
کیا واقعی علی خامنہ ای ظالم تھے ؟ یا تاریخ کو غلط پیش کیا جارہا ہے ؟
احساس نایاب شیموگہ ۔۔۔
ہمارا یہ مضمون اپنے اُن بھائیوں کے نام ہے جو ایران اور وہاں کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نیت پر شک کرتے ہیں !
آج کچھ لوگ بڑے اعتماد کے ساتھ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای ظالم تھے یا اسلام اور مسلمانوں کے ہمدرد ؟؟؟
یہ سوال بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک پوری فضا بنائی جا رہی ہے، ایسی فضا جس میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بدظن کیا جائے، دلوں میں شکوک کے بیج بوئے جائیں اور امت کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں مزید کھُرید کر ناسور کیا جائے۔
یہ سچ ہے کہ تاریخ میں کچھ ایسے دردناک واقعات گزرے ہیں جنہیں بنیاد بنا کر ایران پر تنقید کی جاتی ہے۔
جیسے شام کی جنگ کا ذکر کیا جاتا ہے، جہاں ایران نے "بشارالاسد” کی حمایت کی تھی۔ عراق کے حالات کو دلیل بنایا جاتا ہے۔ اور پھر انہی واقعات کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایران اور علی خامنہ ای لاکھوں سنی مسلمانوں کے قاتل ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ کو صرف ایک رخ سے دیکھ لینا انصاف ہے ؟؟؟
کیا جنگوں کے پیچیدہ حالات کو نظر انداز کر کے صرف ایک کردار کو مجرم ٹھہرا دینا دیانت داری ہے ؟؟؟
اگر یہی اصول بنا لیا جائے، کسی کی نیت کو دیکھنے کا یہی پیمانہ ہے کہ جو جس حکومت کی حمایت کرے گا وہ اس کے تمام مظالم کا ذمہ دار ہوگا، تو پھر یہی اصول ان مسلم حکومتوں پر بھی لاگو ہونے چاہیے جنہوں نے برسوں سے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو کر نہ صرف سیاسی اتحاد قائم کئے بلکہ ان کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھائے اور انہیں اپنے ممالک میں فوجی اڈے تک فراہم کئے۔۔۔
وہی فوجی اڈے جہاں سے مشرق وسطی کی جنگوں کے منصوبے بنے۔
وہی اڈے جہاں سے ایران اور فلسطین کے خلاف کارروائیوں کی راہیں ہموار ہوئیں۔۔۔
وہی اڈے جن کے سائے میں غزہ اور فلسطین کے لاکھوں مظلوم بچوں کا خون بہتا رہا۔ اُن کے ننھے جسم باروڈ کے ڈھیر میں بکھر گئے۔
اگر مقصد کسی پر الزام لگانا ہی ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ترازو ایک ہی ہو۔
پھر یہ سوال بھی اٹھے گا کہ لاکھوں فلسطینیوں کے خون کا حساب صرف اسرائیل اور امریکہ جیسے اسلام دشمن ممالک سے لیا جائے گا یا ان خاموش مسلم حکمرانوں سے بھی جنہوں نے اپنی کرسیوں اور مفادات کے لئے ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کی ؟
اور معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی پر خاموش تماش بین ہی نہیں بنے، بلکہ ننھی لاشوں پر عیاشیاں بھی کرتے نظر آئے۔۔۔۔
اگر سُنی مسلمانوں کے قتل کی ذمہ داری ایران اور علی خامنہ پر آتی ہے، تو فلسطین و غزہ قتلِ عام کی ذمہ داری مسلم عرب ممالک پر کیوں نہیں ؟؟؟
الحمدللہ ہم بھی سُنی مسلمان ہیں،
اور ہم پوری ایمانداری سے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ 57 مسلم ممالک کے سامنے جس وقت فلسطین تنہا جل رہا تھا، اُس وقت اُن کے حق مین دشمن کو للکارنے والا اگر کوئی تھا تو وہ 86 سالہ مرد مجاہد ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای
ہم اس حقیقت کو بھی کبھی فراموش نہیں کرسکتے کہ جب پوری دنیا غزہ کے ملبوں سے اٹھتے دھوئیں کو دیکھ رہی تھی، جب معصوم بچے لاشوں میں بدل رہے تھے، جب مائیں اپنے شہید بچوں کے جسموں کو سینے سے لگا کر آسمان کی طرف فریاد کر رہی تھیں، تب اکثر مسلم حکمران خاموش تھے۔ ان کے ایوانوں میں سکوت تھا، ان کی زبانوں پر مصلحتوں کی مہر لگی ہوئی تھی۔
مگر اسی دوران کچھ آوازیں ایسی بھی تھیں جو کھل کر مظلومین کے ساتھ کھڑی ہوئیں۔ ان آوازوں میں ایران کی آواز بھی شامل تھی۔ اور
یہ بھی یاد رکھیے کہ فلسطین کے مسلمان سنی ہیں۔ اگر واقعی کسی کو سنی مسلمانوں کے خون کا درد ہے تو اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان سنی مسلمانوں کے ساتھ کھڑا کون تھا اور خاموش کون تھا۔۔۔
تاریخ اسلام ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتی ہے۔
قبول اسلام سے پہلے عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے سخت مخالفین میں شمار ہوتے تھے۔ وہی عمر جو ایک وقت میں رسول ﷺ کو قتل کرنے کے ارادے سے نکلے تھے، بعد میں اسلام کے سب سے بڑے محافظ اور خلیفہ بنے۔ اللہ سبحان تعالیٰ جسے چاہے عزت دے دیتا ہے اور جسے چاہے اپنے دین کی خدمت کے لئے منتخب کر لیتا ہے۔
