
صدر امریکہ کے نام کھلا خط
سہیل انجم، نئی دہلی
’جناب صدر آپ تو ہمارے وزیر اعظم کے دوست ہیں۔ انھیں مائی ڈیئر فرینڈ کہتے ہیں۔ وہ بھی آپ کو ایسی ہی عزت دیتے ہیں۔ انھوں نے آپ کے ملک میں جا کر پچاس ہزار ہندوستانی تارکین وطن کے سامنے ’ہاوڈی مودی‘ پروگرام میں آپ کے لیے ووٹ مانگے تھے۔ آج تک کسی بھی سربراہ ملک نے ایسا نہیں کیا۔ انھوں نے احمد آباد کے ایک عظیم الشان اسٹیڈیم میں سوا لاکھ سامعین کی موجودگی میں ’نمستے ٹرمپ‘ پروگرام کرکے آپ کی عزت افزائی کی۔ ہندوستان کے دورے پر آپ کو یہاں کوئی بدنما چیز نظر نہ آ جائے اس کے لیے اپنے ہی غریب شہریوں کی رہائش گاہوں کو چار دیواری سے گھیر دیا گیا اور پردے لگا دیے گئے۔ یہاں تک کہ انتخابات میں آپ کی کامیابی کے لیے پوجا بھی کی گئی۔ لیکن آپ نے کسی بات کو اہمیت نہیں دی۔ ہندوستانیوں نے آپ کے لیے کیا کیا نہیں کیا۔ لیکن آپ ہیں کہ ہندوستان کو مسلسل بے عزت اور رسوا کیے جا رہے ہیں۔ ‘
’جناب صدر یہ ایک محب وطن ہندوستانی کے احساسات ہیں جو آپ تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ پتہ نہیں آپ ان احساسات کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے یا نہیں۔ ویسے آپ کا جو گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ والا کردار ہے اس کے پیش نظر تو ایسا نہیں لگتا کہ آپ ان احساسات کو سمجھ پائیں گے یا ان کو اہمیت دیں گے۔ لیکن بہرحال ہم تمام ہندوستانیوں کی جانب سے آپ کی خدمت میں اپنے جذبات کا تحفہ پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس سے قبل بھی آپ نے ہندوستان اور یہاں کے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں توہین آمیز بیانات دیے ہیں۔ لیکن نہ تو وزیر اعظم نے اور نہ ہی ہندوستانیوں نے کوئی ردعمل ظاہر کیا۔ حالانکہ کرنا چاہیے تھا۔ اب جبکہ آپ نے ہندوستان کو ’دوزخ نما‘ قرار دیا ہے تو بھلا بتائیے کہ کوئی ہندوستانی اسے کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ کسی بھی شخص کو اپنے وطن سے بہت پیار ہوتا ہے۔ خواہ وہاں اس کو کتنے ہی مصائب کیوں نہ جھلنے پڑیں۔ ہمیں بھی اپنے وطن سے پیار ہے۔ ہم یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ آپ ہمارے ملک کو دوزخ نما، دوزخ یا گندہ ترین ملک بتائیں۔ حالانکہ جب آپ کے ملک کے پوڈکاسٹر مائیکل سیویج نے ہندوستان کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے اسے کرہ ارض پر دوزخ نما قرار دیا تو اسی وقت آپ کو ان کی سرزنش کرنی چاہیے تھی۔ لیکن آپ نے سرزنش کرنے کے بجائے ان کے تبصرے کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔ ایک بار نہیں دو دو بار کیا۔ ہندوستان نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نامناسب، بد مزہ اور ہندوستان کے بارے میں عدم واقفیت پر مبنی قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے بالکل صحیح کہا ہے کہ یہ بیان ہندوستان اور امریکہ کے باہمی رشتوں کا ترجمان نہیں ہے۔ باہمی رشتہ تو ایک دوسرے کے احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔ دونوں ملکوں میں اسٹریٹجک تعلقات بھی ہیں اور دونوں اکثر و بیشتر باہمی تعلقات کو مزید بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر امریکہ کے سربراہ کی جانب سے ہی ایسا بیان دیا جائے گا تو باہمی رشتے کہاں تک پروان چڑھیں گے۔‘
’یہاں کی اپوزیشن نے اسے بجا طور پر انتہائی توہین آمیز اور ہند مخالف بیان قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق اس بیان نے ہر ہندوستانی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم نریند رمودی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو آپ کے سامنے پرزور انداز میں اٹھائیں اور اس پر سخت اعتراض درج کرائیں۔ لیکن کیا وزیر اعظم مودی اس معاملے کو آپ کے سامنے اٹھاپائیں گے، اس کی امید کم ہے۔ انھوں نے آپ پر ہونے والے حملے کی مذمت تو کی لیکن اس بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس سے قبل بھی آپ نے ہند مخالف بیانات دیے ہیں لیکن وزیر اعظم نے کبھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ آپ نے یہاں تک دھمکی دے دی کہ میں نریندر مودی کا کرئیر تباہ کر سکتا ہوں۔ اس پر بھی وہ چپ رہے۔ ادھر وزارت خارجہ نے جو ردعمل ظاہر کیا ہے وہ بھی ’تہذیب‘ کے دائرے میں ہے۔ حالانکہ اس کو تو بہت سخت لب و لہجے میں اپنی بات رکھنی چاہیے تھی اور آپ سے مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ آپ اس بیان کو اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم سے ہٹائیں اور اس کے لیے معافی مانگیں۔ ویسے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب آپ نے ایسا بیان دیا ہے۔ اس سے قبل بھی اس قسم کے بیانات دیتے رہے ہیں۔ جب پہلگام دہشت گرد حملے کے خلاف ہندوستان نے پاکستان کے خلاف آپریشن سندور شروع کیا اور پھر دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم او کی رضامندی سے جنگ بندی ہو گئی تو آپ نے دعویٰ کیا کہ آپ نے یہ جنگ بند کرائی ہے اور کروڑوں لوگوں کی زندگی بچائی ہے۔ آپ نے ایک بار نہیں بلکہ ایک سو سے زائد بار اس دعوے کو دوہرایا۔ آپ نے کئی بار یہ بیان بھی دیا کہ آپ مسئلہ کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کبھی بھی متنازع معاملات میں ثالثی کا قائل نہیں رہا ہے۔ کشمیر کے بارے میں اس کا دیرینہ موقف ہے کہ یہ ایک باہمی مسئلہ ہے اور اسے باہمی طور پر حل کیا جائے گا۔ آپ کے بیان پر وزارت خارجہ کی جانب سے ایسا ہی بیان دیا گیا۔ اس کے بعد آپ نے ہندوستان کو نظرانداز کرکے پاکستان کو ترجیح دینی شروع کر دی۔ آپ نے گزشتہ سال ہندوستان کی معیشت کو ’ڈیڈ اکانومی‘ یا مردہ معیشت قرار دیا تھا۔ آپ نے اس حقیقت کو نظرانداز کر دیا کہ ’ہندوستان دنیا کی تیزی سے ابھرنے والی معیشت‘ ہے۔ آپ نے متعدد ملکوں کے خلاف ٹیرف لگانے کا اعلان کیا۔ آپ نے ہندوستان پر شدید تنقید کی اور اس پر سو فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی۔ پہلے آپ نے ہندوستان پر پچیس فیصد ٹیرف لگایا اور جب اس نے روس سے تیل خریدنا شروع کیا تو مزید پچیس فیصد ٹیرف جڑ دیا۔ آپ نے اس پر پابندی عاید کر دی کہ وہ روس سے تیل نہیں خرید سکتا۔ لیکن بعد میں کہا کہ وہ اب خرید سکتا ہے۔ اس طرح روس سے تیل خریدنے کے سلسلے میں دو دو بار ہندوستان کی بے عزتی کی گئی۔ آپ نے امریکہ کے دورے پر گئے نریندر مودی کی موجودگی میں بھی سو فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی۔ آپ نے ہندوستان کو ’ٹیرف کنگ‘ کہا اور دھمکی دی کہ ہندوستان امریکی مصنوعات پر جتنا ٹیرف لگاتا ہے آپ بھی ہندوستانی مصنوعات پر اتنا ہی ٹیرف لگائیں گے۔ آپ نے رواں سال کے آغاز میں ہندوستان اور امریکہ کے تجارتی توازن کو یکطرفہ قرار دیا اور الزام لگایا کہ ہندوستان تمام ملازمتیں لے جا رہا ہے۔ آپ نے ہندوستانی پروفیشنلز کو ’لیپ ٹاپ والے گینگسٹر‘ قرار دیا۔ جناب صدر کیا ہندوستان جیسی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے بارے میں آپ کا یہ رویہ مناسب ہے۔ اگر موقع ملے تو تنہائی میں اس پر ضرور غور کیجیے گا اور اس بارے میں بھی سوچیے گا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات کافی آگے تک جا چکے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو آپ کے یہ بیانات باہمی رشتوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن جائیں۔‘
پس نوشت: ایک طرف ٹرمپ ہندوستان کے بارے میں ایسے توہین آمیز بیانات دیتے آرہے ہیں اور دوسری طرف ہندوستان ہے کہ ڈھیلا ڈھالا ردعمل ظاہر کر رہا ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے رہنما رام مادھو نے گزشتہ دنوں واشنگٹن کے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں امریکہ کی سابق ڈپٹی سکریٹری آف اسٹیٹ کرٹ کیمپبل کے ساتھ اسٹیج شیئر کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ہندوستان نے امریکہ کے کہنے پر روس سے تیل خریدنا بند کر دیا۔ اس نے اپوزیشن کی تنقید کے باوجود پچاس فیصد ٹیرف کو بھی مان لیا۔ بھلا بتائیے اس نے امریکہ کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا۔‘ ان کے اس بیان پر زبردست تنازع پیدا ہو گیا ہے اور اسے امریکہ کے سامنے ہندوستان کے سرینڈر کر جانے کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب رام مادھو نے اپنے بیان پر معافی مانگی ہے)۔
موبائل: 9818195929


