
تیل کی معیشت اور عالم اسلام کی حرمت
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
یہ 2013 کی بات ہے کہ دنیا میں یہ شور مچا تھا کہ تیل کی معیشت بے معنی ہو گئی ہے۔ اس سے قبل 1901 سے ہی پیٹرول، دنیا بھر کی توانائی کی لازمی ضرورت بن چکا تھا۔ اس وقت تیل کی صنعت پر امریکہ اور برطانیہ کا غلبہ تھا ۔لیکن 1932 کے آس پاس بحرین، ایران اور سعودی عرب میں بے تحاشہ تیل کے کنوووں کی دریافت نے بتدریج عرب ممالک کو تیل کا بادشاہ بنا دیا اور عرب ممالک کا نقشہ ہی بدل دیا ۔نتیجے میں امریکہ کا تسلط بھی کمزور پڑ گیا ۔لیکن 2012 میں عراق کے موصل میں ابوبکر بغدادی نے اپنی فرضی خلافت کا اعلان کر کے داعش (آئی ایس آئی ایس )کو منظر عام پر لایا۔داعش کے قیام کے پیچھے بھی امریکہ اور اسرائیل کی ایجنسیاں ہی تھیں۔ اگلے سال 2013 سے ہی داعش نے عراق اور سیریا کے اہم ترین تیل کے کنووں پر قبضہ کر لیا اور تیل کی لوٹ مچا دی ۔اس کے قیام کے جو چار اہم مقاصد تھے ان میں سے ایک تیل کو برباد کرنا بھی تھا۔ اس زمانے میں کہ جب تیل کی قیمت طے کرنے والے عالمی ادارے اوپیک کے ذریعے تیل تقریبا 80 ڈالر فی بیرل بیچا جا رہا تھا، داعش نےمحض 46 ڈالر پر بیچنا شروع کر دیا ۔اسے خریدنے والوں میں ترکی ۔چین ۔روس اور خود امریکہ کے ٹینکروں کی کئی کئی کلومیٹر کی لائنیں لگ گئیں ۔مجبورا اوپیک کو بھی اپنے تیل کی قیمت کم کرنی پڑی چنانچہ داعش نے بھی قیمت مزید کم کر دی اور محض 12 ڈالر پر تیل بیچنا شروع کر دیا ،جبکہ اوپیک 30 ڈالر کے نیچے نہیں آپایا۔ 2014 میں تیل کی قیمت 1996 اور 2008 کے بعد کم ترین تھی ۔جس کے نتیجے میں دنیا کو عالمی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس موقع سے فائدہ اٹھا کر امریکہ نے بھی اپنے روزمرہ تیل کی ترسیل میں اضافہ کر دیا اور یہ پروپیگنڈا بھی شروع کیا کہ توانائی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے تیل پر انحصار کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی ۔اس پروپیگنڈا نے عربوں میں خلجان پیدا کیا اور انہوں نے اپنے اقتصادیات کو بحال رکھنے کے لیے تیل کے متبادل ذرائع پر توجہ دینی شروع کر دی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی عرب نے ویژن 2030 کا پروگرام بنایا ،سیاحت اور تعلیم کے شعبے میں ترقی کا نیا سفر شروع کیا، دبئی عالمی منڈی بن گیا، قطر، کویت اور بحرین نے بھی سیاحت کو متبادل کے طور پر بڑھاوا دیا۔ ادھر عراق پر جنگ مسلط کر کے تیل کو لوٹا گیا اور متبادل معیشت کو بھی اختیار نہیں کرنے دیا گیا۔ ایران پر تو عالمی اقتصادی ناکہ بندی 1980 کے بعد سے ہی جاری رہی۔ 2021 میں کورونا کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ ہوا اور یہ گزشتہ سال تک 70 ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کا بڑا سبب اس زمرے میں امریکہ کے شمولیت تھی کہ جس نے 2018 سے ہی اپنے تیل کی ترسیل میں اضافہ کر دیا تھا ۔اس سال مارچ میں ایران پر امریکی واسرائیلی حملے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو جانے اور بحر احمر میں حوثیوں کے باب مندب پر قبضے کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ آج کل یہ قیمت 119 ڈالر کے قریب ہے جو دنیا میں اپنی تاریخ کی سب سے مہنگی قیمت ہے ۔اس اضافے نے ساری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور روزمرہ کی زندگی کے ہر شعبے پر اس کا اثر پڑ رہا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تیل کی معیشت آج بھی دنیا کی اہم ترین معیشت ہے، جس کے بغیر دنیا کا گزارا ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے چند روز قبل جموں کشمیر سے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے کہا تھا کہ گزشتہ 47 سال سے دنیا ایران کی ناکہ بندی کیے ہوئے تھی تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ،لیکن محض تین ہفتے ایران نے تیل کی ناکہ بندی کر دی تو ساری دنیا لرز اٹھی۔
