مضامین و مقالات

یہ تصویر نہیں…امتِ مسلمہ کے روشن مستقبل کی جھلک ہے

  • ۔ نقاش نائطی
    ۔ +966562677707

دو روز قبل جب ایران کا بہت بڑا عسکری و حکومتی وفد صاحب امریکہ سے حالیہ جنگ ایران و اسرائیل امریکہ جنگ بندی مفاہمت کے لئے پاکستان آیا ہوا تھا تو شیعی ایرانی وفد اور میزبان سنی پاکستان کے فرض نماز باجماعت ادا کرتی میڈیا وائرل تصویر,یہود و ہنود و نصاری اسلام دشمنون کے لئے یہ تصویر ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک محسوس ہوئی لگی

محمود و ایاز کی طرح شیعہ اور سنی ایک صف میں کھڑے ہیں، یہ منظر نفرتوں پر کاری ضرب ہے،یہ اتحاد امت کی امید ہے،یہ دشمنوں کے منصوبوں کی ناکامی ہے۔جب ہم ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔آئیے اختلافات کے باوجوداتحادِ امت کو اپنا شعار بنائیں۔”اور ہم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور تفرقہ میں نہ پڑیں” اور ایسے اسلام کے خلاف پرآشوب دور میں تاریخ کے اوراق کنگھالتے پرانے واقعات و اقوال کو سامنے لائے, ہزار حیلے بہانوں سے وحدت امہ مسلمہ کو پارہ کارہ کرنے والوں سے بچا جائے۔

ایران میں ڈھائی ہزار سالہ قدیم بادشاہت تھی۔
پہلوی خاندان کی ایران پر شہنشاہیت۔
اصل نام رضا خان، سپاہی کے بیٹے تھے۔ معمولی تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی میں فوج میں بھرتی ہو گئے اور جلد ہی احمد خاقان شاہ ایران حکومت میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گئے۔ 1921ء میں قاجار خاندان کے آخری بادشاہ احمد قاجار کی حکومت کا تختہ الٹ دیا
اپنی فوجی طاقت کے ذریعے ملک میں افراتفری ختم کی اور طاقتور ترین شخصیت بن کر سامنے آئے،اور 1923ء میں وزیر اعظم کا عہدہ خود سنبھال لیا۔ انھوں نے فارس کو ایران کا نام دیا۔ 1925ء میں قاجار خاندان کے آخری بادشاہ احمد شاہ قاجار کو معزول کرکے خود بادشاہ بن گئے اور رضا شاہ پہلوی کا لقب اختیار کیا۔شاہ ایران کے مطلق العنان ہونے کے باوجود، انتظامی امور چلانے کے لیے وزیراعظم (وزیر اعظم ایران) ہوتےتھے۔ پہلوی خاندان کے دوران رضا شاہ اور محمد رضا شاہ دونوں کے ادوار میں وزرائے اعظم مقرر کئے جاتے تھے، جن کی مثالیں حسن پیرنیا اور ڈاکٹر مصدق جیسے وزرائے اعظم ہیں۔ جس کے بعد انہوں نے 1925 میں باقاعدہ شہنشاہیت (پہلوی خاندان) قائم کی۔ شاہ ایران کے دور میں آزادی اظہار رائے محدود تھی اور سیاسی جبر کی شکایات تھیں۔
1941 میں اتحادی افواج (برطانیہ اور سوویت یونین) کے حملے کے بعد رضا شاہ پہلوی کو تخت چھوڑنا پڑا، جس کے بعد ان کے 21 سالہ بیٹے محمد رضا پہلوی (Mohammad Reza Pahlavi) ستمبر 1941 میں ایران کے شاہ بنے۔ وہ پہلوی خاندان کے آخری بادشاہ تھے اور 1979 کے اسلامی انقلاب تک حکمران رہے۔ایرانی شاہ حکومت رہتے ہوئے بھی برطانوی و روسی اتحادی افواج کا عملی کنٹرول تھا۔
1953 میں ایک مختصر عرصے کے لئے انہیں ملک چھوڑنا پڑا ان کی غیر موجودگی میں
ڈاکٹر محمد مصدق ایران کے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم تھے،ڈاکٹرمحمد مصدق 1951ء سے 1953ء تک ایران کے وزیر اعظم رہے۔ وہ ایران میں تیل کی صنعت کو قومیانے (Nationalization) کے لئے مشہور ہیں، جنہیں 1953ء میں امریکی سی آئی اے CIA کے تعاون سے اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ اور محمد رضاشاہ پہلوی کو دوبارہ شاہ ایران بنایا گیا تھا

