
سنگھی رام راجیہ کا دوہرا معیار
۔۔ ابن بھٹکلی
. +919448000010
8بلین ابادی سے عالم انسانیت کے،عقل و فہم ادراک رکھنے والے،کچھ مخلص لوگ، بڑھتی انسانی ابادی کو قابو میں رکھنے، پریشان متفکر جہاں ہیں، وہیں بل گیٹس جیسےدجالی ذہنیت زایونسٹ، ایک بہت بڑی تعداد ہم انسانوں کو بیکوقت مار ڈالے، بڑھتی ابادی کو قابو میں رکھنے شیطانی لیبارٹریوں میں کورونا جیسے بیماریاں پھیلانے کی عملی کوششوں میں مصروف و منہمک ہیں۔ عالم انسانیت کی سب سے بڑی سیکیولر جمہوریت بھارت، ہم دو ہمارے دو بچے والی پالیسی پرجہاں حکومت عمل پیرا ہے، وہیں سنگھی مسلم منافرتی لیباریٹری، یوگی مہاراج والے یوپی میں، 23بچوں کی اکلوتی ماں، ایک ھندو نساء،بڑے فخر سے یہ اعلان کرتی ڈر اور خوف نہیں پاتی ہے کہ، "ہم دو ہمارے دو درجن بچے”۔ یہی کچھ کسی مسلم نساء نے کہا ہوتا تو, یوگی مہاراج کا بلڈوزر, اس مسلم نساء کے گھر،زمین بوس کرنے بھیج دیا ہوتا؟ ہمیں یقین ہے۔ براہ راست یوپی سرکار نے، نہ صحیح، کسی ار ار ایس ایس سنگھی ذیلی نفرتی تنظیم نے، ایک ہی نساء سے، ھندو ابادی بڑھانے کے لئے، تفخرا”، اتنے سارے بچوں کی پرورش مدد ہی کے لئے،اس نساء کی بھرپور معشیتی مدد کی ہوگی۔بحثیت ایک مسلمان ہونے کے ناطے کسی کے یہاں بھی کثرت اولاد کے ہم مخالف نہیں ہیں ۔ یہ اسلئے کہ، جو ایشور اللہ، کسی جوڑے کو، اولاد بخشتا ہے تو بچے کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی، اسکی رزق کا بندوبست کروا دیتا ہے۔ اسلام دھرم کے رزاق دو جہاں کا کہنا ہے کہ انسانیت کو پیدا کئے جانے سےپہلے، تاقیامت پیدا کئے جانے والے ہم جانداروں کے لئے، ایشور اللہ نے، انکی قسمت لکھ دی ہوئی ہے کہ انہیں زندہ رہنے، کتنی رزق درکار ہے اور وہ رزق، انہیں کہاں کہاں سے پہنچائی جائے گی۔ وہ اپنے زندہ رہتے، کتنا کمائیں گے، کتنا کچھ کھائیں گے ، اور کتنا کچھ اپنی اولاد و دیگر انسانوں کے لئے اپنے پیچھے چھوڑ ،اپنے ایشور اللہ کے پاس لوٹ چلے جائیگے۔یہ ہم انسان ہی ہیں حکومتی لیول پر، اپنی رعایا کے لئے، رزق کے بھنڈار جمع کئے، اپنی لغزشوں سے، اسے سیلاب سے بچانے میں ناکام رہتے،ہزاروں ٹن رزق کے بھنڈار کو تباہ و برباد کر یا کروا دینے کا باعث بنتے ہیں۔ ورنہ رزاق دو جہاں نے تو، اپنےپیداکئےانسانوں کے لئے، مناسب مقدار رزق پیدا کی ہوئی ہوتی ہے۔
یہاں اس عالم انسانیت کے لئے، رول ماڈل کے طور پیش کی جانے والی ار ایس ایس، بی جے پی، مودی ہوگی والی،سنگھی رام راجیہ سرکار کے،مسلم و ھندو کے درمیان عملا” کئے جاتے،دہرے معیار کی بات پر چرچا کررہے تھے۔ اگر کوئی سیکیولر ذہن رپورٹر اس یوپی 23 بچوں کی ماں تک پہنچ، یہ تحقیق کرے کہ اتنے سارے بچوں کے پیدا ہونے کے بعد، ان بچوں کے باپ کی امدن بڑھتے ہوئے، ان کے بچوں کا مناسب اجراجات بندوبست رزاق دو جہاں نے کیا ہوگا یا نہیں کیا ہے؟ یا یہ سنگھی یوپی یوگی رام راجیہ والے، انکے بچوں کی پرورش کی فکر کئے، انکے گھر روزگار بھتہ بھیج بھی رہے ہیں یا نہیں؟ یقینا” ایشور اللہ جہاں، عالم انسانیت کے 8 بلین انسانیت کو پال رہا ہے، وہیں مسلم دشمن سنگھی لیباریٹری، یوپی کی اس ھندو بہن کے 23 بچے بھی، انتہائی خوش کن انداز اپنے باپ ہی کی کمائی سے، پال رہے ہونگے۔انشاءاللہ۔ مسئلہ اگر یہی کچھ دو درجن بچے، بفضل ایشور اللہ کسی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے ہوتے تو، کیا مسلم دشمن سنگھی بھونپو میڈیا نے اب تک اپنے 24/7 نیوز سے،دیش بھر میں مسلم کثرت اولادکا رونا روئے،مسلمانوں کے خلاف نفرتی ماحول پیدا کئے، اپنے مسلم نفرتی تفکرات سے سرشار، یوگی مہاراج، اس مسلم نساء کے گھر کو گرانے، بلڈوزر بھیج چکے ہوتے، ومالتوفیق الا باللہ
اس کے 24 بچے ہیں۔وہ بڑے فخر سے کہتی ہے کہ ہم دو ہمارے دو بچے ہیں 🙏
میں اتر پردیش کے ایک گاؤں میں رہتی ہوں۔
اگرچہ وہ امیر نہیں ہے، اس کا شوہر صرف ایک ڈرائیور ہے، اس کے 24 بچے ہیں، اور ملک کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے…🫢🥺
24 بچوں کی نظروں میں کوئی خامی چھوڑے بغیر اپنی جسمانی خوبصورتی کو برقرار رکھنا باعث فخر ہے۔
پوچھنے پر وہ بس کہتی ہے کہ سب کچھ اللہ کی مرضی ہے 😊💐

