تازہ ترین خبریں

ملئے معروف خطاط منور اعظمی سے

سہیل انجم

کمپیوٹر کی آمد نے کتابت اور خطاطی پر زوال کے دروازے کھول دیے۔ خطاطی کو پسند کرنے والے لوگ بھی اب کمپیوٹر کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹر میں بہت آسانیاں ہیں۔ لہٰذا بہت سے کاتب کمپیوٹر آپریٹر ہو گئے۔ جو کمپیوٹر پر کام نہیں کر سکتے یا جن کے پاس کوئی کام نہیں وہ گھر بیٹھ گئے۔ لیکن اس زوال آمادہ دور میں بھی کچھ ایسے دیوانے ہیں جو اپنا خون جگر جلا کر خطاطی کی شمع کو روشن کیے ہوئے ہیں۔ انہی دیوانوں میں منور اعظمی بھی ہیں۔ وہ اترپردیش کے شہر مﺅناتھ بھنجن کے باشندے ہیں ۔ انھوں نے خطاطی کو ہی ذریعہ معاش بنا رکھا ہے۔ وہ خطاطی کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ کتابت اور خطاطی کا درخشاں دور ضرور واپس آئے گا اور تب کمپیوٹر کو ترجیح دینے والے بھی اس فن کی طرف مائل ہوں گے۔