ایران عملاً برطانیہ روس کے قبضہ میں تھا محمد رضا شاہ پہلوی ایک کٹھ پتلی حکمران تھے۔وہ سنی بادشاہ ہوتے ہوئے بھی دیں بیزار تھے ڈھائی ہزار سالہ آتش پرست شہنشاء سائرس دی گریٹ کے گن گایا تھے
اپنے اللہ کو بھولنے والے سابق مسلم شاہ ایران، کا عبرتناک انجام،اور موجودہ طاقت ور ترین شیعی ایران
(کسی بھی ویب پورٹل پر کلک کئے تفصیل مضمون پڑھ سکتے ہی)

اپنے اللہ کو بھولنے والے سابق مسلم شاہ ایران، کا عبرتناک انجام اور موجودہ طاقت ور ترین شیعی ایران

اپنے اللہ کو بھولنے والے سابق مسلم شاہ ایران، کا عبرتناک انجام اور موجودہ طاقت ور ترین شیعی ایران

https://www.fsmedianetwork.com/%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%d8%b1/70771/

انقلابِ ایران (1979ء) آیت اللہ خمینی کی قیادت میں شاہی نظام کا تختہ الٹا گیا اور اسلامی جمہوریہ قائم کی گئی۔
موجودہ نظام, یہ ایک منفرد نظام ہے جہاں صدارتی انتخابات ہوتے ہیں، لیکن حتمی اختیارات سپریم لیڈر (مذہبی رہنماء) کے پاس ہوتے ہیں۔1979ء تک ایران میں شہنشاہیت تھی، جس کے بعد یہ ایک مذہبی جمہوری نظام میں تبدیل ہو گیا۔
جب سے ایران میں شہنشاہیت ختم ہوئے عوامی جمہوری اسلامی حکومت قائم ہوئی ہے ایران سے سٹے عرب کھاڑی ملکوں نیں قائم سات کے قریب شاہی حکومتوں میں جہاں اپنے یہاں بھی شہنشاہیت کے خلاف عوامی حکومت قائم ہونے کا ڈر انہیں ستانے لگا اس کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے صاحب امریکہ نے ان عرب شاہوں کو واقعتآ ایرانی عوامی مسلم جمہوری حکومت کے خوف تلے ڈرائے رکھے ان کے درمیان شیعہ سنی اختلافات کو پروان چڑھاتا شروع کیا ایرانی شیعی حکومت کا یہی و ڈر تھا جس کے لئے صاحب امریکہ کے اشارے پر سنی عرب شاہان کی مالی و حربی مدد سے عراق کے صدام حسین نے ایران پر چڑھائی شروع کی تھی ۔ لیکن قدرت نے ایرانی مملکت کو تین طرفہ پہاڑی سلسلے اور ایک طرفہ بحری موجوں سے جو حفاظتی حصار میں رکھا ہوا تھا ایران کسی بھی بیرونی یلغار سے صدا محفوظ رہا تھا
"خدائی فیصلے عموما” زمانہ طویل سے ترتیب دئیے موجود زمانے تک لائے جاتے ہیں”
https://www.facebook.com/share/p/1DzzmHvcCS/
اسکی صداقت کا احساس کچھ مہینوں پہلے پندرہ روزہ اسرائیل ایران جنگ اور اب اسرائیل امریکہ کی طرف سے ایران پر زبردستی نازل کردہ یہ حرب ایران بمع اسرائیل اور امریکہ کے بھیانک, مگر غیر متوقع نتائج عالم انسانیت کے سامنے ہیں۔