
ماسٹر آف ون کےبجائےماسٹر آف آل, اقوام ہی امامت عالم کی دعویداری میں سرخ رو ہوسکتی ہیں
۔ نقاش نائطی
۔ +966562677707
1445سال قبل خاتم الانبیاء سرورکونئین محمد مصطفی ﷺ نے, حرب کفار و مشرکین اپنی بقاء کے لئے, اس لاسلکی غیر ترقی یافتہ دور میں بھی, دشمن نقل وحرکت خبر رسانی کے وسیلے پیدا کر رکھے تھے۔اور کفار مکہ کے لشکر جرار, مسلمانون کی سرکوبی کے لئے, مدینہ کی طرف کوچ کر نکلنے کی خبر,ملنے کے بعد ہی, مدینہ ہی میں محصور رہے,دشمن کے لشکر جرار سے مدافعتی جنگ لڑنے کے بجائے, نساء کو جنگی ہزیمت آمان میں رکھنے ہی کے خاطر, اس وقت انہیں میسر حربی قوت, بڑے بوڑھے جوان بچوں پر مشتمل 313 نفری قوت کو ساتھ لئے, 150 کلو میٹر دور کا سنگلاخ صحرائی سفر پیدل طہ کئے, کچھ گھوڑوں, کچھ اونٹوں کے ساتھ مقام بدر پہاڑی کے دامن میں پہنچ, پہاڑی کے اوپر پہلے سے خیمہ زن, کفار قریش لشکر جرار سے دو دو ہاتھ لڑنے, وہیں پہاڑی کے دامن خیمہ زن ہوئے,اس غیر ترقی پزیر دور کے جنگی اوصول و آداب کا پاس و لحاظ رکھتے, دن کے اوقات شمس موجودگی میں, آپس میں لڑتے اور غروب آفتاب سے دوسرے دن طلوع آفتاب تک آرام فرماتے پس منظر میں, دوسرے دن صبح میدان جنگ کی فوجی پوزیش,اپنے صحابہ کرام کو سمجھائے, گویا کل حرب و جنگ کی صف بندی کرنے کے بعد ہی, آپ ﷺ اپنے عارضی خیمہ میں پہنچے, صلاةحاجت پڑھے, اللہ کے حضور جنگ حرب,حق وباطل میں مدد و نصرت کی دعا اپنے رب دوجہاں سے مانگی تھی۔آج کے ہم نام نہاد مسلمان, اپنی جہادی جذبات سےیکسر ماورا, اپنی آل اولاد کی پرورش فکر میں ہی مستغرق, دشمن اسلام کی طرف سے, مصیبت کے لمحات وارد ہونے پر, مدد خداوندی کی دہائی مانگنے والے ہم وقتی ادکے آگے سرخھائے مانگے فوری غیبی امداد آنے منتظر پائے جاتے ہیں۔ اب شیعہ ایران کی ہی دیکھ لیں, صرف ڈرون و میزائل سازی میں یکتائیت پائے مطمئین و مسرور ہوئے بیٹھنے کے بجائے, فی زمانہ حرب و جنگ میڈیا وار کھیل میں, اپنی پوری حصہ داری دئیے دشمنوں کی ہزیمت کی داستانیں خوبصورت انداز, اپنی و دشمن افواج عوام تک پہنچائے, تفکراتی ذہنی حربی بالادستی قائم کرنے میں, دشمن یہود و نصاری سے بھی آگے نکلے محسوس ہوتے ہیں۔ کسی بھی فلم کے سوپر ڈوپر ہٹ ہونے کے لئے, صرف معروف تر فلم ہیرو ہیروئین یا فلم ڈائرکٹر یا پروڈکشن ہاؤس کا نام ہونا ہی کافی نہیں ہوتاہے۔فلم کی کہانی, موسیقی, نغمہ نویسی, مکالمہ نویسی, منظر کشی, ہر اعتبار یکتائیت ہونی جیسے ضروری ہوتی ہے۔ عرب سنی حکمران کے پاس موجود فقط پیٹرو ڈالر اور دین و ایمان تک داؤ پر لگائے, ڈالر سے ڈالر کمانے کی صلاحیت فقط ہونا بس نہیں ہوتا ہے, موجودہ حرب و جنگ تمام تر اشکال مہارت لازم ملزوم ہوتی ہے وقت وحالات کے حساب سے, ملکی دوستی دشمنی کے اقدار بدلتے ہی رہتے ہیں۔