کچھ دنوں قبل ان سے ان کے دولت کدے پر ملاقات ہوئی۔ ہم نے اس ملاقات کو غنیمت جانتے ہوئے کتابت اور خطاطی کی صورت حال پر گفتگو کی۔ ہمارے ساتھ شہر مﺅ کی ایک ذی علم شخصیت اور استاذ الاساتذہ شیخ محفوظ الرحمن فیضی اور مکتبہ الفہیم مﺅ کے مالک جناب عزیز الرحمن ابو اشعر فہیم صاحب بھی موجود تھے۔ منور اعظمی نے بتایا کہ انھیں دوران طالب علمی سے ہی کتابت اور خطاطی کا شوق رہا ہے۔ وہ مدرسہ دار العلوم مﺅ کے طالب علم تھے۔ انھوں نے شہر کے معروف خطاط مولانا فیض الحسن سے کتابت سیکھی۔ انھوں نے اسی زمانے میں ہی متعدد ایوارڈز جیتے تھے۔ اس وقت مﺅ ضلع نہیں بنا تھا۔ وہ اعظم گڑھ ضلعے کا حصہ تھا۔ اسی دور میں مولانا مجیب اللہ ندوی نے مسلم انٹر کالج میں ایک پروگرام منعقد کیا تھا جس میں انھوں نے خطاطی کے مقابلے میں پورے ضلع میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس کے بعد جامعة الرشاد اعظم گڑھ میں ہونے والے مقابلے میں بھی وہ اول نمبر پر رہے۔ اس درمیان جبکہ وہ خطاطی سیکھ ہی رہے تھے کہ ان کے پاس کام کی بھرمار ہو گئی۔ لیکن دریں اثنا وقت نے کروٹ بدلی اور وہ 1987 میں بغرض ملازمت سعودی عرب چلے گئے جہاں وہ چودھ سال رہے۔ وہاں بھی وہ اسی پیشے سے وابستہ رہے۔
انھیں اپنے استاد سے بہت کم سیکھنے کا موقع ملا۔ البتہ وہ کتابوں میں دیکھ دیکھ کر خط ثلث اور خط نستعلیق کی مشق کرتے رہے۔ سعودی عرب سے واپس آنے کے بعد وہ ساڑیوں کے کاروبار سے منسلک ہو گئے۔ انھوں نے خطاطی بالکل ترک کر دی۔ لیکن دوستوں کے مشورے پر وہ پھر اس طرف لوٹ آئے۔ انھوں نے خط نستعلیق اور خط ثلث کی کافی مشق کی اور آج وہ ان دونوں خطوں میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت لوگ خط ثلث زیادہ پسند کرتے ہیں۔
منور اعظمی نے خطاطی کے متعدد عالمی مقابلوں میں آن لائن شرکت کی ہے۔ ان میں انڈونیشیا، ملیشیا اور مراقش قابل ذکر ہیں۔ وہ گزشتہ دنوں ایران میں منعقد ہونے والے ایک عالمی مقابلے میں شرکت کے لیے جانے والے تھے کہ اسی درمیان ہنگامی حالات پیدا ہونے کی وجہ سے مقابلے کا یہ پروگرام ملتوی ہو گیا۔ اورنگ آباد مہاراشٹر کے مولانا آزاد نیشنل کالج میں ایران اسلامک کلچرل سینٹر کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ہفتے کے ایک شاندار پروگرام میں بھی انھوں نے شرکت کی اور شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ وہ زیادہ تر خط ثلث، خط نستعلیق اور خط دیوانی میں لکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بہت کام رہتا ہے۔ اداروں کا بھی اور انفرادی بھی۔ ان میں کتابوں کے ٹائٹل، پوسٹرز کی ہیڈنگ اور مدارس کی اسناد قابل ذکر ہیں۔ بہت سے لوگ ان سے اپنا نام بھی لکھواتے ہیں۔
ان کی اس فنکاری کو دیکھ کر بہت سے لوگوں کو خطاطی کا شوق پیدا ہوا۔ بے شمار لوگوں نے ان سے خطاطی سیکھی۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان کے شاگردوں کی ایک طویل قطار ہے۔ انھیں میں پُرا معروف کے شاہنواز بھی ہیں جو اچھی خطاطی کر رہے ہیں۔ منور اعظمی کے دولت کدے پر لوگ سیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے فن کے قدردانوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ویسے اس وقت مﺅ میں ان کے علاوہ کوئی اور اچھا خطاط نہیں ہے۔ ان کی خطاطی لوگوں کو اس قدر پسند آتی ہے کہ وہ بالخصوص ان کی تحریر کردہ قرآنی آیات کو فریم کروا کر اپنے ڈرائنگ روم میں آویزاں کرتے ہیں۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ شہر مﺅ میں پہلے خطاطی سے دلچسپی رکھنے والوں کی کمی ہو گئی تھی لیکن جب سے منور اعظمی واپس آئے ہیں اور اس میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں شائقین کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اگر کسی کو ان کے دولت کدے کا علم نہ ہو تو وہ کسی سے بھی پوچھ لے وہ ان کی رہائش گاہ کی نشاندہی کر دیتا ہے۔
بہرحال انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان کے شہر مﺅ میں خطاطی کی طرف لوگوں کا رجحان بہت کم ہے۔ پہلے بہت سے لوگ کتابت کیا کرتے تھے مگر اب نہیں۔ پہلے دہلی خطاطی اور کتابت کے معاملے میں سرفہرست تھی مگر اب دہلی میں بھی اس کے چاہنے والے کم ہی رہ گئے ہیں۔ تاہم دہلی اور لکھنو ¿ کے کچھ اشاعتی ادارے ان سے کتابوں کے ٹائٹل بنواتے ہیں۔ منور اعظمی اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ کتابت اور خطاطی پر زوال آیا ہوا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ہم نے اس میں دلچسپی لینی بند کر دی ہے۔ وہ اس سے انکار کرتے ہیں کہ اگر یہی شب و روز رہے تو خطاطی دنیا سے ختم ہو جائے گی۔ اس بارے میں وہ دوسرے ملکوں کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خطاطی کے مستقبل کو ہندوستان اور پاکستان کے تناظر میں مت دیکھیے۔ دوسرے ملکوں میں جیسے کہ مصر، ترکی، انڈونیشیا، ملیشیا اور مراقش وغیرہ میں خطاطی کے تئیں بہت دلچسپی ہے۔ وہ ہندوستان کے تعلق سے بھی مایوس نہیں ہیں۔ انھیں یقین ہے کہ ایک روز وہ دور لوٹ کر آئے گا جب لوگ خطاطی کو پسند کریں گے اور اسے ترجیح دیں گے۔
22 مئی 2026 ، نئی دہلی۔ موبائل: 9818195929

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button