آج کی دنیا میں ترقی کے لیے اہم ترین ضرورت توانائی کی ہے ۔اس وقت دنیا کے پاس توانائی حاصل کرنے کے کئی متبادل موجود ہیں۔ جن میں سب سے اہم زمینی ایندھن ہے۔ جس میں کوئلہ، تیل اور گیس شامل ہیں۔ دنیا میں استعمال کی جانے والی کل توانائی کا 80 فیصد اسی زمینی ایندھن( فوسل فیول)سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ بقیہ 20 فیصد میں 10 فیصد ایٹمی توانائی یعنی نیوکلیئر انرجی سے حاصل کیا جاتا ہے ۔جبکہ پانی ہوا اور سورج کے ذریعے سے آٹھ فیصد توانائی ملتی ہے۔ دو فیصد سے بھی کم انرجی گوبر گیس (نالی والی گیس) یا لیتھیم بیٹری سے حاصل کی جاتی ہے۔
کل توانائی میں سے 45 فیصد صنعتوں میں، 35 فیصد گاڑیوں اور انجنوں میں، 20 فیصد گھریلو استعمال میں آتی ہے۔ یعنی عالمی اقتصادیات کو پٹری پر رکھنے کے لیے توانائی لازمی ہے۔ اس میں بھی سب سے زیادہ اہم تیل ہے کہ زمینی ایندھن کا سب سے بڑا 35 فیصد حصہ تیل سے حاصل ہوتا ہے جبکہ کوئلہ سے 26 فیصد اور گیس سے 24 فیصد ملتا ہے۔ آج کی دنیا میں روزمرہ کی توانائی کی کل کھپت اتنی زیادہ ہے کہ اسے ناپ کر عام انسانی سمجھ کے مطابق بیان کرنا مشکل ہے، بس اتنا سمجھا جا سکتا ہے کہ روزانہ کھربوں میگا واٹ انرجی کی ضرورت ہے اور اسی کا 80 فیصد تیل ،گیس اور کوئلے سے ملتا ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ تیل فروخت کرنے والے 10 بڑے ممالک میں پہلا نمبر امریکہ کا ہے ۔لیکن ان میں چار اہم ممالک میں ایران اور عرب شامل ہیں۔ ۸۷بلین بیرل یومیہ تیل کی فروخت میں 37 فیصد تیل تنہا ایران اور عرب سے آتا ہے۔ صرف آبنائے ہرمزاور باب المندب بند ہو جانے سے دنیا کو 40 فیصد تیل سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ گیس اور دیگر اشیاء اس کے علاوہ ہیں۔ یعنی 60 فیصد دنیا چند دن میں ہی بے دست وپا ہو جائے گی ۔مسئلہ صرف اتنا ہی نہیں ہے اس سے بھی اہم یہ ہے کہ دنیا میں تیل کے جو ذخائر ابھی موجودہیں ان میں بھی ایران اور عرب کے پاس مستقبل کا 79 فیصدذخیرہ موجود ہے، جبکہ امریکہ جیسے ممالک کے پاس محض چار فیصد رہ گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر نئے کنویں دریافت نہ ہوئے تو ۲۰۴۰تک دنیا میں تیل ختم ہو جائے گا ۔ 2050 تک گیس بھی ختم ہو جائے گی۔ البتہ کوئلہ ابھی سو سال تک اور موجود رہے گا ۔ اسی لیے دنیا ایٹمی توانائی میں اضافے کی مسلسل جدوجہد کر رہی ہے ۔دنیا کے سائنسدان کہتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور کثافت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ زمینی ایندھن کا بے دریغ استعمال ہے۔ سب سے زیادہ کثافت کوئلے سے پھر تیل اور سب سے کم گیس سے پیدا ہوتی ہے۔ توانائی کے محفوظ متبادلات میں سے ایٹمی توانائی کو سب سے اہم مانا جاتا ہے ۔مگر اس کی فی یونٹ قیمت بہت زیادہ اور پیداوار سر دست تو بہت ہی کم ہے۔ اس لیے تیل پر ہی دنیا کو منحصر رہنا پڑے گا۔
