسے مواقع پر اپنے گندے عزائم کو بروئے کار لاتے ہیں اور ایسے اقدامات کرتے ہیں کہ ان کے اپنے مقاصد تو پورے ہو جاتے ہیں لیکن جس مقصد کے لیے مظاہرہ کیا جا رہا ہوتا ہے وہ فوت ہو جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ بریلی کے مظاہرے میں بھی کچھ ایسے عناصر رہے ہوں جنھوں نے گولیاں چلائیں۔ اور اگر ایسے عناصر کے بجائے کچھ دوسرے مسلمان اس معاملے میں ملوث تھے تو وہ اور بھی خطرناک ہے۔ اس سے مسلمانوں کے درمیان ایک خطرناک رجحان کے پیدا ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جن ریاستوں کی پولیس انتظامیہ مسلمانوں کے تعلق سے ایک خاص قسم کا نظریہ رکھتی ہے وہاں مسلمانوں کی جانب سے کیا جانے والا ایسا کوئی بھی مظاہرہ برعکس نتائج کا حامل ثابت ہوتا ہے۔ پولیس فوری طور پر حرکت میں آجاتی ہے اور تعزیری کارروائی کا ایک نیا ہتھیار ”بلڈوزر“ دندنانے لگتا ہے۔ ایسے مواقع پر انتظامیہ کو یاد آجاتا ہے کہ مظاہرے میں شامل فلاں شخص نے غیر قانونی طور پر مکان یا دکان کی تعمیر کی ہے۔ پھر آناً فاناً میں بلڈوزر اپنا کام کر ڈالتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہی سب کچھ بریلی میں بھی ہو رہا ہے۔ کوئی بھی سنجیدہ شخص یا طبقہ ان انتظامی اقدامات کے پیش نظر احتیاط سے کام لے گا اور اس سے ایسا کوئی بھی عمل سرزد نہیں ہوگا جو اس قسم کی کارروائیوں کی دعوت دے اور آبیل مجھے مار کا مقولہ سچ کر دے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کے خلاف ایسی انتظامی کارروائیاں ہوتی ہیں ان کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ گرفتاریوں اور مقدموں کے نتیجے میں ان لوگوں کے اہل خانہ کس کسمپرسی سے دوچار ہوتے ہیں یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پورا گھر بلکہ پورا خاندان آزمائشوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ روزی روٹی اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ مسلمان ویسے بھی ہر میدان میں برادران وطن سے پیچھے ہیں ایسی کارروائیوں کے بعد متاثرہ خاندان کے ورثا اور پیچھے چلے جاتے ہیں۔ لہٰذا عقل کا تقاضہ تو یہ ہے کہ مسلمان ایسے معاملات میں محتاط رہیں اور اگر کسی جانب سے ایسا کوئی عمل سرزد ہوتا ہے جو اسلام یا مسلمان دشمنی یا اہانت رسول کے زمرے میں آتا ہے تو عام مسلمانوں کو ازخود سڑک پر نہیں اتر جانا چاہیے۔ انھیں ان بااثر افراد سے رابطہ قائم کرنا چاہیے جو ایسے معاملات میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہوں۔ جوش میں آنے کے بجائے ہوش کا دامن تھامنا چاہیے اور خود کو بغیر چرواہے والے بھیڑ کے اس ریوڑ میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے جس کا کوئی رکھوالا نہ ہو۔ جسے تباہی و بربادی کے گڈھے میں کود جانے سے بچانے والا کوئی نہ ہو۔
جہاں تک محبت رسول کی بات ہے تو ہر مسلمان اللہ کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور ان کے ناموس پر جان چھڑکنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ لیکن اگر ایک بینر کو ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ آویزاں کر دیا گیا اور اس کے جواب میں دوسرے مذہب کے بعض افراد نے اسی طرح کا اپنا کوئی بینر آویزاں کر دیا تو کیا اس عمل پر اہانت رسول کا ٹھپہ لگ گیا۔ جن مسلمانوں کو اس رویے سے تکلیف پہنچی تھی ان کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے سرکردہ علما سے رجوع کرتے اور ان سے پوچھتے کہ حضرت ایسا ایسا ہوا ہے کیا یہ اہانت رسول ہے اور اگر ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ایسے مواقع پر اور ایسے معاملات میں شریعت ہمیں کیسی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ مسلمانوں کو اس خطرے کا بھی ادراک ہونا چاہیے تھا کہ جب دوسرے مذہب کے لوگوں نے اپنا بینر آویزاں کر دیا تو اس کے ردعمل میں جوش و خروش کے مظاہرے سے ٹکراو کی صورت پیدا ہوگی اور اگر ٹکراو ہوا تو وہ تباہ کن نتائج کا حامل ہوگا۔ ایسے ماحول میں جبکہ انتظامیہ پر جانبداری کا الزام لگتا رہا ہے اور یہ کہا جاتا رہا ہے کہ اگر دوسرے مذہب کا کوئی شخص مسلمانوں کے خلاف پولیس میں شکایت کر دے تو پولیس فوراً حرکت میں آجاتی ہے۔ لیکن اگر مسلمان دوسرے مذہب کے کسی شخص کے خلاف شکایت پر شکایت درج کرائیں تب بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی، مسلمانوں کو سوچنا چاہیے تھا کہ ان کے کسی بھی جائز عمل کو ناجائز اور قابل گرفت بنایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا وہ محتاط رہیں اور اپنی جانب سے کسی غیر ذمہ دارانہ کارروائی کا ارتکاب نہ کریں۔
ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم محبت رسول کے اظہار کے مخالف ہیں۔ ہمارے دل میں بھی رسول اللہ کی ذات سے محبت کا وہی جذبہ موجزن ہے جو کسی دوسرے مسلمان کے دل میں ہوگا لیکن فراست مومنانہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ کسی بھی معاملے سے نمٹنے کے لیے دانش مندی کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ کسی بھی عمل کے تمام پہلووں کا جائزہ لے کر اور نتائج و عواقب کا اداراک کرکے اور اگر کوئی برعکس کارروائی کیے جانے کا اندیشہ ہو تو اس کے تدارک کی حکمت عملی اختیار کرکے ہی کوئی انتہائی اقدام کیا جانا چاہیے۔ جہاں تک مذکورہ معاملے کا تعلق ہے تو احتجاج اور مظاہرے میں شامل مسلمانوں کو دیکھنا چاہیے تھا اور اب بھی دیکھنا چاہیے کہ اس نازک مسئلے پر ہمارے مقتدر علما کا کیا بیان آیا ہے، انھوں نے کس موقف کا اظہار کیا ہے، ان کی حکمت عملی کیا ہے۔ کیا انھوں نے اس معاملے پر کوئی رائے رکھی ہے یا انھوں نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ اگر رکھی ہے تو وہ کیا ہے اور اگر وہ خاموش ہیں تو کیوں ہیں۔ جہاں تک ہمارا معاملہ ہے ہم نے ابھی تک کسی بھی ایسے عالم دین کی جانب سے جس کو لوگ سنجیدہ عالم سمجھتے ہوں اس قسم کا کوئی بیان نہیں دیکھا کہ وہ مذکورہ معاملے کو اہانت رسول قرار دیتے ہوں۔ ہاں مسلم تنظیموں، جماعتوں اور انفرادی افراد کی جانب سے یہ بیان ضرور آیا ہے کہ آئی لو محمد کہنا اور لکھنا جرم نہیں ہے۔ انھوں نے مولانا توقیر رضا کی گرفتاری کو غلط قرار دیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
یہ بات سنجیدہ طبقات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایسے نازک معاملات میں مسلمان بہت زیادہ جذباتی کیوں ہو جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کی جانب سے اشتعال دلانے والی کارروائیوں پر فوراً مشتعل کیوں ہو جاتے ہیں۔ ہم صرف اسی ایک واقعہ کے پس منظر میں یہ بات نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ دیکھا گیا ہے کہ ہر جذباتی معاملے پر مسلمان بلا سوچے سمجھے سڑکوں پر اتر آتے ہیں، کچھ عناصر کی جانب سے جذباتیت کو ہوا دی جاتی ہے، معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا جاتا ہے اور پھر جو نتائج برآمد ہوتے ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں۔ شکر ہے کہ ابھی مذکورہ معاملے میں کسی مسلمان کی جان نہیں گئی لیکن ایسے مواقع بار بار آئے ہیں جب مسلمانوں کے مظاہروں پر پولیس نے گولیاں چلائی ہیں اور متعدد مسلمانوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ دور مت جائیے دس بیس سال کے دوران پیش آنے والے واقعات کا مشاہدہ کر لیجیے صورت حال بالکل واضح ہو جائے گی۔
ہم یہاں سابقہ کالم میں درج کی گئی باتوں کا پھر اعادہ کریں گے اور اس بات پر زور دیں گے کہ محبت رسول کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم تعلیمات نبوی پر عمل کریں۔ آپ نے جس راستے پر چلنے کی ہمیں تلقین کی ہے ہم اس پر چلیں، اس سے الگ اپنا راستہ نہ بنائیں۔ اللہ کے رسول کے احکام سے روگردانی نہ کریں۔ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ کیا ہم تعلیمات نبوی پر مکمل طور پر عمل پیرا ہیں۔ قرآن اور احادیث مبارکہ نے ہمیں جو رہنمائی فرمائی ہے ہم اس پر ثابت قدم ہیں یا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسوہ ¿ رسول کو اپنائیں اور اس کی روشنی میں برادران وطن اور دیگر مذاہب کے لوگوں سے تعلقات کی نوعیت طے کریں۔ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ اگر ہم اسوہ رسول پر چلتے ہوئے اپنے کردار کو ڈھالیں تو دوسری اقوام بھی ہم سے متاثر ہوں گی اور جو معاندانہ ماحول ہے اس میں بڑی حد تک کمی واقع ہو جائے گی۔ ممکن ہے کہ ہماری یہ باتیں کچھ لوگوں کو ناگوار گزریں۔ لیکن ہم نے مناسب سمجھا کہ ہم تعلیمات نبوی اور اسوہ ¿ حسنہ کے بارے میں اپنے خیالات ظاہر کریں۔ ہمیں بہرحال ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو ہمیں تباہی و بربادی کے گڈھے کی طرف دھکیل دے اور ہمیں مجاز کا یہ شعر پڑھنا پڑے:
روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے
ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ
موبائل: 9818195929