اسلام کی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حق اور باطل کی جنگیں ہمیشہ آسان نہیں ہوتیں۔
کربلا کی سرزمین اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ وہاں حُسین ابن علی رضی اللہ عنہ نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانا قبول کیا۔ کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق کا ساتھ دینا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، مگر یہی ایمان کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔
اسی طرح رمضان کی سترہ تاریخ کا وہ دن بھی تاریخ اسلام کا سنہرا باب ہے جب صرف 313 کمزور اور کم وسائل رکھنے والے مسلمانوں نے ایک بڑی طاقت کے مقابلے میں میدان میں قدم رکھا اور جنگ بدر میں اللہ کی نصرت نے انہیں سرخرو کیا۔
وہ جنگ صرف تلواروں کی جنگ نہیں تھی، وہ ایمان اور یقین کی جنگ تھی۔
وہ جنگ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق ہمیشہ تعداد اور طاقت سے نہیں جیتتا بلکہ ایمان اور استقامت سے جیتتا ہے۔
آج کی جنگ بھی کفر اور ایمان کی جنگ ہے، دنیا ایک بار پھر ایک بڑے امتحان کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف طاقتور قوتیں ہیں، جدید ہتھیار ہیں، عالمی اتحاد ہیں اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔
ایسے وقت میں مسلمانوں کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو ہوا دیں گے یا حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
یہ دور فتنوں کا دور ہے۔ یہاں آدھی سچائیاں پوری حقیقت بنا کر پیش کی جاتی ہیں، چند واقعات کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔
اور ایسی گھٹیا سازشین سو ہماری تاریخ بھری پڑی ہے،
مگر یاد رکھئے، اگر امت آپس میں ہی لڑتی رہی تو دشمن کو جنگ جیتنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔
اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں، مظلومین کا ساتھ دیں اور باطل کے مقابلے میں حق کی آواز بنیں۔
کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب مسلمان اپنے مقصد کو بھول جاتے ہیں تو ان کے زخم دشمن نہیں بلکہ ان کی اپنی تفرقہ بازی گہری کر دیتی ہے۔
اور شاید اسی لئے اہل بصیرت ہمیشہ کہتے ہیں
فتنوں کے اس زمانے میں سب سے بڑی عبادت یہی ہے کہ انسان اپنے ایمان کو بچائے، امت کو تقسیم ہونے سے بچائے اور حق کے ساتھ کھڑا رہے۔۔۔
جو لوگ ہر وقت مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے میں لگے رہتے ہیں، وہ چاہے شعوری طور پر کریں یا غیر شعوری طور پر، مگر فائدہ ہمیشہ دشمن کو ہی پہنچتا ہے۔
اگر کوئی صرف ایک ملک یا ایک شخصیت کے خلاف نفرت کو ہوا دے کر پوری امت کو تقسیم کرنا چاہتا ہے، تو یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اس تقسیم سے فائدہ کس کو ہوگا؟
کیا یہ وہی طاقتیں نہیں جو برسوں سے چاہتی ہیں کہ مسلمان فرقوں، قوموں اور ریاستوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑتے رہیں؟
یاد رکھئے —
جب کربلا میں حُسین نے ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا تھا تو ان کے پاس دنیاوی طاقت نہیں تھی، مگر حق ان کے ساتھ تھا۔
جب 313 کمزور مسلمان جنگ بدر کے میدان میں نکلے تھے تو ان کے پاس بڑی فوج نہیں تھی، مگر ایمان کی طاقت تھی۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ
حق کبھی تعداد سے نہیں جیتتا،
حق ہمیشہ ایمان، صبر اور استقامت سے جیتتا ہے۔
اس لئے اگر آج بھی کوئی شخص مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کے بجائے حق اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کی دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت پر شک کرنے سے پہلے اپنے دل سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم تاریخ کے نام پر نفرت کو زندہ کر رہے ہیں اور دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں؟
کیونکہ یاد رکھئے ۔
امت کو سب سے زیادہ نقصان دشمنوں کی تلواروں سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے باہمی بغض اور بدگمانیوں سے پہنچا ہے۔۔۔۔
اگر پھر بھی کوئی یہ کہے کہ ایران سُنی مسلمانوں کے قتل کا ذمہ دار ہے تو اُن سے یہ ضرور پوچھا جائے کہ فلسطین کے لاکھوں سُنی مسلمانوں کے قتل کا ذمہ دار کون ہے ؟؟؟
اور وہ کون سا غیور ملک ہے جس نے اُن کے حق میں دشمنان اسلام کو للکارا اور مصلحت کے بجائے آگ اور خون میں کود گیا ؟؟؟