ویسے تو عالم کے ہر ملک کے نیچے زیر زمین قدرت کے عطا پیٹرولیم سمیت دیگر معدنیاتی دھات دولت کے بھنڈار پڑے ہوئے ہیں لیکن پیٹرول چونکے مائع کی صورت زیر زمین موجود ہے اسلئے وقت وقت سے زمینی نچلی پرتین ہلتے, بڑے زلزے آتے, یہ پیٹرولیم بھنڈار ڈھلان کی طرف کھسکتے ایک ملکی سرحدوں سے دوسرے ملکی سرحدوں گھستے,بڑھتی گھٹتی رہتی ہیں۔ سو سال قبل عرب کھاڑی دیشوں کو قدرت کی طرف ذمینی دولت پیٹرول 3مارچ 1938مل جانے کی خبر امریکی و یورپی سائینسی تحقیقاتی اداروں کی معرفت انہیں معلوم ہونے کے بعد, یورپ و امریکہ کی لالچی نظریں عرب کھاڑی پر ٹکی ہوئی تھیں۔ یہ اس لئے عرب کھاڑی زمین میں ملنے والا پیٹرول عالمی سطح سب سے کم قیمت اخراجات حاصل کئے جانے کی وجہ کم قیمت ہوتا ہے
اس سے کچھ سال قبل, اس وقت کے عالم پر حکمرانی کررہے, برطانوی سامراجی حکومت یورپ و امریکہ کی ریشہ دوانیوں کے چلتے, یہود و نصاری مشترکہ حربی صلیبی گٹھ جوڑ اور مقامی عرب قبائلی امریکہ ساتھ و اشتراک یلغار کے چلتے, سکوت خلافت عثمانیہ بعد عظیم سلطنت عثمانیہ کو, بیسیوں زمینی ٹکڑوں میں تقسیم کئے, مختلف شریک حرب صلیبی یورپی ملکی حصے بخرے پر مشتمل کئی مملکتوں سمیت مختلف عرب مملکتوں کو وجود میں لایا جا چکا تھا۔ اور چونکہ ان آیام روس امریکہ و جاپان آپس میں لڑتے, حربی قوتوں کے درمیان جنگ دوران, جاپان کے امریکی پرل ہاربر حملے کے جواب میں,ایران پر ایٹم بم برسائے, انسانیت کا قاتل اعظم بنے,صاحب امریکہ, روس کی اشتراکی قوت کے سامنے, عالمی قوت کی صورت اپنی طاقت منوانے کامیاب ہوچکا تھا۔ اور تعلیم سے نابلد غریب و پس ماندہ ملکی طلباء میں تعلیمی افادیت عام کرنے کے بہانے, تعلیم حاصل کررہے, اسکولی بچوں میں, اپنی امریکی ایمبیسی کی واسطے سے, امداد کے بہانے, ناشتہ میں کنڈیسڈ دودھ ذبے اور کویک کیکروڈ کے ڈبے تقسیم کئے, عالم بھر کے ہزاروں ذہین طلبہ کو, مفت اعلی تعلیم دلوانے, اسکولرشب اسکیم, انہیں امریکہ لیجائے جاتے, بعد تعلیم انہیں امریکی نیشنیلٹی عنایت کئے, تعلیم یافتہ عالمی ذہین تر اذہان کا استعمال کئے, صاحب امریکہ جس قدر سائینسی تحقیقات ترقی پزیری, عالم انسانیت سربراہ بن بیٹھا تھا اس کےچلتے, کھاڑی کےمختلف عرب ممالک درمیان اس وقت کے برٹش حکمرانی ماتحت رہے فلسطینی علاقے میں, جرمنی و یورپی علاقوں سے زبردستی دربدر کئے گئے لاکھوں یہودیوں کو, سالوں کے دورانیے میں زبردستی فلسطین میں لابسا, معدنیاتی پیٹرول سے مالامال عرب ملکوں کےدرمیان, دو ملکی آزاد اسرائیل و فلسطین بنانے کے وعدے سے,14 مئی 1948 آزاد اسرائیل