توانائی کے مذکورہ بالا پس منظر کو سمجھنے کے بعد یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ حالیہ اسرائیل امریکہ اور ایران جنگ کا تناظر کیا ہے۔ اللہ نے مسلم ممالک کو بے تحاشہ وسائل سے مالا مال کیا ہے ۔تیل ، گیس ہوں یا سونے ، ہیرے جیسی سینکڑوں قسم کی قیمتی معدینیات یا پھر سمندر، پہاڑ، ریگستان ،موسم اور انسانی وسائل ،دنیا کی ضرورت کی تمام اہم ترین چیزیں مسلم ممالک کی زمین کے نیچے ہی پوشیدہ ہیں ۔عرب ایران اور افریقی مسلم ممالک سے زیادہ دولت دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ اسلامو فوبیا پھیلا کر دنیا کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کرنے کے پیچھے یہی لالچ کار فرما ہے، اور یہی سبب ہے کہ کبھی مشرقی وسطی کبھی افریقہ لگاتار بے چینی، افرا تفری اور جنگ کا شکار ہیں۔ اس میں سے ہر ایک کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے ، جو اب سب کے سامنے بہت واضح اور ثابت شدہ ہے۔ انفرادی ممالک کی تفصیلات پھر کبھی ۔
1300 سال کے مسلم دور حکومت میں توانائی اور وسائل یکساں طور پر سب کی پہنچ میں تھے۔ اس دوران کسی بڑےقتل عام یا عالمی جنگ کی بھی کوئی تاریخ نہیں ملتی ۔عالمی مسائل بھی کم تھے۔لیکن ۱۹۲۳ میں عالمی مسلم حکمرانی کے خاتمے کے بعد ان وسائل پر قبضے اور تسلط کی دوڑنے ساری دنیا کو بدامنی ،دہشت کے سائے میں لا کھڑا کیا ۔گزشتہ سو سال میں دو خطرناک عالمی جنگیں اور دسیوں کروڑ لوگوں کا قتل اور اتنے ہی بے گھر ہوئےہیں، اور جنگ ابھی جاری ہے۔
حالیہ ایران جنگ اسی شورش کا فیصلہ کن مرحلہ محسوس ہوتی ہے۔ ایران جہاں ایک طرف تیل ،گیس، سمندر، پہاڑ اور بہترین انسانی وسائل سے مالا مال ہے وہیں وہ ایک مذہبی حکومت بھی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا کھلم کھلا مخالف بھی ہے۔ اسی لئے آنکھ کی سب سے بڑی کرکری بھی ہے۔ اس وقت ایران کے سقوط کا مطلب عرب و افریقہ کے تمام مسلم ممالک کی عملی غلامی ہوگا۔
2001 میں جارج بش اول نے کھلے عام اعلان کیا تھا کہ وہ اب کروسیڈ( عیسائی جہاد )کریں گے ۔ اگلے 20 سال اس جہاد کے مناظر اور نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔ اب 27 مارچ کو امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے امریکہ کے سب سے بڑے جنگی ادارے پینٹاگون میں کھڑے ہو کر کھلے عام اعلان کیا کہ حالیہ جنگ محض ایران کی جنگ نہیں ہے نہ ہی یہ شیعہ یا سنی کی جنگ ہے ،بلکہ اسلام کے ساتھ جنگ ہے ۔اور جہاں کہیں بھی اسلام ہے وہاں وہاں ہم جنگ کریں گے۔ جب تک کہ ہم اسلام کو مٹا نہ دیں۔ یہ بیان انٹرنیٹ پر موجود ہے ۔ اس کی تردید امریکی حکومت کی جانب سے نہیں کی گئی اقوام عالم نے بھی خاموشی اختیار کی ہے، البتہ اس بیان کی بہت تشہیر بھی نہیں کی گئی ۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ہم یہ بات کہتے تھے تو عموما لوگ اسے ناپسند کرتے تھے، لیکن اب صورتحال بہت واضح ہے آج ظلم و ظالم، حق و باطل بہت واضح ہیں۔ سب کے لیے طے کرنا آسان ہے کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں یا باطل کے ساتھ۔ عالم اسلام عوامی طور پر متحد ہے، لیکن اس کے حکمرانوں پر سوالیہ نشان ہے۔ ہر چند کچھ ممالک کے مابین سرحدی اور اقتصادی مسائل موجود ہیں، لیکن وہ اتنےبھی اہم نہیں ہیں کہ سینہ زور باطل کے سامنے متحد ہونے کے لیے انہیں نظر انداز نہ کیا جا سکے ۔تیل ہو یا انٹرنیٹ کے زیر سمندر بچھے ہوئے کیبل، دونوں اہم ترین جنگی ہتھیار ہیں، جو صرف عالم اسلام کی مٹھی میں ہیں،متحدہ عالم اسلام باطل کو آج بھی زمیں بوس کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیل کاونسل کے صدر ہیں )
[email protected]