جس سے سکوت یوایس ایس آر بعد, عالم انسانیت کے درمیان اپنی اکلوتی چودراہٹ سے دندناتے پھرتے, مختلف ملکوں کی منتخب حکومتوں کو رجیم چینج کے ذریعہ اپنی زرخرید غلام آزاد حکومتوں میں تبدیل کرتے,بارگاہ ایزدی کے ان ملکوں کو عطا کردہ قدرتی من و سلوی لوٹتے پائے جاتے والے صاحب امریکہ کی ھیجے منی چودراہت کو تنزلی پزیر ھو ایران نے کردیا ہے اس سے تلملائے صاحب امریکہ اپنی عزت برقرار رکھتے اس جنگ ایران سے راہ فرار اختیار کرنا جو چاہتے تھے اسرائیل و امریکہ کے بمبار طیاروں کے وحشیانہ حملوں کو جھیلتے ہوئے, اپنے میزائیل و ڈرون حملوں سے ایران نے جس حکمت عملی اپنے متواتر حملوں سےاسرائیل و امریکہ کے اوسان خطا,انکی تباہی و بربادی کئے جانے کے بعد بھی انہیں عزت و آبرو بچا جنگی ہزیمت سے راہ فرار راہداری (ہرمز) نے دئیے جاتے پس منظر میں خودامریکی ایماء پاکستان میں امریکہ درمیان جنگ بندی مفاہمت کروانے میں ناکام امریکہ و اسرائیل کیا دربارہ ایران پر اپنے حملہ آوری مشن میں کامیاب ہوتے ہیں یا صاحب امریکہ اپنی عالمی ھیجے منی چودراہٹ دبدبہ ہی سے محروم زوال پزیر ہوتے ہیں اور ہٹلری نازی اسرائیل ارض فلسطین اپنی زبردستی قائم اپنی حمایت و حیثیت کھوئے اکلوتی قائم فلسطینی حکومت میں مجبورا” رہ پاتا ہے یا اپنے ناجائز باپ جو خود بھی فرنگی انگرئزی حکومت کے مجرموں و طوایفوں کو بسائی نوآبادیاتی امریکی علاقے میں پناہ لینے مجبور ہوتا ہے یہ دیکھنا باقی رہ جاتا ہے۔
ویسے ہر شروع ہونے والے حرب وجنگ پس منظر میں علماء کرام کی طرف سے امام مہدی کے ظہور اور قرب قیامت کے اثار دکھاتے مسلم امہ کو جو صدا ڈرتا جاتا ہے اس پس منظر میں احقر بھی یہ کہنے کا اہل نہیں ہے کہ امام مہدی کا نزول کب ہوگا اور قیامت کب ہوگی؟لیکن دنیا دیکھے اپنے تجربات کی روشنی میں,اور اہنے مطالعاتی آگہی ہمیں یہ کہنے کوئی تامل نہیں ہوتا کہ دنیوی ایک ہزار سال برابر اخروی ایک دن ہوتے پس منظر میں, اتنی جلدی قیامت نہیں آنے والی ہے کم از کم اگلے ہزار پچاس سال قبل, ھجری ڈھائی ہزارسال قبل تو قیامت نہیں آنے والی پے وما التوفیق الا باللہ
"اس سمت کئی سال پہلےہمارے لکھے اور متعدد مرتبہ چھپے مندرجہ ذیل مضمون کو پڑھنے سے ایک حد تک آگہی مل سکتی ہے”

دشمن اسلام سے یاری اور اپنوں سے غداری۔ "ناٹو” بمقابلہ "ماٹو”کیوں نہیں قائم کی جاتی ہے؟

یہ چمن بھی معمور ہوگا نغمہ توحید سے

دشمن اسلام سے یاری اور اپنوں سے غداری۔ "ناٹو” بمقابلہ "ماٹو” یا "موفا”کیوں نہیں قائم کی جاتی ہے؟

دشمن اسلام سے یاری اور اپنوں سے غداری۔ "ناٹو” بمقابلہ "ماٹو”کیوں نہیں قائم کی جاتی ہے؟


https://www.fsmedianetwork.com/social/75836/

دشمن اسلام سے یاری اور اپنوں سے غداری۔ "ناٹو” بمقابلہ "ماٹو”کیوں نہیں قائم کی جاتی ہے؟ 

Muslim Umma Force alliance "MUFA”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button