ملک بنوانے کامیابی حاصل کرتے ہوئے, اسرائیلی ملک کو دنیا جہاں کی حربی و معشیتی امداد دیتے ہوئے, اسرائیل کا ڈر اور خوف بنائے رکھے, سعودی فرمانروا فیصل بن عبدالعزیز کو, خود اسکے اپنے بھتیجے فیصل کے ہاتھوں شہید کروائے, عرب شاہوں کو بلیک میل کئے اسرائیل سے عرب ملکوں کی حفاظت کی ضمانت پر 1974 پیٹرو ڈالر پچاس سالہ عقد طوق غلامی عرب شاہوں کے گلے پہنا جاچکا تھا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ شروعات پچہتر اٹہتر سال قبل سے صاحب امریکہ کھاڑی عرب ممالک کے خدائی عنایت پیٹرول دولت کی حصہ داری استفادہ کررہا تھا۔ پھر اپنے ہی خودساختہ امریکی ٹوین ٹاور دہشت گردانہ زمین بوس کئے, اسکا الزام افغانستان میں پناہ لئے, آسامہ بن لادن پرڈالے افغانستانی پہاڑیروں کے نیچے قدرت کے بخشے زیر زمین ریر منرل کو ہتھیانے کی سعی ناتمام کی گئی تھی۔اور ابھرتی حربی قوت عراق کا خاتمہ کئے,اسکے تیل بھنڈار پر قبضہ جمانے ہی کے لئے, ماس ڈسٹرکشن ہتھیار عراق میں ہونے کا جھوٹا شوشا چھوڑے عراق پر اور پھر لیبیا پر فوج کشی کئے, انکے تیل کنوؤں پر ناجائز قبضے کئے گئے تھے
ابھی سال دو سال قبل 2024 میں اختتام پذیر ہوئے پیٹرو ڈالر عقدکو, سعودی فرماں روا محمد بن سلمان کی جرات و ہمت, تجدید نؤ انکار بعد، بیسیوں سال قبل والے اسرائیل ایران تنازعے کو زبردستی اٹھائے موجودہ عرب کھاڑی خطہ کو اسرائیل ایران حرب میں سلگائے, جلائے رکھے, ان عرب شاہان کو, ایک مرتبہ پھر پیٹرو ڈالر عقد تلے اسیر بنے جینے مجبور کیا جارہا ہے۔ ویسے اسرائیل و امریکہ کی مشترکہ ایران مخالف حملہ آوری شروع کی گئی حرب شروعات میں, ایران کو اور عرب ممالک کی طرح لقمہ تر سمجھتے ہوئے,دو چار دنوں کی ایران پر خطرناک بمباری کئے اور انکے مذہبی پیشوا 87 سالہ آیت اللہ خامنہ ای سمیت مختلف حکومتی لیڈروں جرنیلوں کو شہید کئے جانے کے بعد, سوچا یہی گیا تھا, کہ عراق و لیبیا میں اندروں خانہ غدار پیدا کئے جیسا,کچھ دنوں میں سکوت ایران سازش عملی جامہ پہنایا جاسکےگا۔ لیکن صاحب امریکہ کے,اپنے دوست ممالک عراق و لیبیا, شام و لبنان پر یلغار کئے,انکے پیڑول ذخائر لوٹ کھسوٹ انہیں تباہ و برباد کئے پس منظر میں, مستقبل میں, اپنی باری آتے دیکھ, امریکہ کی طرف سے, سابقہ پچاس سالہ عالمی تجارتی و معشیتی پابندیوں کے باوجود, اپنے میں اسلامی جہادی جذبات سرشار رکھے, میزائیل و ڈرون سازی صنعت یکتائیت حاصل کئے, چائینا و روس کے اشتراک سے میگنیٹک پلز, لہریاتی طرز ہتھیار سازی میں بھی مہارت حاصل کئے۔ کل تک کا کمزور تر سمجھا جانے والا شیعہ ملک ایران, یہود و نصاری عالمِی قوتوں کو, متحیر القل انگشت بدنداں چھوڑا ہے۔ ابھی تک کی ایک ماہی جنگ میں یہود و نصاری عالمی حربی قوتوں کے مقابلے, امریکہ اسرائیل خطرناک ترین ہوائی بمباری, خود ایران تباہ و برباد ہوتے دکھائی دیتے پس منظر میں بھی, اپنے سلگتے جلتے جلاتے ڈرون و میزائل ہتھیار کثرت استعمال,امریکہ و اسرائل کے ساتھ امریکی حربی یلغار اتحادی سنی عرب ممالک کو بھی جس رفتار و انداز سے نقصان عظیم سے دوچار کررہا ہے, اس سے نہئں لگتا کہ یہ عالمی یہود و نصاری سنی عرب شاہان حربی اتحاد کچھ اور دن ایرانی حربی حکمت عملی, خصوصا” پیٹرول گیس دیگر اشیاء ضروریات ترسیل راہ گرز ابنائے ہرمز نقل و حرکت بند کئے جاتے اور کچھ دنوں بعد اپنے اتحادی یمن حوثی مجاہدین کے تعاون سے, باب المندب راہ گزر کو بھی بند کئے جاتے,ایران اپنے مخالفین حربی اتحاد کو اسکے سامنے سرنگوں ہونے مجبور کردیگا۔ ایران مخالف اتحاد کے پاس ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کئے, ایران کو صفحہ سے مٹائے مستقبل میں,ان سنی عرب شیوغ کو اپنا غلام بنائے رکھنے کا فقط یہی ایک جواز باقی یے۔ لیکن صاحب امریکہ کے حربی و معشیتی فرئق مخالف روس و شمالی کوریا کے, ایران کے حربی و معشیتی شریک رہتے پس منظر میں, اسرائیل و امریکہ کی طرف سے, ایٹمی ہتھیار استعمال کئے جانے کی صورت, ایران کے مخالفین اسرائیل و امریکہ کے خلاف ایٹمی ہتھیار استمال کرنے کی, روس و شمالی کوریاکی طرف سے دی گئی دھمکی بعد, نہیں لگتا اسرائیل و امریکہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے جرات کر پائیں گے۔ اس پس منظر میں صاحب امریکہ کو باوجود اپنے بہٹ بڑے حربی آلات و جہاز نقصان کے, ابنائے ہرمز راہداری پر ایران کے ٹول ٹیکس اوصول کرتے عمل میں, کچھ فیصد شراکت داری حاصل کئے,اپنی ساکھ بچائے واپس بھاگنے ہی میں امریکہ کو عافیت نظر آرہی ہے۔اسی لئے پاکستان میں ترکیہ مصر سعودیہ مل بیٹھ دونوں; مشغول حرب فریق درمیان جنگ بندی معاہدہ کرنے مصروف نظر آتے ہیں۔ایک مرتبہ ابنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو, ٹول ٹیکس لگائے, ایران کو مستفید ہونے دیا جائیگا تو, بحر احمر باب المندب سے گزرتے جہازوں پر ٹول ٹیکس لگانے یمن کی مانگ بھی سامنے آسکتی ہے۔ اس لئے ہمیں نہیں لگتا پاکستان میں مصروف و پیہم تین ملکی جنگ بندی کا حل کوئی سامنے آسکتا ہے۔اور بالفرض محال جنگ بندی نہیں یھی ہوپاتی ہے تب, صاحب امریکہ کو اپنی ساکھ بچانے ایران پر فوجی پیش قدمی کرنی پڑے گی۔ امریکہ کی فوجی پیش قدمی پر آزاد ملک یمن ایران کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان پلے ہی کرچکا ہے۔ اور امریکہ کی طرف سے جنگی پیش قدمی میں اسرائیل نواز کرد نزاد عراقی افواج کی شمولیت پر, برادر اسلامی ملک ترکیہ نے بھی ایران کی تائید میں جنگ میں اترنے کا اعلان کردیا یے۔ تین دن قبل جمعہ کے دن امریکی سرزمین ہی پر, سعودی عربیہ تعاون سے ہورہی امریکی تجارتی شراکتی کانفرنس دوران,صدر امریکہ نے, اپنے شریک حرب و جنگ سعودی عربیہ کے سربراہ محمد بن سلمان کی جس نوع عالمِی میڈیا پر ہتک و بے عزتی کی ہے اس کے بعد تو یہ سنی عرب شاہان, امریکہ کے ساتھ اپنے حربی عہد و پیمان کو یکسر نظر انداز کئے, یمن و ترکیہ طرز ایران کی ہمنوائی کا اعلان کرتے ہیں تو اسرائیل و امریکہ کیطرف سے ایران پر زبردستی نازل کی گئی اس حرب میں اسرائیل و امریکہ کو شرمناک شکست فاش سے کوئی بھی !نہیں, نہیں روک سکتا ہے۔ اور ایسا کرنے سے یہ تمام عرب ممالک امریکی غلامی سے بھی یکسر آزاد ہوئے پائے جاسکتے ہیں۔ اور کروڑہا کروڑ صاحب امریکہ کو سابقہ پچاس سال سے دئے جانے والے غنڈہ ٹیکس سے بھی آمان پائے نیٹو طرز مسلم ممالک متحدہ مشترکہ افواج قائم کئے, صدا اسرائیلی ڈر و خوف سے ماورائیت حاصل کی جاسکتی ہے
اللہ ہی سے دعا ہے کہ وہ اس ایران امریکہ اسرائیل حرب و جنگ کو مفاہمتی شرائط کے ساتھ امت مسلمہ, اپنے وقار بقاء کے ساتھ جنگ بندی عقد پایہ تکمیل تک پہنچادے اورہم مسلم امہ کو, اپنے دین اسلام اقدار کے ساتھ ہی ساتھ قول خدا اور عمل خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ, جہادی جذبات سے سرشار موجودہ زمانے کے جنگ و حرب میزائیل و ڈرون سازی, جنگی بمبار ہوائی و بحری رسدگاہوں سمیت, ہر اعتبار عصری علوم حرب اقدار یکتائیت حاصل کئے, دنیا و آخرت سرخروئی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمادے۔ وما التوفق الا باللہ
مکافات عمل، دنیا گول است اپنے ظلم و ستم کو لوٹ آنے دیر تھوڑی نا لگتی ہے؟
https://www.facebook.com/reel/2048517596005533/?mibextid=rS40aB7S9Ucbxw6v
ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار نہ استعمال کرنےروس و جنوبی کوریا کی اسرائیل و امریکہ لو دھمکی
https://www.facebook.com/share/p/1C7nABuWpL/
خود کی لغزشوں سے ہوئے ایران پر حملے جوابی کاروائی نقصانات بھرپائی بھی پیٹرو ڈالر ممالک سے, ٹرمپ کا فرمان
https://www.facebook.com/share/p/1CeSuw3tnQ/
اسرائیل و امریکہ ایران کے مقابلے اپنی شکشت فاش ہوتے دیکھ, ایران پر ایٹمی حملہ کرتے ہوئے, ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے منصوبے بنارہے ہیں۔ ابن بھٹکلی
https://www.facebook.com/share/p/18kkEGDcqk/
سائبر میڈیا شریر انگلیوں کا شرارتی کاری وار,دشمن کے لئے میزائیل و ڈروں حملوں سے بھی گھاتک https://www.facebook.com/share/p/173hq8RmMj/



